مضمون کے اہم نکات
مسئلہ تطلیقات ثلاثہ فی مجلس واحد :۔
یہ مقالہ 1922ء میں (آج سے 85 سال قبل ماہنامہ ”معارف“ اعظم گڑھ) میں دو قسطوں میں شائع ہوا تھا، اس وقت مولانا سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ اس کے مدیر تھے۔
اس کے لکھنے والے بھی اہل حدیث نہیں ہیں، حنفی عالم ہیں لیکن انھوں نے بھی دونوں موقفوں کے دلائل ذکر کر کے، ان دلائل کو ترجیح دی ہے جس سے اہل حدیث کے موقف کی تائید ہوتی ہے اور ان کے ٹیپ کا بند بھی یہی ہے کہ جس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی اختیار کی ہے، ہمیں کوئی حق نہیں ہے کہ ہم امت مسلمہ کو اس رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و رأفت سے محروم کر دیں۔
اب یہ مقالہ مکمل طور پر ملاحظہ فرمائیں۔ ہم نے اس کی اہمیت کے پیش نظر اس میں اختصار کو پسند نہیں کیا۔ (مرتب)
انسان کے لیے اس کی ازدواجی زندگی میں کبھی ایسے اوقات بھی آتے ہیں کہ زن و شو کی قطعی جدائی ضروری ہو جاتی ہے لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اس قسم کے مواقع بہت اہم، نازک اور اس کے لیے سخت قابل احتیاط ہوتے ہیں۔ مذاہب عالم، جن کا اصلی و مشترک مقصد انسان کی دینی و دنیوی زندگی کو خوشگوار بنانا ہے، اس بارے میں مختلف راہیں اختیار کی ہیں، موجودہ دین مسیحی میں طلاق ایک معمولی درجے کی چیز ہو کر رہ گئی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج اس کے پیرو اس کی کثرت و عموم سے گھبرا اٹھے ہیں، دوسری طرف اس دنیا میں ایسے مذاہب بھی موجود ہیں جن میں طلاق مطلقاً حرام ہے، اس بنا پر ایک مرد جس کی زندگی اس کی شریک زندگی (بیوی) کی ناموافقت مزاج و حالات سے اس کے لیے عذاب الیم ہو گئی ہو اور وہ دل سے چاہتا ہو کہ اس مصیبت سے نجات پائے لیکن محض اس لیے اس کو تا دم مرگ اس میں مبتلا رہنا پڑتا ہے کہ اس کے مذہب نے کسی حالت میں بھی اس سے چھوٹنے کی اجازت نہیں دی۔ اسلام دین فطرت ہے، اس لیے وہ اس افراط و تفریط سے بالکل علیحدہ ہے، اس مسئلے میں اس کی راہ ان دونوں کے بیچ بیچ میں ہے جس کی نسبت یہ علانیہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک ایسی شاہراہ ہے جس پر چل کر انسان اپنے دامن حیات کو ناخوشگواریوں اور اذیتوں کے خارزار سے ہر طرح محفوظ و مصون رکھ سکتا ہے۔
طلاق کی نسبت اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ان ناگزیر حالات میں جب زن و شو کی تلخ کام زندگی تفریق و جدائی کے سوا اور کسی طرح بھی خوشگوار بن ہی نہ سکتی ہو، تو اس وقت طلاق کے جواز سے کام لے کر زندگی کی کلفتوں کو دور کیا جا سکتا ہے لیکن اس نازک حالت کے سوا اور حالات کے لیے اس کی تعلیم یہ ہے کہ : الطلاق أبغض المباحات یعنی طلاق ایک مکروہ ترین امر جائز ہے۔ اسلام کی اس تعلیم سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک نہایت دقیق نکتے تک پہنچی ہے، یعنی یہ کہ طلاق کو مطلقاً ناجائز ٹھہرانا جس قدر مضر نتائج پیدا کر سکتا ہے، اسی قدر بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہی برے نتائج اس کو ایک معمولی درجے کی چیز قرار دینے سے بھی پیدا ہو سکتے ہیں، یہ وہ لطیف نکتہ ہے جس تک دوسرے ارباب مذاہب کی نظریں جنہوں نے اس کو مطلقاً ناجائز قرار دیا یا اس کو ایک معمولی درجے کی چیز ٹھہرایا سینکڑوں اور ہزاروں برس کے بعد پہنچی ہیں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس نکتہ رسی کی بنا پر اس مسئلے میں بہت سی قیود اور شرطیں لگائیں اور اس بارے میں اپنے پیروؤں پر بہت سی مفید پابندیاں اور اہم ذمہ داریاں عائد کی ہیں۔
یہاں پر مسئلہ طلاق کی پوری تفصیل و تصریح مقصود نہیں بلکہ اس کی ایک خاص صورت کی توضیح مقصود ہے، وہ صورت یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی خاص حالت کے زیر اثر ایک ہی مجلس اور ایک ہی وقت میں پے در پے یہ جملہ تین مرتبہ اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ میں نے تجھ کو طلاق دی، تو کیا وہ بیوی اس پر حرام ہو جائے گی اور یہ طلاق طلاق بائن ہو گی؟ اصل اور غیر مختلط احکام شریعت کے لحاظ سے تو یہ سوال نہایت سہل اور صاف تھا لیکن ائمہ و مجتہدین کے تخالف اقوال اور پھر متاخرین علماء کے متشددانہ اختلاف رائے نے اس مسئلے کو خاص طور پر پیچیدہ کر دیا ہے، اس لیے میں اس موقع پر تقریباً دونوں قسم کی رائیں اور ان کے دلائل لکھ کر دلائل کی قوت کو نمایاں کروں گا تا کہ جو پیچیدگیاں واقع ہو گئی ہیں وہ رفع ہو سکیں اور اصل مسئلہ واضح ہو۔ اس قسم کے واقعات جو اتفاق سے کبھی کبھی پیش آجاتے ہیں وہ لوگوں کی ناواقفیت یا ایک ناصحیح مذہبی تخیل کی بنا پر افسوسناک صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ ایک نہایت شدید دینی ضرورت ہے کہ اس کا حتی الامکان انسداد کیا جائے۔
اسلام میں اصل شے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے، اس کے بعد اقوال و اعمال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد علمائے دین کے فتاویٰ اور رائیں۔ خوش قسمتی سے یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے متعلق ان تمام چیزوں میں تصریحات ملتی ہیں، میں یہ ترتیب درجہ بدرجہ اس موقع پر ان تمام تصریحات کو جمع کر دیتا ہوں۔
یہ معلوم ہو چکا ہے کہ اسلام کی نظر میں ازدواجی زندگی ایک نہایت نازک آبگینہ ہے جس کی محافظت کے فرائض نہایت اہم ہیں، اس لیے ایک معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ اس آبگینے کو چور چور کر دینے والی شے طلاق پر عمل پیرا ہونے کے لیے انسان کو بہت کچھ سوچنے سمجھنے اور اس کے تمام نتائج پر غور و فکر کر لینے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ قرآن مجید کا غور و تدبر بھی ہمیں اسی نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلے میں تعجیل اور زود پسندی کی بالکل اجازت نہیں دی، سورہ بقرہ اور سورہ طلاق میں اس مسئلے کے تمام تفصیلی احکام مندرج ہیں۔ قرآن مجید میں طلاق کی جو صورت بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ پوری مدت طلاق زمانہ عدت، یا تین طہر یا تین حیض کا زمانہ ہے۔ اس مدت میں بہ تفریق (علیحدہ علیحدہ) طلاق دینی چاہیے، دو مرتبہ طلاق دے چکنے تک مرد کو رجعت کا حق حاصل رہتا ہے، یعنی اس کے بعد بھی اگر وہ اپنی بیوی کو زوجیت میں رکھنا پسند کرے تو رکھ سکتا ہے۔ لیکن تیسری مرتبہ طلاق دے دینے کے بعد وہ اس پر اس وقت تک کے لیے حرام ہو جاتی ہے جب تک کہ دوسرا شخص اس مطلقہ عورت سے نکاح کر کے اس کو طلاق نہ دے دے یا خود وہ شخص مر نہ جائے۔
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا ﴿١﴾ فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍالطلاق : 1-2
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے وقت طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے، انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کوئی کھلی بے حیائی کریں، اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا، تم نہیں جانتے شاید اللہ اس کے بعد کوئی نئی صورت پیدا کر دے۔ پھر جب وہ اپنی میعاد (عدت) کے خاتمے کو پہنچیں تو انہیں اچھے طریقے سے روک لو یا اچھے طریقے سے جدا کر دو۔
سورہ بقرہ میں ہے :
وَالْمُطَلَّقْتُ يَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلَثَةَ قُرُوءٍ ؕ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ تَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِيْٓ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ؕ وَبُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِيْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًاالبقرة : 228
اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں، اور ان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اسے چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحم میں پیدا کیا ہے اگر وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں، اور ان کے شوہر اس مدت میں انہیں واپس لینے کے زیادہ حقدار ہیں اگر وہ اصلاح کا ارادہ کریں۔
یہ آیتیں اس بات کا غیر مشتبہ ثبوت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان کے لیے طلاق کی صحیح صورت یہی تجویز کی ہے کہ وہ تین طہر یا تین حیض کی مدت میں بتدریج ایک ایک طلاق دے اور اس اثناء میں تیسری طلاق سے پہلے اگر وہ رجعت کر لینا چاہے تو اپنی بیوی کا سب سے زیادہ مستحق وہی طلاق دینے والا شوہر ہے، طلاق کی اس طویل مدت میں تقسیم و تفریق اسی لیے ہے کہ اس مدت میں فریقین کو آئندہ واقعات و حالات اور طلاق کے نتائج پر غور کر لینے اور ان کو اچھی طرح سمجھ لینے کا کافی موقع ملے، طلاق کی اسی صورت کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی ایک دوسری آیت میں اور زیادہ وضاحت سے بیان فرمایا ہے :
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍالبقرة : 229
طلاق دو مرتبہ ہے، پھر یا تو اچھے طریقے سے روک لینا ہے یا بھلے طریقے سے رخصت کر دینا ہے۔
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُالبقرة : 230
پھر اگر اس نے اسے (تیسری مرتبہ) طلاق دے دی تو وہ اس کے لیے اس کے بعد حلال نہ ہو گی جب تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کر لے۔
سورہ طلاق والی آیت میں وَاحْصُوا الْعِدَّةَ کے بعد جو نقطے ہیں وہاں پر آیتیں طوالت کی وجہ سے لکھی نہیں گئیں، ان کے احکام یہ ہیں کہ اس مدت میں عورتوں کو ان کے کسی سخت ضرورت شرعی کے بغیر گھر سے نکلنے نہ دو، اور سورۃ بقرہ کی اس دوسری آیت میں بِاِحْسَان کے بعد جو نقطے ہیں وہاں پر آیات کے احکام یہ ہیں کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس کو واپس لے لینا تمہارے لیے جائز نہیں، ان احکام کے بعد دونوں سورتوں کی بقیہ آیات میں یہ مشترک حکم ہے کہ عدت میں طلاق دینا، عدت کا شمار کرنا، عورتوں کو اس زمانے میں گھر سے نکلنے نہ دینا یا دوسری آیت کے مطابق ”جو کچھ ان کو دیا ہے اس کو واپس نہ لینا“، یہ اللہ تعالیٰ کی قائم کی ہوئی حدود ہیں جن سے تجاوز کرنا کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں، اور جو شخص تجاوز کرے گا وہ اپنے نفس پر ظلم کرے گا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عدت میں بتدریج طلاق دینا اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حد ہے جس سے تجاوز کرنے والا ظالم ہے۔
انہی آیات قرآنی کی بنا پر ائمہ و علمائے امت میں سے امام احمد رحمہ اللہ کا قول ہے :
تدبرت القرآن فإذا كل طلاق فيه فهو الطلاق الرجعي ، يعني طلاق المدخول بها غير قوله تعالى : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ
فتاوی ابن تيمية : 32 /293
میں نے قرآن مجید میں بہت غور و فکر کیا اس میں زن مدخولہ سے متعلق جتنی طلاقیں پائیں، ان میں سے ہر طلاق رجعی ہے، البتہ اس آیت میں مذکورہ طلاق ان سے مستثنیٰ ہے: ”پس اگر اس نے تیسری مرتبہ طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حرام ہے یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے۔“
آیات قرآنی کی ان تصریحات کے سلسلے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واقعہ طلاق کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح ارشاد کتب صحاح، سنن اور مسانید سب میں مندرج ہے :
إن ابن عمر طلق امرأته، وهى حائض، فذكر عمر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال مره فليراجعها حتى تحيض، ثم تطهر، ثم تحيض ، ثم تطهر ، إن شاء أمسكها، وإن شاء طلقها قبل أن يمسها ، فتلك العدة التى أمر الله أن تطلق فيها النساء
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس واقعے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان سے کہو کہ رجعت کر لیں یہاں تک کہ وہ پھر حائضہ ہو اور پھر پاک ہو اور پھر حائضہ ہو اور پھر پاک ہو، اس کے بعد ان کو اختیار ہے چاہیں وہ اس کو اپنی زوجیت میں رکھیں یا اس کو چھونے سے پہلے طلاق دے دیں، اس لیے کہ یہی وہ عدت ہے جس میں عورتوں کو طلاق دینے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے۔
حدیث کا شان ورود اگرچہ واقعہ طلاق حائض ہے لیکن اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دینے کی جو صورت تفصیل سے بیان فرمائی ہے، میرا اصلی مقصود وہی تفصیل ہے کیونکہ قرآن مجید کی آیتوں سے طلاق کی جو صورت ظاہر ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی یہ نہایت غیر مشتبہ تفسیر و تشریح ہے اور یہی وہ طلاق ہے جس کو طلاق سنی (مسنون طریقہ طلاق) کہا جاتا ہے، اس کے علاوہ جتنی صورتیں ہیں سب طلاق بدعت میں داخل ہیں، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہی واقعہ ایک اور روایت میں ان الفاظ کے ساتھ مذکور ہے :
فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال : يا ابن عمر! ما هكذا أمرك الله تعالى، إنك قد أخطأت السنة، والسنة أن تستقبل الطهر فتطلق لكل قرء
السنن الكبرى للبيهقي : 330/7
یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابن عمر! تم کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح حکم نہیں دیا، تم سنت سے ہٹ گئے ہو۔ سنت یہ ہے کہ طہر کا انتظار کرو اور ہر طہر میں ایک طلاق دو۔
اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ طلاق ہر طہر کے زمانے میں ہے۔ السنن الكبرى للبيهقي : 339/7
واقعہ یہ ہے کہ زن و شو کی تفریق کو شریعت اسلامیہ نہایت اہمیت کی نگاہ سے دیکھتی ہے، وہ اس رشتے کا ٹوٹنا بجز مخصوص حالات کے بالکل جائز نہیں رکھتی، اس لیے طلاق ایک ایسی جائز شے ہے جس سے عموماً بچنا چاہیے، البتہ جب کبھی ناقابل برداشت اور زندگی کو تلخ و ناخوشگوار بنا دینے والے حالات پیدا ہو جائیں، تو پھر ایسی حالت میں بتدریج آئندہ کے تمام حالات اور ان کے نتائج پر غور و فکر کر لینے کے بعد وہ اپنے پیروکاروں کو اس پر عمل پیرا ہونے کی اجازت دیتی ہے، زن و شو کے انقطاع تعلقات کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سحر کی مذمت بیان فرمائی تو اس کا سب سے مکروہ ترین اثر یہ ظاہر کیا کہ : فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ پھر وہ ان دونوں سے وہ چیز سیکھتے ہیں جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے ہیں۔ البقرة : 102
ایک اور روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن إبليس يضع عرشه على الماء، ثم يبعث سراياه، فأدناهم منه منزلة أعظمهم فتنة، يجيء أحدهم فيقول : فعلت كذا وكذا، فيقول: ما صنعت شيئا، قال : ثم يجيء أحدهم فيقول : ما تركته حتى فرقت بينه وبين امرأته، قال : فيدنيه منه ويقول : نعم أنت
صحيح مسلم، صفات المنافقين وأحكامهم، باب تحريش الشيطان ……. حديث:2813
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابلیس پانی پر تخت بچھا کر اپنے لشکروں کو ہر طرف بھیجتا ہے، ان شیاطین میں سے از روئے قدر و منزلت ابلیس سے قریب تر وہ شیطان ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ پیدا کرتا ہے، ابلیس کے پاس ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اس اس طرح کیا تو شیطان کہتا ہے : تو نے کوئی (بڑا) کام سرانجام نہیں دیا، پھر ان میں سے ایک (اور) آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کا پیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس میں اور اس کی بیوی میں جدائی نہ ڈلوا دی، پس ابلیس اس کو اپنے قریب کر لیتا ہے اور اس کو اپنے سے چمٹا کر یہ کہتا ہے کہ تو بہت ہی اچھا ہے، (جس نے یہ بڑا کام کیا ہے۔)
ایک اور حدیث میں ہے :
عن النبى صلى الله عليه وسلم ، أنه قال : أيما امرأة سألت زوجها الطلاق فى غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة
سنن أبي داود، الطلاق، باب في الخلع حديث: 2226 ، وسنن ابن ماجه، الطلاق، باب كراهية الخلع للمرأة، حديث: 2055 واللفظ له
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ جس عورت نے بغیر کسی سبب کے اپنے شوہر سے طلاق مانگی، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔
پہلی حدیث میں تفریق زوجین کی فتنہ عظیم سے تعبیر اور دوسری روایت میں بغیر کسی سبب کے طلاق خواہ عورت پر جنت کی حرمت، شریعت کی نگاہ میں طلاق کی اہمیت و استکراہ کو اچھی طرح ظاہر کرتی ہے۔
تصریحات احادیث نبوی :۔
اب ان تصریحات کے بعد اصل مسئلے کے متعلق روایات صحیحہ کی بنیاد پر یہ غور کرنا چاہیے کہ اگر کسی شخص نے اس بارے میں اپنی جہالت و بے خبری سے جلدی کی اور ایک ہی مجلس میں مسلسل تین طلاقیں دے دیں تو آخر کیا ہو؟
روایت کا تتبع یہ ظاہر کرتا ہے کہ جمع طلاق ثلاثہ کی دو صورتیں ہیں :
ایک یہ کہ ایک ہی لفظ میں تین طلاقیں جمع کی جائیں، مثلاً : یہ کہ میں نے تم کو تین طلاقیں دیں۔
یا یہ کہ تین طلاقیں ایک ہی مجلس اور ایک ہی وقت میں یکے بعد دیگرے دی جائیں۔
گو یہ دونوں صورتیں قرآن مجید کے اصل منشا کے بالکل خلاف ہیں کیونکہ اس سے تو تین طلاقوں کی تین طہر میں تقسیم و تفریق مستفاد ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمع طلاق ثلاثہ کے واقع کی اطلاع ملی تو آپ غضب ناک ہوئے جیسا کہ سنن نسائی وغیرہ میں ہے۔
قرآن کریم سے تین طہروں میں تقسیم و تفریق کر کے طلاق کا حکم مستفاد نہیں ہوتا، بلکہ قرآن کے الفاظ الطلاق مرتن … سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پوری زندگی میں ایک مرد کو دو مرتبہ طلاق دے کر رجوع کرنے کا حق ہے۔ جب وہ اپنا یہ حق دو مرتبہ مختلف اوقات میں استعمال کر کے ختم کرلے گا اور کسی موقع پر تیسری مرتبہ طلاق دے دے گا تو پھر اسے حق رجوع حاصل نہیں رہے گا۔حتٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (البقرة : 230)
اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ طلاق صرف ایک ہی دی جائے اور اس وقت دی جائے جب عورت حیض سے پاک ہو جائے اور خاوند اس سے مقاربت نہ کرے۔ ایک طلاق دینے کے بعد اگر خاوند عدت کے اندر رجوع نہیں کرے گا تو عدت گزرتے ہی ان کے درمیان جدائی ہو جائے گی ۔ تاہم پہلی اور دوسری طلاق میں عدت گزرنے کے بعد ان کے درمیان دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔
لیکن بہر حال اگر اس کے خلاف کبھی کسی سے عمل ہو جائے تو ناگزیر طور پر یہ بحث پیدا ہوتی ہے کہ اس صورت میں حکم و فیصلہ کیا ہو گا؟ اس میں تو اکثروں کا اتفاق ہے کہ تین طلاقوں کا ایک لفظ میں جمع کرنا حرام ہے۔ لیکن اختلاف اس میں ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو وہ طلاق رجعی ہو گی یا بائن؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی یہ تصریح ملتی ہے کہ ایسی حالت میں طلاق واقع تو ہو گی لیکن صرف ایک طلاق رجعی ہو گی۔ ابو جعفر احمد بن محمد مغیث رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”المقنع فی أصول الوثائق وبيان ما في ذلك من الدقائق“ میں لکھا ہے :
وطلاق البدعة أن يطلقها ثلاثا فى كلمة واحدة، فإن فعل لزمه الطلاق، ثم اختلف أهل العلم بعد إجماعهم على أنه مطلق كم يلزمه من الطلاق، فقال على بن أبى طالب وابن مسعود رضي الله عنهما : يلزمه طلقة واحدة وكذا قال ابن عباس رضي الله عنهما
فتاوى ابن تيمية: 83/33 والفتاوى الكبرى: 20/3
اور طلاق بدعت یہ ہے کہ کلمہ واحد میں تین طلاقیں دی جائیں، پس اگر ایسا کسی نے کیا تو طلاق یقیناً واقع ہو جائے گی، البتہ ارباب علم نے وقوع طلاق پر اجماع کے بعد اس میں اختلاف کیا ہے کہ کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ ایک طلاق پڑے گی اور ایسا ہی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول بھی ہے۔
اسی طرح مجلس واحد میں جمع تطلیقات ثلاثہ بھی طلاق رجعی کا حکم رکھتی ہیں، اس بارے میں صحیح محفوظ روایتیں حسب ذیل ہیں :
حدثنا سعيد بن إبراهيم : حدثنا أبي، عن ابن إسحاق: حدثني داود بن الحصين، عن عكرمة مولى ابن عباس، عن ابن عباس، قال : طلق ركانة بن عبد يزيد أخو المطلب امرأته ثلاثا فى مجلس واحد، فحزن عليها حزنا شديدا، قال : فسأله رسول الله صلى الله عليه وسلم : كيف طلقتها؟ قال : طلقتها ثلاثا، قال : فقال : فى مجلس واحد؟ قال : نعم، قال : فإنما تلك واحدة، فارجعها إن شئت، قال : فراجعها
مسند أحمد: 265/1 و السنن الكبرى للبيهقي، الخلع والطلاق، باب من جعل الثلاث واحدة: 339/7
سعید بن ابراہیم نے حدیث بیان کی… عکرمہ مولیٰ ابن عباس رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں بیک مجلس دیں اور اس واقعے پر وہ بہت غمگین ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے کس طرح طلاق دی؟“ انہوں نے کہا: تین طلاقیں دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ایک ہی مجلس میں؟“ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایک طلاق ہے، پس اگر چاہو تو رجعت کر لو۔“ راوی کہتا ہے کہ اس کے بعد رکانہ رضی اللہ عنہ نے رجعت کر لی۔
قال أبو داود : حدثنا أحمد بن صالح: صالح : حدثنا عبد الرزاق : حدثنا ابن جريج : قال : أخبرني بعض بني أبى رافع مولى النبي، عن عكرمة، مولى ابن عباس، عن ابن عباس قال: طلق عبد يزيد أبو ركانة وإخوته – أم ركانة ونكح امرأة من مزينة ، فجاءت النبى صلى الله عليه وسلم فقالت : ما يغني عني إلا كما تغني هذه الشعرة لشعرة أخذتها من رأسها ففرق بيني وبينه، فأخذت النبى صلى الله عليه وسلم حمية، فدعا بركانة وإخوته، ثم قال لجلسائه : أترون فلانا يشبه منه كذا وكذا من عبد يزيد ، وفلانا يشبه منه كذا وكذا؟ قالوا: نعم قال النبى صلى الله عليه وسلم لعبد يزيد : طلقها ففعل، ثم قال: راجع امرأتك أم ركانة وإخوته فقال : إني طلقتها ثلاثا يارسول الله! قال: قد علمت راجعها وتلا : يَايُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ
سنن أبي داود، الطلاق، باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث، حديث : 2196
امام ابو داود رحمہ اللہ نے کہا… عکرمہ مولیٰ ابن عباس رحمہ اللہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رکانہ رضی اللہ عنہ اور اس کے بھائیوں کے باپ عبد یزید رضی اللہ عنہ نے ام رکانہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے شادی کر لی، وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور ایک بال اپنے سر سے توڑ کر یہ کہا: عبد یزید میری اتنی ضرورت بھی پوری نہیں کر سکتے جتنی کہ یہ بال کر سکتا ہے، اس لیے مجھ میں اور ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تفریق کرا دیجیے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیرت آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ رضی اللہ عنہ اور اس کے بھائیوں کو بلوا کر حاضرین مجلس سے یہ سوال کیا: ”کیا یہ لوگ عبد یزید سے فلاں فلاں چیزوں میں مشابہ نہیں ہیں؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، یا رسول اللہ! پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد یزید رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اس کو طلاق دے دو اور اپنی بیوی ام رکانہ رضی اللہ عنہا سے رجعت کر لو۔“ عبد یزید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس کو تین طلاقیں دی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، میں جانتا ہوں، رجعت کر لو۔“ یہ فرما کر حسب ذیل آیت تلاوت فرمائی: ”اے نبی! جب تم مسلمان عورتوں کو طلاق دیا کرو تو ان کی عدت کے زمانے میں طلاق دو۔“
اس روایت میں اگر چہ فی مجلس واحد کی تصریح نہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آیت يَايُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَقْتُمُ النِّسَاء.. الخ الطلاق : 1 تلاوت فرمانا اس بات کی کافی دلیل ہے کہ وہ طلاق ثلاثہ فی مجلس واحد تھی، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرگز یہ آیت اس موقع پر تلاوت نہ فرماتے کیونکہ طلاق ثلاثہ فی مجلس واحد کے بغیر یہ آیت بالکل بے جوڑ ہو جاتی۔ لیکن ان روایتوں سے زیادہ صاف اور واضح صحیح مسلم اور ابو داود کی یہ روایتیں ہیں :
عن طاؤس، عن ابن عباس قال: كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر بن الخطاب: إن الناس قد استعجلوا فى أمر قد كانت لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم فأمضاه عليهم، وفي رواية : إن أبا الصهباء قال لابن عباس : هات من هناتك! ألم يكن الطلاق الثلاث على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر واحدة، فقال : قد كان ذلك فلما كان فى عهد عمر تتابع الناس فى الطلاق، فأمضاه عليهم وأجازه
صحیح مسلم، الطلاق، باب طلاق الثلاث، حديث : 1472
طاؤس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عہد خلافت صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہم کی خلافت کے ابتدائی دو سال تک تین طلاقیں ایک طلاق کا حکم رکھتی تھیں، لیکن کثرت طلاق کی وجہ سے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں نے اس معاملے میں جلدی کی جس میں ان کے لیے نرمی اور آسانی تھی، پس میں اگر اس کو نافذ کر دوں تو بہتر ہے اس کے بعد سے اُس کو نافذ کر دیا۔ ایک روایت میں ہے، ابو صہباء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا جو کچھ آپ کو معلوم ہے اُس کو بیان کیجیے، کیا تین طلاقیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک نہ تھیں؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، ایسا ہی تھا لیکن جب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگوں نے کثرت سے تین طلاقیں دینا شروع کیں تو انھوں نے ان کو نافذ کر دیا۔
یہ روایتیں نہایت تصریح سے ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ عہد رسالت، عہد خلافت صدیق رضی اللہ عنہ اور عہد خلافت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دو سال تک عام طور پر تین طلاقیں جو بیک وقت و بیک مجلس دی جاتی تھیں، ایک طلاق کے حکم میں ہوتی تھیں، اور شوہر کو حق رجعت حاصل رہتا تھا۔ وإن هذا لهو الحق المبين.
دوسرے گروہ کے دلائل اور ان کا تجزیہ :۔
یہ تصویر کا ایک رخ ہے، اس موقعے پر اس گروہ کے استدلال کا تذکرہ بھی ضروری ہے جو یہ کہتا ہے کہ تین طلاقیں جو جملہ واحد یا مجلس واحد میں دی جائیں تین طلاقیں ہوں گی اور ایسا کرنے والے پر اس کی بیوی حرام ہو جائے گی۔ کیونکہ اس کے بغیر فریقین کے دلائل کا صحیح موازنہ نہیں ہو سکتا جن احادیث کی بنا پر اس دوسرے گروہ کی یہ رائے ہے، وہ حسب ذیل ہیں :
في صحيح البخاري من حديث القاسم بن محمد، عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها ، أن رجلا طلق امرأة ثلاثا فتزوجت فطلق، فسئل النبى صلى الله عليه وسلم : أتحل للأول؟ قال : لا ، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول
صحيح البخاري، الطلاق، باب من طلق وهل يواجه الرجل ……. حديث:5261، وصحيح صحيح مسلم، النکاح، باب لا تحل المطلقة ثلاثا……. حديث: (114)1433
صحیح بخاری میں حضرت قاسم رحمہ اللہ کے ذریعہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں اور اس عورت کی شادی ہوئی، پھر اس کو طلاق دے دی گئی، اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اب وہ پہلے شوہر کے لیے جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ اس سے دوسرا شوہر بھی متمتع ہو جس طرح کہ پہلا متمتع ہوا تھا۔“
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمع طلاق ثلاثہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند نہیں فرمایا، اور یہی وجہ اس کے جواز کی ہو سکتی ہے۔ اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایسی طلاق بیوی کو حرام کر دیتی ہے ورنہ یہاں شوہر اول کی طرف رجعت شوہر ثانی کے ذوق عسيلہ پر موقوف نہ ہوتی۔
عن أبى سلمة عبد الرحمن أن فاطمة بنت قيس أخت الضحاك بن قيس أخبرته، أن أبا حفص بن المغيرة المخزومي طلقها ثلاثا، ثم انطلق إلى اليمن، فقال لها أهله : ليس لك علينا نفقة، فانطلق خالد بن الوليد فى نفر، فأتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فى بيت ميمونة أم المؤمنين، فقالوا : إن أبا حفص طلق امرأته، فهل لها من نفقة؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ليست لها نفقة، وعليها العدة
صحیح مسلم ، الطلاق، باب المطلقة البائن لا نفقة لها، حديث : 1480
ابو سلمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کی بہن فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ ان کے شوہر ابو حفص رضی اللہ عنہ نے ان کو تین طلاقیں دیں اور یمن چلے گئے اور اس کے گھر والوں نے کہا کہ تیرا نفقہ ہمارے ذمے نہیں ہے۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے ساتھ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ پوچھا کہ ابو حفص رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں تو کیا ان کی بیوی کو نفقہ ملے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے لیے نفقہ نہیں ہے اور اس پر عدت واجب ہے۔
روى عبد الرزاق فى مصنفه عن يحيى بن العلاء، عن عبد الله بن الوليد القرصافي، عن إبراهيم بن عبيد الله بن عبادة بن الصامت عن داود، عن عبادة بن الصامت قال: طلق جدي امرأة له ألف تطليقة فانطلق أبى إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكر ذلك له، فقال النبى صلى الله عليه وسلم : أما اتقى الله جدك أما ثلاث فله وأما تسع مائة وسبعة وتسعون فعدوان وظلم إن شاء الله تعالى عذبه، وإن شاء غفر له
مصنف عبدالرزاق : 393/6، حدیث : 11339
عبدالرزاق رحمہ اللہ نے اپنی کتاب مصنف میں یحییٰ بن العلاء رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے دادا نے اپنی ایک بیوی کو ہزار طلاقیں دے دیں، میرے باپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے دادا نے اللہ کا خوف نہ کیا ان میں سے تین طلاقیں تو اس کے لیے ہیں اور بقیہ 997 سرکشی اور ظلم ہیں، اللہ چاہے گا تو عذاب دے گا یا چاہے گا تو بخش دے گا۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا جو واقعہ ہے کہ آپ نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی اور جب اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ رجعت کر لیں کیونکہ یہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقہ طلاق کے بالکل خلاف ہے، اسی واقعہ کی ایک روایت کسی قدر اضافے کے ساتھ بھی پائی جاتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں :
فقلت : يارسول الله ! لو كنت طلقتها ثلاثا أكان لي أن أراجعها ؟ قال : لا ، كانت تبين وتكون معصية
السنن الكبرى للبيهقي : 334/7
میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر میں نے تین طلاقیں دی ہوتیں تو کیا پھر بھی مجھے حق رجعت حاصل رہتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں وہ بائن ہو جاتی اور یہ عمل نافرمانی ہوتا۔
عن نافع، عن ابن عجير بن عبد يزيد بن ركانة أن ركانة بن عبد يزيد طلق امرأة له سهمية البتة، فأخبر النبى صلى الله عليه وسلم بذلك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما أردت؟ قال ركانة : والله! ما أردت إلا واحدة، فردها إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم
مسند أحمد : 265/1 والسنن الكبرى للبيهقي، الخلع والطلاق، باب من جعل الثلاث واحدة : 339/7 عن ابن عباس رضی اللہ عنہما
نافع رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سہمیہ رضی اللہ عنہا کو طلاق بتہ دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : تمہاری مراد کیا تھی، رکانہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک مراد لی تھی، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی ان کو لوٹا دی۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر رکانہ رضی اللہ عنہ اس طلاق بتہ سے تین طلاقیں مراد لیتے تو تین طلاقیں واقع ہو جاتیں جیسا کہ ان کی اس تصریح سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے جب ایک طلاق مراد لینے کو حلفاً بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی طلاق شمار کی اور ان کو حق رجعت دے دیا۔ انہی روایات کی بنا پر دوسرے گروہ نے یہ رائے قائم کی ہے کہ تین طلاقیں جو بیک مجلس دی جائیں، طلاق بائن ہوں گی اور ایسا کرنے والے کی بیوی اس پر حرام ہو جائے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی روایت بھی ان کے اس خیال کی تائید و توثیق نہیں کرتی، پہلی حدیث جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، ہر طرح محفوظ و مصون اور بالکل صحیح ہے۔ لیکن اس کا مطلب سمجھنے اور اس سے استدلال کرنے میں سہو ہو گیا، ان رجلا طلق امرأته ثلاثا سے یہ کیونکر ثابت ہو سکتا ہے کہ شوہر نے تین طلاقیں بیک جملہ یا بیک مجلس دیں، نہ تو اس روایت میں اس کی کوئی تصریح ہے اور نہ کوئی اشارہ و کنایہ، جس سے یہ سمجھا جا سکے کہ : طلق امرأته ثلاثا سے ایک ہی وقت یا ایک مجلس میں تین طلاقیں دینا مقصود ہے بلکہ اس کے برعکس جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا : لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ تین طلاقیں قرآن مجید کے حکم کے مطابق تطلیقات ثلاثہ متفرقات تھیں۔ كما صرح به بعض الاكابر و صرح العلامة ابن تيمية فى الفتاوى
لیکن اس سے الگ ایک بات ہے جو سب سے زیادہ واضح اور یقینی ہے، وہ یہ کہ اس حدیث کا اس بحث میں کوئی مدخل ہی نہیں، دراصل یہ حدیث تو ان لوگوں کے مقابلے میں لائی جا سکتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ زوجہ مطلقہ شوہر اول کے لیے محض عقد ثانی کے وجود کے بعد ہی حلال ہو جاتی ہے، روایت میں فسئل رسول الله صلى الله عليه وسلم کے بعد جتنے الفاظ ہیں وہ سب اسی مفہوم کو واضح کرتے ہیں، پس یہ حدیث حیلہ تحلیل کی تردید میں لائی جا سکتی ہے، نہ کہ طلاق ثلاثہ فی مجلس واحد کو طلاق رجعی قرار دینے کی تردید میں۔
دوسری روایت، یعنی حدیث فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا، کا بھی یہی حال ہے کہ اس میں بھی تطلیقات ثلاثہ فی مجلس واحد کی نہ تو تصریح ہے اور نہ اس کے لیے کوئی کنایہ و اشارہ، علاوہ بریں صحیح مسلم میں خود فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روایت امام زہری رحمہ اللہ عن عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ رحمہ اللہ کی روایت سے مذکور ہے :
إن زوجها أرسل إليها بتطليقة كانت بقيت لها من طلاقها
صحیح مسلم ، الطلاق ، باب المطلقة البائن لانفقة لها، حديث : (41)-1480
ان کے شوہر نے ان کے پاس وہ طلاق بھیجی جو ان کی طلاقوں میں سے باقی رہ گئی تھی۔
اور صحیح مسلم ہی میں ایک اور روایت ان الفاظ میں ہے :
فطلقها آخر ثلاث تطليقات
صحیح مسلم ، الطلاق ، باب المطلقة البائن لا نفقة لها، حديث : (40)-1480
انہوں نے تین طلاقوں میں سے آخری طلاق ان کو دی۔
اور یہ وہ روایت ہے جو آفتاب کی طرح صاف اور روشن ہے جیسا کہ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فتاویٰ میں کہا ہے۔ تیسری روایت اصول حدیث کے لحاظ سے کوئی پایہ نہیں رکھتی، اس میں یحییٰ بن العلاء ضعیف اور ابراہیم بن عبید اللہ مجہول ہے، پھر ایسی حدیث سے استدلال کیونکر صحیح ہو سکتا ہے اور تاریخی حیثیت سے اس کی عدم صحت کا یہ واضح ثبوت ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے دادا نے اسلام کا زمانہ ہی نہیں پایا، پھر ان کا اپنے والد کے واقعہ طلاق کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونا اور استفتا کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اصل واقعہ و روایت کی صحت میں کوئی شبہ نہیں لیکن جس روایت کی بنیاد پر زیادت : فقلت يا رسول الله لو طلقتها ثلاثا…. الخ نقل کی جاتی ہے اس کے تنہا راوی عطاء خراسانی رحمہ اللہ ہیں جن کی نسبت علمائے فن رجال میں اختلاف ہے، سعید بن مسیب رحمہ اللہ ان کی تکذیب کرتے اور ضعیف ٹھہراتے ہیں، شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ بہت بُھولتے تھے، لیکن سب سے زیادہ صحیح رائے امام ابن حبان رحمہ اللہ کی ہے، وہ کہتے ہیں :
كان كثير الوهم ، سيء الحفظ، يخطيء ولا يدري، فلما كثر ذلك فى روايته بطل الاحتجاج به
وہ بہت وہمی تھے، حافظہ خراب تھا، غلطیاں کرتے تھے اور ان کو محسوس نہیں کرتے تھے، پس جب یہ باتیں ان کی روایت میں بہت زیادہ ہو گئیں تو ان کی روایات سے استدلال کرنا باطل ہو گیا۔
اور زیادت : فقلت يا رسول الله لو طلقتها ثلاثا، كانت تحل لي … ان کے سوا کسی دوسرے راوی کی روایت میں موجود نہیں، تمام حفاظ حدیث اس زیادتی میں ان کے مخالف ہیں، پھر اس پر مزید یہ کہ اس روایت میں شعیب بن رزیق شامی یا بقول بعض رزیق بن شعیب شامی کا نام موجود ہے جو قطعی طور پر ہر شخص کے نزدیک ضعیف ہے۔
پانچویں روایت نافع بن عجیر کی بھی، جو مجہول الحال ہے، اس قابل نہیں کہ ابن جریج رحمہ اللہ و معمر رحمہ اللہ وغیرہ کی روایت پر اس کو ترجیح دی جائے، امام بخاری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس روایت میں اضطراب ہے۔
صاحب ترمذی رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ سے بہ تصریح یہ روایت کی ہے کہ اس حدیث میں اس طرح اضطراب پایا جاتا ہے کہ بعض روایتوں میں طلق امرأته سهمية البتة مروی ہے اور بعض روایتوں میں طلق امرأته سهمية ثلاثا دوسرے یہ کہ اس کے رجال اسناد میں زبیر بن سعید ہاشمی ہے جس کو متعدد ائمہ حدیث و رجال نے ضعیف کہا ہے۔ نافع رحمہ اللہ کی روایت کے متعلق علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
والمروي عن ابن عباس فى حديث ركانة من وجهين، هو رواية عكرمة عن ابن عباس من وجهين عن عكرمة وهو أثبت من رواية عبدالله بن على بن يزيد بن ركانة ونافع بن عجير أنه طلقها البتة وأن النبى صلى الله عليه وسلم، استحلفه، فقال: ما أردت إلا واحدة، فإن هؤلاء مجاهيل لا تعرف أحوالهم، وليسوا فقهاء، وقد ضعف حديثهم أحمد بن حنبل وأبو عبيد وابن حزم وغيرهم
فتاوی ابن تيمية : 86 : 33
حدیث رکانہ میں عکرمہ کی روایت ابن عباس سے زیادہ صحیح و ثابت ہے، یہ نسبت اس روایت کے جس کو عبد اللہ بن علی بن یزید اور نافع بن عجیر روایت کرتے ہیں جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قسم لے کر ان کی مراد پوچھی تو انہوں نے بیان کیا کہ صرف ایک مراد لی تھی، اس لیے کہ یہ لوگ مجہول الحال ہیں اور فقیہ نہیں ہیں، نیز ان کی حدیث کو امام احمد، ابوعبید اور ابن حزم وغیرہ نے ضعیف ٹھہرایا ہے۔
اس روایت بلفظ البتة کے متعلق امام احمد رحمہ اللہ کے الفاظ ہیں : وطرقه كلها ضعيفة یعنی اس کے تمام طرق روایت ضعیف ہیں۔
وحديث ركانة فى البتة ليس بشيء اور رکانہ کی روایت بلفظ البته کوئی چیز نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ احادیث میں سے کوئی حدیث صحیح بھی اس دوسرے گروہ کے خیال کی تائید نہیں کرتی۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت :
كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر بن الخطاب : إن الناس قد استعجلوا أمرا كان لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم فأمضاه عليهم
عہد رسالت، عہد خلافت صدیق رضی اللہ عنہ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سال تک تین طلاقیں ایک طلاق کا حکم رکھتی تھیں لیکن کثرت طلاق کے واقعات کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں نے اس امر میں جلدی کی جس میں ان کے لیے نرمی اور سہولت تھی، پس اگر میں اس کو ان پر نافذ کر دوں تو بہتر ہے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو نافذ کر دیا۔
اس روایت کے متعلق اس دوسرے گروہ کے افراد کا عجیب و غریب حال ہے، کبھی تو وہ اس کے ابتدائی حصے کو اپنے مقصود کے خلاف سمجھ کر اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ ایک ایسی حدیث ہے جس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے نہیں لیا اور امام مسلم رحمہ اللہ اس کی روایت میں امام بخاری رحمہ اللہ سے منفرد ہیں لیکن ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ کیا صرف یہی ایک حدیث ہے جس میں امام مسلم رحمہ اللہ منفرد ہیں؟ اور کیا آپ حضرات کے نزدیک ہر وہ حدیث جس میں امام مسلم رحمہ اللہ منفرد ہوں ساقط الاعتبار ہے؟ کیا امام بخاری رحمہ اللہ نے کہیں یہ لکھ دیا ہے کہ ہر وہ حدیث جس کو ہم نے صحیح میں داخل نہیں کیا وہ باطل ہے؟ اور ہاں! کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے بہت سی ایسی احادیث سے احتجاج کیا ہے جن کا ذکر ان کی صحیح میں نہیں ہے اور متعدد ایسی احادیث کی انہوں نے توثیق و تصحیح کی ہے جس کو خود انہوں نے صحیح میں داخل نہیں کیا۔
اور پھر کبھی یہی لوگ اس روایت کے آخری ٹکڑے کو اپنے دعوے کے مطابق خیال کر کے اس کو اپنے قول کی تائید میں پیش کرتے ہیں اور اپنی درستی رائے کے جوش میں مختلف تاویلوں سے اس کی اہمیت کو بڑھاتے ہیں اور اسی سلسلے میں تائید مزید کے طور پر یہ واقعہ بھی پیش کرتے ہیں کہ اسی روایت کی بنیاد پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تطلیقات ثلاثہ فی مجلس واحد کے لزوم کا فتویٰ بھی دیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود یہی روایت ان کی کمزور حیثیت کا راز فاش کر دیتی ہے کیونکہ اس روایت سے اتنا تو یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ عہد رسالت، عہد خلافت صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سال تک عام طور پر بلا اختلاف ایسی تین طلاقیں جو ایک مجلس میں دی جاتی تھیں، صرف ایک طلاق کے حکم میں ہوتی تھیں اور یقینی طور پر یہ طلاق رجعی ہے، البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب اپنے زمانے میں دیکھا کہ لوگوں نے طلاق کو ایک معمولی درجے کی چیز خیال کر لیا ہے اور لگاتار طلاق ثلاثہ کے واقعات آئے دن بکثرت پیش آتے رہتے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہ مناسب خیال کیا کہ لوگوں کو اس نامناسب طرز عمل سے روکنے کے لیے ایسی طلاقوں کو طلاق بائن قرار دے دیا جائے تاکہ لوگ نتیجے کی سختی و ناخوشگواری محسوس کر کے آئندہ اپنے طرز عمل کو بدلنے پر مجبور ہو جائیں۔
گروہ ثانی (وہ لوگ جو تطلیقات ثلاثہ فی مجلس واحد کو طلاق بائن قرار دیتے ہیں) کا یہ خیال ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فعل حکم سابق کے لیے ناسخ ہے لیکن اس نسخ کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، یہ تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شریعت اپنی امت کے لیے چھوڑی اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو ترمیم و اضافہ کا حق نہیں ہے، کسی خاص مسئلے میں نفی و اثبات دونوں قسم کے پہلو نکالنے کی صورت زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتی ہے کہ دونوں قسم کی روایتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت کی جائیں، لیکن زیر بحث مسئلہ اس صورت میں بھی حل ہوتا نظر نہیں آتا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو لاکھوں ایسے اصحاب موجود تھے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامر و نواہی اور گفتگوئیں سنی تھیں، اس بڑی تعداد میں سے دس بیس بھی ایسے اصحاب نہیں نکل سکے جنہوں نے تطلیقات ثلاثہ فی مجلس واحد یا بفم واحد (ایک ہی دفعہ) کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت کی ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی تین طلاقوں کو طلاق بائن قرار دیا، بخلاف اس کے عہد رسالت، عہد خلافت صدیق رضی اللہ عنہ اور خلافت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دو سال تک تمام مسلمانوں کا جو طرز عمل رہا وہ اس بات کی کافی شہادت ہے کہ تطلیقات ثلاثہ فی مجلس واحد یا بفم واحد طلاق رجعی ہے۔
تمام صحابہ کی جماعت میں بمشکل چار پانچ شخص ایسے نکل سکتے ہیں جن کی رائے ثبوت اختلاف ایسی طلاق کو طلاق بائن قرار دیتی ہو، مثلاً: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اس بارے میں دو قول ہیں جن میں سے ایک کی بنا پر طلاق زیر بحث طلاق رجعی قرار پاتی ہے اور دوسرے کی بنا پر طلاق بائن۔ دوسرے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں جن کے ایک قول کی بنا پر یہ طلاق طلاق بائن قرار پاتی ہے اور دوسرے قول میں توقف ہے، اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فتویٰ ہے، لیکن اس کے سوا تمام صحابہ کی بے شمار تعداد ایسی طلاق کو طلاق رجعی قرار دیتی ہے، اس کثرت تعداد کے علاوہ اصولاً یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ مذہبی نقطہ نظر سے جب صحابہ کی روایت ان کی رائے سے مخالف ہو تو ہم کس کے پابند ہونے پر مجبور ہیں؟ اگر یہ کہا جائے کہ ہم ان کی رائے کی پیروی کرنے پر مجبور ہیں تو ہمیں اس سے قطعاً اختلاف ہے کیونکہ ایسی بہت سی مثالیں مل سکتی ہیں جن میں صحابہ کی رائے ان کی روایت کردہ احادیث کے خلاف ہے اور علمائے سلف نے ان کی روایت کو لیا اور ان کی رائے کو چھوڑ دیا، مثلاً: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ : بيع الامة طلاقها لونڈی کو فروخت کر دینا اس کی طلاق ہے لیکن انہی کی روایت سے حدیث بیع و عتاق بریرہ رضی اللہ عنہا اور اس کی تخيير مروی ہے، علمائے مذاہب اربعہ نے ان کی اس روایت کو تو تسلیم کیا لیکن ان کے فتوے کی تقلید اپنے لیے ضروری نہیں خیال کی یا مثلاً : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ہے کہ اگر کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اس کو سات مرتبہ دھونا چاہیے۔ لیکن ان کا فتویٰ اس کے خلاف ہے، علماء نے ان کی روایت لی ہے مگر ان کے فتوے کو چھوڑ دیا، یہاں اگر اس قسم کی مثالیں جمع کی جائیں تو ایک دفتر تیار ہو سکتا ہے، سینکڑوں مواقع ہیں جہاں علماء نے صحابہ کی رائے کو نظر انداز کر دیا ہے، آیت فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ البقرة : 223 کی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جو تفسیر کی ہے، جمہور علماء نے اس کو نظر انداز کر دیا ہے، حدیث البيعان بالخيار کی انہوں نے جو تشریح کی وہ اگر چہ ظاہر حدیث کے مطابق ہے، پھر بھی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ نے اس کو تسلیم نہیں کیا۔ کیا یہ سب اسی اصول کے تحت میں نہیں ہے؟ کہ انما الاعتبار بما رووه لا ما رأوه وفهموه صحابہ نے جو روایت کی وہ بے شبہ قابل تسلیم و سند ہے لیکن جو کچھ وہ سمجھتے یا جس کا انہوں نے فتویٰ دیا اس کی پیروی ہم پر لازم نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فعل (تطلیقات ثلاثہ فی مجلس واحد کو طلاق بائن قرار دینا) نہ تو اصل حکم شریعت (ایسی طلاق، طلاق رجعی ہے) کے لیے ناسخ ہے اور نہ ہم حدیث کے مقابلے میں بعض صحابہ کے فتوے کی پیروی پر مجبور ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کیا وہ نسخ نہیں بلکہ تعزیر ہے، یعنی یہ کہ جب لوگوں نے شریعت کے منشا کے خلاف کثرت طلاق پر عمل شروع کیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ طلاق کی اہمیت و استکراہ کا خیال ان کے دلوں سے زائل ہو چکا تھا تو بحیثیت خلیفہ وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اپنا فرض تصور کیا کہ اس مذموم طرز عمل سے لوگوں کو باز رکھیں، اس لیے آپ رضی اللہ عنہ نے تعزیراً یہ اعلان کر دیا کہ جو شخص ایسا کرے گا اس کی بیوی اس پر حرام ہو گی، غرض حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فعل صرف تعزیری حیثیت رکھتا ہے جس کے بوقت ضرورت اجراء کا ایک خلیفہ کو یقیناً حق ہے اور اس قسم کی تعزیر کی متعدد مثالیں خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ یا ان کے زمانہ خلافت میں مل سکتی ہیں، مثلاً : ایک یہی کہ شرابیوں کی سزا پہلے چالیس کوڑے تھی لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو اسی (80) کوڑے تک پہنچا دیا اور صرف یہی نہیں بلکہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایسا بھی کیا ہے کہ بعض شرابیوں کے سر منڈوا کر ان کو شہر بدر کر دیا، اہل قبلہ (مسلمان) سے جنگ کرنا شریعت نے جائز نہیں رکھا لیکن جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے زمانہ خلافت میں ایسا کرنے پر مجبور ہو گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے کیا اور اہل قبلہ کے خلاف تلوار اٹھائی۔ مگر کیا اس کی حیثیت تعزیر سے کچھ زیادہ تھی؟ واقعہ یہ ہے کہ ان ناگزیر مواقع پر اصل حکم کے خلاف جو کچھ کیا گیا وہ صرف وقتی تعزیر کے حکم میں ہے، یعنی جب نہایت تنگی و مجبوری کی حالت پیش آگئی تو خلفاء نے ہنگامی طور پر تعزیراً لوگوں کو ان کے ان حقوق سے محروم کر دیا جن کے وہ از روئے احکام شریعت مستحق تھے، پس ان مستثنیٰ حالات کے سوا اصلی حکم شریعت آج تک بجنسہ قائم و باقی ہے، البتہ خلفائے راشدین کی ان مثالوں کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ آج بھی کوئی خلیفہ و امام جب نہایت تنگ اور مجبورانہ حالت میں گرفتار ہو جائے تو ان کی پیروی کرتے ہوئے وقتی طور پر اس قسم کا تعزیری طرز عمل اختیار کر سکتا ہے۔
ہم اس مسئلے میں روایات کے تتبع سے اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ عہد رسالت سے لے کر عہد خلافت عمر کے ابتدائی دو سال تک واقعتاً بلا اختلاف تطلیقات ثلاثہ فی مجلس واحد یا بفم واحد (ایک ہی دفعہ) طلاق رجعی تھی، اختلاف رائے کا آغاز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اس وقت ہوا جب آپ رضی اللہ عنہ نے کثرت واقعہ طلاق کی بنیاد پر تعزیراً ایسی طلاقوں کو طلاق بائن قرار دیا، یہی وجہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ یا خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو ایسی طلاقوں کو طلاق بائن قرار دیتے ہیں تو اپنے فتوے کی بنیاد پر قرار دیتے ہیں، نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی روایت کی بنیاد پر۔ کیونکہ ایسی کسی روایت کا پتہ نہیں چلتا کہ مذکورہ بالا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی جب یہ فتویٰ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث پیش کی ہو۔ اس خیال کی تائید اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے و اعلان کے بعد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے کبھی کبھی فتویٰ دیتے وقت ایسی حالت ظاہر کی جس سے ان کے تردد و تذبذب کی کیفیت عیاں ہوتی تھی اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ ایسے موقع پر تردد و تذبذب کا سبب حکم سابق اور موجودہ حکم کا اختلاف ہی ہوگا، ذیل کا واقعہ اس کا ثبوت ہے۔
عن مجاهد قال : كنت عند ابن عباس، فجاءه رجل فقال : إنه طلق امرأته ثلاثا ، قال : فسكت حتى ظننت أنه رادها إليه، ثم قال : ينطلق أحدكم فيركب الحموقة ثم يقول : يا ابن عباس ! يا ابن عباس وإن الله قال : وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وإنك لم تتق الله فلم أجد لك مخرجا عصيت ربك وبانت منك امرأتك وإن الله تعالى قال: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ
سنن أبي داود الطلاق، باب نسخ المراجعة حدیث : 2197 ، وفتح الباري، الطلاق، باب من جوز الطلاق الثلاث: 362/9
مجاہد رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا تو ایک شخص آیا اور اس نے یہ بیان کیا کہ اس نے اپنی بیوی کو بیک دفعہ تین طلاقیں دی ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ سن کر اتنی دیر چپ رہے کہ مجھے اس کا شبہ ہوا کہ وہ اس کی بیوی کو اس کی طرف لوٹا دیں گے لیکن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دفعتاً کہا: تم لوگ حماقت کرتے ہو اور پھر چلاتے ہو: یا ابن عباس یا ابن عباس! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: جو اللہ سے ڈرتا ہے اس کے لیے جائے گریز ہے مگر تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے، اس لیے میں تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہیں پاتا تم نے اللہ کی نافرمانی کی، اس لیے تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے: اے نبی! مسلمان جب عورتوں کو طلاق دیں تو ان کی عدت کے وقت دیا کریں۔
اسی قسم کی ایک اور روایت ہماری نظر سے گزری ہے جس کے متعلق گو اس وقت صحیح طور پر یاد نہیں کہ زاد المعاد یا نیل الاوطار یا کسی اور کتاب میں نظر سے گزری تھی، تاہم اصل روایت کے وجود میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک مقام پر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مع چند اور اشخاص کے تشریف فرما تھے، ایک شخص آیا اور اس نے یہی سوال پیش کیا، آپ تھوڑی دیر چپ رہے تو حاضرین مجلس میں سے ایک صاحب نے کہا: لقد أتتك المعضلة ”بے شک ایک مشکل سوال آپ کے سامنے آیا ہے۔“
ایسے مواقع پر ان حضرات کے اس قسم کے سکوت و تذبذب سے بظاہر یہی متبادر ہوتا ہے کہ اس وقت جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مصلحتاً ایسی طلاقوں کو طلاق بائن قرار دیا تھا تو فتویٰ دینے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے قدیم و جدید حکم کے اختلاف کی وجہ سے دراصل ایک مشکل و دشوار حالت پیدا ہوگئی تھی لیکن بایں ہمہ جو خلیفہ وقت کا فیصلہ و فرمان تھا، ان کو اس کا اتباع کرنا چاہیے تھا، اس لیے وہ اسی قسم کا فتویٰ دیتے تھے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہی اختلاف متاخرین علماء کے اختلاف کی بنیاد ہے جس پر انہوں نے اپنے خیالات کی عمارت قائم کی ہے اور آخر میں دو مختلف طرز عمل کے دو گروہ پیدا ہو گئے ہیں، اگرچہ دونوں کا مقصد ایک ہی یعنی کثرت طلاق کو روکنا ہے لیکن ایک گروہ نے اس مقصد کے حصول کا یہ طریقہ اختیار کیا اور مسئلہ طلاق میں اس درجہ سختی برتی کہ معمولی سی بے عنوانی بھی ایک شوہر کو اس کی بیوی سے محروم کر سکتی ہے تاکہ لوگ اس طرح طلاق دینا کیا معنی بلکہ طلاق کے تخیل سے بھی ڈر جائیں اور اس سے بچتے رہیں۔ لیکن دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ ہمیں اس تنگ گیری و تشدد کا کوئی حق نہیں، ہر شرعی معاملے میں ہمارے لیے بہترین اسوہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس موقع پر سخت گیری کی ہو ہم بھی وہاں پر کر سکتے ہیں لیکن جس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی اختیار کی ہے ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم امت مسلمہ کو اس رحمت عالم کی رحمت و رافت سے محروم کر دیں۔ ولعل هذا القول هو أقرب إلى الحق و الصواب امید ہے یہ بات حق اور درستی کے زیادہ قریب ہے۔ماہنامہ معارف اعظم گڑھ، جلد: 9 ، شمارہ 2,1 ، جنوری، فروری 1922ء
پاکستانی علمائے احناف :۔
مولانا پیر کرم شاہ ازہری رحمہ اللہ (حنفی بریلوی) :۔
پیر صاحب موصوف جامعہ ازہر (مصر) کے تعلیم یافتہ تھے۔ جب یہ جامعہ ازہر سے فارغ ہو کر آئے تھے تو اس وقت انہوں نے اسی مسئلہ طلاق ثلاثہ پر ایک کتاب تحریر فرمائی تھی اور اس کا نام انہوں نے رکھا تھا دعوت فکر و نظر (مطبوعہ، خالد پرنٹنگ پریس، سرگودھا)۔ یہ نام انہوں نے اس لیے تجویز کیا تھا کہ اس میں انہوں نے علمائے احناف کو غور و فکر کی دعوت دے کر اس بات کی تلقین فرمائی تھی کہ وہ اس مسئلے میں اہل حدیث کے مسلک کو اپنائیں جسے مصر وغیرہ میں بھی اپنایا گیا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کتاب میں انہوں نے علمائے احناف کے آیات اور احادیث سے استدلال کو نہایت کمزور قرار دیا ہے جن سے وہ تین طلاقوں کے وقوع کا اثبات کرتے ہیں اور ان کے استدلال کے ضعف کو بڑی صراحت اور دلائل سے واضح کیا ہے۔
دوسرے نمبر پر وہ دلائل بیان کیے ہیں جن سے بیک وقت دی گئی تین طلاقوں کا ایک ہی طلاق ہونا ثابت ہوتا ہے۔
تیسرے نمبر پر احناف، اہل حدیث کے دلائل کا جو جواب دیتے ہیں، پیر صاحب نے ان کا جواب الجواب دے کر اہل حدیث کے موقف کو مزید مضبوط اور مؤکد کیا ہے۔
چوتھے نمبر پر انہوں نے اس مسئلے کو بھی واضح کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مقلد ہوتے ہوئے کیا اس بات کی گنجائش ہے کہ کسی اور فقہ اور مسلک کی بات پر عمل کر لیا جائے۔ اس کا جواب انہوں نے اثبات میں دیا ہے۔ یہ آخری بات انہی کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں، لکھتے ہیں :
ابھی ایک سوال جواب طلب باقی ہے وہ یہ کہ کیا حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مقلد ہوتے ہوئے اصول شریعت ہمیں اجازت دیتے ہیں کہ ان ناگزیر مجبوریوں میں ہم کسی دوسرے امام کے قول پر عمل کریں؟
اصول فقہ کی کتابوں کے مطالعہ کے بعد علی وجہ البصیرت کہا جاسکتا ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے۔
علامہ محقق کمال بن ہمام الحنفی اپنی کتاب ”التحریر“ اور ”ابن أمير الحاج التحریر“ کی ”شرح التقرير والتحبیر“ میں تحریر فرماتے ہیں :
فلو التزم مذهبا معينا كأبي حنيفة والشافعي فهل يلزمه الاستمرار عليه فلا يعدل منه فى مسئلة من المسائل؟ فقيل: يلزم لأنه بالتزامه يصير ملزما به كما لو التزم مذهبه فى حكم حادثة معينة ولأنه اعتقد أن المذهب الذى انتسب إليه هو الحق فعليه الوفاء به وجب اعتقاده وقيل : لا يلزم، وهو الأصح
التقرير والتحبير على التحرير : 350/3
اب کتب فقہ پر غور فرمائیے! وہاں آپ کو تصریحات ملیں گی کہ بوقت شدید ضرورت دوسرے ائمہ کے اقوال کے مطابق فقہائے احناف نے فتوے دیے ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں :
علامہ شامی رحمہ اللہ زوجہ مفقود الخبر کے متعلق لکھتے ہیں :
قال القهستاني : لو أفتي بقول مالك فى موضع الضرورة لا بأس به على ما أظن – وقلت : نظير هذه المسئلة عدة ممتدة الطهر التى بلغت برؤية الدم ثلاثة أيام ثم امتد طهرها فإنها تبقى فى العدة إلى أن تحيض ثلاث حيض، وعند مالك تنقضي عدتها بتسعة أشهر وقد قال فى البزازية : الفتوى فى زماننا على قول مالك
الشامی، ص : 362/3
اسی طرح طحطاوی میں مذکور ہے۔
فتاویٰ مولانا عبدالحی رحمہ اللہ سے بھی دو مثالیں سن لیجیے۔
پہلی مثال :۔
سوال :۔
زید نے اپنی عورت سے غصے کی حالت میں کہا: میں نے طلاق دی، میں نے طلاق دی، میں نے طلاق دی۔ اس تین بار کہنے سے تین طلاقیں واقع ہوں گی یا نہیں؟ اور اگر حنفی مذہب میں واقع ہوں اور شافعی مذہب میں واقع نہ ہوں تو حنفی کو شافعی مذہب پر اس خاص صورت میں عمل کرنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں؟
جواب :۔
اس صورت میں حنفیہ کے نزدیک تین طلاقیں واقع ہوں گی مگر بوقت ضرورت کہ اس عورت کا علیحدہ ہونا اس سے دشوار ہو اور مفاسد زائدہ کا احتمال ہو۔ اگر تقلید کسی امام کی کرے گا تو کچھ مضائقہ نہ ہوگا۔ اس کی نظیر مسئلہ نکاح زوجہ مفقود و عدت ممتدة الطهر موجود ہے کہ حنفیہ عند الضرورت امام مالک رحمہ اللہ کے قول پر عمل کرنے کو درست رکھتے ہیں، چنانچہ ردالمختار میں مفصل مذکور ہے۔ لیکن اولی یہ ہے کہ وہ شخص کسی شافعی عالم سے پوچھ کر اس کے فتویٰ پر عمل کرے۔ حرره الراجي عفو ربه القوي محمد عبدالحی ، مجموعة الفتاوى (اردو) : 68/2
دوسری مثال :۔
سوال :۔
زید کو عمرو دھوکہ دے کر اپنے گھر لے گیا۔ اور چند آدمیوں کو بلا کر زید سے اس کی بیوی کو جبراً تین طلاقیں دلوائیں۔ چونکہ زید اور اس کی بیوی میں محبت بہت ہے۔ اب جدائی از حد شاق ہے، لہذا بضرورت بہ تقلید مذہب شافعی نکاح جائز ہے یا نہیں؟
جواب :
ضرورت شدیدہ کے وقت امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب کی تقلید درست ہے۔ مجموعة الفتاوى : 220/3
مسئلے کے سارے پہلو آپ کے سامنے ہیں۔ اس کی معقلی اور نقلی دلیلیں اور ان پر ہر طرح کی رد و قدح بھی آپ نے ملاحظہ فرمالی۔ اب آپ خود اس کے متعلق فیصلہ فرما سکتے ہیں۔ اس ناچیز کی ناقص رائے میں تو ان حالات میں علمائے مصر اور علمائے جامعہ ازہر کے فتویٰ کے مطابق عمل کرنا ارجح ہے۔دعوت فکر ونظر ، آخری صفحہ
از مرتب :۔
اور علمائے مصر اور علمائے جامعہ ازہر کا فتویٰ کیا ہے؟ یہی کہ ایک مجلس کی تین طلاق، ایک طلاق رجعی ہے جس میں عدت کے اندر رجوع اور عدت گزرنے کے بعد بغیر تحلیل کے دوبارہ نکاح جائز ہے۔ پیر صاحب موصوف کی یہ کتاب بھی کتاب ایک مجلس کی تین طلاق نامی کتاب میں شامل ہے جس میں بھارت کے علمائے احناف کے مقالے اور اس سیمینار کی پوری کارروائی شامل ہے جس کا اہتمام مسئلہ زیر بحث ہی کے لیے کیا گیا تھا۔
پیر صاحب موصوف کی یہ کتاب ”راقم الحروف“ (صلاح الدین یوسف) ہی کی نظر ثانی کے بعد مذکورہ کتاب میں حضرت الاستاذ مولانا محمد عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کے ارشاد پر شامل کی گئی تھی، حضرت الاستاذ ہی کے حکم پر راقم نے پیر صاحب کی کتاب میں شامل احادیث اور متعدد عربی عبارتوں کے اردو ترجمے بھی کیے تھے۔ اصل کتاب میں اکثر جگہوں پر اردو ترجمہ نہیں ہے۔
مولانا عبد الحلیم قاسمی رحمہ اللہ :۔
یہ مدرسہ جامعہ حنفیہ قاسمیہ، گلبرگ لاہور کے بانی و مہتمم اور علمائے احناف پاکستان کے صدر تھے۔ 1979ء میں جب حضرت الاستاذ مولانا محمد عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کی کوشش اور خواہش پر مذکورہ سیمینار (مذاکرہ علمیہ) کے مقالات پاکستان میں چھپے جس میں پیر کرم شاہ ازہری رحمہ اللہ کا رسالہ دعوت فکر و نظر بھی شامل کر دیا گیا تھا تو یہ کتاب جب مولانا عبدالعلیم قاسمی رحمہ اللہ کی نظر سے گزری تو بڑے خوش ہوئے اور حضرت الاستاذ کے نام انہوں نے ایک مکتوب لکھا جس میں اس کتاب کی اشاعت پر مسرت کا اظہار کیا اور اسے وقت کا تقاضا قرار دیا۔ یہ مکتوب ہفت روزہ الاعتصام میں شائع کر دیا گیا تھا، اس کے کچھ عرصے بعد ہی ملتان میں یہ مسئلہ اہل حدیث و احناف کے مابین بحث و تکرار کا موضوع بنا تو ملتان کے بعض اہل حدیث حضرات نے مولانا قاسمی رحمہ اللہ کی طرف رجوع کیا، مولانا رحمہ اللہ نے اس مسئلے پر ان کو بھی دو خط تحریر کیے اور اپنی رائے کا کھل کر اظہار کیا۔ قارئین کرام یہ تینوں خطوط ملاحظہ فرمائیں۔
مکتوب بنام الاعتصام بسلسلہ ایک مجلس کی تین طلاقیں :۔
گرامی قدر جناب مولانا محمد عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
کتاب ”مجموعہ مقالات علمیہ“ جو ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے کے سلسلے میں آپ نے شائع کی ہے یہ تقاضا وقت کے عین مطابق ہے۔
ہمارے معاشرے میں یہ عام رواج ہے کہ معمولی تنازعہ کی صورت میں عورتوں کو طلاق دینا ایک فیشن بن گیا ہے۔ رشتے اور نکاح کے وقت تو احتیاط برتی جاتی ہے اور نکاح کے ضروری احکام کو پیش نظر رکھ کر سنت نکاح ادا کی جاتی ہے، اجازت ولی، گواہ، حق مہر، بیوہ اور مطلقہ کی اجازت، رضا مندی وغیرہ۔ لیکن طلاق کے وقت تمام شرعی احکام کو یکسر نظر انداز کر کے اشٹام فروش کے لکھے ہوئے غیر شرعی طلاق نامہ پر تصدیق کر دی جاتی ہے جس کا اثر معاشرے پر بہت گہرا ہے۔ مفتی صاحبان بھی آنکھیں بند کر کے حلالے کی ترغیب میں فتویٰ داغ دیتے ہیں جس کو غیرت مند مسلمان پسند نہیں کرتا۔ اندریں حالات اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ شرعی احکام اس غیر شرعی طلاق کے بارے میں واضح کر دیے جائیں۔
الحمد للہ ہر دور میں اس بارے میں علمائے حق نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے عوام کو آگاہ کیا لیکن ان کی انفرادی کوشش محدود حد تک رہی، آپ کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے آپ نے اس مسئلے میں الاعتصام کے ذریعے اور اب کتابی صورت میں ہند و پاکستان کے ہر مکتب فکر کے جید علماء کی رائے یکجا مجموعے کی صورت میں شائع فرما کر ایک اجتماعی کوشش کی ہے۔ ضرورت ہے کہ یہ علمی کتاب تمام مدارس عربیہ اور مفتی صاحبان کے پیش نظر رہے تاکہ طالبین حق مستفید ہوں اور طلاق کے معاملے میں غیر شرعی اقدامات سے گریز کریں جو مظلوم عورتیں سالہا سال سے تحریری طلاق نہ ملنے کی وجہ سے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں انہیں واضح کیا جائے کہ شریعت مطہرہ کی رو سے نکاح اور طلاق زبانی ہوتا ہے نہ کہ تحریری۔ اور خلع و طلاق کا علم بھی پھیلایا جائے تاکہ مظلوم عورتوں کی داد رسی ہو سکے۔ بہرحال اس سلسلے میں مزید کام کی ضرورت ہے۔ والسلام
مکتوب ملتان : 1
محترم و مکرم جناب محمد طفیل صاحب !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ کا مکتوب کاشف وصول ہوا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ آپ نے جس طریق احسن پر مسئلے کو واضح کیا اور لکھا ہے۔
➊ اور ہمارے متاخرین فقہائے کرام نے اس مسئلے میں کہ طلاق ثلاثہ ایک مجلس میں تین طلاق واقع ہو جاتی ہیں، لہذا جب تک دوسرا نکاح نہ ہو پہلے خاوند کے لیے عورت حلال نہیں ہوتی۔ اگر اس پر عمل درست کیا جاتا تب بھی کوئی بات تھی۔ اس میں شرط یہ ہے کہ عدت کے بعد عورت اپنی خوشی سے کسی سے نکاح کرے، دوسرا خاوند اپنی خوشی سے جب چاہے طلاق دے۔ عدت کے بعد اگر عورت پہلے خاوند کے پاس آنا چاہتی ہے تو آجائے اس کے لیے سال دو سال کا عرصہ درکار ہے۔ اب اس معاملے کو حلالے کے نام سے مشروط نکاح کسی شہوت پرست مرد سے کر دیا جاتا ہے۔ اور صبح اس عورت کو پہلے خاوند کے حوالے کر کے حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهالبقرة : 230 پر عمل ظاہر کیا جاتا ہے جو سراسر لغو اور لعنتیوں کا کام ہے۔ کوئی غیرت مند آدمی اپنی عورت کو گائے بھینس اور بکری بنانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ لیکن یہ کچھ ہو رہا ہے۔ اللہ کی پناہ مختلف علاقوں میں حلالہ نکالنے کے خاص آدمی ہر وقت تیار رہتے ہیں۔
➋ نکاح اور طلاق کے واضح احکام شریعت حقہ نے مقرر کر دیے ہیں اگر ان احکام کی پابندی کی جائے تب نکاح ہوتا ہے۔ جن عورتوں سے نکاح حرام ہے اگر کوئی بد بخت ان سے نکاح رچا لے تو نکاح ہو جائے گا؟ اسی طرح بغیر اجازت کے نکاح کر لینا بغیر گواہوں کے یا بغیر حق مہر نکاح درست نہیں ہوگا۔ اس معاملے میں احتیاط بھی کی جاتی ہے۔ اسی طرح منکوحہ کو طلاق دینے کا بھی طریقہ اسلام نے بتایا ہے۔ جس طرح کہ آپ نے بھی مرسلہ پرچہ میں لکھا ہے۔ ایک آدمی اپنی جہالت کی وجہ سے شریعت کے خلاف طلاق دیتا ہے تو وہ طلاق نہیں ہوتی۔ جس طرح حضرت طاؤس رحمہ اللہ اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے منقول ہے۔ اگر طلاق غیر شرعی کو تسلیم کیا جائے تو وہ صرف ایک طلاق ہے۔ یہ ایک مجلس میں ہزار بھی دے تو صرف ایک طلاق شمار کی جائے گی۔
➌ یہ کسی مولوی یا ملاں کا فیصلہ نہیں، یہ فیصلہ سرور کائنات، فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے جس کی موجودگی میں کسی کا فیصلہ قابلِ قبول نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس کی وقعت ہے۔ کسی قاضی یا حج کو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے خلاف لکھنا یا فیصلہ دینا سخت گناہِ کبیرہ ہے۔
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْالنساء : 65
تیرے رب کی قسم! یہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپ کو فیصل نہ تسلیم کر لیں جس میں وہ جگھڑتے ہیں۔
یہ بالکل درست ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور مبارک اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور میں دو سال تک اسی پر عمل رہا ہے۔
➍ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سیاستا ایک مجلس میں تین طلاقوں کو تین تسلیم کر لیا تھا۔ یہ آپ رضی اللہ عنہ کی سیاست تھی جس میں تبدیلی کا امکان ہے، چنانچہ اکثر جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس معاملے میں اختلاف فرمایا ہے جو کتب احادیث میں بادلائل موجود ہے۔ آج تک کسی مفتی کو یہ جرات نہ ہوئی کہ یہ لکھ کر دے کہ یہ فیصلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں ہے؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ لکیر کے فقیر بن کر غلط راستے پر گامزن ہیں اور ایک ایسے قبیح فعل کا ارتکاب کرتے ہیں جو سراسر سفاح (بدکاری) ہے، اس لیے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں لعنتی قرار دیا ہے۔ اور مانگا ہوا بکرا اس کو فرمایا جو زنا کا ارتکاب کرتا ہے۔
➎ اس خط کے ہمراہ رسالہ تذکرہ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ ارسال ہے جس کے صفحہ 41 پر اس مسئلے کو افادہ عوام کے لیے شائع کر دیا ہے۔ اس میں تمام کتب احادیث اور فقہ کے حوالہ جات درج ہیں۔ آپ دیکھ اور پڑھ کر قلبی مسرت پائیں گے۔ نماز کی کتاب بھی ارسال ہے۔ ہندوستان میں ایک مجلس مذاکرہ ہوئی تھی جس میں مختلف حضرات نے اس مسئلے پر مقالات پڑھے تھے۔ وہ کتابی شکل میں ادارہ الاعتصام نے شائع کیا ہے۔ اس میں ایک مقالہ پیر کرم شاہ صاحب رحمہ اللہ کا بھی ہے جو مسلکا بریلوی اور حنفی ہیں۔
➏ ہمارے اکثر علماء فتویٰ دیتے وقت گھبراتے ہیں، حالانکہ اظہار حق علماء کے فرائض میں داخل ہے۔ الحمد للہ، عرصہ چالیس سال سے مسلسل لکھ رہا ہوں۔ کسی اہل علم نے آج تک اعتراض نہیں کیا بلکہ خوش ہیں۔ الحمد للہ راقم الحروف نہ صرف حنفی بلکہ علمائے احناف پاکستان کا صدر ہے۔
ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِالحديد : 57
یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
مرسلہ پمفلٹ کو مزید خوبصورت شائع کر کے تقسیم کریں۔ نقطہ نظر اس طرح لکھا جائے، دو جگہ کاتب نے غلط لکھا ہے، اس پر فوٹو شائع کرنا بے ادبی ہے۔ میرے اس خط کو آپ شائع کر سکتے ہیں۔
مکتوب ملتان : 2
آپ کے دونوں خط وصول ہوئے، پڑھ کر بہت افسوس ہوا کہ ایک معمولی بات پر تنازعہ کھڑا کرنا اور مقدمہ بازی میں مبتلا ہو جانا بہت بری بات ہے۔ کیا برادری میں کوئی بھی رجل رشید نہیں؟
عام طور پر جو طلاق دی جاتی ہے تو طلاق دینے والے کو کوئی علم نہیں اور نہ لکھنے والے کو علم ہے کہ میں کیا لکھ رہا ہوں، تمام فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ ایک وقت میں تین طلاقیں دینا غیر شرعی طلاق ہے۔ اسی واسطے حضرت طاؤس رحمہ اللہ تو کہتے ہیں کہ یہ طلاق واقع نہیں ہوتی اور لغو ہے چونکہ یہ طلاق شریعت کے خلاف دی گئی ہے اس میں شدید اختلاف ہے۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک شمار کی جاتی تھیں، اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں بھی یہی دستور تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں یہی حکم تھا۔ بعد میں آپ رضی اللہ عنہ نے سیاستا تین قرار دے دیا۔صحیح مسلم ، الطلاق باب طلاق الثلاث، حدیث : 1472
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں ایک اسی قسم کا واقعہ پیش آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک شمار کی جائیں گی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجوع کا حکم دیا۔
لہذا جو لوگ ایک طلاق شمار کرتے ہیں تو وہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں۔ یہ فتویٰ صحیح اور درست ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بعد کسی دوسرے فیصلے کی اول تو ضرورت ہی نہیں اگر ہے تو اس کے مطابق عمل کیا جائے نہ کہ مخالفت میں۔ الحمد للہ میری تحقیق اور فتویٰ یہ ہے کہ مطلقہ ثلاثہ فی مجلس واحد میں خاوند رجوع کر سکتا ہے، کوئی حرج نہیں۔ اہل حدیث حضرات کا فتویٰ صحیح ہے اور رجوع درست ہے۔ یہی حکومت پاکستان، مصر، سوڈان اور لیبیا کا قانون ہے۔ ملحوظہ : مکاتیب ملتان کی فوٹو کاپیاں بھی ہمارے پاس موجود ہیں، جو صاحب ملاحظہ فرمانا چاہیں، وہ ملاحظہ فرما سکتے ہیں، یہ مکاتیب ملتان، ملتان کی جماعت اہل حدیث کے شائع کردہ کتابچے، بنام ایک مجلس کی تین طلاق، علمائے احناف کی نظر میں سے منقول ہیں۔ جس پر ملنے کے حسب ذیل دو پتے درج ہیں :
(1) دارالحدیث رحمانیہ چونگی نمبر 14 نزد پرانا لاری اڈہ ملتان۔
(2) دارالحدیث محمدیہ عام خاص باغ، ملتان شہر۔
مولانا حسین علی واں بھچراں رحمہ اللہ :۔
مولانا عبدالعلیم قاسمی رحمہ اللہ کے مکتوب ملتان نمبر 1 میں جس ”تذکرہ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ“ کا اور اس میں مسئلہ زیر بحث کی وضاحت کا ذکر ہے، وہ حسب ذیل ہے۔ اس میں ایک چوٹی کے حنفی عالم مولانا حسین علی واں بھچراں رحمہ اللہ کا فتویٰ بھی موجود ہے۔ اس کی فوٹو کاپی ہمیں مولانا قاسمی رحمہ اللہ کے (غالباً) بھتیجے حافظ حسین احمد قاسمی رحمہ اللہ نے عنایت فرمائی ہے، علاوہ ازیں اپنے مکتوب میں جو انہوں نے آج سے تقریباً 25، 26 سال قبل راقم کے نام تحریر فرمایا تھا، اپنا مسلک بھی ایک طلاق ہی بتلایا ہے۔ مکتوب میں تاریخ درج نہیں ہے۔ تذکرہ کے محولہ اقتباس اور مولانا حسین علی واں بھچراں رحمہ اللہ کے فتویٰ کے بعد یہ مکتوب بھی ملاحظہ فرمائیں۔
”تذکرہ شیخ الاسلام“ کا محولہ بالا اقتباس حسب ذیل ہے :
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد :
لعن الله المحلل والمحلل له
اللہ کی لعنت اور پھٹکار ہو حلالہ کرنے والے اور کرانے والے کے لیے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر 25، 26 سال بھی یہ دونوں وقتی نکاح میں رہیں تو زانی قرار دیے جائیں گے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ نکاح نہیں سفاح (بدکاری) ہے۔ حاشيه كنز الدقائق ، ص : 122
امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یہ اول خاوند کے لیے حلال نہیں جس طرح قاتل ورثہ سے ہمیشہ محروم رہتا ہے، اسی طرح یہ محروم رہے گا۔ الهداية : 381/1
تمام فقہاء اور محدثین نے اس کا نام التيس المستعار ”کرائے کا سانڈ“ تسلیم کیا ہے۔ سنن ابن ماجه الطلاق باب المحلل والمحلل له حديث : 1936، ومجمع البحار : 295,294 ، والهداية : 381/1
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے سامنے حلالہ کرنے والا مرد اور حلالہ کرانے والی عورت پیش کیے جائیں تو میں ان کو زنا کی سزا دوں گا۔ صحیح مسلم، الحج، باب في المتعة بالحج، حدیث: 1217، وشامي، ص : 586 ، وجوهره، ص: 114
شارح مسلم شریف علامہ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
جن لوگوں کو حقائق کا علم نہیں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تین طلاق مجلس واحد کا ایک ہونا شروع میں تھا، پھر منسوخ ہوا۔ یہ فحش غلطی ہے۔
اگر ایسا ہوتا تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور اول میں اس پر عمل درآمد کیوں رہا؟صحیح مسلم، الطلاق باب طلاق الثلاث، حدیث : 1472
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ صادر کرنے کے بعد اس سلسلے میں مزید بحث درست نہیں۔
احکام القرآن جلد 3 صفحہ 230 واقعہ رکانہ بن عبد یزید بن ہاشم بن عبد المطلب۔
فتویٰ مولانا حسین علی واں بھچراں رحمہ اللہ :۔
حضرت مولانا حسین علی جو اپنے دور کے بہت بڑے محدث اور فقیہ تھے۔ اپنے فتوے میں فرماتے ہیں :
ایک لفظ میں تین طلاق دینا اس میں شدید اختلاف ہے، اس طلاق کے غیر شرعی ہونے میں تو سب کا اتفاق ہے، بعض احناف کہتے ہیں کہ تین طلاقیں پڑ جاتی ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں نہیں پڑتیں ان کا ماخذ رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث ہے جو امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں بسند صحیح پیش فرمائی اور خود بھی صحت کے قائل ہیں۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب اعلام الموقعین کے صفحہ : 280 پر، احکام القرآن، ص: 449، ترمذی، ص: 140، مشکوۃ، ص : 176، ابوداود ص : 299 ، ابن ماجہ ص : 141، دارقطنی، ص: 438 میں موجود ہے کہ یہ ایک طلاق ہے، حلالہ کی ضرورت نہیں۔
مکتوب حافظ حسین احمد قاسمی (جامعہ حنفیہ گلبرگ لاہور)
جناب محترم المقام حافظ صلاح الدین یوسف صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
حسب وعدہ فتویٰ ارسال خدمت ہے۔ یہ کتاب اب صرف جلدوں کی صورت میں دوسری کتابوں کے ساتھ بطور یادگار پڑی ہے۔ اگر شائع کرائی گئی تو آپ کو ارسال کر دوں گا۔ محترم آپ بے شک فتویٰ طلاق ثلاثہ در مجلس واحد کے لیے اپنے کسی آدمی کے ہاتھ بھیج دیا کریں، میری بھی یہی رائے ہے کہ ایک وقت کی تین طلاقیں ایک ہی واقع ہوتی ہیں اور میری اپنی تحقیق جو ہے وہ بھی میں آپ کو ارسال کروں گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے اور مزید ترقیات سے نوازے۔ الاعتصام اور اپنا لٹریچر ارسال فرمایا کریں یہ گلبرگ میں آپ ہی کا سنٹر ہے۔
وضاحت :۔
یہ مکتوب تقریباً 25، 26 سال قبل کا ہے، جب راقم نے ان سے کتاب تذکرہ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کا نسخہ طلب کیا تھا جس میں مولانا حسین علی واں بھچراں رحمہ اللہ کا فتویٰ طلاق ثلاثہ کے متعلق بھی شامل تھا۔ جس کے جواب میں موصوف نے فرمایا کہ کتاب تو اب ختم ہوگئی ہے، تاہم انہوں نے متعلقہ حصے کی فوٹوسٹیٹ کاپی بھیج دی تھی۔ چنانچہ وہ فتویٰ اس کتاب میں شامل کر لیا گیا ہے۔
ماہنامہ ”الشریعہ“ گوجرانوالہ میں شائع شدہ تین مکتوب بھی اس سلسلے میں ملاحظہ فرمائیں۔
مولانا احمد الرحمن (اسلام آباد) :۔
برادرم مولانا عمار ناصر صاحب زید مجدہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
امید ہے مزاج اچھے ہوں گے، ”الشریعہ“ ہر ماہ نظر سے گزرتا ہے اور اس کی تحریریں پڑھ کر قلب و ذہن منور ہوتے ہیں۔ مارچ 2005ء کے ”الشریعہ“ میں مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے مضمون ”اجتہادی اختلافات میں معاشرتی مصالح کی رعایت“ میں جو نکتہ اٹھایا گیا ہے، وہ بے حد اہم اور وقت کی ضرورت کے مطابق ہے۔ ایک مجلس میں طلاق ثلاثہ کا موضوع ہمارے ہاں عام طور پر احناف اور اہل حدیث کے مابین ایک اختلافی نکتے کے طور پر زیر بحث آتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسے اس وقت ایک سنگین معاشرتی مسئلے کے طور پر دیکھنے اور اس کا معقول حل پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام ایک خاندان کے وجود میں آنے کے بعد انتہائی ناگزیر ضرورت کے بغیر اس کے ٹوٹنے کو پسند نہیں کرتا۔ ایک مجلس میں طلاق ثلاثہ کو، کوئی رعایت دیے بغیر ہر حالت میں واقع ماننا شریعت کے اس منشا کے خلاف ہے۔ خاص طور پر ہمارے معاشرے میں ایسی صورت عام طور پر شرعی طریقے سے ناواقفیت اور محض وقتی جذباتی کیفیت کے نتیجے میں رونما ہوتی ہے اور ایک لمحے میں پورا خاندان نادانی اور جذباتیت کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ اسلام چھوٹے سے چھوٹا معاہدہ توڑنے کے لیے بھی سوچ بچار کا موقع دیتا ہے جبکہ نکاح کو تو قرآن مجید میں مِيثَاقًا غَلِيظًا کہا گیا ہے۔ کیا اتنے بڑے معاہدے کو ایک لمحے میں ختم کر دینا اور غلطی کرنے والے کے لیے تلافی کا کوئی موقع باقی نہ رہنے دینا اسلام کے اصول عدل کے مطابق ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت اسلام کا خاندانی نظام خاص طور پر مغرب کی تہذیبی یلغار کا ہدف بنا ہوا ہے اور اس کے حملوں میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ طلاق ثلاثہ کے بارے میں اس قدر بے لچک موقف اختیار کر کے کہیں ہم بھی نادانستہ اس تہذیبی کشمکش میں مخالف قوتوں کے لیے مدد گار تو ثابت نہیں ہورہے؟
جہاں تک اس مسئلے کے شرعی پہلو کا تعلق ہے تو روایات سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مجلس کے اندر تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا، اس طرح خلیفہ اول سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دو سال تک ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی تصور کی جاتی تھیں۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مخصوص حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بحیثیت مجتہد اور خلیفہ کے یہ طے کیا کہ تین طلاقوں کو تین ہی تصور کیا جائے گا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ مخصوص معاشرتی صورت حال میں ایک اجتہادی فیصلہ تھا اور ایسی صورت میں بعض دفعہ اصل شرعی حکم کو عارضی طور پر معطل کرنا پڑتا ہے جیسا کہ زمانہ قحط میں انہوں نے چور کا ہاتھ کاٹنے کی سزا کو عارضی طور پر معطل فرما دیا اور جب قحط دور ہو گیا تو قطع ید کا حکم بھی اپنی اصل صورت میں بحال ہو گیا۔ گویا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سوسائٹی کے اندر ایک خرابی کو دور کرنے کے لیے وقتی طور پر ایک فیصلے کو معطل کر کے دوسرا فیصلہ جاری کیا لیکن یہ عبوری مدت کے لیے تھا، نہ کہ مستقل اور ابدی طور پر۔
میں خود حنفی ہوں اور میں نے حنفی اساتذہ سے دینی تعلیم پائی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ مذکورہ نکات کی روشنی میں اس مسئلے میں حنفی نقطہ نظر پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اور میں متعدد ایسے حنفی علماء کو جانتا ہوں جو اس ضرورت کا احساس بھی رکھتے ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس مسئلے کو ”الشریعہ“ میں باقاعدہ بحث کا موضوع بنائیں اور اہل علم کو دعوت دیں کہ وہ شریعت کے مزاج اور سلف صالحین کی آراء کو سامنے رکھتے ہوئے امت کے لیے گنجائش نکالیں۔
پروفیسر محمد اکرم ورک (گورنمنٹ کالج، قلعہ دیدار سنگھ) :۔
مسئلہ طلاق ثلاثہ۔ علمائے کرام توجہ فرمائیں :
ماہنامہ ”الشریعہ“ کے مارچ 2005ء کے شمارے میں مولانا سید سلمان الحسینی ندوی کا مضمون اجتہادی اختلافات میں معاشرتی مصالح کی رعایت کے زیر عنوان شائع ہوا ہے جس میں فاضل مضمون نگار نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کے وقوع کی صورت میں مرتب ہونے والے معاشرتی مسائل کی طرف علمائے کرام کو توجہ دلائی ہے اور علمائے دین اور مفتیان کرام سے تقاضا کیا ہے کہ وہ آج کے معروضی حالات کے تناظر میں اس مسئلے پر دوبارہ غور فرمائیں۔ مئی 2005ء کے شمارے میں مولانا احمد الرحمن رحمہ اللہ نے اس نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر چہ طلاق ثلاثہ کے موضوع پر احناف اور اہل حدیث مکتبہ فکر کی طرف سے مناظرانہ انداز میں اپنے اپنے موقف پر دلائل پیش کیے گئے ہیں، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ علمائے کرام اس موضوع کو ایک سنگین انسانی اور معاشرتی مسئلے کے طور پر دیکھنے کی کوشش کریں۔ طلاق ثلاثہ کوئی ایمانیات کا مسئلہ نہیں کہ جس کا اقرار یا انکار کفر کو مستلزم ہو یا جس پر غور و فکر کا دروازہ بند ہو چکا ہو، یہ ایک فرعی مسئلہ ہے۔ اجتہادی اور فروعی مسائل میں اصول کے دائرے کو قائم رکھتے ہوئے مختلف آراء رکھنا اسلامی علمی روایت کا ایک حصہ ہے۔ اس تناظر میں ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے پر غور و فکر کی دعوت یقیناً درست ہے اور اصحاب فکر کی ایک بڑی تعداد اس ضرورت کا احساس رکھتی ہے۔
طلاق ثلاثہ کے بارے میں دو فقہی مسلک ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ایک وہ فقہی مکتب ہے جو ایک مجلس کی تین طلاقوں کو مغلظہ قرار دیتا ہے اور دوسرا وہ جو اس صورت میں صرف ایک طلاق کے وقوع کا قائل ہے۔ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علاوہ امام ابن حزم رحمہ اللہ، امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور امام ابن قیم رحمہ اللہ اس دوسرے موقف کے قائل ہیں جبکہ مالکی فقیہ قاضی ابن رشد رحمہ اللہ کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ ہمارے دور کے اہل حدیث حضرات بھی اسی نقطہ نظر کے قائل ہیں۔ ان سطور میں پیش نظر اس مسئلے پر کسی حتمی رائے کا پیش کرنا نہیں ہے بلکہ علمائے کرام کو اس موضوع پر اظہار رائے کی دعوت دینا ہے تاکہ وہ ایک اہم معاشرتی مسئلے پر پوری علمی سنجیدگی کے ساتھ قلم اٹھائیں۔
اسلام کے معاشرتی نظام میں خاندان ایک اہم ترین ادارہ ہے۔ میاں بیوی کے مضبوط تعلقات خاندانی استحکام کی بنیادیں ہیں اور خاندانی نظام کی بقا ہی معاشرتی استحکام کی خشت اول ہے۔ اس لیے نکاح و طلاق جیسے بنیادی اور اہم معاشرتی مسائل کے بارے میں اسلامی تعلیمات بڑی متوازن اور فطری ہیں۔
نکاح و طلاق کے باب میں اسلامی احکام کی اصل اسپرٹ یہی ہے کہ نکاح کو باقی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ اسلام نے انسانی رویوں میں پائے جانے والے فطری اختلاف اور فرق کے پیش نظر باہمی تنازع کے امکان کو تسلیم کرتے ہوئے اختلاف کی صورت میں میاں بیوی کو مصالحت کا انداز اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے :
وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا اَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ؕ وَالصُّلْحُ خَيْرٌالنساء : 128
اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رخی کا خطرہ ہو تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ آپس میں صلح کر لیں، اور صلح بہتر ہے۔
شریعت نے اگرچہ انتہائی مجبوری کے عالم میں طلاق کا راستہ اختیار کرنے کی اجازت دی ہے لیکن أبغض الحلال إلى الله الطلاق کہہ کر اس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار بھی کر دیا ہے۔ گویا اسلام کی نظر میں طلاق ایک ایسی دوا ہے جو ازدواجی زندگی کے ایک مستقل روگ کے علاج کے طور پر جائز قرار دی گئی ہے۔
اسلام نے طلاق دینے کا ایک نہایت حکیمانہ اور مبنی بر مصلحت طریقہ مشروع کیا ہے، چنانچہ بتایا گیا ہے کہ حالت طہر میں بیوی کو ایک مرتبہ صرف ایک طلاق دی جائے تاکہ فیصلے پر نظر ثانی اور طلاق سے رجوع کرنے کا حق باقی رہے۔ عہد رسالت اور عہد صدیقی میں طلاق کے اسی فطری طریقے پر عمل ہوتا رہا لیکن عہد فاروقی میں جب ایک مجلس میں تین طلاقیں یکجا دینے کے واقعات بڑھنے لگے تو خلیفہ ثانی نے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے ایک مجلس میں تین طلاقوں کو واقع کر کے میاں بیوی میں تفریق کروا دی اور اس کے ساتھ شوہر کو کوڑوں کی سزا بھی دی۔ خلیفہ ثانی کا یہ حکم کوئی منصوص حکم نہ تھا بلکہ ایک اجتہادی اور انتظامی حکم تھا جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ ایک مجلس میں تین طلاقوں کی حوصلہ شکنی کی جائے، چنانچہ لوگوں نے دائمی جدائی اور کوڑوں کے خوف سے ایک مجلس میں تین طلاقوں کا طریقہ چھوڑ دیا۔ اگر چہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس حکم سے مطمئن نہ تھے، تاہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اکثریت نے اس فیصلے کو تسلیم کر لیا اور بعد کے دور میں سوسائٹی کے مجموعی مفاد کے پیش نظر فقہائے کرام نے بھی اس حکم کو واجب العمل قرار دیا۔
ابتدائی صدیوں کے مخصوص معاشرتی ماحول میں یقیناً اس مسئلے کا یہی ایک بہترین حل تھا لیکن چونکہ یہ حکم نص قطعی سے ثابت نہیں ہے، اس لیے ہر دور میں ایک ہی مجلس کی تین طلاقوں کے بارے میں علمائے کرام میں اختلاف رہا ہے۔ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ شرعی احکام میں اس قدر لچک موجود ہے کہ اسلامی سوسائٹی کے خاص حالات میں اصلاح کی غرض سے کسی آیت کے حکم میں ظاہری تقیید یا تخصیص کا عمل کیا جاسکتا ہے اور اگر بعد کے زمانے میں مصلحت عامہ کا تقاضا یہ ہو کہ قرآن کے اصل اور منصوص حکم کی طرف رجوع کیا جائے تو یہ رجوع الی الاصل بدرجہ اولیٰ درست ہونا چاہیے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کتابیہ عورت سے نکاح کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے منصوص اجازت کے باوجود کتابیہ عورت سے نکاح کی ممانعت کر دی۔
قدیم عرب معاشرے میں مرد اور عورت کے طلاق کے بعد نکاح ثانی کبھی کوئی معاشرتی مسئلہ نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کے واقع ہونے کے تعزیری حکم کی وجہ سے کوئی سنگین مسئلہ پیدا نہیں ہوا جبکہ اقوام عالم میں تیزی کے ساتھ بدلتی ہوئی معاشرتی اقدار، مسلم معاشروں بالخصوص برصغیر کے مسلمانوں کا مخصوص طرز معاشرت اور معروضی حالات اس مسئلے پر از سر نو غور و فکر کا تقاضا کر رہے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ لوگ ضروریات دین سے واقف نہیں ہیں۔ جہالت اور لاعلمی کی وجہ سے بیک وقت تین طلاقیں دے بیٹھتے ہیں اور بعد میں پچھتاتے ہیں اور مرد کی معمولی نادانی کی وجہ سے پورے خاندان کے لیے شدید مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف دین سے بیزار لوگ اسلام کے معاشرتی نظام اور عائلی قوانین کو ہدف تنقید بنا کر لوگوں کو اسلام سے متنفر اور بدظن کر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں مصالح امت کا تقاضا یہ ہے کہ جامد تقلید اور فقہی مسلکوں کے خول میں بند رہنے کے بجائے وسعت نظری سے کام لیتے ہوئے اس خالصتاً اجتہادی مسئلے پر از سر نو غور و فکر کیا جائے اور اگر امت کے لیے آسانی اور سہولت کی کوئی صورت ممکن ہو تو سوسائٹی کو اس سے محروم نہ کیا جائے۔ کسی سچائی کو فقط اس لیے قبول نہ کرنا کہ اس سے کسی خاص مسلک کی تائید یا تردید ہوتی ہے، غیر علمی رویہ ہے۔
حالات اور زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے کئی اصحاب علم نے اس سے قبل بھی ارباب دانش کو اس موضوع پر غور و فکر کی دعوت دی ہے جن میں ایک نمایاں نام عصر حاضر کے معروف محقق اور دانش ور پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمہ اللہ کا ہے۔ پیر صاحب نے فریقین کے تفصیلی دلائل کا جو تجزیہ فرمایا ہے، یہاں اس کا اعادہ مقصود نہیں، تاہم ایک قانون دان کی حیثیت سے پیر صاحب نے آج کے معروضی حالات کے پس منظر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک ہی مجلس میں طلاق ثلاثہ کی تنفیذ کے حکم کا جو تجزیہ کیا ہے، قارئین کی دلچسپی کے لیے اسے ہم پیش کیے دیتے ہیں :
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ ملاحظہ فرمایا کہ لوگ طلاق ثلاثہ کی حرمت کو جانتے ہوئے اب اس کے عادی ہوتے چلے جا رہے ہیں تو آپ کی سیاست حکیمانہ نے اس امر حرام سے باز رکھنے کے لیے بطور سزا حرمت کا حکم صادر فرمایا اور خلیفہ وقت کو اجازت ہے کہ جس وقت وہ دیکھے کہ لوگ اللہ کی دی ہوئی سہولتوں اور رخصتوں کی قدر نہیں کر رہے اور ان سے استفادہ کرنے سے رک گئے ہیں اور اپنے لیے عسر و شدت پسند کر رہے ہیں تو بطور تعزیر انہیں ان رخصتوں اور سہولتوں سے محروم کر دے تاکہ وہ اس سے باز آجائیں۔
حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے یہ حکم نافذ کرتے ہوئے یہ نہیں فرمایا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں ارشاد گرامی ہے، بلکہ کہا :فلو أمضيناه عليهم ”کاش! ہم اس کو ان پر جاری کر دیں۔“ ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ یہ آپ کی رائے تھی اور امت کو اس فعل حرام سے باز رکھنے کے لیے یہ تعزیری قدم اٹھایا گیا تھا۔ اس تعزیری حکم کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پسند فرمایا اور اس کے مطابق فتوے دیے۔ لیکن حدود کے علاوہ تعزیرات اور سزائیں زمانے کے بدلنے سے بدل جایا کرتی ہیں۔ اگر کسی وقت کسی مقررہ تعزیر سے بجائے فائدہ کے الٹا نقصان ہو اور مصلحت کی جگہ فساد رو پذیر ہونے لگے تو اس وقت اس تعزیر کا بدلنا از حد ضروری ہو جاتا ہے۔
غیر شادی شدہ زانی کی حد کا ذکر تو قرآن حکیم میں موجود ہے کہ اسے سو درے لگائے جائیں لیکن حدیث میں ہے : مائة جلدة وتغريب عام ”یعنی سو درے لگائے جائیں اور ایک سال جلا وطن کر دیا جائے۔“ جب چند آدمیوں کو جلا وطن کیا گیا تو وہ کفار کی صحبت سے متاثر ہو کر مرتد ہو گئے اور علمائے احناف نے یہ کہہ کر جلا وطنی کی سزا کو ساقط کر دیا کہ یہ تعزیر ہے اور اب اس سے بجائے اصلاح کے ارتداد کا دروازہ کھل گیا ہے، اس لیے اب یہ تعزیر ساقط کرنی ضروری ہے۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی اس تعزیر کو آج باقی رکھنے سے جو مفاسد اسلامی معاشرے میں رونما ہو رہے ہیں، کون سی آنکھ ہے جو اشک بار نہیں اور کون سا دل ہے جو درمند نہیں۔
لوگوں میں شرعی احکام کے علم کا فقدان ہے۔ انہیں یہ پتہ ہی نہیں کہ تین طلاقیں ایک ساتھ دینا کتنا بڑا جرم ہے اور یہ تلاعب بكتاب اللہ کے مترادف ہے۔ وہ غیظ و غضب کی حالت میں منہ سے بک جاتے ہیں۔ انہیں تب ہوش آتا ہے جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک جنبش لب سے اپنے گھر کو برباد کر دیا ہے، اس کی رفیقہ حیات اور اس کے ننھے بچوں کی ماں اس پر قطعی حرام ہوگئی ہے، اس کی نظروں میں دنیا تاریک ہو جاتی ہے۔ یہ نا گہانی مصیبت اس کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہے، پھر وہ علماء صاحبان کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں جو باستثنائے چند حضرات بڑی معصومیت سے انہیں حلالے کا دروازہ دکھاتے ہیں۔ اس وقت انہیں اپنے غیور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث فراموش ہو جاتی ہے :
لعن الله المحلل والمحلل له
جامع الترمذي، النكاح، باب ما جاء في المحلل والمحلل له حديث : 1120
حلالہ کرنے والے پر بھی اللہ کی لعنت اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، اس پر بھی اللہ کی لعنت۔
اس سلسلے میں ایک اور حدیث بھی سن لیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ألا أخبركم بالتيس المستعار؟ قالوا : بلى يارسول الله! قال: هو المحلل، لعن الله المحلل والمحلل له
سنن ابن ماجه الطلاق، باب المحلل والمحلل له حديث : 1936
کیا میں تمہیں کرائے کے سانڈ کی خبر نہ دوں؟ ہم نے کہا : ضرور اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ حلالہ کرنے والا ہے۔ اللہ کی لعنت ہو حلالہ کرنے والے پر بھی اور اس پر بھی جس کے لیے حلالہ کیا جائے۔
ان علمائے ذی شان کے بتائے ہوئے حل کو اگر کوئی بد نصیب قبول کر لیتا ہوگا تو اسلام اپنے کرم فرماؤں کی ستم ظریفی پر چیخ اٹھتا ہوگا اور دین سبز گنبد کے مکیں صلی اللہ علیہ وسلم کی دہائی دیتا ہوگا۔
اب حالات دن بدن بدتر ہورہے ہیں۔ جب بعض طبیعتیں اس غیر اسلامی اور غیر انسانی حل کو قبول نہیں کرتیں اور اپنے گوشئہ عافیت کی ویرانی بھی ان سے دیکھی نہیں جاتی تو وہ پریشان اور سراسیمہ ہو کر ہر دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ اس وقت باطل اور گمراہ فرقے اپنا آہنی پنجہ ان کی طرف بڑھاتے ہیں اور انہیں اپنے دام تزویر میں بھی پھنسا لیتے ہیں۔ اس کی بیوی تو اسے مل جاتی ہے لیکن دولت ایمان لٹ جاتی ہے۔ میرے یہ چشم دید واقعات ہیں کہ کنبے کے کنبے مرزائی اور رافضی ہو گئے۔ جب حالات کی سنگینی کا یہ عالم ہو، جب یہ تعزیر بے غیرتی کی محرک ہو بلکہ اس کی موجودگی سے ارتداد کا دروازہ کھل گیا ہو، ان حالات میں علمائے اسلام کا یہ فرض نہیں کہ امت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر در رحمت کشادہ کریں؟ (دعوت فکر و نظر)
پیر صاحب نے حالات کا معروضی مطالعہ کرنے کے بعد اہل علم کو جس دل سوزی کے ساتھ اس موضوع پر غور و فکر کی دعوت دی ہے، وہ سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے اور اس بات کی متقاضی ہے کہ علمائے کرام غور و فکر کے بعد اس مسئلے پر کوئی ایسا متفقہ موقف اختیار کریں جس میں امت کے لیے آسانی اور سہولت کو ملحوظ رکھا گیا ہو۔ بعض حنفی علماء نے تو جن میں خاص طور پر معروف دیوبندی عالم مولانا سعید احمد اکبر آبادی رحمہ اللہ قابل ذکر ہیں، اپنے نتائج تحقیق کا برملا اظہار کیا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کے حوالے سے بہتر یہی ہے کہ عہد رسالت اور عہد صدیقی کے طرز عمل ہی سے استشہاد کیا جائے۔ برصغیر کے معروف عالم اور دانش ور مولانا وحید الدین خان نے طلاق ثلاثہ کے حوالے سے ایک بڑی مفید تجویز پیش کی ہے جو ارباب دانش کے ساتھ ساتھ ارباب حل و عقد کے لیے بھی خاص طور پر توجہ کی مستحق ہے۔
بہر حال اس موضوع کی فنی اور دقیق علمی بحثوں سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر زمانے کی ضرورتوں، حالات کے تقاضوں اور گلوبلائزیشن کے اس دور میں تیزی سے بدلتی ہوئی معاشرتی اقدار اور مسائل کی روشنی میں دیکھا جائے تو اصل قابلِ غور نکتہ یہ سامنے آتا ہے کہ اس مسئلے کا عملی حل کیا پیش کیا جاسکتا ہے؟ کیا ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ مروجہ عائلی قوانین میں کوئی ایسی ترمیم لانے میں کامیاب ہو جائیں جس سے ایک مجلس کی تین طلاقوں کی حوصلہ شکنی ہو؟ اور کیا ہمارے لیے یہ زیادہ آسان اور بہتر نہیں کہ ہم شریعت اسلامیہ کے اصل حکم کی طرف رجوع کریں؟ وہ اصل حکم کیا ہے؟ یہی کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک طلاق رجعی ہے جس میں خاوند عدت کے اندر بیوی سے رجوع اور عدت گزرنے کے بعد بغیر کسی قسم کے حلالے کے دوبارہ نکاح کر سکتا ہے۔ (ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ، جون 2005ء)
ڈاکٹر رضوان علی ندوی (کراچی) :۔
مکرمی مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته !
آج ڈاک سے غیر متوقع طور پر کئی برسوں کے بعد اچانک ماہنامہ ”الشریعہ“ جون کا شمارہ ملا۔
طلاق ثلاثہ کے مسئلے میں اب غور و فکر کی دعوت سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس کو باطل قرار دے کر قرآنی اور مسنون طلاق پر عمل ضروری ہے اور ہماری شریعت کورٹ کو اس بارے میں دوٹوک فیصلہ کر دینا چاہیے۔ سلمان حسینی صاحب اور مرحوم مولانا پیر کرم شاہ الازہری رحمہ اللہ دونوں نے طلاق ثلاثہ بیک مجلس کے خلاف آواز اس لیے اٹھائی کہ ان دونوں صاحبان نے عرب ممالک میں پڑھا ہے۔ جس زمانے میں، میں جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ کے کلیۃ العلوم الاجتماعیۃ میں فل پروفیسر تھا، اس وقت سلمان صاحب جامعہ کے کلیۃ الدعوۃ میں ایم اے (MA) کے طالب علم تھے جہاں بیشتر مصری اساتذہ پڑھاتے تھے۔ اور مرحوم پیر کرم شاہ رحمہ اللہ تو جامعہ الازہر ہی کے فاضل تھے۔ بریلوی مکتب فکر کے ان مرحوم عالم کی طلاق ثلاثہ کے خلاف مدلل رائے پڑھ کر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ اب تو عرب ممالک سے میرا رشتہ منقطع ہے لیکن یاد پڑتا ہے کہ مصر و شام میں عرصہ ہوا کہ ایک مجلس میں طلاق ثلاثہ کو غیر نافذ قرار دیا جا چکا ہے۔ میرے اساتذہ بھی کلیۃ الشریعہ، جامعہ دمشق میں شامی و مصری تھے تو یہی یاد پڑتا ہے کہ وہاں اب یہ مسئلہ باقی نہیں رہ گیا ہے۔
ہمارے یہاں کے علماء نے تو حالات سے آنکھیں بند کر لینے اور تحجر (اپنے ہی خول میں بند رہنے) کی قسم کھا رکھی ہے۔ پیر کرم شاہ صاحب رحمہ اللہ نے طلاق ثلاثہ کے سبب قادیانی اور عیسائی بن جانے کے جن واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے، ان میں سب علمائے دین کے لیے بڑا سامان عبرت ہے۔ یہ علماء قرآن و حدیث کی باتیں تو بہت کرتے ہیں، ان کی دہائی بھی دیتے ہیں لیکن اس مسئلے میں وہ قرآن و حدیث کو بھول جاتے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے طلاق ثلاثہ کو بطور تعزیر نافذ کر دیا تھا۔ اب کون سی چیز ہے جو ہم کو الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ کے قرآنی حکم سے روک رہی ہے؟
ڈاکٹر مفتی غلام سرور قادری :۔
ڈاکٹر مفتی غلام سرور قادری بریلوی مکتب فکر کے ایک ممتاز اہل علم و قلم اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں، ان کی ایک کتاب شدید غصے کی طلاق کا شرعی حکم بھی ہے۔ کتاب کا موضوع عنوان سے واضح ہے۔ اس میں انہوں نے بجا طور پر اس مسئلے کا اثبات کیا ہے کہ شدید غصے کی حالت میں دی گئی طلاق جب کہ ہوش و حواس مختل ہو گئے ہوں، واقع نہیں ہوتی۔
تاہم اس میں ضمناً ایک وقت کی تین طلاقوں کے مسئلے پر بھی بحث ہے، اس میں انہوں نے اپنے موقف کا واضح الفاظ میں تو ذکر نہیں کیا ہے کہ وہ ایک واقع ہوتی ہیں یا تین؟ لیکن اسے انہوں نے جس انداز سے بیان کیا ہے، اس سے ان کا رجحان بظاہر ایک طلاق کے وقوع کا معلوم ہوتا ہے، علاوہ ازیں انہوں نے اس امر پر بطور خاص بڑا زور دیا ہے کہ عوام کسی بھی عالم کے فتوے پر عمل کر لیں، ان کے لیے جائز ہے اور عوام کے لیے اس میں سہولت ہے، انہوں نے علماء و مفتیان حضرات سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ایسے شخص کو ملامت نہ کریں بلکہ اسے فتوے پر عمل کرنے کی اجازت دے دیا کریں اور اسے حرام کاری و زنا کاری سے تعبیر نہ کیا کریں۔ ان کی یہ ساری گفتگو چونکہ ہمارے موضوع طلاق ثلاثہ سے خاص تعلق رکھتی ہے، اس لیے ہم اس کتاب کے چیدہ چیدہ مقامات نقل کر رہے ہیں، ہر مقام کا ہم نے صفحہ درج کر دیا ہے تاکہ ہر شخص یہ دیکھ سکے کہ تلخیص میں سیاق کے خلاف کوئی مفہوم اخذ نہیں کیا ہے۔ اب آئندہ صفحات پر محترم موصوف کی کتاب کے اقتباسات ملاحظہ فرمائیں۔ (صلاح الدین یوسف)
مسئلہ تین طلاق :۔
سوال :۔
اکٹھے تین طلاق کہہ دینے سے طلاق ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر ہوتی ہے تو کیا رجعی ہوتی ہے یا تین ہی ہوتی ہیں جسے طلاق مغلظہ کہتے ہیں؟
جواب :۔
اس میں فقہائے کرام کی چار آراء ہیں :
➊ پہلی رائے یہ ہے کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو اکٹھے تین طلاقیں دے دیں تو وہ لغو بے کار گئیں، ایک طلاق بھی نہ ہوگی۔ یہ بعض تابعین رحمہ اللہ و امام ابن علیہ رحمہ اللہ، امام ہشام بن حکم رحمہ اللہ، امام ابو عبیدہ رحمہ اللہ اور بعض علمائے اہل ظاہر کی رائے ہے اور یہی روافض (شیعہ) کا موقف ہے۔
➋ دوسری رائے یہ ہے کہ اس سے تین طلاقیں واقع ہوں گی۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی یہی رائے ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایک روایت مروی ہے اور ائمہ اربعہ رحمہ اللہ، جمہور سلف و خلف اور جمہور صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم کی رائے بھی یہی ہے۔
➌ تیسری رائے یہ ہے کہ اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی کہ عدت کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے، یہ زیدیہ شیعہ کا موقف ہے اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور یہی امام ہادی رحمہ اللہ، امام قاسم رحمہ اللہ، امام جعفر صادق رحمہ اللہ، امام باقر رحمہ اللہ سے مروی ہے۔
امام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ، امام شوکانی رحمہ اللہ، علامہ صدیق حسن قنوجی رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ کے بعض شاگردان رشید کا بھی یہی قول ہے جسے امام تلمسانی رحمہ اللہ نے شرح تفریح ابن الجلاب میں بیان کیا ہے۔ اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے بعض تلامذہ کا بھی یہی مذہب نقل کیا ہے اور ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ میرے جد امجد کبھی کبھی اسی پر فتویٰ دیتے تھے۔ اور نیل الاوطار میں لکھا ہے کہ امام ابن مغیث رحمہ اللہ نے کتاب الوثائق میں امام محمد بن وضاح رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے نقل کی ہے اور امام غنوی رحمہ اللہ، امام احمد بن یحییٰ رحمہ اللہ اور امام محمد بن عبد السلام رحمہ اللہ جیسے مشایخ قرطبہ کی ایک جماعت کی بھی یہی رائے نقل کی ہے اور لکھا ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی بھی یہی رائے بیان کی اور امام ابن منذر رحمہ اللہ نے حضرت عطاء رحمہ اللہ، حضرت طاؤس رحمہ اللہ اور حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ جیسے شاگردان عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی یہی رائے بیان کی اور جیسا کہ صاحب بحر نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے یہی رائے نقل کی ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی ایک روایت نقل کی ہے۔
اگرچہ ہم ان مختلف آراء کے حامل علماء و فقہائے کرام کے دلائل تو بیان نہیں کریں گے، تاہم تینوں طلاقوں کو ایک قرار دینے والے علماء و فقہاء کے جو دلائل ہیں ان میں سے ایک حدیث حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ کی بھی ہے جسے مختلف محدثین کرام نے اپنی اپنی سندوں سے روایت کیا ہے، امام ابو یعلی موصلی رحمہ اللہ اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے بھی اپنی اپنی مسند میں اسے روایت فرمایا ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں اکٹھے تین طلاقیں دے دیں بعد میں سخت غمگین ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سوال کیا کہ تم نے اپنی بیوی کو کیسے طلاق دی؟ انہوں نے عرض کی : طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا کہ میں نے اسے تین طلاقیں دے دی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ؟ ایک ہی مجلس میں؟ عرض کی: ہاں، فرمایا : فإنما تلك واحدة فارجعهایہ ایک ہی طلاق ہے اگر تم چاہو تو رجوع کرلو۔مسند أبي يعلى: 3/65. مصنف عبد الرزاق : 6/390، 391 مسند أحمد : 1/265
جب کہ دوسری طرف سے بھی دلائل دیے جاتے ہیں۔
➍ چوتھی رائے میں مدخولہ اور غیر مدخولہ کا فرق کیا جاتا ہے، ایک رائے یہ ہے کہ مدخولہ کو تین طلاقیں ہوں گی اور غیر مدخولہ کو تین طلاقیں دینے کی صورت میں ایک ہی طلاق ہو گی۔ یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کی رائے ہے جسے امام محمد بن نصر رحمہ اللہ نے ان سے نقل کیا ہے۔ (انحلال الزواج فى الفقه والقانون للدكتورعبدالله يوسف مصطفى عزام ، ص: 60)
شدید غصے کی طلاق کا شرعی حکم ، ص : 84-86
فقہی تشدد کے مہلک نتائج :۔
فقہی تشدد یا تقلیدی لڑائی جھگڑوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے مگر ہند و پاک کے علماء اور عوام میں یہ تشدد اس قدر پایا جاتا ہے کہ اسے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، عوام میں یہ تشدد علماء کے فقہی تعصب کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اس کی مثال میں ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔ وہ یہ کہ ملتان سے آگے مظفر گڑھ کے قریب ایک گاؤں میں ایک شخص نے لڑائی جھگڑے میں شدید غصے میں آکر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو وہ نادم و پریشان ہوا، بیوی رو رہی تھی، بچے اپنی جگہ اداس و پریشان تھے۔ وہ علمائے کرام، مفتیان عظام کے پاس گیا سب نے کہا : بس نکاح ٹوٹ چکا ہے تمہاری بیوی تم پر حرام ہے، اب حلالہ ضروری ہے، اتفاق سے ایک اہل حدیث عالم کے پاس جا پہنچا، انہوں نے اسے فتویٰ لکھ دیا کہ اس سے ایک ہی طلاق ہوئی ہے جاؤ بیوی سے صلح کر لو۔ اس نے آکر بیوی سے صلح کر لی اور گھر بسا لیا۔ مگر اس گاؤں کے امام کو پتہ چلا تو اس نے مسجد کا سپیکر کھول لیا اور اعلان کیا کہ فلاں شخص نے تین طلاقیں دے دیں اور بیوی کے ساتھ رہ رہا ہے، یہ گناہ کبیرہ کا علانیہ مرتکب ہو رہا ہے، زنا کر رہا ہے، سارے گاؤں پر فرض ہے کہ اس کا معاشرتی (سوشل) بائیکاٹ کریں ورنہ سارے گنہگار ہوں گے۔ اس پر گاؤں والوں نے اس کا مکمل بائیکاٹ کر دیا، وہ اس قدر پریشان ہوا کہ پاگل ہونے والا ہو گیا اسے کسی نے میرے پاس بھیجا، میں نے اسے کہا کہ تیرے پاس ایک فتویٰ ہے تو اس پر عمل کر رہا ہے تو گنہ گار نہیں ہے تو نے شریعت کا تقاضا پورا کر دیا، تیرے ساتھ بائیکاٹ کرنے والے غلطی پر ہیں، وہ منت سماجت کر کے مجھے وہاں لے گیا میں نے وہاں مسجد کے امام کو سمجھایا کہ یہ مسئلہ علماء میں مختلف فیہ ہے، اس پر اس قدر تشدد کرنا جائز نہیں ہے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں اور معاشرتی بائیکاٹ ختم کرا دیں۔
امام صاحب نے کہا کہ اب یہ بات عوام کو آپ ہی سمجھائیں، چنانچہ سپیکر پر عوام کو اکٹھا کیا گیا میں نے وہاں تقریر کی اور عوام کو سمجھایا کہ اگر کسی مسئلے میں ننانوے فیصد مجتہدین ایک طرف اور ایک مسلم فقیہ و مجتہد دوسری طرف ہو تو اللہ کے ہاں دونوں کی رائے شریعت ہے عوام میں سے کوئی کسی بھی رائے پر عمل کرے گا نجات پا جائے گا۔شدید غصے کی طلاق کا شرعی حکم ، ص : 136,22
حکومت کو مشورہ :۔
یہ قانون بنا دینا چاہیے کہ کوئی شخص بغیر گواہوں کے طلاق نہ دے اگر دے گا تو وہ معتبر نہ ہوگی۔ اس میں قانون سازی کی گنجائش ہے کیونکہ جس مسئلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہو تو حکومت عوام کے فائدے کے لیے کسی بھی رائے کو قانون کی حیثیت دے سکتی ہے اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ عوام میں بے تحاشہ طلاق دینے کا سلسلہ بند ہو جائے گا اور عورتوں کی آئے دن کی پریشانی بھی ختم ہو جائے گی۔شدید غصے کی طلاق کا شرعی حکم ، ص 92,91
شیخ الاسلام امام عزالدین بن عبد السلام رحمہ اللہ اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں :
و للعامي أن يقلد فى كل مسألة من شاء من الأئمة ولا يتعين عليه إذا قلد إماما فى مسألة أن يقلده فى سائر مسائل الخلاف لأن الناس من لدن الصحابة رضي الله عنهم، إلى أن ظهرت المذاهب يسألون فيما ينزل لهم العلماء المختلفين من غير نكير من أحد، وسواء اتبع الرخص فى ذلك أو العزائم لأن من جعل المصيب واحدا لم يعينه ومن جعل كل مجتهد مصيبا فلا إنكار على من قلد الصواب
یعنی عوام کو اجازت ہے کہ وہ ہر مسئلے میں ائمہ میں سے جس کے قول پر چاہیں عمل کریں جب وہ ایک مسئلے میں کسی ایک امام کے قول پر عمل کریں تو ان کے لیے ضروری نہیں کہ باقی اختلافی مسائل میں بھی اسی امام کے قول پر عمل کریں کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے سے لے کر ائمہ مجتہدین کے مذہب کے ظاہر ہونے تک جو مسئلہ انہیں در پیش ہوتا وہ کسی کی طرف سے بغیر کسی انکار کے مختلف علماء سے پوچھتے اور عمل کرتے۔ اس سلسلے میں ان کو اجازت ہے کہ خواہ رخصتوں پر عمل کریں یا عزائم پر کیونکہ جس کے نزدیک اختلاف کی صورت میں مصیب ایک ہی ہے وہ کسی ایک کو مصیب معین نہیں کرتا اور جو ہر ایک کو مصیب ٹھہراتا ہے اسے اس پر اعتراض نہیں جو صواب پر عمل کرتا ہے۔فتاوى شيخ الإسلام إمام عز الدين بن عبد السلام، ص: 288
اور علامہ محمد امین رحمہ اللہ فتاویٰ شامی میں لکھتے ہیں :
ليس على الإنسان التزام مذهب معين
انسان کے لیے لازم نہیں کہ وہ کسی ایک مذہب (فقہی) پر چلے۔فتاوى شامي : 1/75
قرآن و سنت پر عمل :۔
علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک عالم دین جو قرآن و سنت کے نصوص و عبارات کے معانی جانتا اور صاحب فہم و فراست ہے تو کسی بھی مسئلے میں وہ قرآن و سنت پر عمل کر سکتا ہے، اگر چہ اس کے فقہی مذہب کے خلاف ہو۔شدید غصے کی طلاق کا شرعی حکم ص : 102,101
عوام کا کوئی مذہب نہیں :۔
یادر ہے کہ ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ عوام الناس کسی کے مقلد نہیں ہوتے، ان کا مذہب نہ حنفی ہے نہ شافعی نہ مالکی اور نہ حنبلی، ان کا وہی مذہب ہے جو ان کے مفتی کا ہے، یہاں ہند و پاکستان بلکہ بنگلہ دیش وغیرہ کے علماء چونکہ حنفی ہیں اور وہی مفتی ہیں اس لیے ان کے عوام بھی ان کے فتوے کے مطابق فقہ حنفی پر چل رہے ہیں۔ بلاد عرب میں جہاں کے علماء شافعی ہیں وہاں کے عوام بھی شافعی فقہ پر اور جہاں کے علماء حنبلی یا مالکی ہیں وہاں کے عوام بھی ان کے فتووں پر عمل کرتے ہوئے حنبلی یا مالکی ہیں، ورنہ دراصل عوام بذات خود کوئی مذہب نہیں رکھتے کہ انہیں کوئی علم ہی نہیں اور نہ ہی وہ تحقیق رکھتے ہیں، چنانچہ علامہ شامی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
لو التزم مذهبا معينا كأبي حنيفة والشافعي فقيل: يلزمه وقيل : لا ، وهو الأصح، وقد شاع أن العامي لا مذهب له
فتاوی شامی : 48/1
اگر ایک عام آدمی کسی متعین مذہب پر چلنا شروع کر دے، جیسے : امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب پر تو ایک رائے یہ ہے کہ اسے ہمیشہ اسی پر چلتے رہنا ضروری ہے اور ایک رائے یہ ہے کہ ضروری نہیں ہے اور یہی صحیح ترین رائے ہے اور یہ بات علماء میں عام ہے کہ عام آدمی کا کوئی مذہب نہیں ہے۔
لہذا علماء کو چاہیے کہ وہ ضرورت مند و مجبور عوام کو شریعت کی روشنی میں وہ فتویٰ دیں جس میں ان کا بھلا ہو، خواہ وہ کسی بھی امام کی رائے کے مطابق ہو جیسا کہ حدیث میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے ہوئے انہیں وصیت فرمائی تھی :
يسرا ولا تعسرا وبشرا ولا تنفرا
صحيح البخاري، المغازي، باب بعث أبي موسى… حدیث : 4345,4344
لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، مشکلیں پیدا نہ کرنا اور خوشخبریاں سنانا، نفرت نہ دلانا۔
علامہ شامی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ایک عام شخص نے دو علماء سے فتویٰ لیا اور دونوں فتوے ایک دوسرے سے مختلف ہوں، مثلاً : ایک عالم نے فتویٰ دیا کہ یہ جائز ہے، دوسرے نے فتویٰ دیا کہ یہ ناجائز ہے یا ایک نے کہا کہ یہ حلال ہے دوسرے نے کہا کہ یہ حرام ہے تو عام آدمی کو اجازت ہے کہ جس فتوے پر چاہے عمل کرے۔فتاوی شامی : 48/1
سبحان اللہ، دین میں کس قدر آسانی ہے، ہم کس قدر خوش قسمت ہیں کہ اللہ نے ہمیں ایسا دین عطا کیا جو آسان ترین دین ہے کہ جس میں علماء کا فقہی اختلاف امت کے لیے رحمت بن گیا۔ اسی میں عوام کا فائدہ ہو گیا کہ جس مسئلے میں علماء کا اختلاف پائیں اس میں سے جس پر چاہیں عمل کریں۔
عوام کا فائدہ :۔
بلاشبہ عوام کو علماء کے اختلاف سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی جا رہی ہے کہ وہ جس مسئلے میں اپنی ضرورت پوری اور مجبوری دور ہوتی دیکھیں اس پر عمل کریں۔شدید غصے کی طلاق کا شرعی حکم ، صفحہ : 96-98
علماء کے لیے ہدایات :۔
امام عبد الغنی نابلسی رحمہ اللہ جو علامہ شامی رحمہ اللہ کے شیخ الشیخ ہیں، الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ میں فرماتے ہیں جس کا ترجمہ یوں ہے :
عالم کامل اور ولی عارف وہ ہے جو اللہ کے اوامر و نواہی پر نظر رکھتا اور حدود و احکام الہیہ کی حفاظت کرتا ہو اور جو شریعت محمدیہ کے اوامر و نواہی کو جانتا اور ان پر عمل کرتا ہو اور چاروں فقہائے امت اور دوسرے فقہاء و تمام صحابہ و تابعین اور ان کے بعد والوں کا جن مسائل پر اجماع یا جن میں اختلاف ہے انہیں جانتا یا جاننے کی استعداد اور صلاحیت رکھتا ہو ایسے اللہ کے ولی (عالم باعمل) کے کسی بھی فعل پر اعتراض نہ کیا جائے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے اس عمل میں کسی ایسے فقہی مذہب کی تقلید کر رہا ہو جو اس کے نزدیک تمام شروط کا جامع ہو اور وہ اس پر عمل پیرا ہو جس کا معترض کو علم نہ ہو۔
علامہ امام عبد الغنی نابلسی رحمہ اللہ، شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمہ اللہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی کتاب شرح وصیت یوسفیہ میں لکھا ہے کہ میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس عورت کے بارے میں آپ کی کیا رائے شریف ہے جسے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی گئی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تین ہی ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ دوسرے خاوند سے نکاح کرے۔ میں نے عرض کی کہ علمائے ظاہر کی ایک جماعت کہتی ہے کہ اس کی ایک طلاق ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
هؤلاء حكموا بما وصل إليهم وأصابوا
الحديقة الندية : 179/1
ان علماء نے اس دلیل کے مطابق فیصلہ دیا ہے جو ان تک پہنچی اور انہوں نے صحیح کہا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ فقہی مسائل میں جو اختلاف پایا جاتا ہے اس کی بنا دلائل شرعیہ ہے اور دلائل شرعیہ کی بنا پر جو علماء فرماتے ہیں صحیح فرماتے ہیں۔ کسی کو غلط نہیں کہنا چاہیے، غلط وہ ہے جو عقائد میں اہل حق سے اختلاف کرتا ہے۔ فتاویٰ در مختار میں ہے کہ فقہی اختلاف کی صورت میں ہم کہیں گے کہ ہم صواب پر ہیں اور احتمال ہے کہ ہم خطا پر ہوں جبکہ ہم سے اختلاف کرنے والا خطا پر ہے اور احتمال ہے کہ وہ صواب پر ہو۔ مقدمه در مختار مع الشامي
اور یہ کہ فقہی مسئلے میں خطا پر بھی ایک ثواب ملتا ہے۔ لہذا ہمیں فقہی شدت سے گریز کرنا چاہیے اور وہی موقف اختیار کرنا چاہیے جو علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
من قلد عالما لقي الله سالما
فتاوی شامي : 52/1
جس نے کسی عالم کی تقلید کی وہ اللہ سے سلامتی کے ساتھ ملے گا۔
مجتہدین کی وسیع الظرفی :۔
امام عبدالوہاب شعرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی ایک مجتہد کے فقہی مذہب کی تقلید کرنے والے کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے :
إن صاحب هذا المقام لم يقل بإلزام الضعيف بالعزيمة بل جوز له الخروج من مذهبه إلى الرحصة التى قال بها غيره
الميزان : 154/1
بلاشبہ اس مقام اجتہاد پر فائز مجتہد نے کسی کمزور کو، جو کسی خاص مسئلے میں اس کے فقہی موقف پر عمل کرنے سے قاصر ہے، یہ نہیں کہا کہ ہر صورت وہ ان کے موقف پر قائم رہے بلکہ اس امام نے اسے اجازت دی ہے کہ وہ اس مسئلے میں اس کے مذہب کو چھوڑ کر اس رخصت پر عمل کرے جو دوسرے امام نے دی ہے۔
الحمد للہ! واضح ہو گیا کہ ائمہ مجتہدین رحمہ اللہ وسیع الظرف تھے ان میں وہ فقہی تعصب نہیں پایا جاتا تھا جو ان کے مقلدین میں پایا جاتا ہے مقلدین کو بھی اپنے ائمہ کی طرح وسیع الظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو کہہ دینا چاہیے کہ تم حسب ضرورت دوسرے ائمہ کی آراء پر بھی عمل کر سکتے ہو جبکہ پہلے بیان گزرا کہ عوام کا کوئی فقہی مذہب نہیں۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول سے رہنمائی :۔
سیدی امام عبدالوہاب شعرانی رحمہ اللہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :
ما جاء عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، بأبي هو وأمي، فعلى الرأس والعين، وما جاء عن أصحابه تخيرنا، وماجاء عن غيرهم فهم رجال، ونحن رجال
جو بات ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچی، میرے ماں باپ ان پر قربان، تو وہ سر آنکھوں پر، اور جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ہمیں مختلف اقوال پہنچے تو ان میں سے ہم انتخاب کر لیں گے، اور جو مختلف اقوال ہمیں بعد والوں سے ملیں گے تو وہ بھی مرد ہیں اور ہم بھی مرد ہیں، یعنی ہم ان سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ الميزان : 159/1
اس کے بعد امام شعرانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
ففي ذلك إشارة إلى أن للعبد أن يختار من المذاهب من غير وجوب ذلك عليه إن كان من أهل ذلك المقام
المیزان : 159/1
اس میں اشارہ ہے کہ بندے کے لیے جائز ہے کہ وہ فقہی مذاہب سے جو چاہے پسند کر کے لے لے، اس پر کسی خاص امام کا قول لینا واجب نہیں ہے اگر وہ اس مقام کا اہل ہے کہ جس قول کو اختیار کرے کسی دلیل کی بنا پر کرے۔
امام شعرانی رحمہ اللہ پھر لکھتے ہیں :
إن الأئمة كلهم فى الحق سواء، فليس مذهب أولى بالشريعة من مذهب
المیزان : 174/1
سارے ائمہ حق ہونے میں برابر ہیں، کوئی مذہب دوسرے مذہب کی نسبت شریعت کے زیادہ قریب نہیں ہے۔
الحاصل علمائے دین کو عوام کی تکلیف کا خیال رکھتے ہوئے انہیں شریعت کی روشنی میں وہ مسئلہ بتائیں جو ان کے لیے آسان ہو، وہ مسئلہ نہ بتائیں جس سے وہ ناقابل برداشت تکلیف کا سامنا کریں، اور ان کی تکلیف کو دور کرنے کے لیے کسی دوسرے امام کے قول پر فتویٰ دینا پڑے تو دینا چاہیے جیسے مفقود الخبر کے بارے میں ہم امام مالک رحمہ اللہ کے قول پر فتویٰ دیتے ہیں کہ سب ائمہ حق پر ہیں اور مصیب ہیں اور سب کے اقوال عین شریعت ہیں۔
(شدید غصے کی طلاق کا شرعی حکم ص: 118-120)
از مرتب :۔
مفتی صاحب موصوف کی مذکورہ عبارت سے واضح ہے کہ وہ ان علماء کو سمجھا رہے ہیں جو ایک مجلس کی تین طلاقوں کی بابت اہل حدیث علماء سے فتویٰ لے کر رجوع کر لینے والوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور ان کے فعل کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔ کاش وہ علماء مفتی صاحب کی اس نصیحت پر عمل کر سکیں۔ (صلاح الدین یوسف)
نعو
مذاہب اربعہ کا متفقہ موقف تاکید کے طور پر تین طلاقیں، ایک ہی طلاق ہے :۔
چاروں فقہوں (حنفی، حنبلی، شافعی اور مالکی) میں ایک اور نقطہ نظر سے بھی تین دفعہ طلاق کا لفظ دہرانے کے باوجود، اسے ایک طلاق شمار کرنے کی گنجائش موجود ہے، حالانکہ یہ سب اصحاب فقہ ایک وقت کی تین طلاقوں کو تین طلاقیں ہی شمار کرنے کے قائل ہیں۔
وہ گنجائش کیا ہے اور کس طرح ہے؟ وہ اس طرح کہ کبھی محض تاکید کے لیے طلاق کا لفظ دہرا دیا جاتا ہے جیسے مرد کہتا ہے : تجھے طلاق، طلاق، طلاق۔ یا میں تجھے طلاق دیتا ہوں، تجھے طلاق دیتا ہوں، تجھے طلاق دیتا ہوں۔ لیکن اس طرح کہتے ہوئے اس کی نیت تین طلاقیں دینے کی نہیں ہوتی بلکہ صرف طلاق دینے کی ہوتی ہے اور وہ طلاق کا لفظ صرف تاکید کے طور پر دہراتا ہے اور اکثر لوگوں کی نیت واقعی صرف طلاق دینے ہی کی ہوتی ہے، ایسی صورت میں مذکورہ فقہاء بھی ایک ہی طلاق شمار کرنے کے قائل ہیں۔
چنانچہ کتاب ”الفقه على المذاهب الأربعة“ کے مؤلف فقہ مالکی کی صراحت کرتے ہیں۔
فقہ مالکی کا فتویٰ :۔
الصورة الأولى أن يقول لها : أنت طالق، طالق، طالق، بدون عطف وتعليق، وحكم هذه الصورة أنه يقع بها واحدة إذا نوى بالثانية والثالثة التأكيد
الفقه على المذاهب الأربعة، کتاب الطلاق
اگر اس نے کہا : تجھے طلاق ، طلاق ، طلاق ، بغیر عطف اور تعلیق کے تو اس صورت میں ایک ہی طلاق ہوگی ، جب اس کی نیت دوسری اور تیسری طلاق سے تاکید ہو۔
فقہ حنبلی کا فتویٰ :۔
حنبلی مسلک کی کتاب ”المغنی“ میں علامہ ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
فإن قال : أنت طالق ، طالق، طالق، وقال أردت التوكيد قبل منه، لأن الكلام يكرر للتوكيد كقوله عليه السلام : فنكاحها باطل، باطل، باطل، وإن قصد الإيقاع وكرر الطلقات طلقت ثلاثا ، وإن لم ينو شيئا لم يقع إلا واحدة
المغنی : 7/232-369 دارالفکر
اگر اس نے کہا : تجھے طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے، اور کہا کہ میں نے تاکید کا ارادہ کیا تھا تو اس سے یہ قبول کیا جائے گا، کیونکہ کلام تاکید کے لیے دہرایا جاتا ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : پس اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے، اور اگر اس نے واقع کرنے کا قصد کیا اور طلاقوں کو دہرایا تو تین طلاقیں ہوں گی، اور اگر کچھ نیت نہ کی تو صرف ایک ہی واقع ہوگی۔
فقہ شافعی کا فتویٰ :۔
شافعی مسلک کی کتاب ”روضۃ الطالبین“ میں امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
ولو كرر اللفظة ثلاثا وأراد بالآخرتين تأكيد الأولى لم يقع إلا واحدة
روضۃ الطالبین : 8/78
اور اگر اس نے لفظ کو تین بار دہرایا اور آخری دو سے پہلی کی تاکید کا ارادہ کیا تو صرف ایک ہی واقع ہوگی۔
فقہ حنفی کا فتویٰ :۔
حنفی مسلک کی کتاب ”بہشتی زیور“ میں مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
کسی نے تین دفعہ کہا : تجھ کو طلاق، طلاق، طلاق۔ تینوں طلاقیں پڑ گئیں یا گول الفاظ میں تین مرتبہ کہا تب بھی تین پڑ گئیں لیکن اگر نیت ایک ہی طلاق کی ہے، فقط مضبوطی کے لیے تین دفعہ کہا کہ بات خوب پکی ہو جائے تو ایک ہی طلاق ہوئی لیکن عورت کو اس کے دل کا حال تو معلوم نہیں، اس لیے یہی سمجھے کہ تین طلاقیں مل گئیں۔بہشتی زیور : 4/19
مولانا مجیب اللہ ندوی رحمہ اللہ :۔
مولانا مجیب اللہ ندوی رحمہ اللہ (بھارت) یہ بھی مسئلہ طلاق ثلاثہ میں حنفی موقف کے نہایت سختی سے قائل ہیں لیکن اس کے باوجود اپنی کتاب اسلامی فقہ میں لکھتے ہیں :
البتہ اگر کسی نے اس طرح کہا کہ تجھ کو طلاق، طلاق، طلاق۔ تو اگر اس سے اس کی نیت تین طلاق دینے کی نہیں تھی بلکہ صرف تاکید کرنی مقصود تھی تو ایک ہی طلاق رجعی پڑے گی۔ اسلامی فقہ : 4/260
مفتی مہدی حسن سابق (صدر مفتی دارالعلوم دیوبند) :۔
یہ اپنی کتاب ”إقامة القيامة“ میں تحریر کرتے ہیں : اگر عورت مدخول بہا ہے اور ایک ہی طلاق دینے کا ارادہ تھا لیکن بتکرار لفظ تین طلاق دی اور دوسری اور تیسری طلاق کو بطور تاکید استعمال کیا ہو تو دیانتاً قسم کے ساتھ اس کا قول معتبر ہوگا اور ایک طلاق رجعی واقع ہوگی، اس میں اختلاف نہیں۔ إقامة القيامة، ص : 75
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ المحلی میں لکھتے ہیں :
فلو قال لموطوءة : أنت طالق ، أنت طالق، أنت طالق، فإن نوى التكرير لكلمته الأولى وإعلامها فهي واحدة وكذلك إن لم ينو بتكراره شيئا
المحلی : 10/174
مدخول بہا عورت سے کسی نے کہا : تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق، پس اگر اس تکرار سے اس کی نیت پہلی طلاق ہی کی تاکید اور اس کی اطلاع ہے تو یہ ایک ہی طلاق ہے اور اسی طرح اس وقت بھی ایک ہی طلاق ہوگی جب اس تکرار سے اس کی کوئی نیت ہی نہ ہو۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی رحمہ اللہ :۔
تاکید کے طور پر تین مرتبہ طلاق کا لفظ دہرانے کے بارے میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی رحمہ اللہ نے تین طلاقوں میں تاکید کا اعتبار کا عنوان قائم کر کے اس پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
ایک مجلس کی تین طلاقیں بھی واقع ہو جائیں گی… لیکن یہ حکم اس صورت میں ہے جب تین کے عدد کی صراحت ہو، مثلاً : کہا جائے : میں نے تین طلاقیں دیں۔ اگر صرف طلاق کو تین بار کہا کہ تم کو طلاق، طلاق، طلاق تو اب دو باتوں کا احتمال ہے۔ ایک یہ کہ تین طلاقیں دینا مقصود ہیں یا یہ کہ ایک ہی طلاق دینی مقصود ہے اور تاکید کے لیے تین بار طلاق کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ پہلی صورت میں تین طلاقیں واقع ہوں گی اور دوسری صورت میں صرف ایک، اس لیے کہ تاکید کسی چیز کے وقوع کو مؤکد تو کرتی ہے لیکن اس کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں کرتی۔
اس طرح اس معاملے کا مدار طلاق دینے والے کے ارادے پر ہے، مگر اس میں اس بات کا قوی احتمال تھا کہ لوگ تین طلاق کے ارادے سے اس طرح کا فقرہ استعمال کریں اور بعد میں بیوی کی علیحدگی سے بچنے کے لیے کہہ دیں کہ تاکید کی نیت تھی، اس لیے فقہاء نے کہا کہ ایسے فقروں میں دیانتاً اور في ما بينه وبين الله تو ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی اس طرح طلاق دینے کے بعد پھر اپنی بیوی سے رجعت کر لے تو اس کو ان شاء اللہ کوئی گناہ نہ ہوگا۔
مگر ہمارے زمانے میں جہالت اور ناواقفیت اور شرعی تعلیمات سے دوری کے باعث صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ طلاق واقع ہی اس وقت ہوتی ہے جب تین بار طلاق کا لفظ کہا جائے۔ ان حالات میں مناسب ہوگا کہ جہاں صرف لفظ ”طلاق“ کا تکرار ہو اور تاکید کا معنی مراد لیا جا سکتا ہو وہاں ایک ہی طلاق واقع قرار دی جائے اور قضاءً بھی اس شخص کی نیت کا اعتبار کیا جائے۔ خوشی کی بات ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء نے اس مسئلے میں پیش قدمی کی ہے اور فتاویٰ میں اس کی رعایت شروع کر دی ہے، چنانچہ اس مسئلے میں دارالعلوم دیوبند کا ایک فتویٰ ملاحظہ ہو۔
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید نے اپنی بیوی کو اس طرح طلاق دی۔ تم کو طلاق ، طلاق ، طلاق ، اس صورت میں کون سی طلاق واقع ہوگی اور کیا مراجعت کی گنجائش ہوگی؟
جواب :
صورت مذکورہ میں ہمارے اطراف کے عرف کے اعتبار سے زید کی مدخولہ بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوئی۔ اگر آپ کے یہاں کا عرف بھی یہی ہو تو ایک طلاق رجعی کے وقوع کا حکم ہوگا۔
طلاق رجعی کا حکم ہے کہ اندرون عدت رجوع اور بعد عدت بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح جائز ہے۔الفتاوى الهنديه : 50/2
ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے دوسرے دارالافتاء اور اہل علم بھی اسی کے مطابق فتوے دیا کریں، اس لیے کہ قریب قریب پورے ملک کا عرف یہی ہے کہ لوگوں نے ناواقفیت کی وجہ سے یہ سمجھ رکھا ہے کہ جب تک تین بار طلاق کا لفظ نہ استعمال کیا جائے طلاق واقع ہی نہ ہوگی۔جديد فقهي مسائل : 108/2-111
از مرتب :
اسی سے ملتی جلتی صورت ہمارے خیال میں یہ ہے کہ لوگ شرعی احکام سے ناواقفیت کی وجہ سے تین کے عدد کے ساتھ طلاق دیتے ہیں لیکن بعد میں جب اس کا علم ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ میں سمجھ رہا تھا کہ تین مرتبہ طلاق کے الفاظ استعمال کیے بغیر طلاق واقع ہی نہیں ہوتی۔
اس صورت حال کو بھی ہمدردی سے دیکھنا چاہیے اور ایسے شخص کی بھی تین طلاقوں کو تاکید پر محمول کر کے ایک طلاق کے وقوع کا حکم لگانا چاہیے۔
مسلم ممالک میں طلاق کا قانون :۔
مسلم ممالک نے تطلیقات ثلاثہ کے سلسلے میں جو قوانین بنائے ہیں ان کی حیثیت شرعی حجت کی ہرگز نہیں ہے، اس لیے ان قوانین کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا، تاہم یہ معلوم کرنا خالی از دلچسپی نہ ہوگا کہ کن ممالک نے اس سلسلے میں اقدامات کیے ہیں۔ اسی مقصد کے پیش نظر ، یعنی بغرض معلومات اس کی تفصیل پیش کی جاتی ہے۔
سب سے پہلے مصر نے 1929ء میں ایک ہی وقت کی تین طلاقوں کے اصول کو ختم کر دیا اور قانون یہ بنایا کہ متعدد طلاقیں صرف ایک طلاق شمار ہوں گی اور وہ رجعی ہوں گی۔ پیر کرم شاہ ازہری نے بھی اپنی مذکورہ کتاب میں اس مصری قانون کی مختصر تفصیل پیش کی ہے اور اس کے حوالے سے پاکستان کے حنفی علماء کو بھی یہی مسلک اپنانے کی تلقین کی ہے اسی قسم کا قانون سوڈان نے 1935ء میں، اردن نے 1951ء میں، شام نے 1953ء میں، مراکش نے 1958ء میں، عراق نے 1959ء میں اور پاکستان نے 1961ء میں نافذ کیا۔ ایک مجلس کی تین طلاق ، ص : 69، 68
مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کا طرز عمل (علمائے احناف کے لیے دعوت غور و فکر)
آج سے تقریباً 75 سال قبل (1351ھ میں) مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ایک کتاب تالیف فرمائی تھی جس کا نام ہے ”الحیلۃ الناجزۃ فی الحلیلۃ العاجزۃ“ (مشکلات سے دوچار شادی شدہ عورت کے لیے کامیاب حیلہ یا تدبیر) اس میں حسب ذیل عورتوں کی مشکلات کا حل پیش کیا گیا تھا۔
◈ نامرد شخص کی بیوی
◈ مجنون شخص کی بیوی
◈ متعنت (نان نفقہ نہ دینے والے) کی بیوی
◈ مفقود الخبر (لاپتہ شوہر) کی بیوی۔
ان کا حل پیش کرنے کی وجہ یہ تھی کہ فقہ حنفی میں مذکورہ عورتوں کی مشکلات کا، یعنی خاوندوں سے گلو خلاصی حاصل کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے، اس بات کا اعتراف اس کتاب کے نئے ایڈیشن کے دیباچے میں مولانا تقی عثمانی نے بھی کیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں :
ایسی خواتین جنہوں نے نکاح کے وقت تفویض طلاق کے طریقے کو اختیار نہ کیا ہو، اگر بعد میں کسی شدید مجبوری کے تحت شوہر سے گلو خلاصی حاصل کرنا چاہیں، مثلاً : شوہر اتنا ظالم ہو کہ نہ نفقہ دیتا ہو، نہ آباد کرتا ہو، یا وہ پاگل ہو جائے یا مفقود الخبر ہو جائے یا نامرد ہو اور از خود طلاق یا خلع پر آمادہ نہ ہو تو اصل حنفی مسلک میں ایسی عورتوں کے لیے شدید مشکلات ہیں، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والا کوئی قاضی موجود نہ ہو، ایسی عورتوں کے لیے اصل حنفی مسلک میں شوہر سے رہائی کی کوئی صورت نہیں ہے۔الحيلة الناجزة ص : 10
مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے مذکورہ بیشتر مسائل میں فقہ حنفی سے انحراف کر کے مالکی مذہب کے مطابق فتویٰ دیا اور اس کی روشنی میں ان کو اپنے شوہروں سے گلو خلاصی (چھٹکارے) کا طریقہ بتلایا، اس کی تفصیل مذکورہ کتاب میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے، علاوہ ازیں مولانا تھانوی کے ان فتووں کو اس وقت کے تمام کبار حنفی علماء نے بھی تسلیم کیا جن کی تصدیقات بھی اس کتاب میں موجود ہیں۔ کسی نے بھی ان پر فقہ حنفی سے خروج کا فتویٰ نہیں لگایا کیونکہ کتاب میں مولانا تھانوی نے صراحت کی ہے کہ ضرورت شدیدہ کے وقت کسی دوسری فقہ پر عمل کرنے کی اجازت خود فقہائے احناف نے دی ہے۔ اسی اجازت کی وجہ سے یہ سہولتیں عورتوں کو دی جارہی ہیں جو فقہ حنفی میں نہیں ہیں۔
یہاں یہ مثال پیش کرنے سے مقصود یہ ہے کہ بیک وقت دی گئیں تین طلاقوں کو نافذ کر کے دفعتاً میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کا فیصلہ کر دینا بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے بے شمار پیچیدگیاں اور معاشرتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں جس کی کچھ تفصیل گزشتہ بعض مقالات میں گزری ہے۔ اس کے حل کے لیے بھی ضروری ہے کہ موجودہ علمائے احناف مولانا تھانوی کی طرح ایسا اقدام کریں کہ مسئلہ طلاق ثلاثہ کی وجہ سے مسلمان عورت جن آلام و مصائب کا شکار ہوتی ہے، اس سے وہ محفوظ ہو جائے اور وہ حل یہی ہے کہ زیر بحث طلاق ثلاثہ کو ایک طلاق رجعی شمار کریں جس کی پوری گنجائش شریعت ہی میں موجود ہے جیسا کہ گزشتہ مباحث و دلائل سے واضح ہے۔