مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

ظلم کے خلاف اٹھنے والا ہمیشہ ہیرو بنتا ہے

فونٹ سائز:

فلمی دنیا اور ہیرو کی تصور

فلمی دنیا، چاہے وہ لالی وڈ ہو، بالی وڈ یا ہالی وڈ، میں یہ تھیم مسلسل دکھائی جاتی رہی ہے کہ جب ظلم قانون کی شکل اختیار کر لیتا ہے، تو جو شخص اس ظلم کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے اور حتیٰ کہ ظالموں کو انجام تک پہنچا دیتا ہے، اُسے ہیرو قرار دیا جاتا ہے۔
تمام ناظرین اس "ہیرو” کے اقدامات کی تائید کرتے ہیں، اور اکثر فلموں میں ہیرو کو آخر میں ایک ہلکی پھلکی سزا دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے، جسے انصاف سمجھا جاتا ہے۔

سوالیہ فکر

تو کیا تم یہ سوچتے ہو کہ:

  • تم دنیا کی ڈیڑھ ارب آبادی کے دل سے بھی قریب ہستی کا مذاق اڑاؤ گے؟
  • اس عمل کو قانونی تحفظ فراہم کرو گے؟
  • اس کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ریلیاں نکالو گے؟
  • اور کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوگا جسے یہ ڈیڑھ ارب لوگ اپنا "ہیرو” سمجھیں گے؟

افسوس ہے تمہاری عقلوں پر۔

ہیرو کا جنم اور ذمہ داری

یہ ہیرو پیدا ہوتے رہیں گے، جب تک کہ تم جہالت پر مبنی اس عمل کو جرم قرار نہیں دیتے۔
ایسے ہیرو کے ہر اقدام کے ذمہ دار تم خود ہو۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔