مضمون کے اہم نکات
یہ مضمون صلہ رحمی یعنی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی اہمیت، فضائل اور ترکِ صلہ رحمی (قطع رحمی) کے نقصانات پر مشتمل ہے۔ قرآنِ مجید کی واضح آیات اور رسول اللہ ﷺ کی صحیح احادیث کی روشنی میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ والدین کے بعد حقوق العباد میں سب سے زیادہ تاکید رشتہ داروں کے حقوق کی ہے۔ اس مضمون میں صلہ رحمی کا مفہوم، اس کی شرعی حیثیت، اس کے دنیوی و اخروی فوائد اور قطع رحمی کے سنگین نتائج تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں، تاکہ ہر مسلمان اپنے خاندانی تعلقات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق درست کر سکے۔
صلہ رحمی کا مفہوم
لفظ صلہ تمام اچھے اخلاق کو شامل ہے، جیسے خندہ پیشانی سے ملنا، سلام کرنا، نرم گفتگو کرنا، قصور معاف کرنا، عاجزی اور انکساری اختیار کرنا، اچھا برتاؤ کرنا اور مالی مدد کرنا۔
اور رحم سے مراد نسبی رشتہ ہے، یعنی وہ تمام رشتہ دار جن کا خون کا تعلق ہو، خواہ وہ وارث ہوں یا نہ ہوں، محرم ہوں یا غیر محرم۔
اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ صلہ رحمی کا مطلب یہ ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے اور ان کی بدسلوکی پر صبر اور درگزر سے کام لیا جائے۔
قرآنِ مجید میں صلہ رحمی کی تاکید
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں بار بار صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ﴾
(النساء 4:1)
ترجمہ:
“اور اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حقوق مانگتے ہو، اور رشتہ داریوں کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرتے رہو۔”
اس آیت میں رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی سخت تاکید کی گئی ہے۔
اسی طرح فرمایا:
﴿وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى﴾
(النساء 4:36)
ترجمہ:
“اور اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ نیکی کرو، اور قرابت داروں کے ساتھ بھی۔”
اسی مضمون کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللّٰهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَى﴾
(البقرۃ 2:83)
ترجمہ:
“اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے اور والدین اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو گے۔”
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حق کے بعد والدین اور پھر رشتہ داروں کا حق سب سے زیادہ اہم ہے۔
رشتہ داروں کی مدد کا حکم
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى﴾
(النحل 16:90)
ترجمہ:
“بے شک اللہ عدل، احسان اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے۔”
اسی طرح فرمایا:
﴿وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ﴾
(بنی اسرائیل 17:26)
ترجمہ:
“اور رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو۔”
یہ آیات اس بات پر دلیل ہیں کہ رشتہ داروں کی مالی اور اخلاقی مدد کرنا اللہ تعالیٰ کا واضح حکم ہے۔
صلہ رحمی اہلِ عقل کی صفت
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللّٰهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ﴾
(الرعد 13:21)
ترجمہ:
“اور وہ لوگ جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں جوڑتے ہیں۔”
یہ آیت بتاتی ہے کہ صلہ رحمی کرنا عقل مند اور نیک لوگوں کی نمایاں علامت ہے۔
صلہ رحمی کے فضائل
➊ صلہ رحمی سے رزق میں کشادگی اور عمر میں برکت
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( مَنْ أَحَبَّ أَنْ یُّبْسَطَ لَہُ فِیْ رِزْقِہٖ وَیُنْسَأَ لَہُ فِیْ أَثَرِہٖ فَلْیَصِلْ رَحِمَہُ ))
صحیح البخاری، الأدب، باب من بسط لہ فی الرزق لصلۃ الرحم:5986، صحیح مسلم، البر والصلۃ باب صلۃ الرحم:2557
ترجمہ:
“جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو اور اس کی عمر میں اضافہ کیا جائے، تو اسے چاہئے کہ صلہ رحمی کرے۔”
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صلہ رحمی رزق میں وسعت اور عمر میں برکت کا ذریعہ ہے۔ بعض اہلِ علم کے مطابق عمر بڑھنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو نیک اعمال کی توفیق عطا فرما دیتا ہے، جس سے اس کی زندگی بابرکت ہو جاتی ہے۔
(شرح صحیح مسلم للنووی: 9/450)
اسی مضمون کو مزید واضح کرتے ہوئے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( لَا یَرُدُّ الْقَدْرَ إلَّا الدُّعَائُ ، وَلَا یَزِیْدُ فِیْ الْعُمُرِ إلَّا الْبِرُّ ))
مسند احمد:5/280، سنن ابن ماجہ:90، 4022، ابن حبان:3/153، الحاکم:1/670 (صحیح)، صحیحہ للألبانی:154
ترجمہ:
“تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز نہیں ٹالتی اور نیکی کے سوا کوئی چیز عمر میں اضافہ نہیں کرتی۔”
یہاں نیکی سے مراد والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔
➋ صلہ رحمی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سبب
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ الرَّحِمَ شَجْنَۃٌ مِنَ الرَّحْمٰنِ، فَقَالَ اللّٰهُ: مَنْ وَصَلَكِ وَصَلْتُهُ، وَمَنْ قَطَعَكِ قَطَعْتُهُ ))
صحیح البخاری، الأدب باب من وصل وصلہ اللہ:5988
ترجمہ:
“رحم، رحمن سے نکلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو تجھے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا، اور جو تجھے کاٹے گا میں اسے کاٹ دوں گا۔”
اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
(( اَلرَّحِمُ مُعَلَّقَۃٌ بِالْعَرْشِ… ))
صحیح البخاری:5989، صحیح مسلم:2555
ترجمہ:
“رحم عرش سے لٹکی ہوئی ہے اور کہتی ہے: جو مجھے ملائے گا اللہ اسے (اپنی رحمت سے) ملائے گا، اور جو مجھے کاٹے گا اللہ اسے کاٹ دے گا۔”
یہ احادیث اس بات پر واضح دلیل ہیں کہ صلہ رحمی اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
➌ صلہ رحمی سے خاندان میں محبت پیدا ہوتی ہے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( تَعَلَّمُوْا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُوْنَ بِهٖ أرْحَامَكُمْ… ))
سنن الترمذی:1979، مسند احمد:2/374، صحیح الترغیب والترہیب:2520
ترجمہ:
“اپنے نسب کو پہچانو تاکہ تم صلہ رحمی کر سکو، کیونکہ صلہ رحمی سے گھر والوں میں محبت پیدا ہوتی ہے، مال میں اضافہ ہوتا ہے اور عمر میں تاخیر ہوتی ہے۔”
اس حدیث میں صلہ رحمی کے تین عظیم فوائد بیان ہوئے:
❀ محبت
❀ مال میں برکت
❀ عمر میں اضافہ
➍ صلہ رحمی ایمان کی علامت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ))
صحیح البخاری، الأدب باب إکرام الضیف:6138
ترجمہ:
“جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ صلہ رحمی کرے۔”
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صلہ رحمی کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔
➎ صلہ رحمی جنت میں لے جانے والا عمل
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا:
اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
(( تَعْبُدُ اللّٰهَ لَا تُشْرِكُ بِهٖ شَيْئًا… وَتَصِلُ الرَّحِمَ ))
صحیح البخاری، الأدب باب فضل صلۃ الرحم:5983
ترجمہ:
“اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو۔”
یہ حدیث اس بات پر صریح دلیل ہے کہ صلہ رحمی جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔
➏ صلہ رحمی اللہ تعالیٰ کو محبوب اعمال میں سے ہے
خثعم قبیلے کے ایک شخص کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
کیا آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ کون سا عمل محبوب ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا۔
میں نے پوچھا: پھر کون سا؟
آپ ﷺ نے فرمایا: صلہ رحمی کرنا۔
میں نے پوچھا: پھر کون سا؟
آپ ﷺ نے فرمایا: نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔
(ابو یعلی، وقال الألبانی: صحیح، صحیح الترغیب والترہیب:2522)
ترجمہ:
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صلہ رحمی اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی محبوب عمل ہے اور ایمان کے بعد اس کا درجہ بہت بلند ہے۔
➐ صلہ رحمی سے گناہوں کی معافی ہوتی ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ وَاللّٰهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾
(النور 24:22)
ترجمہ:
“اور تم میں سے جو فضیلت اور وسعت والے ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ اپنے رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دیں، بلکہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔”
یہ آیت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی، جب حضرت مسطح رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں کا ساتھ دیا تھا۔ اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان کا خرچ بند کرنے کی قسم کھالی تھی۔ اس آیت کے نزول کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
(( بَلٰی وَاللّٰهِ يَا رَبَّنَا إِنَّا لَنُحِبُّ أَنْ تَغْفِرَ لَنَا ))
صحیح البخاری، التفسیر:4757
ترجمہ:
“کیوں نہیں، اے ہمارے رب! ہم یقیناً چاہتے ہیں کہ تو ہمیں معاف فرما دے۔”
چنانچہ انہوں نے دوبارہ مسطح رضی اللہ عنہ کا خرچ جاری کر دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ صلہ رحمی اور عفو و درگزر گناہوں کی معافی کا سبب بنتے ہیں۔
➑ رشتہ داروں کو دینے سے دوہرا اجر ملتا ہے
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( اَلصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَعَلَى ذِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ: صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ ))
سنن النسائی:2582، سنن الترمذی:658، سنن ابن ماجہ:1844، صحیح سنن ابن ماجہ للألبانی
ترجمہ:
“مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے، اور رشتہ دار پر خرچ کرنا دو چیزیں ہیں: صدقہ بھی اور صلہ رحمی بھی۔”
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ: الصَّدَقَةُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ ))
المعجم الکبیر:3126، صحیح الترغیب والترہیب:2535
ترجمہ:
“سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو ایسے رشتہ دار کو دیا جائے جو دل میں دشمنی رکھتا ہو۔”
اسی مضمون کو مزید واضح کرتے ہوئے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
(( مَا أَنْفَقَ الْمَرْءُ عَلَى نَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَأَهْلِهِ وَذِي رَحِمِهِ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ ))
طبرانی اوسط:4896، صحیح الترغیب والترہیب:1960
ترجمہ:
“آدمی جو کچھ اپنے آپ پر، اپنی اولاد پر، اپنے گھر والوں پر اور اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرتا ہے، وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔”
ان تمام احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رشتہ داروں پر خرچ کرنا دوہرے اجر کا سبب ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی پسندیدہ عمل ہے۔
قطع رحمی کے نقصانات
➊ قطع رحمی اللہ تعالیٰ کی لعنت کا سبب ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَالَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللّٰهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَٰئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ﴾
(الرعد 13:25)
ترجمہ:
“اور وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں، اور جن رشتوں کو جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں کاٹتے ہیں، اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لیے برا ٹھکانا ہے۔”
اسی مضمون کو نبی کریم ﷺ نے مزید واضح فرمایا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کر لیا تو رحم (رشتہ داری) کھڑی ہوئی اور عرض کیا: یہ اس شخص کا مقام ہے جو قطع رحمی سے تیری پناہ چاہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ میں اسے ملاؤں جو تجھے ملائے اور اسے کاٹ دوں جو تجھے کاٹے؟
رحم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔
تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہی طے ہو گیا۔”
پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر چاہو تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ لو:
﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَهُمْ﴾
صحیح البخاری، الأدب:5978، صحیح مسلم:2554
ترجمہ:
“تو کیا تم سے یہ بعید ہے کہ اگر تم کو اقتدار مل جائے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور رشتے ناطے توڑ ڈالو؟ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے، پس اس نے انہیں بہرا اور اندھا کر دیا ہے۔”
➋ قطع رحمی کرنے والا جنت سے محروم ہے
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ ))
صحیح البخاری، الأدب باب إثم القاطع:5984، صحیح مسلم:2556
ترجمہ:
“قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔”
اسی طرح حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ هَذِهِ الرَّحِمَ شَجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمٰنِ، فَمَنْ قَطَعَهَا حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ))
مسند احمد، وقال الألبانی: صحیح، صحیح الترغیب والترہیب:2532
ترجمہ:
“یہ رحم، رحمن سے نکلی ہوئی ہے، پس جو اسے کاٹے گا اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا۔”
➌ قطع رحمی کی سزا دنیا میں بھی ملتی ہے
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرَى أَنْ يُعَجِّلَ اللّٰهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ ))
مسند احمد:5/36، سنن الترمذی:2511، سنن ابوداؤد:4902، صحیح الترغیب والترہیب:2537
ترجمہ:
“کوئی گناہ ایسا نہیں جس کی سزا دنیا میں جلدی دی جائے، اور آخرت کی سزا بھی باقی رہے، سوائے ظلم اور قطع رحمی کے۔”
➍ رحم کی قطع رحمی کرنے والے کے خلاف فریاد
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“رحم عرش سے لٹکی ہوئی ہے اور عرض کرتی ہے: اے میرے رب! مجھے کاٹا گیا، میرے ساتھ بدسلوکی کی گئی، مجھ پر ظلم کیا گیا۔
تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا تو اس پر راضی نہیں کہ میں اسے ملاؤں جو تجھے ملائے اور اسے کاٹ دوں جو تجھے کاٹے؟”
مسند احمد:2/383، الحاکم:4/179، صحیح الترغیب والترہیب:2530
➎ قطع رحمی کرنے والے کا کوئی عمل قبول نہیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ تُعْرَضُ كُلَّ خَمِيسٍ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَلَا يُقْبَلُ عَمَلُ قَاطِعِ رَحِمٍ ))
مسند احمد:2/483، صحیح الترغیب والترہریب:2538
ترجمہ:
“ہر جمعرات کی رات بنی آدم کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں، مگر قطع رحمی کرنے والے کا عمل قبول نہیں کیا جاتا۔”
صلہ رحمی کا درست مفہوم
برادرانِ اسلام! صلہ رحمی کے فضائل اور قطع رحمی کے ہولناک نقصانات سننے کے بعد اب یہ جان لینا نہایت ضروری ہے کہ حقیقت میں صلہ رحمی ہے کیا؟
عام طور پر بہت سے لوگوں کے ذہن میں صلہ رحمی کا یہ تصور پایا جاتا ہے کہ:
❀ اگر رشتہ دار اچھا برتاؤ کریں تو ہم بھی اچھا برتاؤ کریں
❀ اگر وہ ملنے آئیں تو ہم بھی ملنے جائیں
❀ اگر وہ تحفہ دیں تو ہم بھی دیں
❀ اور اگر وہ قطع تعلق کریں تو ہم بھی تعلق ختم کر دیں
حالانکہ یہ صلہ رحمی نہیں بلکہ بدلہ ہے۔ شریعت میں صلہ رحمی کا مفہوم اس کے بالکل برعکس ہے۔
صلہ رحمی کی شرعی تعریف
حقیقی صلہ رحمی یہ ہے کہ:
◈ اگر رشتہ دار قطع رحمی کریں تب بھی ان سے صلہ رحمی کی جائے
◈ اگر وہ بدسلوکی کریں تب بھی حسنِ سلوک کیا جائے
◈ اگر وہ نہ دیں تب بھی ان کو دیا جائے
◈ اگر وہ منہ موڑ لیں تب بھی ان سے تعلق جوڑا جائے
اسی مفہوم کو رسول اللہ ﷺ نے نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلٰكِنِ الْوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا ))
صحیح البخاری، الأدب باب لیس الواصل بالمکافئ:5991
ترجمہ:
“صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلے میں صلہ رحمی کرے، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے قطع رحمی کی جائے تو وہ پھر بھی صلہ رحمی کرے۔”
بدسلوکی کے باوجود صلہ رحمی کا اجر
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا:
اے اللہ کے رسول! میرے کچھ رشتہ دار ایسے ہیں کہ میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں مگر وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں،
میں ان سے حسنِ سلوک کرتا ہوں مگر وہ میرے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں،
میں ان کے ساتھ بردباری اختیار کرتا ہوں مگر وہ میرے ساتھ جہالت سے پیش آتے ہیں۔
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ، وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللّٰهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلٰى ذٰلِكَ ))
صحیح مسلم، البر والصلۃ:2558
ترجمہ:
“اگر تو واقعی ایسا ہی ہے جیسا تو نے کہا، تو گویا تو ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہا ہے، اور جب تک تو اسی طرز پر قائم رہے گا اللہ کی طرف سے تیرے ساتھ ان کے خلاف ایک مددگار رہے گا۔”
یہ حدیث اس بات کی زبردست بشارت ہے کہ بدسلوکی کے باوجود صلہ رحمی کرنے والا اللہ کی خاص مدد میں رہتا ہے۔
صلہ رحمی کی عظیم وصیت
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے خلیل، رسول اللہ ﷺ نے مجھے چند اہم وصیتیں فرمائیں، جن میں یہ بھی شامل ہے:
“مجھے تاکیدی حکم دیا کہ میں صلہ رحمی کروں، چاہے میرے رشتہ دار مجھ سے منہ ہی کیوں نہ موڑ لیں۔”
(الطبرانی، ابن حبان، وقال الألبانی: صحیح، صحیح الترغیب والترہیب:2525)
اعلیٰ درجے کی صلہ رحمی
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے فضیلت والے اعمال کے بارے میں بتائیے۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
(( يَا عُقْبَةُ! صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ، وَأَعْرِضْ عَمَّنْ ظَلَمَكَ ))
اور ایک روایت میں ہے:
(( وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ ))
مسند احمد، الحاکم، وقال الألبانی: صحیح، صحیح الترغیب والترہیب:2536
ترجمہ:
“اے عقبہ! جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے تعلق جوڑو، جو تمہیں محروم رکھے تم اسے دو، اور جو تم پر ظلم کرے اس سے درگزر کرو۔”
کافر رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی
یہ بات بھی واضح رہنی چاہئے کہ صلہ رحمی کے لئے مسلمان ہونا شرط نہیں ہے، بلکہ اگر رشتہ دار کافر بھی ہوں تو ان کے ساتھ بھی صلہ رحمی کرنا شریعت کا حکم ہے۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ آلَ فُلَانٍ لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ، إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللّٰهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ، وَلَكِنْ لَهُمْ رَحِمٌ أَبُلُّهَا بِبِلَالِهَا ))
صحیح البخاری، الأدب باب تبل الرحم ببلالها:5990، صحیح مسلم، الإيمان:215
ترجمہ:
“بے شک فلاں لوگوں کی آل و اولاد میرے دوست نہیں ہیں، میرا دوست تو اللہ اور نیک مومن ہیں، لیکن ان سے میری رشتہ داری ہے، جس کی وجہ سے میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہوں۔”
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگرچہ ایمان کی وجہ سے دوستی نہ ہو، لیکن رشتہ داری کی بنا پر صلہ رحمی بہرحال کی جائے گی۔
بعض اہلِ علم کے نزدیک یہاں آلِ فلاں سے ابو لہب، ابو سفیان، حکم بن العاص یا عام قریش مراد ہو سکتے ہیں، جبکہ بعض کے نزدیک خاص طور پر بنو ہاشم یا نبی ﷺ کے چچا مراد ہیں۔ بہرحال مفہوم بالکل واضح ہے کہ کافر رشتہ داروں کے ساتھ بھی صلہ رحمی ترک نہیں کی جائے گی۔
مشرک ماں کے ساتھ صلہ رحمی
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
“میری والدہ میرے پاس آئیں جبکہ وہ صلحِ حدیبیہ کے زمانے میں مشرکہ تھیں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا:
یا رسول اللہ! میری ماں میرے پاس آئی ہے اور وہ (میرے مال کی) خواہش رکھتی ہے، کیا میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟”
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( نَعَمْ، صِلِي أُمَّكِ ))
صحیح البخاری:5978، صحیح مسلم:1003
ترجمہ:
“ہاں، اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔”
یہ حدیث اس بات کی صریح دلیل ہے کہ کافر رشتہ دار، حتیٰ کہ مشرک ماں کے ساتھ بھی نیکی اور صلہ رحمی کرنا واجب ہے۔
صلہ رحمی میں ترتیب
اب یہ جان لینا ضروری ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کس ترتیب سے کی جائے، کیونکہ سب کے حقوق یکساں نہیں ہوتے۔
ماں کا حق سب سے زیادہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
(( مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ ))
یعنی لوگوں میں حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں۔
اس نے تین مرتبہ یہی سوال کیا، اور ہر مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں۔
چوتھی مرتبہ فرمایا: تیرا باپ۔
پھر فرمایا:
(( ثُمَّ أَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ ))
صحیح مسلم:2548
ترجمہ:
“پھر وہ جو رشتہ میں تجھ سے زیادہ قریب ہو، پھر جو اس کے بعد قریب ہو۔”
قرابت کے لحاظ سے درجہ بندی
حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ اللّٰهَ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ ثَلَاثًا، إِنَّ اللّٰهَ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ، إِنَّ اللّٰهَ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ ))
مسند احمد:4/131، سنن ابن ماجہ:3661، المستدرک للحاکم:4/167، الصحیحۃ للألبانی:1666
ترجمہ:
“بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں تین مرتبہ وصیت کرتا ہے، پھر تمہارے باپوں کے بارے میں وصیت کرتا ہے، پھر تمہیں قریب ترین رشتہ داروں کے بارے میں درجہ بدرجہ وصیت کرتا ہے۔”
اسی مفہوم کو ایک اور حدیث میں یوں بیان فرمایا گیا:
(( بِرَّ أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ ))
المستدرک للحاکم:4/167، فتح الباری:10/402
ترجمہ:
“اپنی ماں اور باپ سے نیکی کرو، پھر اپنی بہن اور بھائی سے، پھر جو رشتہ میں قریب ہو پھر اس کے بعد جو قریب ہو۔”
رشتہ داروں پر خرچ کرنے کے احکام
یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ شریعت میں کسی خاص رشتہ دار کا نان و نفقہ دوسرے رشتہ دار پر عام طور پر واجب نہیں کیا گیا، کیونکہ اس بارے میں کوئی صریح نص موجود نہیں۔ تاہم صلہ رحمی کی عمومی آیات و احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جو رشتہ دار محتاج ہو، وہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ حق دار ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللّٰهُ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا﴾
(الطلاق 65:7)
ترجمہ:
“کشادگی والا اپنی کشادگی کے مطابق خرچ کرے، اور جس کا رزق تنگ کر دیا گیا ہو وہ اسی میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا۔”
اسی طرح فرمایا:
﴿عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ﴾
(البقرۃ 2:236)
ترجمہ:
“خوشحال اپنی وسعت کے مطابق اور تنگ دست اپنی طاقت کے مطابق خرچ کرے۔”
ان آیات سے معلوم ہوا کہ خرچ کرنے کا دار و مدار انسان کی استطاعت پر ہے۔
خرچ کرنے میں ترتیب
شریعت نے خرچ کرنے کی بھی واضح ترتیب بیان فرمائی ہے تاکہ حقوق کی ادائیگی میں توازن قائم رہے۔
سب سے پہلے اپنی ذات اور گھر والے
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِذَا أَعْطَى اللّٰهُ أَحَدَكُمْ خَيْرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ ))
صحیح مسلم، الإمارة باب الناس تبع لقریش:1822
ترجمہ:
“جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو مال عطا فرمائے تو وہ سب سے پہلے اپنی ذات اور اپنے گھر والوں پر خرچ کرے۔”
پھر وہ جن کی کفالت تم پر ہے
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ: أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، وَأَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ ))
طبرانی کبیر:10/186، اصلہ فی الصحیحین
ترجمہ:
“خرچ کا آغاز ان سے کرو جن کی کفالت تم پر ہے: تمہاری ماں، تمہارے باپ، تمہاری بہن اور تمہارا بھائی، پھر جو رشتہ میں زیادہ قریب ہو پھر اس کے بعد جو قریب ہو۔”
نفقات پر اجر بھی صدقہ ہے
حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( مَا أَطْعَمْتَ نَفْسَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ وَلَدَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ زَوْجَتَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ خَادِمَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ ))
مسند احمد:4/131، صحیح الترغیب والترہیب:1955
ترجمہ:
“جو کچھ تم اپنے آپ کو کھلاتے ہو وہ تمہارے لیے صدقہ ہے، جو اپنی اولاد کو کھلاتے ہو وہ تمہارے لیے صدقہ ہے، جو اپنی بیوی کو کھلاتے ہو وہ تمہارے لیے صدقہ ہے، اور جو اپنے خادم کو کھلاتے ہو وہ بھی تمہارے لیے صدقہ ہے۔”
خرچ کرنے والا ہاتھ افضل ہے
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ: أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، وَأَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ ))
طبرانی کبیر:18/149، صحیح الترغیب والترہیب:1956
ترجمہ:
“اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور خرچ کا آغاز ان سے کرو جو تمہارے زیرِ کفالت ہیں: تمہاری ماں، تمہارے باپ، تمہاری بہن، تمہارا بھائی، پھر جو رشتہ میں قریب ہو پھر اس کے بعد جو قریب ہو۔”
عملی مثال
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ ایک شخص نے عرض کیا:
اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“اسے اپنی ذات پر خرچ کرو۔”
اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“اسے اپنی بیوی پر خرچ کرو۔”
اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“اسے اپنی اولاد پر خرچ کرو۔”
اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“اسے اپنے خادم پر خرچ کرو۔”
اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
(( أَنْتَ أَبْصَرُ بِهِ ))
سنن النسائی الکبری، سنن ابوداؤد:1691، صحیح الترغیب والترہیب:1958
ترجمہ:
“اب تم بہتر جانتے ہو کہ کہاں خرچ کرنا مناسب ہے۔”
نتیجہ
نتیجتاً یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ صلہ رحمی ایمان کا تقاضا، اخلاقِ نبوی ﷺ کا حصہ اور اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے۔ اس کے برعکس قطع رحمی نہ صرف اللہ تعالیٰ کی لعنت اور ناراضی کا سبب ہے بلکہ دنیا میں بھی ذلت، تنگی اور بے برکتی کا ذریعہ بنتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب کا باعث ہو سکتی ہے۔
لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات کو درست کرے، دلوں کی کدورت کو ختم کرے، معاف کرنے اور درگزر کا رویہ اپنائے اور اپنی استطاعت کے مطابق مالی و اخلاقی تعاون جاری رکھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صلہ رحمی کی حقیقت کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور قطع رحمی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔