طلاقِ رجعی کے بعد سالی سے نکاح کا حکم قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق رجعی دے، پھر دوسرے ہی دن اپنی سالی سے نکاح کر لے، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں جواب مطلوب ہے۔

جواب:

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن حکیم میں جہاں محرمات کا ذکر فرمایا ہے وہاں فرمایا ہے:
﴿وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ﴾
النساء: 23
”کہ دو بہنوں کو ایک شخص کے نکاح میں رکھنا حرام ہے۔“
چاہے وہ حقیقی ہوں یا رضاعی، دونوں ایک ماں باپ سے ہوں، یا فقط باپ کی طرف سے ہوں، یا فقط ماں کی طرف سے، اس پر امت کا اجماع و اتفاق ہے۔ جب عورت کو اس کا شوہر طلاق رجعی دیتا ہے تو عدت کے اندر اندر وہ اس کی بیوی شمار ہوتی ہے، اس لیے عورت کا نان و نفقہ اور رہائش و سکنی مرد کے ذمہ ہوتا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ، امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ، امام زہری رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کا یہ قول ہے کہ مطلقہ ثلاثہ کے لیے سکنی اور نفقہ نہیں ہے جب خاوند رجوع کا حق نہ رکھتا ہو۔ یہی قول عمرو بن دینار رحمہ اللہ، طاؤس رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ اور ایک روایت کے مطابق ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اور اہل ظاہر کا ہے۔
تحفة الأحوذي شرح الترمذي (393/4)
ان کی دلیل فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے جنہیں ان کے شوہر نے آخری طلاق دے دی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا نفقة لك ولا سكنى
”تیرے لیے نہ نفقہ ہے اور نہ رہائش۔“
مسلم، كتاب الطلاق، باب المطلقة البائن لا نفقة لها (1480)، أبو داود (2288)، ترمذي (1180)، ابن ماجه (2036)، نسائي (2081)
علامہ عبد الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
واحتج الأولون بحديث فاطمة بنت قيس المذكور فى الباب وهو نص صحيح صريح فى هذه المسألة قال العيني فى شرح البخاري قصة فاطمة بنت قيس رويت من وجوه صحاح متواترة
تحفة الأحوذي (1394/4)
”پہلے گروہ نے فاطمہ بنت قیس کی حدیث سے دلیل لی ہے، جو اس باب میں ذکر ہوئی ہے اور اس مسئلہ میں یہ نص صحیح اور صریح ہے۔ علامہ عینی نے شرح صحیح بخاری میں کہا ہے فاطمہ بنت قیس کا قصہ صحیح اور متواتر احادیث میں روایت ہوا ہے۔“
لہذا طلاق رجعی میں شوہر کو رجوع کا مکمل حق حاصل ہوتا ہے، اس لیے عدت کے اندر وہ اس کی زوجیت سے خارج نہیں ہوئی، لہذا وہ اپنی سالی کے ساتھ، یا چوتھا نکاح نہیں کر سکتا، جب تک عدت مکمل نہیں ہوتی۔ امام قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وأجمع العلماء على أن الرجل إذا طلق زوجته طلاقا يملك رجعتها أنه ليس له أن ينكح أختها أو أربعا سواها حتى تنقضي عدة المطلقة
مختصر تفسير القرطبي (484/1)
”علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی کو ایسی طلاق دے جس میں وہ اس کے ساتھ رجوع کا حق رکھتا ہو تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس کی بہن، یا اس کے علاوہ چوتھی عورت کے ساتھ نکاح کرے، یہاں تک کہ مطلقہ کی عدت پوری ہو جائے۔“
نیز دیکھیے تفسير البحر المحيط لأبي حيان الأندلسي (298/3)، التفسير الكبير للرازي (37/10)، تفسير آيات الأحكام (296/1)، تفسير الخازن (360/1)، تفسير فتح القدير (448/1)، تفسير فتح البيان (49/2)، تفسير الرحمن (273/1)
معلوم ہوا کہ طلاق رجعی کے بعد دوران عدت اپنی مطلقہ زوجہ کی بہن کے ساتھ نکاح ”جمع بين الأختين“ کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے یہ نکاح حرام ہے۔ (واللہ اعلم)