مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

صف کے پیچھے اکیلے شخص کی نماز کا کیا حکم ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

صف کے پیچھے اکیلے شخص کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب:

اگر امام کی اقتدا میں نماز پڑھی جا رہی ہو، تو صف کے پیچھے اکیلے مرد کی نماز نہیں ہوتی۔
❀ سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إن رجلا صلى خلف الصف وحده، فأمره أن يعيد الصلاة.
”ایک آدمی نے اکیلے صف کے پیچھے نماز ادا کی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا۔“
(سنن الترمذي: 230، سنن أبي داود: 682، سنن ابن ماجه: 1004، مسند الإمام أحمد: 228/4، سنن الدارمي: 815/2، ح: 1322، وسنده صحيح)
اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن“، امام ابن جارود (319) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (الموارد: 405) نے ”صحیح “کہا ہے۔
❀ حافظ ابن منذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قد ثبت هذا الحديث أحمد وإسحاق.
”اس حدیث کو امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہما اللہ نے ”صحیح “قرار دیا ہے۔“
(الأوسط لابن المنذر: 184/4)
❀ سیدنا علی بن شیبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
رأى رجلا فردا يصلي خلف الصف، فوقف عليه نبي الله صلى الله عليه وسلم حين انصرف، قال: استقبل صلاتك، فلا صلاة للذي خلف الصف.
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا، جو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ اس کے پاس کھڑے ہو گئے، نماز سے فارغ ہوا، تو آپ نے فرمایا: نماز دوبارہ پڑھیں، صف کے پیچھے اکیلے شخص کی نماز نہیں ہوتی۔“
(مسند الإمام أحمد: 23/4، ح: 16297، سنن ابن ماجه: 1003، وسنده حسن)
❀ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں:
هو حديث حسن.
”یہ حدیث حسن ہے۔“
(التلخيص الحبير: 37/2)
❀ امام ابن خزیمہ (1569) اور امام ابن حبان (2206) نے اس حدیث کو ”صحیح “کہا ہے۔ حافظ نووی رحمہ اللہ (خلاصۃ الاحکام: 2517) نے سند کو ”حسن “قرار دیا ہے۔
❀ امام ابن منذر رحمہ اللہ (218ھ) فرماتے ہیں:
صلاة الفرد خلف الصف باطل، لقبول خبر وابصة وخبر على ابن الجعد بن شيبان.
”صف کے پیچھے اکیلے کی نماز فاسد ہے، اس بارے میں سیدنا وابصہ اور سیدنا علی بن جعد بن شیبان سے مروی احادیث صحیح ہیں۔“
(الأوسط: 184/4)
❀ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) لکھتے ہیں:
”ثابت ہوا کہ جو صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز اور صف قائم نہ رکھنے والے کی نماز کو درست کہتا ہے، اس کے پاس قرآن و سنت اور اجماع سے بالکل کوئی بھی دلیل نہیں۔“
(المحلى: 58/4، رقم المسئلة: 415)
اس بارے میں کئی محدثین کے اقوال موجود ہیں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔