مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

عام زندگی میں سر ڈھانپنا یا کھلا رکھنا؟ سنت نبوی کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 510
مضمون کے اہم نکات

سوال

انسان کو عام زندگی میں سر ڈھانپ کر رکھنا چاہیے یا کھلا؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میری تحقیق کے مطابق، احرام کی حالت کے علاوہ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ اپنا سر ڈھانپے رکھتے تھے۔

◄ اگرچہ سر کھلا رکھنا جائز ہے اور کھلے سر نماز پڑھنا بھی درست ہے، لیکن سر ڈھانپنا افضل اور مستحب عمل ہے۔

سر ڈھانپنے کے بارے میں روایات

◄ سر کس چیز سے ڈھانپا جائے؟ اس بارے میں احادیث میں کالی پگڑی کا ذکر آتا ہے۔
◄ اکثر اوقات آپ ﷺ کے سر مبارک پر عمامہ ہوا کرتا تھا۔
◄ منبر وغیرہ پر عمامہ کے ساتھ موجود ہونے کا تذکرہ بھی احادیث میں ملتا ہے۔
صحیح بخاری میں وضو کے وقت پگڑی پر مسح کرنے کا ذکر موجود ہے۔
فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔

ٹوپی کے بارے میں احادیث

◄ احادیث میں پگڑی کے ساتھ ساتھ ٹوپیوں کا بھی ذکر آتا ہے۔
◄ رنگ کی تعیین کرنا مشکل ہے، لیکن ایک روایت میں ہے کہ:

حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ دورانِ سفر کانوں والی ٹوپی پہنتے تھے جبکہ دورانِ حضر شامی ٹوپی پہنتے تھے۔
(ابوالشیخ)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت

◄ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی ٹوپیاں پہننے کے آثار ملتے ہیں۔
◄ ان کی تفصیل طویل ہے جسے یہاں ذکر نہیں کیا جا سکتا۔

حاصل کلام

◄ چاہے پگڑی ہو یا ٹوپی، دونوں ہی رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی سنت ہیں۔
◄ دونوں میں سے کسی ایک پر عمل کیا جا سکتا ہے، یا کبھی پگڑی اور کبھی ٹوپی، دونوں طریقے اپنانا سنت کے مطابق ہے۔

ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔