مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

طلاقِ بائن کے بعد پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کا حکم؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

ایک عورت کو طلاق بائن ہو چکی ہے، کیا وہ دوبارہ پہلے شوہر کے عقد میں آ سکتی ہے؟

جواب:

جس عورت کو طلاق بائن واقع ہو جائے، وہ عدت کے بعد پہلے شوہر سے نکاح نہیں کر سکتی، تا آنکہ آگے کسی سے نکاح کرے اور وہ اپنی مرضی سے طلاق دے یا فوت ہو جائے۔ تو عدت کے بعد عورت پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودَ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
﴿البقرة: 230﴾
اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے، تو اب وہ اس کے لیے حلال نہیں، تا آنکہ وہ عورت اس کے علاوہ دوسرے مرد سے نکاح کر لے، پھر اگر وہ بھی طلاق دے دے، تو ان دونوں (عورت اور سابقہ شوہر) کو دوبارہ (نکاح جدید کے ساتھ) میل جول کرنے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ انہیں یقین ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم رکھیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں، جنہیں وہ جاننے والوں کے لیے واضح کر رہا ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔