ظالم حکمران کا انجام اور روز قیامت میں سخت وعید

تحریر: عمران ایوب لاہوری

ظالم حکمران کا انجام
➊ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
إن أشد أهل النار عذابا يوم القيامة من قتل نبيا أو قتله نبي وإمام جائر
”بے شک قیامت کے دن جہنمیوں میں سے سب سے سخت عذاب اُسے ہو گا جس نے کسی نبی کو قتل کیا ، یا اسے کسی نبی نے قتل کیا اور ظالم حکمران کو ۔“
[حسن: الصحيحه: 281 ، صحيح الترغيب: 2185 ، كتاب القضاء: باب ترغيب من ولى شيئا من أمور المسلمين فى العدل إماما كان أو غيره و ترهيبه أن يشق على رعيته بزار فى كشف الأستار: 1603 ، رواه الطبراني]
➋ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من أمير عشرة إلا يؤتى به يوم القيامة مغلولا لا يفكه إلا العدل
”جو شخص دس آدمیوں کا امیر بنا اسے قیامت کے دن طوق ڈال کر لایا جائے گا ، اسے کوئی چیز نہیں چھڑا سکے کی مگر صرف اس کا کیا ہوا عدل ۔“
[حسن صحيح: صحيح الترغيب: 2198 ، كتاب القضاء: باب ترغيب من ولى شيئا من أمور المسلمين فى العدل إماما كان أو غيره وترهيبه أن يشق على رعيته ، احمد: 431/2]
➌ ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من أمير عشرة إلا يـوتـى بـه مـعـلـولا يوم القيامة حتى يفكه العدل أو يو بقه الجور
”جو بھی دس آدمیوں کا امیر بنا اسے قیامت کے دن طوق پہنائے ہوئے لایا جائے گا حتی کہ اسے (اس کا ) عدل چھڑا لے گا یا (اس کا کیا ہوا) ظلم اُسے ہلاک کر دے گا ۔“
[صحيح: صحيح الترغيب: 200 ، كتاب القضاء: باب ترغيب من ولى شيئا من أمور المسلمين فى العدل إماما كان أو غيره وترهيبه أن يشق على رعيته ، يزار فى كشف الأستار: 1640 ، طبراني فى الأوسط]
➍ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صنفان من أمتي لن تنالهما شفاعتي: إمام ظلوم غشوم و كل غال مارق
”میری اُمت کی دو قسمیں ایسی ہیں جنہیں ہرگز میری شفاعت نہیں پہنچے گی ۔ ظالم و غاصب حکمران اور ہر خائن اور دین سے نکل جانے والا شخص ۔“
[حسن: صحيح الترغيب: 2218 ، كتاب القضاء: باب الترهيب من الظلم ودعاء المظلوم و خذله ، رواه الطيراني في الكبير والأوسط]
➎ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله يملى للظالم فإذا أخذه لم يفلته ثم قرأ ”وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ “ [هود: 102]
”بے شک الله تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتے ہیں پھر جب اُسے پکڑ لیتے ہیں تو اسے نہیں چھوڑتے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی ”اور اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہے جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے اور وہ ظالم ہوتی ہیں ۔ بے شک اس کی پکڑ سخت درد ناک ہے ۔“
[بخاري: 4686 ، كتاب تفسير القرآن: باب قوله وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهى ظالمة ، مسلم: 2583 ، ترمذي: 3110]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾