نبیﷺ کی طرح عبداللہ بن زبیرؓ اور ابوبکر صدیقؓ بھی رفع یدین کرتے تھے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

عن عطاء بن أبى رباح قال صليت خلف عبدالله بن الزبير فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع فسألته فقال عبدالله بن الزبير: صليت خلف أبى بكر الصديق رضى الله عنه فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع وقال أبو بكر: صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع.
عطاء بن أبي رباح رحمہ الله نے کہا: میں نے عبدالله بن زبير رضی الله عنه کے پیچھے نماز پڑھی ہے وہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع اليدين کرتے تھے، میں نے ان سے پوچھا تو عبدالله بن زبير رضی الله عنه نے کہا: میں نے أبو بكر الصديق رضی الله عنه کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ وہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع اليدين کرتے تھے۔
اور سیدنا أبو بكر رضی الله عنه نے فرمایا کہ میں نے رسول الله صلى الله عليه وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ آپ نماز شروع کرتے وقت، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع اليدين کرتے تھے۔
إمام بيهقي، حافظ ذہبي اور ابن حجر نے کہا کہ اس (حدیث) کے راوی ثقہ ہیں۔
( السنن الكبرى للبيهقي 73/2 وقال: رواته ثقات، المهذب في اختصار السنن الكبير للذہبي 49/2 ح 1943 وقال: رواته ثقات، التلخيص الحبير لابن حجر العسقلاني 1/219 ح 328 وقال: ورجاله ثقات)

◈سند کی تحقیق

أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار الزاہد کے بارے میں حافظ ذہبي نے کہا: الشيخ الإمام المحدث القدوة. (سير اعلام النبلاء 437/15)
انھیں بيهقي وغیرہ نے ثقہ قرار دیا ہے۔ حاكم اور ذہبي نے ان کی بیان کردہ حدیث کو صحيح على شرط الشيخين کہہ کر ان کی توثیق کر دی ہے۔ (دیکھئے المستدرك ج 1 ص 30 ح 82)
ان کے حالات درج ذیل کتابوں میں مذکور ہیں۔ أخبار أصبهان (271/2) الأنساب (546/3) الإنتظام (368/6) العبر (250/2) أخبار أصبهان انھوں نے إمام عبد الله بن الإمام أحمد بن حنبل سے المسند الكبير کا سماع کیا تھا۔ (النبلاء 437/15)
محمد بن عبد الله الصفار نے أبو إسماعيل السلمي سے حدیث سنی ہے۔ (دیکھئے المستدرك ج 1 ص 117 ح 403)
وہ مدلس نہیں تھے۔ (حاشیہ جلاء العينين تخریج روایات جزء رفع اليدين ص 8 الشيخنا فيض الرحمن الشورى)
لہذا ان کا عنعنہ اتصال پر محمول ہے۔
محمد بن إسماعيل أبو إسماعيل السلمي ثقہ تھے۔ (سير اعلام النبلاء 242/13)
ان کو نسائي، دارقطني، الحاكم، أبو بكر، الخلال اور ابن حبان وغیرہم نے ثقہ کہا۔ (تہذیب التهذیب 53،54/9)
ابن أبي حاتم کا قول ”تكلموا فيه“ کئی لحاظ سے مردود ہے:
● یہ اکثریت کی توثیق کے خلاف ہے۔
● یہ جرح غیر مفسر ہے۔
● اس کا جارح نا معلوم ہے۔
حافظ أحمد بن علي العسقلاني نے کہا: ثقة حافظ لم يتضح كلام ابن أبى حاتم فيه یہ ثقہ حافظ ہیں اور ان میں ابن أبي حاتم کا کلام غیر واضح (مبہم) ہے۔ (تقريب: 5738)
أبو النعمان محمد بن الفضل عارم کتب ستہ کے مرکزی راوی ہیں۔ انھیں أبو حاتم وغیرہ نے ثقہ قرار دیا ہے۔ حافظ ذہبي نے کہا: ”الحافظ الثبت الإمام“ (سير اعلام النبلاء 265/10)
وہ آخری عمر میں تغیر کا شکار ہو گئے تھے۔ (تقريب التهذيب: 6236 ولفظه: ثقة ثبت تغير في آخر عمره)
انھیں اختلاط ہوا۔ (هدي الساري ص 441)
حتی کہ ان کی عقل زائل ہوگئی۔ (الجرح والتعديل 59/8)
یہ کہہ کر حافظ ذہبي نے اس بحث کا قطعی فیصلہ کر دیا کہ تغير قبل موته فما حدث وہ موت سے پہلے تغیر (ضعف حافظه و اختلاط) کا شکار ہوئے اور اس حالت تغیر میں انھوں نے کوئی حدیث بھی بیان نہیں کی۔ (الكاشف 79/3 ت 1597)
دوسرے یہ کہ ان کے پیچھے اس حدیث کے راوی أبو إسماعيل السلمي نے نماز پڑھی ہے۔ جس کی عقل زائل ہو گئی ہو اس کے پیچھے وہی نماز پڑھتا ہے جس کی خود عقل زائل ہوتی ہے! لہذا یہ روایت اختلاط سے پہلے کی ہے اور بالکل صحیح ہے۔ والله أعلم