صوفیوں کا عقیدہ حلول اور اہل سنت کا منہج

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب اللہ کہاں ہے؟ سے ماخوذ ہے۔

عقیدہ حلول اور اس کے خطرات

اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر ہے، مخلوق سے جدا ہے۔ یہ اہل سنت کا اجماعی واتفاقی عقیدہ ہے۔ اس اجماعی و اتفاقی عقیدہ کے خلاف بعض گمراہوں کا اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ عقیدہ ہے کہ وہ ہر جگہ موجود ہے۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ وہ مخلوق میں حلول کر گیا ہے، یعنی خالق اور مخلوق کا فرق مٹ گیا ہے۔ یہ دونوں عقیدے اجماع اہل حق ، اہل سنت کے خلاف ہیں۔ عقیدہ حلول کے متعلق علمائے کرام کی آرا ملاحظہ فرمائیں۔

علامہ ابو حامد غزالی رحمتہ اللہ (505ھ ) کہتے ہیں:

من هنا نشأ خيال من ادعى الحلول والاتحاد وقال: أنا الحق، وحوله يدندن كلام النصارى في دعوى اتحاد اللاهوت والناسوت أو تدرعها بها أو حلولها فيها على ما اختلف فيهم عبارتهم، وهو غلد محض.

’’یہاں سے اس شخص کا خیال جنم لیتا ہے، جو حلول واتحاد کا دعوی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ہی اللہ ہوں۔ لاہوت کے ناسوت میں متحد ہو جانے یا اس میں چھپ جانے یا اس میں حلول کر جانے کے بارے میں نصاری کی کلام بھی اسی کے لگ بھگ ہے، اگر چہ اس بارے میں ان کی عبارات مختلف ہیں۔ یہ عقیدہ سراسر غلط ہے ۔‘‘

(إحياء علوم الدين: 292/2)

حافظ عراقی رحمتہ اللہ (806 ھ) ابن عربی کے رد میں لکھتے ہیں:

أما قوله: فهو عين ما ظهر وعين ما بطن، فهو كلام مسموم ظاهره القول بالوحدة المطلقة، وأن جميع مخلوقاته هي عينه، ويدل على إرادته لذلك صريحا قوله بعد ذلك، وهو المسمى أبا سعيد الخراز وغير ذلك من أسماء المحدثات، وكذلك قوله بعد ذلك: (والمتكلم واحد، وهو عين السامع، وقائل ذلك المعتقد له كافر بإجماع العلماء .

’’رہا ابن عربی کا یہ کہنا کہ وہ (اللہ تعالیٰ) حاضر وباطن کا عین ہے، یہ زہریلی کلام ہے، ظاہری طور پر یہ مطلق وحدت (وحدت الوجود) پر دلالت کرتی ہے، اس کے مطابق تمام مخلوقات اللہ ہی کا وجود ہیں۔ اس کی دلیل اس کے بعد اس کا یہ قول ہے کہ اسی (اللہ) کا نام ابوسعید الخراز ہے اور اس کے علاوہ کئی محدثات کے نام۔ اسی طرح اس کے بعد اس کا قول ہے کہ متکلم ایک ہی ہے اور وہی عین سامع ہے۔ ایسے قول کا قائل اور ایسا عقیدے کا معتقد علمائے کرام کے اجماع کے مطابق کافر ہے۔‘‘

(تنبيه الغبي على تكفير ابن عربي (مصرع التصوف)، للبقاعي، ص 64)

مشہور مفسر اور نحوی ابو حیان الاندلسی (745ھ) لکھتے ہیں:

ظاہری طور پر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر صوفیت کی طرف منسوب ہونے والے لوگوں اور حلول و اتحاد کا مذہب رکھنے والے ملحدین نے نصرانیوں کے بعض عقائدہ سے اللہ کا حسین صورتوں میں حلول کرنا استنباط کیا ہے، جیسا کہ (حسین بن منصور) حلاج، شوذی، ابن ،احلی، دمشق میں رہنے والا ابن عربی، ابن فارض اور ان کے پیروکار ہیں، مثلاً ابن سبعین ، اس کا شاگرد تستری مرسیہ کا باشندہ ابن مطرف، غرناطہ میں قتل کر دیا جانے والا صفار، ابن اللباج، بلورقہ کا رہائشی ابوالحسن ہیں۔

اور اس ملعون مذہب (حلول ووحدت الوجود) کے حاملین میں سے جو ہم نے دیکھے ہیں، ان میں سے عفیف تلمسانی ہے، اس کے اس بارے میں بہت سے اشعار بھی ہیں اور دمشق میں مقیم سیاہ رنگ کا بے ثمر ابن عیاش مالقی ، صعید مصر کا رہائشی عبدالواحد بن الموخر، وہ ایکی عجمی، جو دیار مصر میں قاہرہ کی خانقاہ سعید السعداء کے مشائخ کا متولی بنا تھا اور تستری کا شاگرد ابو یعقوب بن مبشر، جو کہ حارہ زدیلہ کا باشندہ تھا۔

اللہ جانتا ہے کہ میں نے یہ نام دینی خیر خواہی اور (عقیدہ میں) کمزور مسلمانوں پر (گمراہی کا) ڈر محسوس کرتے ہوئے ذکر کیے ہیں۔ انھیں بچنا چاہیے، کیونکہ مذکورہ لوگ ان فلسفی لوگوں سے بھی بدتر ہیں، جو اللہ اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں، کائنات کو قدیم کہتے اور قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ بعض جاہل لوگ ، جو تصوف کے نام لیوا ہیں، وہ ان لوگوں کی تعظیم کے دلدادہ ہیں اور یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ لوگ اللہ تعالٰی کے منتخب اور اولیاء ہیں۔

نصرانیوں، حلول کا عقیدہ رکھنے والوں اور وحدت الوجود کے قائلین کارد کرنا اصول دین کے علم میں سے ایک علم ہے۔

(البحر المحیط 448/3)

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمتہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:

’’جہمیہ کے اقوال نصاری کے اقوال سے بھی بدتر ہیں، ان میں اسی طرح کا تناقض ہوتا ہے، جس طرح کا تناقض نصاری کے اقوال میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی حلول کا دعوی کرتے ہیں، کبھی وحدت الوجود کا اور کبھی اتحاد کا۔ یہ مذہب خود متناقض ہے۔ اسی لیے جو اسے سمجھ نہیں پاتا، اسے پر وہ تلبیس کرتے ہیں۔ یہ ظاہری و باطنی طور پر سب کا سب کفر ہے، اس پر ہر مسلمان کا اجماع ہے۔ اور جو ان لوگوں کے اقوال کو جان کر اور دینِ اسلام کی معرفت حاصل کر کے پھر ان کے کفر میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے، جیسا کہ یہود و نصاری اور مشرکین کے کفر میں شک کرنے والا کافر ہوتا ہے۔‘‘

(مجموع الفتاوی: 388/2)

قاضی عیاض رحمتہ اللہ (544ھ) لکھتے ہیں:

ذلك كفر بإجماع المسلمين، كقول الإلهين من الفلاسفة والمنجمين والطبائعيين، وكذلك من ادعى مجالسة الله والعروج ومكالمته أو حلوله في أحد من الأشخاص كقول بعض المتصوفة والباطنية والنصارى والقرامطة.

’’یہ (عقیدہ وحدت الوجود) مسلمانوں کے اجماع کے ساتھ کفر ہے، یہ اسی طرح ہے، جیسے فلسفیوں، نجومیوں اور نیچریوں کا ددالہوں کا اثبات کرتا۔ اسی طرح جو اللہ سے ہم نشینی، عروج اور ہم کلامی یا اللہ تعالیٰ کے کسی میں حلول کر جانے کا دعوی کرے، (وہ بھی اجماعی طور پر کافر ہے) جیسا کہ بعض صوفیوں، باطنیوں، نصاری اور قرامطہ کا کہنا ہے۔‘‘

(الشفا بتعريف حقوق المصطفى 585/2-586)

حافظ سیوطی رحمتہ اللہ (911ھ) لکھتے ہیں:

القول بالحلول والاتحاد الذي هو أخو الحلول أول من قال به النصارى، إلا أنهم خصوه بعيسى عليه السلام أو به وبمريم ولم يعدوه إلى أحد، وخصوه باتحاد الكلمة دون الذات بحيث إن علماء المسلمين سلكوا في الرد عليهم طريق إلزامهم بأن يقولوا بمثل ذلك في موسى عليه السلام وفي الذات أيضا، وهم لا يقولون بالأمرين، وإذا سلموا بطلان ذلك لزم إبطال ما قالوه، أما المتوسمون بسمة الإسلام فلم يبتدع أحد منهم هذه البدعة وحاشاهم من ذلك، لأنهم أذكى فطرة وأصح لبا من أن يمشي عليهم هذا المحال، وإنما مشى ذلك على النصارى لأنهم أبلد الخلق أذهانا وأعماهم قلوبا، غير أن طائفة من غلاة المتصوفة نقل عنهم أنهم قالوا بمثل هذه المقالة وزادوا على النصارى في تعدية ذلك، والنصارى قصروه على واحد، فإن صح ذلك عنهم فقد زادوا في الكفر على النصارى.

’’حلول اور حلول سے ملتے جلتے عقیدے اتحاد کا مذہب سب سے پہلے نصاری نے اختیار کیا تھا، لیکن انھوں نے اس کے ساتھ عیسی علیہ السلام کو خاص کیا تھا یا ان کے ساتھ اور ان کی والدہ مریم علیہ السلام کے ساتھ، پھر انھوں نے اس کو اتحاد کلمہ کے ساتھ خاص کیا تھا، اتحاد ذات کے ساتھ نہیں۔ اس طرح کہ مسلمان علمائے کرام نے ان کا رد کرنے کے لیے ان کو الزام دیا تھا کہ وہ ایسی بات موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اور ذات کے بارے میں بھی کہیں، لیکن وہ ان دونوں میں سے کوئی بات بھی نہیں کہتے۔ جب انھوں نے اس چیز کا باطل ہونا تسلیم کر لیا، تو ان کے قول کا بطلان خود ہی ہو گیا۔ رہے اسلام کے نام لیوا، تو ان میں سے کسی نے بھی یہ بدعت جاری نہیں کی، اللہ ان کو محفوظ رکھے، کیونکہ وہ (مسلمان) فطرت کے اعتبار سے زیادہ پاکیزہ اور ذہن کے اعتبار سے زیادہ صحت مند ہیں کہ ان پر اس طرح کی حالت آئے۔ یہ صورت حال تو نصاری کو ہی پیش آئی تھی، کیونکہ وہ سب لوگوں سے کند ذہن اور بد دماغ واقع ہوئے ہیں۔ البتہ غالی صوفیوں کے ایک گروہ کے بارے میں اس طرح کی بات بیان کی گئی ہے کہ انھوں نے بھی اس طرح کی بات کہی ہے اور اس بات میں نصاری سے بھی بڑھ گئے ہیں کہ انھوں نے اس (اتحاد وحلول) کو عام کر دیا ہے، جبکہ نصاری اسے ایک ہی شخص پر بند کرتے تھے۔ اگر یہ قول ان (صوفیوں) سے ثابت ہو جائے، تو وہ کفر میں نصاری سے بھی بڑھ گئے ہیں۔‘‘

(تنزيه الاعتقاد عن الحلول والاتحاد، المندرج في الحاوي للفتاوى: 122/2-123)

قاضی ماوردی کہتے ہیں:

القائل بالحلول والاتحاد ليس من المسلمين بالشريعة، بل في الظاهر والتسمية، ولا ينفع التنزيه مع القول بالاتحاد والحلول،فإن دعوى التنزيه مع ذلك إلحاد.

’’حلول و اتحاد کا قائل شریعت کو ماننے والے مسلمانوں میں سے نہیں ہے، بلکہ ظاہری طور پر اور نام کا مسلمان ہے۔ اتحاد وحلول کے قول کے ساتھ تنزیہ فائدہ نہیں دیتی، کیونکہ اس عقیدے کے ساتھ ساتھ تنزیہ تو الحاد ہے۔‘‘

(الحاوي للفتاوى للسيوطي: 125/2)

علامہ عبد العزیز بن عبد السلام (660 ھ) اپنی کتاب ’’القواعد الکبری‘‘ میں لکھتے ہیں:

من زعم أن الإله يحل في شيء من أجساد الناس أو غيرهم فهو كافر، لأن الشرع إنما عفا عن المجسمة لغلبة التجسيم على الناس فإنهم لا يفهمون موجودا في غير جهة، بخلاف الحلول فإنه لا يعم الابتلاء به ولا يخطر على قلب عاقل فلا يعفى عنه.

’’جو یہ دعوی کرتا ہے کہ اللہ لوگوں یا دوسری مخلوقات کے جسموں میں سے کسی جسم میں حلول کر جاتا ہے، وہ کافر ہے، کیونکہ (بعض لوگوں کے نزدیک) شریعت نے تجسیم کے قائل لوگوں سے درگزر کیا ہے، کیونکہ لوگوں پر تجسیم غالب ہے، لوگ کسی چیز کو سمت کے بغیر موجود نہیں سمجھتے۔ برخلاف حلول کے عقیدے کے کہ اس میں مبتلا ہونا زیادہ نہیں، نہ ہی کسی عقل مند کے دل میں ایسا خیال ہی آسکتا ہے، لہذا اس سے (بالاتفاق) درگزر نہیں کیا جائے گا۔‘‘

(الحاوي للفتاوى للسيوطي: 126/2)

حافظ سیوطی یہ قول ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

قلت: مقصود الشيخ أنه لا يجري في تكفيرهم الخلاف الذي جرى في المجسمة، بل يقطع بتكفير القائلين بالحلول إجماعا، وإن جرى في المجسمة خلاف.

’’شیخ (عز الدین) کا مقصود یہ ہے کہ حلول کا عقیدہ رکھنے والوں کو کافر قرار دینے میں کوئی اختلاف واقع نہیں ہوا، جیسا کہ تجسیم کے قائل لوگوں کی تکفیر میں واقع ہو گیا تھا، بلکہ حلول کا عقیدہ رکھنے والوں کو اجماعی طور پر قطعاً کافر کہا جائے گا۔ اگر چہ تقسیم کے قائلین کے بارے میں اختلاف رہا ہے۔“

(الحاوي للفتاوى: 126/2)

’’معیار المریدین‘‘ کے مصنف ابومحمد عبد اللہ بن محمد نوری کہتے ہیں:

الدليل على بطلان اتحاد العبد مع الله تعالى أن الاتحاد بين مربوبين محال، فإن رجلين مثلا لا يصير أحدهما عين الآخر لتباينهما في ذاتيهما كما هو معلوم، فالتباين بين العبد والرب سبحانه وتعالى أعظم، فإذن أصل الاتحاد باطل محال مردود شرعا وعقلا وعرفا بإجماع الأنبياء والأولياء ومشايخ الصوفية وسائر العلماء والمسلمين، وليس هذا ملهب الصوفية وإنما قاله طائفة غلاة لقلة علمهم وسوء حظهم من الله تعالى، فشابهوا بهذا القول النصارى الذين قالوا في عيسى عليه السلام: اتحد ناسوته بلاهوته.

’’بندے کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اتحاد کے باطل ہونے پر دلیل یہ ہے کہ دو مخلوق چیزوں کے درمیان اتحاد محال ہے، کیونکہ مثال کے طور پر دو آدمی ہوں، تو ان میں سے ایک دوسرے کا عین (ذات) نہیں ہوسکتا، کیونکہ وہ ذات میں مختلف ہیں، جیسا کہ معلوم ہے۔ لہذا بندے اور رب سبحانہ و تعالیٰ کے درمیان تباین زیادہ بڑا ہے، چنانچہ اتحاد کی اصل ہی باطل ہے اور عقلاً وشرعاً و عرفا مردود ہے۔ اس پر انبیائے کرام، اولیا، مشائخ صوفیہ، تمام علما اور عام مسلمانوں کا اجماع ہے۔ یہ (عقیدہ) صوفیا کے مذہب میں نہیں ہے، یہ بات تو ایک عالی گروہ نے کم علمی اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی کمزوری کی وجہ سے کہی ہے۔ یہ کہہ کر وہ ان نصاری کے مشابہ ہو گئے ہیں، جنھوں نے عیسی علیہ السلام کے بارے میں یہ کہا تھا کہ ان کا ناسوت اور لاہوت متحد ہو گیا ہے۔‘‘
(الحاوي للفتاوى للسيوطي: 126/2)

عقیدہ حلول کے خطرات

◈ اگر خالق و مخلوق کا ایک ہی وجود ہو، تو خالق مخلوق کو کسی چیز کا حکم کیسے دے گا اور کسی چیز سے منع کیسے کرے گا؟

◈ اگر خالق ومخلوق کا ایک ہی وجود ہو، تو اس میں تخلیق الہی کا انکار ہے، کیونکہ کوئی اپنا خالق نہیں ہو سکتا۔

◈ عقیدہ حلول سے اللہ کے مالک الملک ہونے کی نفی لازم آتی ہے، کیونکہ کوئی خود اپنا مالک نہیں ہو سکتا۔

◈ اس عقیدہ سے لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو رزق نہیں دیتا، نہ ہی کسی کو ہدایت وغیرہ دیتا ہے، کیونکہ اس کے سوا کوئی وجود ہی نہیں۔

◈ اس عقیدہ سے یہ خرابی لازم آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی روزہ رکھتا ہے، قیام کرتا ہے، رکوع وسجود کرتا ہے اور موت ومرض کا شکار ہوتا ہے۔

◈ اس عقیدے کے مطابق بتوں کے پجاریوں نے اللہ ہی کی عبادت کی تھی، کیونکہ اس کے سوا کوئی وجود ہی نہیں۔

◈ جس نے الوہیت کا دعویٰ کیا ، مثلاً فرعون، دجال وغیرہ، اس عقیدے کے مطابق ان کا دعوی برحق ہے۔ شیطان یا خواہش کا ہر پجاری اللہ تعالیٰ کا عبادت گزار ہے، کیونکہ ان کے نزدیک شیطان کوئی مستقل وجود نہیں ہے۔

◈ عقیده حلول سے لازم آتا ہے کہ کتے ، خنزیر وغیرہ بھی الہ ہیں، کیونکہ وحدت الوجود کے مطابق ان کا اپنا کوئی وجود نہیں، بلکہ سب ایک ہی وجود ہیں۔

◈ اس سے عقلی طور پر محال چیزوں کا اعتقاد لازم آتا ہے، کیونکہ اگر اللہ کے سوا باقی وجود متحد ہوں، تو تین صورتیں بنتی ہیں: ایک یہ کہ دوسری کا وجود بھی باقی رہے گا، اس طرح تو وجود دو ہو جائیں گے، دوسری صورت یہ کہ دونوں معدوم ہو جائیں، اس طرح ایک تیسری چیز وجود میں آ جائے گی، تیسری صورت یہ ہے کہ ایک باقی رہے اور دوسری معدوم ہو جائے ، اس طرح اتحاد ہوگا ہی نہیں۔

◈ اس عقیدے سے فطرت و شرائع کی مخالفت لازم آتی ہے، کیونکہ کسی آسمانی شریعت نے اس کو جائز قرار نہیں دیا، نہ ہی عقل سلیم اس کی اجازت دیتی ہے۔

◈ بعض گمراہ لوگ کہتے ہیں کہ انسان عبادت کے ذریعے اس درجے پر پہنچ جاتا ہے کہ اسے دنیا جہان کی ہر چیز میں اللہ نظر آنے لگتا ہے یا وہ ہر مخلوق کو اللہ سمجھنے لگتا ہے۔ صوفیوں کی اصطلاح میں اس عقیدہ کو ’’وحدت الوجود‘‘ کہتے ہیں۔ عبادت میں مزید ترقی سے انسان اللہ کی ذات میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ اور انسان دونوں ایک ہو جاتے ہیں، اس عقیدے کو ’’وحدت الشہود‘‘ یا ’’فنافی اللہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ انسان کے دل کا آئینہ اس قدر صاف شفاف ہو جاتا ہے کہ اللہ کی ذات خود اس انسان میں داخل ہو جاتی ہے، جسے ’’عقیدہ حلول‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ محض کفریہ عقیدہ ہے، جو نصاری کے عقائد سے ماخوذ ہے۔ قرآن وحدیث اور فطرت کے قطعی خلاف ہے۔