طواف اور سعی کو الگ الگ دنوں میں کرنے کا حکم

سوال

کیا عمرہ ادا کرنے والا طواف اور سعی دو الگ دنوں میں کرسکتا ہے، یا انہیں متصل ہی ادا کرنا ضروری ہے؟

جواب از فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

شوقیہ طور پر ایسا نہ کرے تاکہ کسی اشتباہ کا سامنا نہ ہو، لیکن اگر کسی نے ایسا کر لیا ہے تو اس کا عمرہ صحیح ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی نے طواف مکمل کیا اور نماز کا وقت ہو گیا، تو وہ پہلے نماز پڑھ کر پھر سعی کرتا ہے۔ اسی طرح، کبھی سعی کے دوران نماز کھڑی ہو جاتی ہے تو وہ پہلے نماز ادا کر لیتا ہے۔

لہٰذا، طواف اور سعی کا متصل ہونا ضروری نہیں ہے، البتہ بلاعذر ایسا کرنے سے اجتناب بہتر ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️