صلعم لکھنا درست ہے یا مکمل صلی اللہ علیہ وسلم؟ حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ مکمل طور پر ”صلى الله عليه وسلم“ لکھنا چاہیے، یا صرف ”صلعم“ لکھنا بھی کفایت کرتا ہے؟

جواب :

کتب احادیث و سنن میں ائمہ محدثین کا طریقہ یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر ”صلى الله عليه وسلم“ لکھتے اور پڑھتے ہیں۔ ان کلمات کا اختصار کر کے لکھنا اجلہ و لقہ محدثین کا نہیں ہے۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سابقہ انبیاء و رسل کا ذکر کرتے تو ”صلى الله عليه وسلم“ کہتے تھے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ينزل فيكم ابن مريم صلى الله عليه وسلم
(مسلم، كتاب الإيمان، باب نزول عیسی ابن مریم الخ 155)
”تم میں ابن مریم صلی اللہ علیہ وسلم نازل ہوں گے۔“
اسی طرح مسند بزار میں دو جگہ ہے کہ نزول ابن مریم کا ذکر کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”صلى الله عليه وسلم“فرمایا ۔
(كشف الأستار عن زوائد البزار 142/4، حدیث 3396)
لہذا کسی بھی نبی کا تذکرہ کرتے ہوئے ”صلى الله عليه وسلم“ کہنا چاہیے اور لکھنے میں بھی مکمل کلمات تحریر کیے جائیں۔ سیدنا داود علیہ السلام کے ساتھ بھی ”صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“کے الفاظ کا ذکر موجود ہے۔
(صحیح مسلم 1159/182)
امام ابن الصلاح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ينبغي له أن يحافظ على كتبه الصلاة والتسليم على رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذكره ولا يسأم من تكرير ذلك عند تكرره فإن ذلك من أكبر الفوائد التى يتعلمها طلبة الحديث وكتبه ومن أغفل ذلك وكتبه أغفل حرم حقا عظيما
(مقدمة ابن الصلاح مع النكت للزركشي 35/1، المقنع في علوم الحديث لابن الملقن 352/1)
”طالب علم کو چاہیے کہ وہ اپنی کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے وقت صلاة و تسلیم کی حفاظت کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ بار بار آنے پر اسے بار بار لکھنے سے نہ اکتائے، اس لیے کہ اس میں بڑے بڑے فوائد ہیں جنھیں حدیث کے طالب اور لکھنے والے جلدی حاصل کرتے ہیں اور جس نے اس سے غفلت برتی وہ بہت بڑے حق سے محروم ہو گیا۔“
پھر فرماتے ہیں:
ثم فى إثباتها نقصان أحدهما أن يكتبها منقوصة صورة رامزا إليها بحرفين أو نحو ذلك والثاني أن يكتبها منقوصة معنى بأن لا يكتب وسلم
(التقييد والإيضاح 680/1-681، مقدمة ابن الصلاح ص 352 مع النكت للزركشي، الشد الفياح ص 231)
پھر ”صلى الله عليه وسلم“ لکھنے میں دو نقصوں سے اجتناب کرے:
① صورت خطی میں ناقص لکھنا اور دو یا زائدہ حروف کے رمز استعمال کرنا۔
② معنوی طور پر ناقص لکھنا، یعنی ” صلى الله عليه وسلم“ کے ساتھ ”وسلم“ نہ لکھنا۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ ابن الصلاح کے حوالے سے لکھتے ہیں:
الكتب الصلاة والتسليم معلقة لا رمزا ولا يقتصر على قوله عليه السلام يعني وليكتب صلى الله عليه وسلم واضحة كاملة
(اختصار علوم الحديث ص 131 دار الكتب العلمية بيروت)
”صلاة و تسلیم پورا لکھے، نہ رمز کی صورت میں لکھے اور نہ ”عليه السلام“ پر اکتفا کرے، بلکہ واضح اور کامل طور پر ”صلى الله عليه وسلم“ لکھے۔“
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
يذكر عند ذكر النبى صلى الله عليه وسلم صلى الله عليه وسلم بكمالها لا رمزا إليها ولا مقتصرا على أحدهما
(قواعد التحديث ص 237)
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے وقت صلى الله عليه وسلم عمل ذکر کرے، صلاة و سلام کے لیے رمز استعمال نہ کرے اور نہ دونوں میں سے کسی ایک پر اکتفا کرے۔“
یہ بھی یاد رہے کہ اہل علم نے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اسماء کے ساتھ ”رضي الله عنه“ مکمل کہنے کی تاکید کی ہے۔ امام ابن الملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وكذا الترضي والترحم على الصحابة والعلماء وسائر الأخيار وإذا جاءت الرواية بشيء منه كانت به العناية أشد
(المقنع 353/1)
اسی طرح صحابہ کرام کے ساتھ ”رضي الله عنهم“ اور علماء اور تمام صلحاء کے ساتھ ”رحمة الله عليه“ لکھا جائے اور جب کسی چیز کے بارے میں ان سے روایت آجائے تو ان کلمات کا زیادہ اہتمام ہونا چاہیے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وكذلك يقول فى الصحابي رضى الله عنه فإن كان صحابيا ابن صحابي قال رضي الله عنهما وكذلك يترضى ويترحم على سائر العلماء والأخيار ويكتب كل هذا وإن لم يكن مكتوبا فى الأصل الذى ينقل منه فإن هذا ليس رواية وإنما هو دعاء
اسی طرح صحابی کے بارے ”رضي الله عنه“ کہے اور اگر باپ بیٹا دونوں صحابی ہوں تو ”رضي الله عنهما“ کہے، اسی طرح تمام علماء و صلحاء پر رضا و رحمت کے مکمل کلمات کہے اور جس کتاب سے نقل کر رہا ہے اگر اس میں یہ کلمات نہ ہوں تب بھی یہ لکھ دے، اس لیے کہ یہ روایت نہیں بلکہ صرف دعا ہے۔
پھر فرماتے ہیں:
ولا يسأم من تكرر ذلك ومن أغفل هذا حرم خيرا عظيما وفات فضلا عظيما
(قواعد الحديث ص 237)
”اس کے تکرار سے مت اکتائے اور جس نے اس میں غفلت سے کام لیا وہ بہت بڑی چیز سے محروم ہو گیا اور بھاری فضل اس سے فوت کر دیا گیا۔“
علامہ برہان الدین ابراہیم الابناسی لکھتے ہیں کہ امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا:
يكره أن يكتب صلعم وصلعم مكان الصلاة والتسليم
(الشد الفياح ص 232)
صلى الله عليه وسلم“ کی جگہ ”صلعم“ لکھنا مکروہ ہے۔
لہذا بہتری اسی میں ہے کہ ”صلى الله عليه وسلم، رضي الله عنه، رحمة الله عليه“ جیسے کلمات مکمل لکھے جائیں، ان کے اختصار سے بچا جائے۔