سوال:
طلاق کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
جواب:
جو شخص اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ بیوی کو اس طہر میں ایک طلاق دے، جس میں اس نے بیوی سے مجامعت نہ کی ہو۔ اسے طلاق سنی بھی کہتے ہیں۔
اس صورت میں عورت کی عدت تین ماہ ہے، اس دوران شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے، عدت کے بعد تجدید نکاح سے بیوی بنا سکتا ہے، اب اس کے پاس دو طلاقوں کا حق باقی ہے۔ اسی طرح کبھی دوسری طلاق دے دی، تو عدت کے دوران رجوع کر سکتا ہے، عدت کے بعد نئے نکاح سے بیوی بنا سکتا ہے۔ یہ دو طلاقیں رجعی کہلاتی ہیں ، جن کے بعد رجوع یا تجدید نکاح کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بعد طلاق کا ایک حق باقی رہ جاتا ہے، اگر شوہر نے وہ حق بھی استعمال کر لیا، تو اب رجوع کی گنجائش نہیں، تجدید نکاح سے بیوی بھی نہیں بنا سکتا۔
افسوس سے لکھنا پڑ رہا ہے، ہمارے ہاں نکاح مولانا صاحب سے پڑھایا جاتا ہے، مگر طلاق دیتے وقت علما کی طرف رجوع نہیں کیا جاتا۔ جس بنا پر لوگ غلط طریقے سے طلاق دے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیر کا دروازہ بند کر دیتے ہیں۔