صفاتِ باری تعالیٰ اور فرقِ ضالہ
صفاتِ باری تعالیٰ میں تحریف و تعطیل، تکییف و تمثیل اور تشبیہ ممنوع ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) لکھتے ہیں:
كان الناس في عافية وسلامة فطرة حتى نبغ جهم فتكلم في الباري تعالى وفي صفاته بخلاف ما أتت به الرسل وأنزلت الكتب، نسأل الله السلامة في الدين.
’’لوگ صحیح العقیدہ اور سلیم الفطرت تھے، یہاں تک کہ جہم بن صفوان ظاہر ہوا۔ اس نے اللہ اور صفاتِ باری تعالیٰ میں ایسی گفتگو شروع کر دی جو رسولوں اور کتبِ منزلہ کی تعلیمات کے خلاف تھی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں دین میں سلامتی عطا فرمائے۔‘‘
(تاریخ الإسلام: 389/3)
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
طريقة سلف الأمة وأئمتها: أنهم يصفون الله بما وصف به نفسه وبما وصفه به رسوله، من غير تحريف ولا تعطيل، ولا تكييف ولا تمثيل، إثبات بلا تمثيل، وتنزيه بلا تعطيل، إثبات الصفات ونفي مماثلة المخلوقات.
’’سلف صالحین اور ائمۂ دین کا صفاتِ باری تعالیٰ میں مسلک یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ان صفات سے متصف کرتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے آپ کو متصف کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متصف کیا۔ ان صفات میں تحریف، تعطیل، تکییف یا تمثیل سے کام نہیں لیتے، بلکہ بغیر تمثیل کے اثبات کرتے ہیں اور بغیر تعطیل کے تنزیہ کرتے ہیں۔ صفات کو ثابت کرتے ہیں اور مخلوقات سے مماثلت کی نفی کرتے ہیں۔‘‘
(منهاج السنة النبوية: 523/2)
امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ (196ھ) فرماتے ہیں:
أدركنا إسماعيل بن أبي خالد وسفيان ومسعرا يحدثون بهذه الأحاديث ولا يفسرون شيئا.
’’میں نے اسماعیل بن ابو خالد، سفیان اور مسعر رحمتہ اللہ کو دیکھا، وہ ان (صفاتِ باری تعالیٰ والی) احادیث کو بیان کیا کرتے تھے، کوئی تفسیر نہیں کرتے تھے۔‘‘
(تاریخ ابن معين برواية الدوري: 2543، الأسماء والصفات للبيهقي: 759)
اشاعرہ اور ماتریدیہ اللہ تعالیٰ کی صرف سات صفات مانتے ہیں، وہ یہ ہیں: سمع، بصر، علم، کلام، قدرت، ارادہ اور حیات۔ باقی سب صفات میں تاویل کرتے ہیں۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
الرحمٰن على العرش استوى.
’’رحمٰن اپنے عرش پر بلند ہے۔‘‘
ائمۂ سلف صالحین نے اس آیت کی تفسیر میں اس کا ظاہری معنی لیا ہے۔ ان سب کا اتفاق ہے کہ اللہ اپنے عرش پر بلند ہے، ہر جگہ نہیں۔
اللہ تعالیٰ کو ہر جگہ ماننا گمراہ جہمیہ کا عقیدہ ہے، نہ کہ اہلِ سنت کا۔
بعض حضرات نے کہا ہے:
اس آیت کے بارے میں تمام علماء نے یہ فرمایا کہ اس کے ظاہری معنی مراد نہیں ہیں، پھر بعض حضرات نے اسے مجاز قرار دیا اور کہا اس سے مراد غلبہ اور قدرت وغیرہ ہے، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ آیت ان متشابہات میں سے ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
وما يعلم تأويله إلا اللٰه.
"اس کی تاویل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔”
ان کی یہ بات خلافِ واقعہ ہے۔
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
هذه التأويلات من باب تحريف الكلم عن مواضعه، والإلحاد في آيات الله، وهي من باب الكذب على الله وعلى رسوله وكتابه ، ومثل هذه لا تجعل حقا حتى يقال: إن الله استأثر بعلمها، بل هي باطل ، مثل شهادة الزور، وكفر الكفار يعلم الله أنها باطل، والله يعلم عباده بطلانها بالأسباب التي بها يعرف عباده من نصب الأدلة وغيرها وأصل وقوع أهل الضلال في مثل هذا التحريف الإعراض عن فهم كتاب الله تعالى كما فهمه الصحابة والتابعون، ومعارضه ما دل عليه بما يناقضه، وهذا هو من أعظم المحادة لله وللرسول، لكن على وجه النفاق والخداع.
’’یہ تاویلات کلامِ اللہ کی صریح تحریف اور آیاتِ بینات میں الحاد ہے۔ اللہ، اس کے رسول اور قرآن پر جھوٹ ہے۔ اگر آپ سے کہا جائے کہ ان صفات کے معانی اللہ نے اپنے پاس رکھے ہیں تو آپ اسے حق نہ سمجھیں، بلکہ یہ بالکل باطل ہے۔ جیسے جھوٹی گواہی اور کفار کے کفر کو اللہ جانتا ہے کہ یہ باطل ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بھی کچھ اسباب کے ذریعے ان کا بطلان واضح کر دیتا ہے، مثلاً دلائل وغیرہ۔ گمراہوں کے تحریف میں مبتلا ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کتاب اللہ کو ایسے نہیں سمجھا جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ نے سمجھا تھا۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ کتاب و سنت کے مدلولات کا معارضہ کرنا۔ یہ بھی اللہ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن ہیں، بس فرق یہ ہے کہ ان کی دشمنی نفاق اور دھوکے کی بنا پر ہے۔‘‘
(درء تعارض العقل والنقل: 383/5)
نیز فرماتے ہیں:
تأويل هؤلاء المتأخرين عند الأئمة تحريف باطل.
’’ائمۂ حق کے مطابق ان متاخرین کی تاویل باطل تحریف ہے۔‘‘
(مجموع الفتاوى: 295/13)
آیاتِ صفات کو متشابہات قرار دینا درحقیقت مفوضہ کا مذہب ہے۔ وہ صفات والی نصوص کو متشابہ کہتے ہیں، ان کی مراد ہوتی ہے کہ صفاتِ باری تعالیٰ اور اسمائے حسنیٰ کا معنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ سلف صالحین اور ائمۂ اہل حدیث اس سے بری تھے۔ وہ ان کی کیفیت کا علم اللہ کے سپرد کرتے تھے، مگر استواء علی العرش، نزول وغیرہ کے معانی سے واقف تھے۔ صفات والی آیات کو متشابہات قرار دینا توحید سے روگردانی اور سلف صالحین کی مخالفت ہے۔ سلف کی مخالفت میں کوئی عقیدہ معتبر نہیں۔ توحید والی آیات کو متشابہات قرار دے کر قدریہ، جبریہ، جہمیہ، اشاعرہ، ماتریدیہ، رافضیہ، مفوضہ اور خوارج نے خوب فائدہ اٹھایا ہے۔ یوں بہت سی آیاتِ بینات کو مہمل (بے معنی) بنا کر معطلہ بن گئے۔ ہر صاحبِ علم جانتا ہے کہ صفاتِ باری تعالیٰ عقیدۂ توحید کی اساس ہیں اور محکم آیات سے ثابت ہیں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
من هنا قال من قال من التفاة: إن طريقة الخلف أعلم وأحكم، وطريقة السلف أسلم، لأنه ظن أن طريقة الخلف فيها معرفة النفي، الذي هو عنده الحق، وفيها طلب التأويل لمعاني نصوص الإثبات، فكان في هذه عندهم علم بمعقول، وتأويل لمنقول، ليس في الطريقة التي ظنها طريقة السلف، وكان فيه أيضا رد على من يتمسك بمدلول النصوص، وهذا عنده من إحكام تلك الطريق، ومذهب السلف عنده عدم النظر في فهم النصوص ، لتعارض الاحتمالات، وهذا عنده أسلم ، لأنه إذا كان اللفظ يحتمل عدة معان، فتفسيره ببعضها دون بعض فيه مخاطرة، وفي الإعراض عن ذلك سلامة من هذه المخاطرة. فلو كان قد بين وتبين لهذا وأمثاله أن طريقة السلف إنما هي إثبات ما دلت عليه النصوص من الصفات، وفهم ما دلت عليه، وتدبره وعقله، وإبطال طريقة النفاة، وبيان مخالفتها لصريح المعقول وصحيح المنقول، علم أن طريقة السلف أعلم وأحكم وأسلم، وأهدى إلى الطريق الأقوام، وأنها تتضمن تصديق الرسول فيما أخبر به، وفهم ذلك ومعرفته، وأن ذلك هو الذي يدل عليه صريح المعقول، ولا يناقض ذلك إلا ما هو باطل وكذب، وأن طريقة النفاة المنافية لما أخبر به الرسول طريقة باطلة شرعا وعقلا، وأن من جعل طريقة السلف عدم العلم بمعاني الآيات، وعدم إثبات ما تضمنته من الصفات، فقد قال غير الحق ، إما عمدا وإما خطا، كما أن من قال على الرسوله إنه لم يبعث بإثبات الصفات، بل بعث بقول النفاة، كان مفتريا عليه. وهؤلاء النفاة هم كذابون، إما عمدا وإما خطا، على الله وعلى رسوله، وعلى سلف الأمة وأئمتها، كما أنهم كذابون، إما عمدا وإما خطا، على عقول الناس، وعلى ما نصبه الله تعالى من الأدلة العقلية، والبراهين اليقينية.
منکرِ صفاتِ باری تعالیٰ کا کہنا ہے کہ ہمارا طریقہ احکم اور اعلم ہے، جب کہ سلف کا طریقہ اسلم ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ خلف کے طریقے میں نفی جو اس کے نزدیک حق ہے کی معرفت اور صفات کے اثبات والی آیات میں تاویل کی راہ مل جاتی ہے۔ متاخرین کے اس طریقے میں معقولات کا ایسا علم اور منقولات میں ایسی تاویل ہے جو بزعمِ خود متقدمین کے طریقے میں نہیں ملتی۔ اس میں ایسے شخص کا بھی رد ہے جو نصوص کے مدلولات کی پیروی کرتا ہے۔ یوں وہ اس طریقۂ متاخرین کو محکم سمجھتا ہے۔ وہ یہ گمان کرتا ہے کہ مذہبِ سلف یہ ہے کہ نصوص کے فہم پر توجہ نہ دی جائے، کیونکہ احتمالات مختلف ہیں، لہٰذا یہ طریقہ اسلم ہے۔ اس کے نزدیک جب ایک لفظ کے کئی معانی ہوں تو باقی سب معانی کو نظر انداز کر کے صرف ایک کو اختیار کرنا خطرے سے خالی نہیں، اور تفسیر نہ کرنے میں سلامتی ہے۔
اگر اسے یا اس جیسے دوسرے نفاةِ صفات پر یہ بات واضح ہو جاتی کہ سلف کا طریقہ یہ ہے کہ آیاتِ صفات کے مدلولات کو ثابت کیا جائے، ان کا فہم، تدبر اور درک حاصل کیا جائے، صفات کی نفی کرنے والوں کے مسلک کا رد کیا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ ان کا طریقہ صریح معقولات اور صحیح منقولات کے مخالف ہے، تو وہ جان لیتا کہ سلف کا طریقہ ہی اسلم، احکم اور اعلم ہے۔ نیز یہ سب سے زیادہ سیدھا راستہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبر کی تصدیق، اس کے فہم اور معرفت کو متضمن ہے۔ صریح عقل کے موافق یہی راستہ ہے، اور جو طریقہ اس کے مخالف ہو وہ باطل اور غلط ہے۔
نفاةُ الصفات، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبر کے مخالف راستہ اختیار کرتے ہیں، ان کا طریقہ شرعاً اور عقلاً باطل ہے۔ جس نے نصوص کے معانی کے عدمِ علم اور ان میں موجود صفات کے عدمِ اثبات کو سلف کا طریقہ قرار دیا ہے، اس نے دانستہ یا نادانستہ غیر حق بات کہی ہےطور پر غلط بات کی ہے۔ جیسا کہ بعض نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہے کہ آپ کو صفات کے اثبات کے لیے مبعوث نہیں کیا گیا، بلکہ نفاةُ الصفات کی تائید کے لیے بھیجا گیا ہے۔ ایسا شخص جھوٹا ہے۔ یہ نفاةُ الصفات بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اسلافِ امت اور ائمۂ کرام پر جھوٹ باندھ رہے ہیں۔ اسی طرح یہ دانستہ یا نادانستہ طور پر لوگوں کی عقلوں اور اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے عقلی دلائل اور یقینی براہین پر بھی جھوٹ باندھ رہے ہیں۔
(درء تعارض العقل والنقل: 378/5-379)
نیز فرماتے ہیں:
من آتاه الله علما وإيمانا، علم أنه لا يكون عند المتأخرين من التحقيق، إلا ما هو دون تحقيق السلف لا في العلم ولا في العمل، ومن كان له خبرة بالنظريات والعقليات، وبالعمليات، علم أن مذهب الصحابة دائما أرجح من قول من بعدهم، وأنه لا يبتدع أحد قولا في الإسلام إلا كان خطأ، وكان الصواب قد سبق إليه من قبله.
’’جسے اللہ تعالیٰ نے علم و ایمان کی دولت دے رکھی ہو، وہ بخوبی جان جائے گا کہ علم ہو یا عمل، متاخرین کی تحقیق متقدمین کی بہ نسبت بہر کیف کم ہی ہے۔ جسے نظریات، عقلیات اور عملیات کی ممارست ہے، اس پر یہ بات عیاں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مؤقف بعد والوں پر ہمیشہ راجح ہی رہا ہے۔ درست بات کی طرف متقدمین سبقت لے جا چکے ہیں، لہٰذا اب جو بھی اسلام میں نئی بات کرے گا، خطا کھائے گا۔‘‘
(الإيمان، ص 417)
علامہ شنقیطی رحمہ اللہ (1393ھ) فرماتے ہیں:
لأن آيات الصفات لا يطلق عليها اسم المتشابه بهذا المعنى من غير تفصيل، لأن معناها معلوم في اللغة العربية وليس متشابها، ولكن كيفية اتصافه جل وعلا بها ليست معلومة للخلق.
’’آیاتِ صفات پر اس معنی میں بغیر کسی تفصیل کے متشابہ کا لفظ نہیں بولا جاتا، کیوں کہ ان کا معنی لغتِ عرب میں معلوم ہوتا ہے، متشابہ نہیں ہوتا۔ ہاں باری تعالیٰ کی ان صفات کے ساتھ متصف ہونے کی کیفیت مخلوق کو معلوم نہیں۔‘‘
(مذكرة في أصول الفقه، ص 65)
مولانا خلیل احمد سہارنپوری صاحب لکھتے ہیں:
اس قسم کی آیات میں ہمارا مذہب یہ ہے کہ ان پر ایمان لاتے ہیں اور کیفیت سے بحث نہیں کرتے۔ یقیناً جانتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ مخلوق کے اوصاف سے منزہ اور نقص و حدوث کی علامات سے مبرا ہے، جیسا کہ ہمارے متقدمین کی رائے ہے۔ اور ہمارے متاخرین اماموں نے ان آیات میں جو صحیح اور لغت و شرع کے اعتبار سے جائز تاویلیں فرمائی ہیں تاکہ کم فہم سمجھ لیں، مثلاً یہ کہ ممکن ہے استواء سے مراد غلبہ ہو اور ہاتھ سے مراد قدرت، تو یہ بھی ہمارے نزدیک حق ہے۔ البتہ جہت و مکان کو اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرنا ہم جائز نہیں سمجھتے اور یوں کہتے ہیں کہ وہ جہت و مکانیت اور جملہ علاماتِ حدوث سے منزہ ہے۔
(المهند على المفند، ص 48)
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
لفظ الجهة قد يراد به شيء موجود غير الله فيكون مخلوقا، كما إذا أريد بالجهة نفس العرش أو نفس السماوات، وقد يراد به ما ليس بموجود غير الله تعالى، كما إذا أريد بالجهة ما فوق العالم. ومعلوم أنه ليس في النص إثبات لفظ الجهة ولا نفيه، كما فيه إثبات العلو والاستواء والفوقية والعروج إليه ونحو ذلك، وقد علم أن ما ثم موجود إلا الخالق والمخلوق، والخالق مباين للمخلوق سبحانه وتعالى، ليس في مخلوقاته شيء من ذاته، ولا في ذاته شيء من مخلوقاته. فيقال لمن نفى الجهة: أتريد بالجهة أنها شيء موجود مخلوق، فالله ليس داخلا في المخلوقات، أم تريد بالجهة ما وراء العالم، فلا ريب أن الله فوق العالم، بائن من المخلوقات. وكذلك يقال لمن قال: إن الله في جهة، أتريد بذلك أن الله فوق العالم، أو تريد به أن الله داخل في شيء من المخلوقات؟ فإن أردت الأول فهو حق، وإن أردت الثاني فهو باطل.
’’لفظ “جہت” سے کبھی اللہ کے علاوہ موجود چیز مراد ہوگی، اس صورت میں اسے مخلوق کہیں گے۔ اسی طرح اگر جہت سے مراد عرش یا آسمان لیں (تو بھی مخلوق ہوگی) اور کبھی اس سے مراد اللہ کے علاوہ غیر موجود چیز ہوتی ہے، جیسا کہ جہت سے مراد کائنات سے اوپر والی جانب لی جائے۔ یہ بات معلوم ہے کہ نص میں لفظ “جہت” کا نہ اثبات وارد ہوا ہے نہ نفی، لیکن علو، استواء، فوقیت اور عروج وغیرہ کا اثبات ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کائنات میں یا خالق ہے یا مخلوق (تیسری چیز کوئی نہیں)۔ خالق مخلوق سے علیحدہ ہے، نہ مخلوق میں خالق کی ذات کا کچھ حصہ ہے اور نہ ہی خالق میں مخلوق کی ذات کا کوئی حصہ داخل ہے۔ منکرِ جہت سے کہا جائے گا کہ آپ کسی موجود اور مخلوق چیز کو جہت کہتے ہیں تو اللہ مخلوقات میں داخل نہیں ہے، اور اگر آپ جہت سے مراد کائنات سے ماورا مقام لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کائنات سے اوپر ہے اور مخلوقات سے جدا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جہت میں ماننے والے سے بھی عرض کیا جائے گا کہ آپ کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کائنات سے اوپر ہے یا یہ کہ کسی مخلوق میں داخل ہے؟ اگر پہلی بات مراد ہے تو حق ہے، اور اگر دوسری مراد ہے تو باطل ہے۔‘‘
(التدمرية، ص 66-67)
نیز لکھتے ہیں:
هؤلاء أخذوا لفظ الجهة بالاشتراك وتوهموا وأوهموا أنه إذا كان في جهة كان في كل شيء غيره، كما يكون الإنسان في بيته، وكما تكون الشمس والقمر والكواكب في السماء، ثم رتبوا على ذلك أنه يكون محتاجا إلى غيره، والله تعالى غني عن كل ما سواه، وهذه مقدمات كلها باطلة.
’’ان (جہمیہ) نے لفظ جہت کو (خالق و مخلوق میں) مشترک سمجھا۔ خود بھی وہم کا شکار ہوئے اور دوسروں کو بھی وہم ڈالا کہ اگر اللہ کی کوئی جہت ہے تو ہر چیز ہی کسی نہ کسی جہت میں ہے، جیسے انسان اپنے گھر میں ہوتا ہے اور سورج، چاند اور ستارے آسمان میں ہیں۔ پھر کہا کہ ان میں ہر ایک دوسرے کا محتاج ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی کوئی جہت نہیں۔ یہ تمام مقدمات باطل ہیں۔‘‘
(منهاج السنة النبوية: 648/2)
سلف صالحین کی مخالفت میں صفاتِ باری تعالیٰ میں لغتِ عرب کی بنیاد پر تاویلات کو جائز قرار دینا تاکہ کم فہم سمجھ لیں، دراصل عقیدۂ توحید کے منافی ہے۔ صفاتِ باری تعالیٰ کو اپنے ظاہری معنی سے پھیر کر مجاز کی طرف لانا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد کے خلاف ہے۔ توحید کوئی ایسی چیز نہیں کہ عوام کے لیے اس کا حلیہ بگاڑ دیا جائے۔ جبکہ بات بالکل سادہ ہے کہ اللہ کی صفات اللہ کے شایانِ شان ہیں اور مخلوقات کی صفات ان کے شایانِ شان ہیں۔ اللہ کی صفات میں کمال اور دوام ہے، جبکہ مخلوق کی صفات ایسی نہیں۔ تحریف و تاویل کی ضرورت تب پڑے، اگر کوئی یہ کہتا ہو کہ خالق کی صفات مخلوق کی طرح ہیں۔
علامہ ابن ابی العز رحمہ اللہ (792ھ) لکھتے ہیں:
لذلك صار كلام المتأخرين كثيرا، قليل البركة، بخلاف كلام المتقدمين، فإنه قليل، كثير البركة، لا كما يقوله ضلال المتكلمين وجهالتهم: إن طريقة القوم أسلم، وإن طريقتنا أحكم وأعلم، ولا كما يقوله من لم يقدرهم من المنتسبين إلى الفقه: إنهم لم يتفرغوا لاستنباط الفقه وضبط قواعده وأحكامه اشتغالا منهم بغيره، والمتأخرون تفرغوا لذلك، فهم أفقه! فكل هؤلاء محجوبون عن معرفة مقادير السلف، وعمق علومهم، وقلة تكلفهم وكمال بصائرهم.
’’متاخرین کی گفتگو لمبی ہوتی ہے اور اس میں برکت کم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس متقدمین کا کلام مختصر ہوتا تھا اور اس میں برکت بے بہا ہوتی تھی۔ گمراہ اور علم و عرفان سے عاری متکلمین نے کہا ہے کہ اسلاف کا طریقہ اسلم تھا اور ہمارا طریقہ احکم اور اعلم ہے۔ اسی طرح نام نہاد فقہاء نے کہا ہے کہ سلف دیگر مشغولیت کی بنا پر فقہ، اصولِ فقہ اور احکامات مرتب کرنے سے قاصر رہ گئے اور متاخرین نے ان پر توجہ دی، لہٰذا متاخرین بڑے فقیہ ہیں! ان کی بات بالکل باطل ہے، کیونکہ یہ لوگ سلف کی قدر و منزلت کی معرفت، علوم کی گہرائی، قلتِ تکلف اور بصیرت کی بہتات سے نا آشنا ہیں۔‘‘
(شرح العقيدة الطحاوية، ص 78)
مولانا اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں:
’’نفی مماثل کے بعد آگے ان کے دو طریق ہیں۔ ایک طریقہ سلف کا ہے کہ اس کو حقیقی معنی پر محمول فرماتے ہیں اور حقیقی معنی کی کنہ مفوض بعلمِ الٰہی کرتے ہیں اور اس کی کوئی کیفیت متعین نہیں کرتے۔ اور دوسرا طریقہ خلف کا ہے کہ اس میں مناسب تاویل کر لیتے ہیں تاکہ گمراہ فرقے مشبہہ و مجسمہ ان کو غلطی میں واقع نہ کر سکیں. نعوذ باللہ! اس شبہ کا جواب اگرچہ سلف کے طریق پر یہ ہے کہ استقرار تو ثابت ہے، مگر یہ ضرور نہیں کہ ہمارے استقرار کی طرح ہو جس سے جسم ہونا لازم آوے، بلکہ اس کی اور ہے جو ہم کو معلوم نہیں، اور یہ جواب صحیح بھی ہے، لیکن عوام کو یہ سمجھانا مشکل ہے کہ استقرار تو ہے مگر ہماری طرح کا نہیں. اس لیے علماءِ خلف نے اس کی یہ تدبیر کی کہ ایسے حقائق کی ایسے طریق سے تاویل کر دی کہ نہ قرآن و حدیث متروک ہوں اور نہ عقیدۂ تجسیم و تشبیہ میں مبتلا ہوں، مثلاً “استوى على العرش” کو کنایہ محض نفاذِ احکام سے کہہ دیا اور “ید” کے معنی قدرت کے کہہ دیے، “وضع قدم” کے معنی مقہور کر دینے کے کہہ دیے۔‘‘
(بوادر النوادر، ص 603)
آپ جب کہتے ہیں کہ صفاتِ باری تعالیٰ میں صحیح منہج سلف صالحین کا ہے، اس سے مشبہہ اور مجسمہ کا رد ہو جاتا ہے، تو کیا ضرورت ہے کسی دوسری راہ پر چلنے کی جو سلف سے ثابت ہی نہ ہو؟
مولانا حسین احمد مدنی صاحب لکھتے ہیں:
اہل سنت والجماعت ان تمام صفات کی تاویل ضروری سمجھتے ہیں، “ید” سے مراد قوت ہے، کیونکہ اہل سنت والجماعت کے ان مشابہات کے بارے میں دو طریقے ہیں۔ سلف صالحین تو کہتے ہیں: لله يد كما يليق بشأنه، لا كأيدينا، کیونکہ “ليس كمثله شيء” کے مطابق وہ تشبیہ سے بھی منزہ ہے اور ما لا یلیق سے بھی منزہ ہے، لیکن متاخرین نے یہ مسائل عوام کو سمجھانا مشکل جانا تو کہنے لگے کہ ممکن ہے کہ “ید” کے معنی نعمت کے ہوں یا قدرت کے ہوں، عرب میں یہ استعمال برابر چلی آتی ہے، تو خلف نے ان میں تاویل کی۔
(تقریر ترمذی، ص 581)
نیز لکھتے ہیں:
مثلاً “على العرش استوى” وغیرہ آیات میں طائفہ وہابیہ استوى ظاہری اور جہات وغیرہ ثابت کرتا ہے، جس کی وجہ سے ثبوتِ جسمیت وغیرہ لازم آتا ہے، مگر یہ مقدس بزرگوار ان سب آیات و احادیث میں مثلِ سلف بھی لوازمِ حدوث و جسمیت سے توقف فرماتے ہیں اور یا مثلِ خلف ان کے تاویلات جائز فرماتے ہیں۔
(الشہاب الثاقب، ص 243)
اگر استواء کو ظاہری معنی پر رکھا جائے تو ثبوتِ جسمیت وغیرہ لازم آتا ہے۔ سوال ہے کہ کیا سلف کا عقیدہ ناقص ہے اور خلف کا عقیدہ درست ہے؟ حالانکہ یہ بات بدیہی البطلان ہے، کیونکہ سلف کا عقیدہ اسلم، احکم اور اعلم ہے۔ اگر صفاتِ باری تعالیٰ کو ان کے ظاہری معنی پر رکھنے سے جسمیت لازم آتی، تو ذاتِ باری تعالیٰ کے ثبوت سے کیا لازم آتا ہے؟ اہلِ سنت والجماعت تو کہتے ہیں کہ اللہ وہ ذات ہے جس کی یہ صفات ہیں، اور یہ صفات اس کے لیے ایسے ثابت کرتے ہیں جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق خبر دی ہے کہ وہ عرش پر مستوی ہے، لہٰذا ہم بھی کہیں گے کہ اللہ عرش پر مستوی ہے، لیکن کیسے؟ جیسے اس کی شان کے لائق ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
كما أن الرب نفسه ليس كمثله شيء، فصفاته كذاته.
’’چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی مثل کوئی چیز نہیں، لہٰذا اس کی صفات بھی اس کی ذات کی طرح ہیں۔‘‘
(درء تعارض العقل والنقل: 198/10)
نیز فرماتے ہیں:
كنه ذاته وصفاته التي لا يعلمها غيره.
’’اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی حقیقت کا علم اسی کے پاس ہے۔‘‘
(درء تعارض العقل والنقل: 207/1)
مفتی تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں:
’’باری تعالیٰ کے لیے نزول و عروج کا ثابت کرنا، حالاں کہ وہ مکان اور جہت سے منزہ ہے، بطورِ تشبیہ کے ہے۔ جیسے دنیا کے بادشاہ اپنے محل سرا سے نزول کر کے رعایا کی طرف آتے ہیں، ایسے ہی آخری شب میں توجۂ باری تعالیٰ کا نزول الی الخلق ہوتا ہے۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ: يَنْزِلُ رَحْمَةُ اللهِ أَوْ مِلْكُ اللهِ۔ تیسری توجیہ سلف کی یہ ہے کہ ان روایات کو ہم اصل معنی پر باقی رکھتے ہیں، لیکن ہم ان کی کیفیت کو نہیں جانتے: يَنْزِلُ كَمَا يَلِيقُ بِشَأْنِهِ، جیسے شمس کی شعاعوں کا نزول ہوا، ملائکہ اور جنات کا نزول ہمارے نزول کی طرح نہیں ہے۔‘‘
(درسِ ترمذی: 528-527)
اہلِ سنت کا نزولِ باری تعالیٰ کے بارے میں عقیدہ ہے کہ اللہ خود نازل ہوتے ہیں۔ یہ اللہ کا حقیقی نزول ہے، جیسا کہ اس کے شایانِ شان ہے۔ اس کی کیفیت کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اہلِ باطل اور اہلِ تاویل و تحریف یہ کہتے ہیں کہ اللہ کے حکم کا نزول ہوتا ہے:
◈ یہ نظریہ احادیثِ صحیحہ اور اجماعِ سلفِ صالحین کے مخالف ہے۔
◈ اللہ کا حکم ہمہ وقت نازل ہوتا ہے، دن اور رات کے کسی حصے کے ساتھ خاص نہیں۔
◈ یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا امر کہے: من يدعوني فأستجيب له.
اللہ کا آسمانِ دنیا پر نازل ہونا (اترنا) اس کے علو (بلندی) کے منافی نہیں، کیونکہ اللہ جیسی کوئی شے نہیں۔ اللہ کے نزول کو مخلوق کے نزول پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔
امام ابو جعفر ترمذی محمد بن احمد بن نصر رحمہ اللہ (295ھ) سے ایک سائل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث: إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَنْزِلُ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا کے بارے میں پوچھا:
فالنزول، كيف يكون؟ يبقى فوقه علو؟
’’اگر نزول مانا جائے تو صفتِ علو باقی کیسے رہے گی؟‘‘
آپ رحمہ اللہ نے فرمایا:
النزول معقول، والكيف مجهول، والإيمان به واجب، والسؤال عنه بدعة.
نزول کا معنی معلوم ہے، کیفیت نامعلوم ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس (کیفیت) کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے۔
(تاريخ بغداد للخطيب: 382/1، وسنده صحيح)
مولانا ادریس کاندھلوی صاحب لکھتے ہیں:
’’اسی طرح سمجھو کہ استواء علی العرش سے ظاہری اور حسی معنی مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھا ہوا ہے، بلکہ اس سے اللہ کے علؤ شان اور رفعتِ مرتبہ کا پتہ چلتا ہے، کما قال تعالیٰ: رَفِيعُ الدَّرَجَاتِ ذُو الْعَرْشِ۔ اور اسی طرح جس حدیث میں یہ آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شب آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے، سو معاذ اللہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا کوئی جسم ہے کہ عرش سے اتر کر آسمانِ دنیا پر آتا ہے، بلکہ اس خاص وقت میں اس کی رحمت کا نزول یا کسی رحمت کے فرشتے کا آسمانِ دنیا پر اترنا مراد ہوتا ہے۔‘‘
(عقائد الاسلام، حصہ دوم، ص 40-41)
شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ (561ھ) فرماتے ہیں:
ينبغي إطلاق صفة الاستواء من غير تأويل، وأنه استواء الذات على العرش، لا على معنى القعود والمماسة كما قالت المجسمة والكرامية، ولا على معنى العلو والرفعة كما قالت الأشعرية، ولا على معنى الاستيلاء والغلبة كما قالت المعتزلة، لأن الشرع لم يرد بذلك، ولا نقل عن أحد من الصحابة والتابعين من السلف الصالح من أصحاب الحديث، بل المنقول عنهم حمله على الإطلاق.
’’صفتِ استواء کو بغیر کسی تاویل کے بیان کرنا چاہیے۔ اس سے ذاتِ باری تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا مراد ہے، بیٹھنا یا چھونا مراد نہیں، جیسا کہ مجسمہ اور کرامیہ نے کہا ہے۔ نہ ہی علؤ شان اور رفعتِ مرتبہ مراد ہے، جیسا کہ اشاعرہ کا موقف ہے، اور نہ ہی استیلا اور غلبہ کے معنی میں ہے، جیسا کہ معتزلہ نے کہا ہے، کیونکہ یہ تمام معانی شریعت سے ثابت نہیں، نہ سلفِ صالحین میں کسی صحابی و تابعی و محدث سے منقول و ماثور ہیں، بلکہ ان سب سے اسے ظاہر پر محمول کرنا ہی ثابت ہے۔‘‘
(غنية الطالبين: 50/1)
مولانا احمد یار خان نعیمی صاحب لکھتے ہیں:
“خدا کے لیے ہاتھ، منہ (چہرہ از ناقل) ہونا عقل کے خلاف ہے، لہٰذا یہ آیات واجب التاویل ہیں۔”
(جاء الحق، حصہ دوم، ص 50)
محمد عبد الحکیم شرف قادری صاحب لکھتے ہیں:
’’حدیث شریف میں اللہ تعالیٰ کے لیے “ید” (ہاتھ) اور “انامل” (انگلیاں) کا اثبات ہے اور از قبیل متشابہات ہیں، جس کی حقیقت تک ہماری عقل کی رسائی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جسم، ہاتھ اور پوروں سے پاک ہے۔‘‘
(عقائد و نظریات، ص 210)
شیخ الاسلام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
قوله تعالى: (ما منعك أن تسجد لما خلقت بيدى) (بل يده مبسوطتن) (المائدة: 64) قالت الجهمية: مجان في النعمة أو القدرة، وهذا باطل من وجوه: أحدها: أن الأصل الحقيقة فدعوى المجاز مخالفة للأصل الثاني: أن ذلك خلاف الظاهر فقد اتفق الأصل والظاهر على بطلان هذه الدعوى، الثالث: أن مدعي المجاز المعين يلزمه أمور، أحدها: إقامة الدليل الصارف عن الحقيقة، إذ مدعيها معه الأصل والظاهر ومخالفها مخالف لهما جميعا، نانيها: بيان احتمال اللفظ لما ذكره من المجاز لغة وإلا كان منشنا من عنده وضعا جديدا، ثالتها: احتمال ذلك المعنى في هذا السياق المعين، فليس كل ما احتمله اللفظ من حيث الجملة يحتمله هذا السياق الخاص ، وهذا موضع غلط فيه من شاء الله ولم يبين أو يميز بين ما يحتمله اللفظ بأصل اللغة وإن لم يحتمله في هذا التركيب الخاص وبين ما يحتمله فيه رابعها: بيان القرائن على المجاز الذي عينه بأنه المراد إذ يستحيل أن يكون هذا هو المراد من غير قرينة في اللفظ تدل عليه ألبتة، وإذا طولبوا بهذه الأمور الأربعة تبين عجزهم. الوجه الرابع: أن اطراد لفظها في موارد الاستعمال وتنوع ذلك وتصريف استعماله يمنع المجاز.
“اللہ تعالیٰ کے فرمان: (ما منعك ان تسجد لما خلقت بيدى) (بل يده مبسوطين) (المائدة: 64) ’’جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا‘‘ اور ’’بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں‘‘ کے متعلق جہمیہ کہتے ہیں کہ اس میں ہاتھوں سے مجازی طور پر نعمت یا قدرت مراد ہے۔ یہ کئی اعتبار سے باطل ہے:
◈ حقیقت اصل ہے، مجاز کا دعویٰ اصل کی مخالفت ہے۔
◈ یہ ظاہر کے بھی خلاف ہے، لہٰذا اصل اور ظاہر اس دعویٰ کی تردید کرتے ہیں۔
◈ مجاز کے مدعی کو کئی امور لازم آتے ہیں:
حقیقی معنی سے ہٹانے والا کوئی قرینہ صارفہ پیش کرے، کیوں کہ اسے حقیقت پر محمول کرنے والے کے پاس اصل اور ظاہر (دو دلیلیں) موجود ہیں، اور حقیقی معنی کی مخالفت کرنے والا اصل اور ظاہر کا بھی مخالف ہے۔
جس لفظ سے مجازی معنی مراد لیا جا رہا ہے، بتایا جائے کہ کیا لغت میں یہ لفظ اس معنی کا احتمال رکھتا ہے؟ ورنہ یہ اس کی اپنی جدید اختراع ہوگی۔
بتایا جائے کہ کیا اس سیاق میں ایسے معنی کا احتمال کیا جا سکتا ہے؟ کیوں کہ ایسا تو نہیں کہ مجموعی طور پر لفظ جس معنی کا بھی احتمال رکھے، یہ مخصوص سیاق بھی اس کا احتمال رکھے۔ اس مقام پر بہت سوں نے غلطی کھائی ہے اور انہوں نے لفظ کے اصل لغوی احتمالات (جو اگرچہ اس خاص ترکیب میں اس معنی کا احتمال نہیں رکھتے) کے مابین اور جس معنی میں یہ محمول کرتے ہیں، کے مابین امتیاز نہیں کیا۔
مجازی معنی مراد لینے پر دلائل پیش کیے جائیں، کیوں کہ ناممکن ہے کہ بغیر کسی قرینے کے لفظ کی وہ مراد لی جائے جس پر وہ دلالت ہی نہیں کرتا۔ جب ان سے ان چار چیزوں کا مطالبہ کیا جائے گا، ان کی شکست واضح ہو جائے گی۔
◈ استعمال ہونے میں اس لفظ کا مطرد (جو قواعد اور قوانین کے مطابق ہو) ہونا، اس کا مختلف الانواع ہونا اور بار بار استعمال ہونا مجازی معنی مراد لینے سے روکتا ہے۔
(مختصر الصواعق المرسلة، ص 391)
نیز فرماتے ہیں:
كذلك قوله: (خلقت بيدي) يعني بقدرته ونعمته، قال: فيقال له: هذا باطل، إذ قوله: (بيدي) يقتضي إثبات يدين هما صفة له، فلو كان المراد بهما القدرة لوجب أن يكون له قدرتان، وأنتم تزعمون أن لله تعالى قدرة واحدة، فكيف يجوز أن تثبتوا قدرتين؟ وقد أجمع المسلمون المثبتون للصفات والنافون لها على أنه لا يجوز أن يكون لله تعالى قدرتان، فبطل ما قلتم.
اسی طرح فرمانِ باری تعالیٰ: (خَلَقْتُ بِيَدَيَّ) “میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا” سے مراد اس کی قدرت اور نعمت لیتے ہیں۔ اسے کہا جائے گا کہ یہ معنی باطل ہے، کیونکہ “بِيَدَيَّ” کا لفظ دو ہاتھوں کے ثبوت کا تقاضا کرتا ہے جو کہ اس کی صفت ہیں۔ اگر یہاں قدرت مراد ہے تو لازم آئے گا کہ اس کی دو قدرتیں ہیں، جب کہ آپ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ایک ہی قدرت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کے لیے دو قدرتیں ثابت کرنے کے کیوں کر مجاز ہیں؟ اللہ تعالیٰ کے لیے صفات کو ثابت کرنے والے اور نفی کرنے والے ہر دو طبقہ کے مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے دو قدرتیں ثابت کرنا جائز نہیں، لہٰذا تمھارا دعویٰ باطل ٹھہرا۔
(مختصر الصواعق المرسلة، ص 404)
مودودی صاحب کی بعض عبارت جو سلف سے ہٹی ہوئی ہیں:
ثم استوى على العرش کا یوں ترجمہ کرتے ہیں:
’’پھر تحتِ حکومت پر جلوہ گر ہوا۔‘‘
(تفہیم القرآن: 262/2)
یہ قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے خلاف ہے۔ قرآن، حدیث، اجماع اور فطرت سے ثابت ہے کہ اللہ، رحمن اپنے عرش پر بلند ہے۔
رہا یہ ارشاد کہ خدا کا عرش پہلے پانی پر تھا، تو اس کا مفہوم ہماری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ خدا کی سلطنت پانی پر تھی۔
(تفہیم القرآن: 325/2)
یہ سمجھ میں تاویل اور تحریف ہے۔ علمائے حق میں سے کوئی بھی یہ مراد بیان نہیں کرتا۔
“قرآن و سنت کی وہی تعبیریں اور مفاہیم معتبر ہیں جو صحابہ اور ائمۂ سلف سے ثابت ہیں۔”
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) لکھتے ہیں:
إجماع السلف منعقد على أن لا يزيدوا على قراءة الآية، وقد شذ قوم فقالوا: العرش بمعنى الملك، وهذا عدول عن الحقيقة إلى التجوز مع مخالفة الأثر، ألم يسمعوا قوله عز وجل: (وكان عرشه على الماء)، أتراه كان الملك على الماء؟
سلفِ صالحین کا اجماع ہے کہ آیت کی قراءت پر زیادتی نہ کی جائے۔ بعض لوگوں نے شذوذ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے: عرش کا معنی بادشاہت ہے۔ یہ حقیقت سے مجاز کی طرف عدول ہے، نیز حدیث کی بھی مخالفت ہے۔ کیا انہوں نے فرمانِ باری تعالیٰ: وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ (اس کا عرش پانی پر تھا) نہیں سنا؟ کیا بادشاہت پانی پر تھی؟
“خالق بذاتِ خود کسی مقام پر متمکن نہیں ہے۔”
(زاد المسير: 213/3)
اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق خبر دی ہے کہ وہ عرش پر بلند ہے۔
(تفہیم القرآن: 590/2)
کسی بچے سے پوچھا جائے کہ اللہ کہاں ہے؟ تو وہ اوپر کو اشارہ کرے گا یا زبان سے کہے گا: “اوپر ہے۔”
“اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی خاص مقام پر رہتا ہے، کیوں کہ اس کی ذات زمان و مکان کی قیود سے منزہ ہے۔”
(تفہیم القرآن: 87/8)
اور ذاتِ باری تعالیٰ کا جو تصور ہم کو قرآنِ مجید میں دیا گیا ہے، وہ بھی یہ خیال کرنے میں مانع ہے کہ وہ جسم اور جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے۔
(تفہیم القرآن: 418)
جب انسان سلفِ صالحین سے بے نیاز ہو جائے، تو حق بھی اسے باطل نظر آتا ہے۔
صفاتِ باری تعالیٰ کے بارے میں اہلِ سنت محتاط ہیں۔ وہ اس باب میں نصوص کو ان کے ظاہری معنی پر رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق جو خبر دی ہے اسے ثابت کرتے ہیں، جس کی نفی کی ہے نفی کرتے ہیں، جس سے سلف نے سکوت اختیار کیا ہم بھی اس میں سکوت اختیار کرتے ہیں۔
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
حقيقة الأمر في المعنى أن ينظر إلى المقصود، فمن اعتقد أن المكان لا يكون إلا ما يفتقر إليه المتمكن، سواء كان محيطا به أو كان تحته، فمعلوم أن الله سبحانه ليس في مكان بهذا الاعتبار، ومن اعتقد أن العرش هو المكان، وأن الله فوقه، مع غناه عنه، فلا ريب أنه في مكان بهذا الاعتبار، فمما يجب نفيه بلا ريب افتقار الله إلى ما سواه، فإنه سبحانه غني عما سواه، وكل شيء فقير إليه، فلا يجوز أن يوصف بصفة تتضمن افتقاره إلى ما سواه.
“حقیقت یہ ہے کہ مقصد کو دیکھا جائے۔ جو یہ سمجھے کہ مکان اسے کہتے ہیں جس کا رہنے والا محتاج ہوتا ہے، گو وہ مکان اسے گھیرے ہوئے ہو یا اس کے نیچے ہو، تو واضح ہے کہ اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ کسی مکان میں نہیں ہے۔ جس کا عقیدہ ہو کہ عرش ایک مکان ہے اور اللہ اس کے اوپر ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کا محتاج نہیں، تو اس اعتبار سے بلا شبہ اللہ تعالیٰ مکان میں ہے۔ لہٰذا جس چیز کی نفی کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں، ہر چیز اس کی محتاج ہے۔ اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرنا جائز نہیں جس سے اس کا محتاج ہونا لازم آئے۔”
(درء تعارض العقل والنقل: 249/6)
نیز فرماتے ہیں:
لكن قياس الله الخالق لكل شيء الغني عن كل شيء الصمد الذي يفتقر إليه كل شيء بالمخلوقات الضعيفة المحتاجة عدل لها برب العالمين، ومن عدلها برب العالمين فإنه في ضلال مبين.
“لیکن اللہ تعالیٰ—جو سب کا خالق، سب سے غنی اور ایسا بے نیاز کہ ہر چیز اس کی محتاج ہے—کو محتاج اور کمزور مخلوقات پر قیاس کرنا، مخلوق کو رب العالمین کے برابر کرنے کے مترادف ہے، اور جو مخلوق کو رب العالمین کے برابر کرے وہ واضح گمراہی میں ہے۔”
(بیان تلبيس الجهمية: 622/3)
علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ (751ھ) لکھتے ہیں:
استواؤه وعلوه على عرشه سلام من أن يكون محتاجا إلى ما يحمله أو يستوي عليه بل العرس محتاج إليه وحملته محتاجون إليه فهو الغني عن العرش وعن حملته وعن كل ما سواه فهو استواء وعلو لا يشوبه حصر ولا حاجة إلى عرش ولا غيره ولا إحاطة شيء به سبحانه وتعالى بل كان سبحانه ولا عرش ولم يكن به حاجة إليه وهو الغني الحميد بل استواؤه على عرشه واستيلاؤه على خلقه من موجبات ملكه وقهره من غير حاجة إلى عرض ولا غيره بوجه ما ونزوله كل ليلة إلى سماء الدنيا سلام مما يضاد علوه وسلام مما يضاد غناه وكماله سلام من كل ما يتوهم معطل أو مشبه وسلام من أن يصير تحت شيء أو محصورا في شيء تعالى الله ربنا عن كل ما يضاد كماله وغناه وسمعه وبصره سلام من كل ما يتخيله مشبه أو يتقوله معطل وموالاته لأوليائه سلام من أن تكون عن ذلك كما يوالي المخلوق المخلوق، بل هي موالاة رحمة وخير واحسان وبر.
“اللہ تعالیٰ کا مستوی ہونا اور اپنے عرش پر بلند ہونا اس سے پاک ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی اٹھانے والے یا جس چیز پر بلند ہے اس کا محتاج ہو، بلکہ عرش اور حاملینِ عرش اس کے محتاج ہیں۔ اللہ تعالیٰ عرش، حاملینِ عرش اور ہر غیر سے غنی ہے۔ یہ استواء اور علو ایسا ہے جس میں کوئی حصر اور حاجت شامل نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو عرش یا کسی اور شے کی حاجت نہیں، اور نہ اسے کوئی چیز محیط ہے، بلکہ ایک وقت اللہ تعالیٰ تھا، لیکن عرش نہیں تھا اور نہ ہی اسے عرش کی حاجت تھی۔ وہ غنی اور حمید ہے۔ بلکہ اس کا عرش پر مستوی ہونا اور اپنی مخلوق پر استیلا اس کی بادشاہت اور قہر کے موجبات میں سے ہے، بغیر کسی حاجت کے۔ اس کا ہر رات نزول اس کے علو، غنا اور کمال کے مخالف نہیں ہے۔ اسی طرح معطل اور مشبہ کے جملہ اوہام سے بھی پاک ہے۔ اس سے بھی پاک ہے کہ باری تعالیٰ کسی چیز کے ماتحت ہو یا کسی چیز میں محصور ہو جائے۔ ہمارا رب ہر اس نقص سے پاک ہے جو اس کے کمال، غنا، سمع اور بصر کے مخالف ہو۔ باری تعالیٰ مشبہ کے خیالات اور معطلہ کے اختراعات سے پاک ہے۔ اس کا اپنے اولیا سے محبت و موالات مخلوق کے مخلوق کے ساتھ محبت کی طرح نہیں ہے، بلکہ یہ محبت رحمت، خیر، احسان اور نیکی کی وجہ سے ہے۔”
(بدائع الفوائد: 136/2)
“اس کے ہاتھ میں اقتدار ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ جسمانی ہاتھ رکھتا ہے، بلکہ لفظ محاورہ کے طور پر ‘قبضہ’ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ عربی کی طرح ہماری زبان میں بھی جب یہ کہتے ہیں کہ اختیارات فلاں کے ہاتھ میں ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہی سارے اختیارات کا مالک ہے، کسی دوسرے کا اس میں دخل نہیں ہے۔”
(تفہیم القرآن: 41/6)
امام ابو حنیفہ کی طرف منسوب عقیدہ ہے:
له يد ووجه ونفس كما ذكره الله تعالى في القرآن، فما ذكره الله تعالى في القرآن من ذكر الوجه واليد والنفس فهو له صفات بلا كيف، ولا يقال: إن يده قدرته أو نعمته، لأن فيه إبطال الصفة وهو قول أهل القدر والاعتزال، ولكن يده صفته بلا كيف.
“اللہ تعالیٰ کا ہاتھ، چہرہ اور نفس ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ذکر کیا ہے۔ چہرے، ہاتھ اور نفس میں سے جو رب تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ذکر کیا ہے وہ اس کی صفات ہیں، جس کی نہ کیفیت بیان کی جا سکتی ہے اور نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے ہاتھ سے مراد قدرت یا نعمت ہے، کیوں کہ اس سے صفت کا بطلان لازم آتا ہے، جو کہ قدریہ اور معتزلہ کا عقیدہ ہے، بلکہ ہاتھ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، جس کی کیفیت معلوم نہیں۔”
(الفقه الأكبر: ص 27)
نیز کہتے ہیں:
لا يوصف الله تعالى بصفات المخلوقين، وغضبه ورضاه صفتان من صفاته بلا كيف وهو قول أهل السنة والجماعة وهو يغضب ويرضى ولا يقال: غضبه عقوبته ورضاه ثوابه ونصفه كما وصف نفسه أحد صمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد حي قبوم قادر بصير عالم، يد الله فوق أيديهم ليست كأيدي خلقه وليست جارحة، وهو خالق الأيدي ووجهه ليس كوجوه خلقه وهو خالق كل الوجوه ونفسه ليست كنفس خلقه وهو خالق كل النفوس (ليس كمثله شيء وهو السميع البصيره).
اللہ تعالٰی کو مخلوق کی صفات سے متصف نہیں کیا جائے گا۔ غضب اور رضا دونوں اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں، ان کی کیفیت بیان نہیں کی جائے گی، یہ اہل سنت کا منہج ہے۔ اللہ تعالیٰ غصے ہوتے ہیں اور راضی بھی ہوتے ہیں۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ اللہ کے غضب سے مراد اس کی عقوبت اور رضا سے مراد اس کا ثواب ہے۔ ہم اللہ کی وصف ایسے بیان کریں گے جیسے الله أحد صمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد حي قيوم قادر سميع بصير عالم نے اپنا وصف بیان کیا ہے ۔ يد الله فوق أيديهم ’’اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔‘‘ اللہ کا ہاتھ مخلوق کے ہاتھوں کی طرح نہیں ہے اور نہ ہی کوئی عضو جسمانی ہے، وہ تو سب ہاتھوں کا خالق ہے۔ اسی طرح اس کا چہرہ مخلوق کے چہروں کی طرح نہیں ہے، وہ تو سب چہروں کا خالق ہے۔ اس کا نفس (ذات) مخلوق کے نفسوں کی طرح نہیں ہے، وہ تو سب نفسوں کا خالق ہے۔ فرمان باری تعالی ہے: ليس كمثله شيء وهو السميع البصير ’’اس کی مثل کوئی شے نہیں ہے اور وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‘‘
(الفقه الأكبر: ص 161)
خطیب ابو بکر بغدادی رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
أما الكلام في الصفات، فإن ما روي منها في السنن الصحاح، مذهب السلف إثباتها وإجراؤها على ظواهرها، ونفي الكيفية والتشبيه عنها، وقد نفاها قوم، فأبطلوا ما أثبته الله، وحققها قوم من المثتين، فخرجوا في ذالك إلى ضرب من التشبيه والتكبيف، والقصد إنما هو سلوك الطريقة المتوسطة بين الأمرين، ودين الله تعالى بين الغالي فيه والمقصر عنه. والأصل في هذا أن الكلام في الصفات فرع الكلام في الذات، ويحتذى في ذلك حنوه ومثاله، فإذا كان معلوما أن إثبات رب العالمين إنما هو إثبات وجود لا إثبات كيفية، فكذالك إثبات صفاته إنما هو إثبات وجود لا إثبات تحديد وتكييف، فإذا قلنا: لله يد وسمع وبصر، فإنما هي صفات أثبتها الله لنفسه، ولا نقول: إن معنى اليد القدرة، ولا إن معنى السمع والبصر العلم، ولا نقول: إنها جوارح، ولا نشبهها بالأيدي والأسماع والأبصار التي هي جوارح وأدوات للفعل، ونقول: إنما وجب إنباتها لأن التوقيف ورد بها، ووجب نفي التشبيه عنها لقوله: (ليس كمثله شى) (الشورى: 11) ، (ولم يكن له كفوا احد) (الإخلاص:4)
جو صفاتِ باری تعالیٰ صحیح احادیث میں مروی ہیں، سلفِ صالحین ان کا اثبات کرتے ہوئے ظاہری معنی مراد لیتے ہیں اور کیفیت اور تشبیہ کی نفی کرتے ہیں۔ بعض گروہوں نے ان صفات کی نفی کرتے ہوئے اسے باطل کر دیا ہے جسے اللہ نے ثابت کیا تھا۔ بعض نے اثبات تو کیا ہے، لیکن تشبیہ و تکییف کی گمراہیوں میں مبتلا ہو گئے۔ جب کہ درست یہ ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان والا راستہ اختیار کیا جائے، اور اللہ تعالیٰ کا دین غلو اور تقصیر کے مابین ہے۔
در اصل صفاتِ باری تعالیٰ میں گفتگو کرنا ذاتِ باری تعالیٰ میں گفتگو کرنے کی فرع ہے۔ ان میں بھی وہی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا جو ذاتِ باری تعالیٰ کے بارے میں اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ بدیہی بات ہے کہ رب العالمین کا اثبات اس کی ذات کے وجود کا اثبات ہے، نہ کہ اس کی کیفیت کا۔ اسی طرح صفات کا اثبات وجود کا اثبات ہے، نہ کہ کیفیت اور تحدید کا۔ لہٰذا جب ہم کہیں گے کہ صفتِ ید، سمع اور بصر اللہ کے لیے ثابت ہے تو معنی یہ ہوگا کہ یہ صفات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے ثابت کیا ہے۔ یہ نہیں کہیں گے کہ ید (ہاتھ) کا معنی قدرت ہے اور سمع و بصر کا معنی علم ہے، نہ ہی انہیں جوارح (جسمانی اعضا) قرار دیں گے اور نہ ہی انہیں ہاتھوں، کانوں اور آنکھوں کے ساتھ تشبیہ دیں گے، بلکہ ہم کہیں گے کہ ان کا اثبات واجب ہے کیوں کہ یہ شریعت سے ثابت ہیں، اور تشبیہ کی نفی کرنا بھی ضروری ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (ليس كمثله شيء) (الشورى: 11) اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی چیز نہیں۔ نیز فرمایا: (ولم يكن له كفوا أحد) (الإخلاص: 4) اور اس کا ہم سر کوئی نہیں ہے۔
(سير أعلام النبلاء للذهبي: 284/18، وسنده صحيح)
اصل الفاظ ہیں: جاء ربك، جن کا لفظی ترجمہ ہے: “تیرا رب آئے گا۔” لیکن ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
(تفہیم القرآن: 333/6)
شیخ الاسلام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ (751ھ) لکھتے ہیں:
مما يوضح لك ذلك أن التزول والمجيء والإنيان، والاستواء، والصعود والارتفاع كلها أنواع أفعال، وهو الفعال لما يريد، وأفعاله كصفاته قائمة به، ولولا ذلك لم يكن فعالا ولا موصوفا بصفات كماله، فتزوله ومجيته واستواؤه وارتفاعه وصعوده ونحر ذلك، كلها أفعال من أفعاله، التي إن كانت مجازا فأفعاله كلها مجان ولا فعل له في الحقيقة، بل هو بمنزلة الجمادات، وهذا حقيقة من عطل أفعاله، وإن كان فاعلا حقيقة فأفعاله نوعان: لازمة ومتعدية، كما دلت النصوص التي هي أكثر من أن تحصر على النوعين. وبإثبات أفعاله وقيامها به تزول عنك جميع الإشكالات، وتصدق النصوص بعضها بعضا وتعلم مطابقتها للعقل الصريح، وإن أنكرت حقيقة الأفعال وقيامها به سبحانه اضطرب عليك هذا الباب أعظم اضطراب، وبقيت حائرا في التوفيق بين النصوص وبين أصول النفاة، وهيهات لك بالتوفيق بين النقيضين والجمع بين الصدين. يوضحه: إن الأوهام الباطلة والعقول الفاسدة لما فهمت من نزول الرب ومجيثه، وإثيانه وهبوطه ودنوم ما يفهم من مجيء المخلوق وإثيانه وهبوطه ودنوه وهو أن يفرع مكانا ويشغل مكانا نفت حقيقة ذلك فوقعت في محذورين: محذور التشبيه ومحذور التعطيل، ولو علمت هذه العقول الضعيفة أن نزوله سبحانه ومجيته وإنيانه لا يشبه نزول المخلوق وإنيانه ومجيته، كما أن سمعه وبصره وعلمه وحياته كذالك، بل يده الكريمة ووجهه الكريم كذلك، وإذا كان نزولا ليس كمثله نزول، فكيف تنفى حقيقته ، فإن لم تنف المعطلة حقيقة ذاته وصفاته وأفعاله بالكلية وإلا تناقضوا، فإنهم أي معنى أثبتوه لزمهم في نفيه ما ألزموا به أهل السنة المثبتين لله ما أثبت لنفسه، ولا يجدون إلى الفرق سبيلا.
اس سے واضح ہوا کہ صفاتِ نزول، مجیء، اتیان، استواء، صعود اور ارتفاع تمام صفاتِ فعلیہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس کا ارادہ کرتا ہے اسے بخوبی کر سکتا ہے۔ اس کی صفاتِ فعلیہ صفاتِ ذاتیہ ہی کی طرح ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ فعّال (ہر کام بخوبی کرنے والا) ہوتا نہ ہی صفاتِ کمال سے متصف ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی صفاتِ نزول، مجیء، اتیان، استواء، صعود، ارتفاع اور دوسری صفات اس کے افعال میں سے ہیں۔ اگر یہ فعلی صفات مجازی ہیں تو اس کے تمام افعال ہی مجاز ہوں گے اور حقیقت میں کوئی فعل باقی نہیں رہے گا، بلکہ سب افعال جمادات کی طرح ہو جائیں گے۔ معطلہ کی یہی حقیقت ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ کو حقیقی فاعل تسلیم کر لیا جائے تو اس کے افعال کی دو قسمیں ہوں گی:
◈ لازمیہ
◈ متعدیہ
ان دونوں اقسام پر ان گنت نصوص دلالت کرتی ہیں۔ صفاتِ افعال کے اثبات اور انہیں ذاتِ باری کے ساتھ قائم ماننے سے آپ کے تمام شکوک و شبہات رفع ہو جاتے ہیں۔ تمام نصوص ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں اور آپ انہیں عقلِ صریح کے موافق بھی سمجھنے لگیں گے۔ اگر آپ نے ان صفات کا انکار کر دیا یا انہیں ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ قائم نہ مانا تو آپ اس مسئلے میں شدید اضطراب کا شکار ہو جائیں گے اور نصوص اور منکرینِ صفاتِ باری تعالیٰ کے درمیان موافقت تلاش کرتے ہی رہ جائیں گے۔ دو نقیض اور ضدّین میں جمع و توفیق کرنا ناممکن ہے۔
کچھ مزید وضاحت: جب باطل اوہام اور فاسد عقلیں رب تعالیٰ کے نزول، آنے، نیچے اترنے اور قریب ہونے سے وہ مفہوم مراد لیں گی جو مخلوق کے نزول، آنے، نیچے اترنے اور قریب ہونے (جس سے ایک جگہ سے دوسری جگہ انتقال لازم آتا ہے) سے مراد لیا جاتا ہے، تو وہ ان صفاتِ باری تعالیٰ کی حقیقت کی نفی کر بیٹھیں گی اور دو گمراہیوں کا شکار ہو جائیں گی:
◈ تشبیہ
◈ تعطیل
اگر ان کمزور عقلوں کی سمجھ میں آ جاتا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا نزول اور آنا مخلوق کے نزول اور آنے کے مشابہ نہیں ہے، اسی طرح خالق کی سمع، بصر، علم اور حیات مخلوق کے مشابہ نہیں ہیں، بلکہ اس کا ہاتھ اور چہرہ بھی مخلوق کے مشابہ نہیں ہیں۔ اگر اللہ کا نزول مخلوق کے مشابہ نہ مانا جائے تو اس کی حقیقت کی نفی بھی نہیں ہو گی۔ معطلہ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور افعال کی حقیقت کی کلیتاً نفی کر کے تناقض کا شکار ہو گئے ہیں، کیونکہ وہ جو معنی بھی ثابت کریں، ان پر صفات کی نفی میں وہی اعتراض وارد ہوتا ہے جو وہ اہلِ سنت پر صفاتِ باری تعالیٰ کے اثبات میں وارد کرتے ہیں اور انہیں اس فرق کا کوئی راستہ نہیں ملتا۔
(مختصر الصواعق المرسلة، ص 450-451)
نیز فرماتے ہیں:
هذا النزول إلى الأرض يوم القيامة قد تواترت به الأحاديث والآثار ودل عليه القرآن صريحا.
روزِ قیامت زمین کی طرف نزولِ الٰہی کی بابت احادیث اور آثارِ صحابہ متواتر ہیں، نیز قرآن بھی صراحت کے ساتھ دلالت کناں ہے۔
(مختصر الصواعق المرسلة، ص 466)
مولانا سرفراز خان صفدر صاحب لکھتے ہیں:
پروردگار عزوجل کے نزول وغیرہ کے متعلق ایک مسلک متقدمین کا ہے کہ نزول سے حقیقتِ نزول مراد ہے، مگر کیفیت ہم نہیں جانتے۔ اسی طرح سمع، بصر، ید، استواء علی العرش کے متعلق متقدمین کا مسلک یہی ہے۔ متاخرین تاویل کر کے فرماتے ہیں کہ اس سے رضائے الٰہی، خوشنودی اور توجہ مراد ہے۔ عمدہ قول متقدمین کا ہی ہے۔
(خزائن السفن، ص 403)
بے شک عمدہ قول متقدمین کا ہی ہے۔ بعض متاخرین نے جو تاویل کی ہے وہ سلف کے منہج سے انحراف اور تعطیل کی ایک قسم ہے۔
“اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے اندر جو روح پھونکی گئی ہے، وہ دراصل صفاتِ الٰہی کا ایک عکس یا پرتو ہے۔”
(تفہیم القرآن: 502/2)
مولانا تقی عثمانی صاحب نے بجا فرمایا ہے:
تفہیم القرآن میں بہت سی باتیں جمہور کے مسلمات و اقوال کے خلاف ہیں، اس لیے اسے بقولِ سائل بلا تنقید پڑھنا پڑھوانا درست نہیں ہے۔
(فتاوی عثمانی، جلد اول، ص 214)
الزام تراشی:
ایک صاحب کہتے ہیں:
“میں نے عرض کیا: میرے امام کا عقیدہ ہے، اللہ ہر جگہ پر ہے۔”
مزید کہا:
(خطبات گھمن، مرتبہ محمد بلال جھنگوی، ص 205)
“رب کی ذات کے بارے میں نعمان کا، احناف کا عقیدہ یہ ہے، اللہ ہر جگہ پر ہے، صرف اللہ عرش پر نہیں ہے۔”
(خطبات گھمن، مرتبہ محمد بلال جھنگوی، ص 200)
امام ابو حنیفہ سے یہ عقیدہ قطعاً ثابت نہیں۔
علامہ ابن ابی العز الحنفی رحمہ اللہ (792ھ) لکھتے ہیں:
لا يلتفت إلى من أنكر ذلك ممن ينتسب إلى مذهب أبي حنيفة، فقد انتسب إليه طوائف معتزلة وغيرهم، مخالفون له في كثير من اعتقاداته، وقد ينتسب إلى مالك والشافعي وأحمد من يخالفهم في بعض اعتفاداتهم، وقصة أبي يوسف في استتابة بشر المريسي، لما أنكر أن يكون الله عز وجل فوق العرش مشهورة.
خود کو حنفی کہنے والوں میں سے جو اس عقیدے کا انکار کرے وہ التفات کے قابل نہیں، کیونکہ معتزلہ وغیرہ میں سے کئی گروہ خود کو امام ابو حنیفہ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور کئی اعتقادی مسائل میں ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ ائمہ مالک، شافعی اور احمد رحمہم اللہ کے بھی بعض اعتقادات میں مخالفت کرنے والے خود کو ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ کا قصہ مشہور ہے کہ جب بشر مریسی نے اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کا انکار کیا تو انہوں نے اسے توبہ کرنے کو کہا۔
(شرح العقيدة الطحاوية: ص 288)
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) لکھتے ہیں:
كذلك الحنفي يخلط بمذاهب أبي حنيفة شيئا من أصول المعتزلة والكرامية والكلابية، ويضيفه إلى مذهب أبي حنيفة.
اسی طرح احناف نے بھی مذہبِ ابو حنیفہ میں بہت کچھ ایسا داخل کر دیا ہے جو در حقیقت معتزلہ، کرامیہ اور کلابیہ کے اصول و اعتقادات تھے، پھر اسے مذہبِ ابو حنیفہ کی طرف منسوب کر دیا۔
(منهاج السنة النبوية: 261/5)
نیز فرماتے ہیں:
ما من إمام إلا وقد انتسب إليه أقوام هو منهم بريء قد انتسب إلى مالك أناس مالك برىء منهم وانتسب إلى الشافعي أناس هو بريء منهم وانتسب إلى أبي حنيفة أناس هو بريء منهم.
“ہر امام کی طرف کچھ نہ کچھ لوگ منسوب ہوتے ہیں، جبکہ وہ امام ان سے بری ہوتا ہے…”
(مجموع الفتاوى: 185/3، العقود الدرية: ص 157)
علامہ ابو مظفر الاسفراینی رحمہ اللہ (471ھ) لکھتے ہیں:
قد نبغ من أحداث أهل الرأي، من تلبس بشيء من مقالات القدرية والروافض مقلدا فيها وإذا خاف سيوف أهل السنة نسب ما هو فيه من عقائده الخبيثة إلى أبي حنيفة تسترا به فلا يغرنك ما ادعوه من نسبتها إليه فإن أبا حنيفة بريء منهم ومما نسبوه إليه.
(مخاطب!) آپ ان کی نسبتوں سے دھوکا نہ کھائیں، کیونکہ امام ابو حنیفہ ان سے اور ان کے منسوب عقائد سے قطعاً بری ہیں۔
مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ (1346ھ) لکھتے ہیں:
هذا الحديث يثبت كونه سبحانه وتعالى فوق عرشه، والجهمية ينكرونه.
“یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے عرش کے اوپر (بلند) ہے، جبکہ جہمیہ اس کا انکار کرتے ہیں۔”
(بذل المجهود: 144/18)
ماحصل یہ کہ اسلاف صفاتِ باری تعالیٰ میں تاویل نہیں کرتے تھے، ہمارے لیے بھی اسی میں عافیت و سرخروئی ہے۔ یہ کہنا کہ اگر سلف کے منہج کے مطابق صفاتِ باری تعالیٰ کو مانا جائے تو اس سے یہ یہ لازم آئے گا۔ ایسا کچھ نہیں ہے، کیوں کہ مسلکِ سلف ہی اسلم، احکم اور اعلم ہے۔ سلف سب سے بڑھ کر علم و تقوی والے تھے، تکلفات سے کوسوں دور تھے، قرآن و حدیث کی نصوص کی صحیح تعبیریں بیان کرتے تھے۔