طوائف بیوی کی ناجائز کمائی لینا کیسا ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

طوائف بیوی کی ناجائز کمائی لینا کیسا ہے؟

جواب:

یہ کمائی حرام اور ناجائز ہے۔
❀ سیدنا ابو مسعود رضی الله عنه بیان کرتے ہیں:
ان رسول الله صلى الله علیه وسلم نهى عن ثمن الكلب، ومهر البغي، وحلوان الكاهن.
رسول الله صلی الله علیه وسلم نے کتے کی قیمت، زانیه کی اجرت اور کاہن کی کمائی سے منع کیا ہے۔
(صحيح البخاري: 2237، صحیح مسلم: 1567)
سیدنا رافع بن خدیج رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا:
ثمن الكلب خبيث، ومهر البغي خبيث، وكسب الحجام خبيث.
کتے کی کمائی خبیث ہے، زانیه کی اجرت خبیث ہے اور سینگی لگانے کی مزدوری بھی خبیث ہے۔
(صحیح مسلم: 1568)
سیدنا ابو ہریره رضی الله عنه بیان کرتے ہیں:
نهى رسول الله صلى الله علیه وسلم عن كسب الحجام، وكسب البغي، وثمن الكلب.
رسول الله صلی الله علیه وسلم نے سینگی کی کمائی، زانیه کی کمائی اور کتے کی قیمت سے منع کیا ہے۔
(مسند الإمام أحمد: 7976، سنن النسائي: 4673، وسنده صحيح)
لا يحل ثمن الكلب، ولا حلوان الكاهن، ولا مهر البغي.
کتے کی کمائی حلال نہیں ہے، اسی طرح کاہن کی کمائی اور زانیه کی اجرت بھی حلال نہیں ہے۔
(سنن أبي داود: 3484، صحيح ابن عوانه: 5273، وسنده حسن)
حافظ ابن حجر رحمه الله نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔
(فتح الباري: 426/4)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️