مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

صف میں کھڑے ہونے کی دعا کی صحت پر 5 معتبر دلائل

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی علمیہ، جلد 1، کتاب الصلاة، صفحہ 475
مضمون کے اہم نکات

سوال

صف میں کھڑے ہونے کی دعا:
اللهم آتني افضل ما تؤتي عبادك الصالحين
فضیلۃ الشیخ امین اللہ (حفظہ اللہ) اس دعا کو صحیح قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض اہل حدیث علماء اس کو ضعیف کہتے ہیں۔
(سوال کنندہ: حبیب اللہ، پشاور)

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ دعا "اللهم آتني افضل ما تؤتي عبادك الصالحين”، درج ذیل کتب میں روایت کی گئی ہے:

❖ روایت کی اصل اور مصادر:

عمل الیوم واللیلہ للنسائی (حدیث: 93)
السنن الکبریٰ للنسائی (حدیث: 9921)
ان دونوں کتب میں یہ دعا محمد بن مسلم بن عائذ کی سند سے مروی ہے۔

ابن خزیمہ (حدیث: 453)
ابن حبان (موارد الظمآن: حدیث 1609)
ان دونوں محدثین نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

❖ امام حاکم اور امام ذہبی کی توثیق:

مستدرک الحاکم (جلد 1، صفحہ 74) میں ابن عائذ کا ذکر موجود ہے۔
امام حاکم اور امام ذہبی دونوں نے اس روایت کو "صحیح علی شرط مسلم” قرار دیا ہے۔

راوی کے متعلق اقوال:

❖ بعض علماء کی رائے:

◈ بعض علماء نے محمد بن مسلم بن عائذ کو "مجہول” اور "لایعرف” کہا ہے۔

❖ محققین محدثین کی رائے:

امام العجلی (متعدل)
حافظ ابن حبان
امام ابن خزیمہ
ان تمام نے ابن عائذ کو ثقہ اور صحیح الحدیث قرار دیا ہے۔

❖ راجح بات:

◈ محدثین کی کثرت رائے اور توثیق کی بنیاد پر ابن عائذ کی روایت صحیح قرار پاتی ہے۔

نتیجہ:

لہٰذا یہ دعا "اللهم آتني افضل ما تؤتي عبادك الصالحين” صحیح سند سے مروی ہے اور اس کا پڑھنا جائز اور مستحب ہے۔

(شہادت: جنوری 2003)
ھذا ما عندي، واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔