مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

طلاق کے بعد بچے کی حضانت اور خرچہ حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

میری بیٹی کو تقریبا ایک سال قبل اس کے خاوند نے طلاق دی تھی، میری بیٹی کی ایک بچی تھی، اس بچی کی عمر اس وقت تقریبا ایک سال تھی۔ مدت دودھ اس وقت ایک سال باقی تھی ، بقایا مدت دودھ ایک سال کا خرچہ بچی کا باپ دیتا رہا۔ اب بچی کی عدت دودھ تقریبا مکمل ہو چکی ہے تو اب بچی کس کے پاس رہے گی ، ماں کے پاس، یا باپ کے پاس، اگر ماں کے پاس رہے گی تو اس بچی کا خرچہ کون ادا کرے گا؟ قرآن وحدیث کی روشنی سے مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔

جواب :

جب مرد اپنی بیوی کو طلاق دے ڈالے اور بچے چھوٹے ہوں تو وہ من شعور کو پہنچنے تک ماں کے پاس رہیں گے، پھر اس کے بعد ماں باپ دونوں کی موجودگی میں بچوں کو بتایا جائے گا کہ یہ تمھارے والدین ہیں، جس کے پاس رہنا چاہتے ہو اسے اختیار کر لو۔ اگر بچے والد کو اختیار کریں تو اس کے پاس رہیں گے اور ماں کو ملنے سے روکا نہیں جائے گا اور ماں کے پاس رہنا پسند کریں تو باپ کو بچوں سے ملاقات کرنے سے منع نہیں کیا جائے گا۔ اس موقف کے دلائل درج ذیل ہیں۔ ابو میمونہ کہتے ہیں: ”میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ان کے پاس ایک فارسی خاتون آئی، اس کے ساتھ اس کا بیٹا تھا، دونوں (میاں بیوی ) نے اس کا دعوی کیا اور شوہر بیوی کو طلاق دے چکا تھا۔ اس عورت نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے فارسی میں گفتگو کی اور کہا: ”اے ابو ہریرہ! میرا شوہر میرا بیٹا لے جانا چاہتا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فارسی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ ” تم دونوں اس پر قرعہ اندازی کر لو“ ۔ اس عورت کا شوہر آیا، تو اس نے کہا: ”میرے بیٹے کے بارے میں مجھ سے کون جھگڑا کر سکتا ہے؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے میرے اللہ ! میں یہ فیصلہ اس لیے دے رہا ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، آپ کے پاس ایک عورت آئی، اس نے کہا: ”میرا شوہر مجھ سے میرا بیٹا چھینا چاہتا ہے، حالانکہ وہ مجھے ابو عتبہ کے کنویں سے پانی پلاتا ہے اور اس نے مجھے نفع پہنچایا ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں اس پر قرعہ اندازی کرلو۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے، ان دونوں میں سے جس کا چا ہو ہاتھ پکڑ لو، تو اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ اسے لے کر چلی گئی ۔“
(ابو دود، کتاب الطلاق، باب من أحق بالوند 2277 این مابعه 2351، مسند أحمد 0447/2 ح : 9770 ترمذی، کتاب الأحكام، باب ما جاء في تغيير الغلام بين أبويه إذا افترقا 1357)
امام ترمذی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ”اس حدیث کے مطابق اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ میں سے بعض اہل علم کا عمل ہے اور انھوں نے کہا ہے: ” جب والدین کے درمیان تنازع واقع ہو جائے تو بچے کو اختیار دیا جائے گا۔“ یہی قول امام احمد اور امام اسحاق بن راہویہ کا ہے اور ان دونوں نے کہا: ” جب تک بچہ چھوٹا ہو ماں کے پاس رہے گا ، وہ اس کی زیادہ حق دار ہے اور جب سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اسے والدین کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔“
امام بغوی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: ”جب آدمی اپنی بیوی سے جدائی اختیار کر لے اور میاں بیوی کی چھوٹی اولاد ہو، سات سال سے کم عمر کی تو ماں اگر رغبت رکھے تو پرورش کی زیادہ حق دار ہے اور باپ کے ذمے بچے کا خرچہ ہے اور اگر عورت رغبت نہ رکھے تو باپ پر لازم ہے کہ کسی دوسری عورت کو اجرت دے کر بچہ اس کے پاس رکھے، تا کہ وہ اس کی پرورش کرے۔“
(شرح السنة 332/9)
جب تک بچہ چھوٹا ہو، سن تمیز تک نہ پہنچا ہو تو وہ ماں کے پاس رہے گا، کیونکہ بچے کی تربیت باپ کی نسبت ماں زیادہ کر سکتی ہے اور باپ کی نسبت بچے پر زیادہ مشفق ، لطیف، مائل ہونے والی اور نرم ہے۔ صحابہ کرام میں اس مسئلہ میں کوئی اختلاف کرنے والا نہیں ہے۔ (دیکھو زاد المعاد 436/5) لہذا بچی کی کفالت ؛ تربیت ماں کرے اور باپ خرچہ دے اور جب بچی شعور کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کے والدین کو بلا کر بچی کو اختیار دیا جائے۔ مزید تفصیل کے لیے راقم کی کتاب” آپ کے مسائل اور ان کا حل“ جلد سوم ملاحظہ ہو۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔