سوال
بعض لوگ عاشورہ کے دن خاص طور پر کھانے کا اہتمام کرتے ہیں اور اس کی دلیل کے طور پر ایک حدیث پیش کرتے ہیں جس میں "کھانے کی توسیع” کا ذکر ہے۔ اس بارے میں درست بات کیا ہے؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
عاشورہ کے دن کھانے کی توسیع سے متعلق جو روایت بیان کی جاتی ہے، وہ ضعیف (کمزور) ہے۔ بعض اہلِ علم نے اس بارے میں اپنے ذاتی تجربات بھی بیان کیے ہیں، لیکن یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ:
◈ شریعت صرف تجربات پر قائم نہیں ہوتی۔
◈ دین میں کوئی عمل یا عقیدہ صرف اس بنیاد پر ثابت نہیں ہو سکتا کہ کسی نے ذاتی طور پر اس میں کوئی فائدہ یا برکت محسوس کی ہو۔
لہٰذا، عاشورہ کے دن کھانے کی توسیع کو سنت یا مسنون عمل سمجھ کر کرنا شرعی طور پر درست نہیں، کیونکہ اس کی بنیاد صحیح حدیث پر نہیں ہے۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب