مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

صف کے پیچھے اکیلے نمازی کی نماز کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی علمیہ، جلد1، كتاب الصلاة۔صفحہ 297

صف کے پیچھے اکیلے نمازی کی نماز کا حکم

سوال:

اگر اگلی صف میں جگہ نہ ہو اور ایک شخص صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہو کر نماز ادا کرے، تو: کیا اگر وہ مکمل نماز تنہا ہی ادا کرے تو اس کی نماز درست ہو گی؟

اگر درست نہیں، تو اس صورت میں نماز کو دوبارہ پڑھنے کا کیا طریقہ ہو گا؟

کیا سلام پھیرنے کے بعد نماز مکمل کر کے دوبارہ نماز پڑھنی ہو گی؟

الجواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ صف کے پیچھے اکیلا آدمی نماز نہ پڑھے، اس کی نماز نہیں ہوتی۔

جیسا کہ حدیث میں ہے:

"صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز نہیں ہوتی”
(ابن حبان، الموارد: 401؛ ابن ماجہ: 1003)

لہٰذا، اگر کوئی شخص صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ لے تو اس کی نماز درست نہیں ہوتی۔

اس صورت میں کیا کرنا ہو گا؟

ایسے شخص کو نماز مکمل کرنے کے بعد سلام پھیر کر دوبارہ نماز ادا کرنی چاہیے۔

یعنی وہ نماز لوٹائے، کیونکہ اس کی پہلی نماز صحیح احادیث کی روشنی میں قبول نہیں ہوئی۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔