سوال:
ظہر کا ابتدائی اور انتہائی وقت کیا ہے؟
جواب:
امت کا اجماع ہے کہ ظہر کا وقت زوال کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔
❀ امام ابن منذر رحمہ اللہ (318ھ) فرماتے ہیں:
أجمعوا على أن وقت الظهر، زوال الشمس
”اجماع ہے کہ ظہر کا وقت سورج کے زوال سے شروع ہو جاتا ہے۔“
(الإجماع: 36)
نیز دیکھیں: (الأوسط لابن المنذر: 355، 326/2، الإستذكار لابن عبد البر: 38/1، التمهيد لابن عبد البر: 71/8، المبسوط للسرخسي: 142/1، عارضة الأحوذي لابن العربي: 255/1، بدائع الصنائع للكاساني: 350/1، المجموع للنووي: 24/3، فتح الباري لابن حجر: 21/2، وغيرهم)
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وقت الظهر إذا زالت الشمس
”سورج ڈھل جائے تو ظہر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔“
(صحیح مسلم: 612)
❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا:
أن صل الظهر، إذا زاغت الشمس
”زوال کے وقت ظہر کی نماز ادا کریں۔“
(موطأ الإمام مالك: 7/1، وسنده صحيح)
ظہر کا آخری وقت:
ظہر کا وقت ایک مثل سایہ پر ختم ہو جاتا ہے، اس کے بعد عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وقت الظهر إذا زالت الشمس وكان ظل الرجل كطوله، ما لم يحضر العصر
”ظہر کا آغاز سورج ڈھلنے سے ہو جاتا ہے اور اس وقت تک رہتا ہے، جب سایہ قد کے برابر ہو جائے، مطلب جب تک عصر کا وقت شروع نہ ہو۔“
(صحیح مسلم: 612)
❀ امام ابن منذر رحمہ اللہ (318ھ) فرماتے ہیں:
”امام شافعی رحمہ اللہ کی بات درست ہے، اسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی صحیح احادیث دلالت کرتی ہیں، جس میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جس کا مضمون کچھ یوں ہے: ظہر کا وقت عصر تک رہتا ہے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: سست و کاہل وہ ہے، جو اگلی نماز کا وقت آنے تک نماز ادا نہ کر لے۔ اس مسئلہ میں ایک چوتھا قول بھی ہے کہ عصر کا اول وقت اس سے ہوتا ہے، جب سایہ دومثل ہو جائے اور اس سے پہلے نماز ادا کرنے والے کی نماز ادا نہیں ہوگی، یہ نعمان بن ثابت کا قول ہے، جو سراسر حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہے۔ درحقیقت حدیث کا یہ معنی نہیں ہے۔ ہمارے مطابق تو ان سے پہلے کسی نے یہ بات نہیں کی اور ان کے شاگردوں نے بھی اس بات کو تسلیم نہ کیا، لہذا ان کا قول میدان فقہ میں اکیلا ہی رہ گیا، بالکل بے معنی۔“
(الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف: 30/2)
❀ مفتی تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں:
”دومثلین پر ظہر کا وقت ہونے کے سلسلہ میں عموماً احناف کی طرف سے تین دلیلیں پیش کی جاتی ہیں، لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی حدیث بھی اوقات کی تحدید پر صریح نہیں ہے، اس کے برخلاف حدیث جبریل میں صراحتاً پہلے دن کو مثل اول پر پڑھنے کا ذکر موجود ہے، اس لیے یہ حدیثیں حدیث جبریل کا مقابلہ نہیں کر سکتیں، اس لیے بعض حنفیہ نے مثل اول والی روایت کو لیا ہے، کمافی الدرر، اور بعض حنفیہ نے وقت مہمل کو ترجیح دی ہے۔“
(درس ترمذي: 96/1)
❀ جناب محمد بن علی نیموی کہتے ہیں:
”مجھے کوئی حدیث صریح، صحیح یا ضعیف نہیں ملی، جو اس پر دلالت کرے کہ ظہر کا وقت سایہ کے دومثل ہونے تک ہے۔“
(آثار السنن، مترجم، ص 28، ح: 199)
ظہر کا وقت زوال کے ساتھ شروع ہو جاتا ہے اور ایک مثل سایہ پر ختم ہو جاتا ہے۔