مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھنے کا حکم کیا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: احکام و مسائل، نماز کا بیان، جلد 1، صفحہ 137

سوال

جب کبھی ہم مسجد میں نماز کے لیے جاتے ہیں اور صفیں مکمل ہو چکی ہوتی ہیں، اور آگے صف میں کوئی جگہ نہیں ملتی تو کیا ایسی حالت میں کوئی شخص اکیلا صف کے پیچھے کھڑا ہو کر نماز ادا کر سکتا ہے؟ کیا اس کی نماز ہو جائے گی؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہ ﷺ کا ایک فرمان سنن ابی داود، ترمذی اور دیگر کتب حدیث میں مروی ہے:

«مَنْ صَلّٰی خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَہٗ فَلْیُعِدْ صَلاَتَہٗ»
*’’جو شخص صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھے، وہ اپنی نماز کو دوبارہ پڑھے۔‘‘*

اسی طرح بعض احادیث میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں:
«فَلاَ صَلاَۃَ لَہُ»
*یعنی ’’اس کی نماز نہیں ہوتی‘‘۔*

لہٰذا آپ کے بیان کردہ مسئلے کے مطابق، اگر کوئی شخص مسجد میں نماز کے لیے آئے اور صفیں مکمل ہو چکی ہوں، اور آگے جگہ نہ ملے، تو وہ شخص اگر صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ لے تو:

✿ اگر بعد میں کوئی دوسرا شخص آ کر اس کے ساتھ مل جائے، تو یہ درست ہے۔
✿ لیکن اگر ایسا نہ ہو اور وہ رکعات اکیلے ہی ادا کرے، تو جتنی رکعتیں اس نے اکیلے ادا کی ہیں، ان کو دوبارہ امام کے ساتھ ادا کرے۔
✿ امام کے ساتھ سلام نہ پھیرے، بلکہ ان رکعات کو دوبارہ پڑھے۔

صف سے کسی آدمی کو کھینچ کر پیچھے لانے کی جو روایت ہے، وہ ضعیف (کمزور) ہے۔ مزید برآں، یہ عمل اس حدیث کے بھی خلاف ہے:

«أَلاَ تَصُفُّوْنَ کَمَا تَصُفُّ الْمَلاَئِکَةُ»
*’’کیا تم صفیں اس طرح نہیں بناتے جیسے فرشتے بناتے ہیں؟‘‘*
(صحیح مسلم، کتاب الصلوٰة، باب الامر بالسکون فی الصلوٰة؛ سنن نسائی، کتاب الامامہ، باب حث الامام علی رص الصفوف، جلد 1، صفحہ 93)

اس معاملے کو ان صورتوں پر قیاس کرنا بھی درست نہیں جن میں:

✿ دو آدمی جماعت میں ہوں اور ایک مقتدی امام کے ساتھ کھڑا ہو۔
✿ یا عورت صف کے پیچھے اکیلی کھڑی ہو۔

یہ قیاس نص کے مقابلے میں کیا گیا ہے، اور اصول یہ ہے:

«وَالْقِیَاسُ فِی مُقَابَلَة النَّصِّ لاَ یَصِحُّ»
*’’نص (واضح دلیل) کے مقابلے میں قیاس درست نہیں ہوتا۔‘‘*

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔