صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے

مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

اس مضمون کا مقصد یہ ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ صفاتِ باری تعالیٰ پر وارد قرآنی آیات کو متشابہ قرار دینا کس قدر جہمی اور بدعتی منہج ہے، جبکہ سلف صالحین اور جمہور محدثین نے ان آیات کو محکم مانا ہے، اور ان کے ظاہر پر ایمان لانا ہی اہل السنۃ والجماعۃ کا طریقہ ہے۔

ایک مغلظاتی دیوبندی نے درج ذیل اعتراضات کیے:

"الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى” والی آیت کو متشابہ کہا (جبکہ سلف سے کہیں ثابت نہیں کہ یہ آیت متشابہ ہے)۔
② کہا: "قرآنی آیات سے ظاہری معنی لینا فتنہ ہے” (یہ دراصل سلف صالحین پر فتنہ پرستی کا الزام ہے کیونکہ وہ ظاہر ہی پر ایمان رکھتے تھے)۔
③ متشابہات کا حقیقی معنی صرف اللہ کو معلوم ہے (حالانکہ جمہور محدثین نے کہا کہ راسخون فی العلم بھی اس کی تفسیر جانتے ہیں)۔
④ کہا: متشابہ آیات کے پیچھے لگنا دل کی کجی ہے (حالانکہ یہ وصف خوارج، جہمیہ اور مرجئہ پر صادق آتا ہے جو اپنے مطلب کے معنی گھڑتے ہیں، جبکہ سلف صالحین متشابہ کو محکم کی طرف لوٹاتے تھے)۔

لہٰذا اب ہم سلف صالحین اور محدثین کے اقوال سے دکھائیں گے کہ یہ آیات محکم اور واضح ہیں، اور صفاتِ باری تعالیٰ کے اثبات پر دلیل ہیں۔

1️⃣ ربیعۃ الرائی (تابعی صغیر، متوفی 136ھ)

قَالَ: {الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى}
"الِاسْتِوَاءُ غَيْرُ مَجْهُولٍ، وَالْكَيْفُ غَيْرُ مَعْقُولٍ، وَمِنَ اللَّهِ تَعَالَى الرِّسَالَةُ، وَعَلَى النَّبِيِّ الْبَلَاغُ، وَعَلَيْنَا التَّصْدِيقُ”
(الإبانة الكبرى لابن بطة)

🔹 ترجمہ: استواء مجہول نہیں، کیفیت غیر معقول ہے۔ پیغام اللہ کی طرف سے ہے، نبی پر اسے پہنچانا ہے اور ہم پر اس کی تصدیق کرنا ہے۔

📌 سند صحیح۔

2️⃣ امام مالک بن انس (متوفی 179ھ)

جب ان سے پوچھا گیا کہ "الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى” کس طرح ہے؟

فَقَالَ: "الاستواء معلوم، والكيف مجهول، والسؤال عنه بدعة، وأراك رجل سوء”
(التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد)

🔹 ترجمہ: استواء معلوم ہے، کیفیت مجہول ہے، اس بارے میں سوال کرنا بدعت ہے اور میں تمہیں بدعتی سمجھتا ہوں۔


ناسخ و منسوخ کے بارے میں سلف کا موقف


3️⃣ ابن عباس رضی اللہ عنہ

"المتشابهات منسوخه ومقدمه ومؤخره وأمثاله وأقسامه، وما يؤمن به ولا يعمل به”
(تفسير ابن أبي حاتم)

🔹 ترجمہ: متشابہات وہ ہیں جو منسوخ آیات ہیں، ان پر ایمان لایا جائے گا لیکن ان پر عمل نہیں ہوگا۔
📌 سند صحیح۔

4️⃣ نبیط بن شریط الأشجعی (تابعی صغیر)

"المتشابه ما قد نُسِخ، والمحكم ما لم يُنسخ”
(نواسخ القرآن لابن الجوزي)

🔹 ترجمہ: متشابہ آیات وہ ہیں جو منسوخ ہوگئیں اور محکم آیات وہ ہیں جو منسوخ نہیں ہوئیں۔
📌 سند صحیح۔

5️⃣ ضحاک بن مزاحم (تابعی، متوفی 102ھ)

"المحكم ما لم يُنسخ، والمتشابه ما نُسخ”
(جامع البيان للطبري)

🔹 ترجمہ: محکم وہ آیات ہیں جو منسوخ نہیں ہوئیں اور متشابہ وہ ہیں جو منسوخ ہوگئیں۔

6️⃣ قتادہ بن دعامہ (تابعی، متوفی 117ھ)

{هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ}
"المحكمات الناسخ الذي يعمل به، وأما المتشابهات فالمنسوخ الذي لا يعمل به ويؤمن”
(جامع البيان للطبري)

🔹 ترجمہ: محکمات وہ ہیں جو ناسخ آیات ہیں، جن پر عمل ہوتا ہے۔ متشابہات وہ ہیں جو منسوخ آیات ہیں، ان پر عمل نہیں بلکہ صرف ایمان لایا جاتا ہے۔
📌 سند صحیح۔

7️⃣ مقاتل بن حیان البلخی (متوفی 149ھ)

"المتشابهات: الم والمص والمر والر”
(تفسير ابن أبي حاتم)

🔹 ترجمہ: متشابہات سے مراد حروف مقطعات ہیں: "الم، المص، المر، الر”۔
📌 سند صحیح۔


سلف صالحین اور متشابہات کو محکم کی طرف لوٹانے کا منہج


8️⃣ ابن قتیبہ الدینوری (متوفی 276ھ)

"ولسنا ممن يزعم أن المتشابه في القرآن لا يعلمه الراسخون في العلم”
(تأويل مشكل القرآن)

🔹 ترجمہ: ہم ان لوگوں میں سے نہیں جو یہ کہتے ہیں کہ متشابہات کا علم راسخین فی العلم کو نہیں۔ اللہ نے قرآن محض اپنے بندوں کو فائدہ دینے کے لیے نازل کیا ہے، اگر متشابہ صرف اللہ کو ہی معلوم ہوتا تو طاعن کو موقع مل جاتا کہ قرآن کو بے فائدہ قرار دے۔ کیا یہ کہنا جائز ہے کہ رسول اللہ ﷺ متشابہات کا علم نہیں رکھتے تھے؟

9️⃣ امام ترمذی (متوفی 279ھ)

"مذهب السلف إثباتها وإجراؤها على ظواهرها، ونفي الكيفية والتشبيه عنها”
(سنن الترمذي)

🔹 ترجمہ: سلف صالحین کا منہج یہ تھا کہ صفات کو ثابت مانتے تھے اور ان پر ظاہر کا اطلاق کرتے تھے، اور کیفیت و تشبیہ کی نفی کرتے تھے۔

⑩ امام طبری (310ھ)

"المحكمات: الناسخات أو المثبتات للأحكام. والمتشابهات: المنسوخات”
(جامع البيان)

🔹 ترجمہ: محکمات وہ ہیں جو ناسخ یا احکام کو ثابت کرنے والی آیات ہیں، اور متشابہات وہ ہیں جو منسوخ ہیں۔

⑪ ابو اللیث سمرقندی (متوفی 373ھ)

"ويرد حكم المتشابه إلى المحكم”
(بحر العلوم)

🔹 ترجمہ: متشابہ کی تشریح محکم کی طرف لوٹائی جاتی ہے۔

⑫ امام ابو سلیمان الخطابی (متوفی 388ھ)

"مذاهب السلف إثباتها وإجراؤها على ظواهرها، ونفي الكيفية والتشبيه عنها”
(الغنية عن الكلام)

🔹 ترجمہ: سلف کا مذہب یہی ہے کہ صفات کو ظاہر پر رکھا جائے، کیفیت اور تشبیہ کی نفی کی جائے۔

متاخرین علماء کا منہج: صفات باری تعالیٰ اور متشابہات

🔹 ابو نصر السجزی (متوفی 444ھ)

"إن الله تعالى إذا وصف نفسه بصفة هي معقولة عند العرب… فهي على ما يعقلونه، ولم يبين سبحانه أنها بخلاف ما يعقلونه، ولا فسرها النبي ﷺ بتفسير يخالف الظاهر، فهي على ما يعقلونه.”

(رسالة السجزي إلى أهل زبيد)

🔹 ترجمہ: جب اللہ اپنی صفات ایسی الفاظ سے بیان کرتا ہے جو عربوں کو سمجھ آتے ہیں تو وہ اپنے ظاہر پر ہیں۔ نہ اللہ نے بتایا کہ یہ معنی خلافِ ظاہر ہیں اور نہ نبی ﷺ نے اس کی تاویل کی۔ لہذا یہ صفات وہی معنی رکھتی ہیں جو عرب سمجھتے ہیں، البتہ کیفیت اللہ کے سپرد ہے۔

🔹 خطیب بغدادی (متوفی 463ھ)

"مذهب السلف إثباتها وإجراؤها على ظواهرها ونفي الكيفية والتشبيه عنها.”
(تذكرة الحفاظ للذهبي)

🔹 ترجمہ: صفات باری تعالیٰ کے بارے میں سلف کا منہج یہی تھا کہ انہیں ان کے ظاہر پر محمول کریں، کیفیت اور تشبیہ کی نفی کریں۔

🔹 ابو القاسم قوام السنہ الاصبھانی (متوفی 535ھ)

"مذهب السلف إثباتها وإجراؤها على ظاهرها، ونفي الكيفية عنها.”
(الحجة في بيان المحجة)

🔹 ترجمہ: سلف کا مذہب یہ ہے کہ صفات کو ان کے ظاہر پر محمول کیا جائے اور کیفیت کی نفی کی جائے۔

🔹 امام غزالی (متوفی 505ھ)

"لسنا نرتضي قول من يقول: إن ذلك من المتشابهات كحروف أوائل السور…”
(الاقتصاد في الاعتقاد)

🔹 ترجمہ: ہم ان لوگوں کے قول کو پسند نہیں کرتے جو صفات سے متعلق آیات کو متشابہ قرار دیتے ہیں، جیسے حروف مقطعات۔ یہ قابل فہم الفاظ ہیں اور ان سے اہل علم صحیح معنیٰ سمجھتے ہیں۔

🔹 امام بغوی (متوفی 516ھ)

"تأويل المتشابه يعلمه الله والراسخون في العلم.”
(تفسير البغوي)

🔹 ترجمہ: متشابہات کی تاویل اللہ جانتا ہے اور راسخون فی العلم بھی جانتے ہیں۔

🔹 ابو القاسم السہیلی (متوفی 581ھ)

"والراسخون في العلم يردون المتشابه إلى المحكم.”
(الروض الأنف)

🔹 ترجمہ: راسخین فی العلم متشابہ کو محکم کی طرف لوٹاتے ہیں۔

🔹 ابن الجوزی (متوفی 597ھ)

"أن الله تعالى أراد أن يشغل أهل العلم برد المتشابه إلى المحكم… فيثابون على تعبهم.”
(زاد المسير)

🔹 ترجمہ: اللہ نے چاہا کہ اہل علم متشابہ کو محکم کی طرف لوٹانے میں مشغول رہیں اور اس پر ان کو اجر ملے۔

🔹 امام نووی (متوفی 676ھ)

"الأصح أن الراسخين في العلم يعلمون تأويل المتشابه.”
(شرح صحيح مسلم)

🔹 ترجمہ: صحیح تر قول یہ ہے کہ راسخون فی العلم متشابہات کی تفسیر جانتے ہیں۔

🔹 ابن قدامہ (متوفی 620ھ)

"قد ثبت بكتاب الله والمتواتر… أن الله تعالى في السماء على عرشه.”
(ذم التأويل)

🔹 ترجمہ: یہ بات کتاب اللہ، احادیث متواترہ اور اجماع سلف سے ثابت ہے کہ اللہ آسمان پر اپنے عرش پر ہے۔

🔹 ابن قیم الجوزیہ (متوفی 751ھ)

"رَدُّهُمْ الْمُحْكَمَ الْمَعْلُومَ بِالضَّرُورَةِ … مِنْ إثْبَاتِ عُلُوِّ اللَّهِ … بِمُتَشَابِهِ قَوْلِهِ: {وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ}.”
(إعلام الموقعين)

🔹 ترجمہ: جہمیہ نے اللہ کے علو اور استواء علی العرش کی محکم نصوص کا رد متشابہ آیات سے کیا جیسے "وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو”، اور ان آیات کو ہتھیار بنا کر نصوصِ علو کو باطل کرنے کی کوشش کی۔

🔹 ابن رجب الحنبلی (متوفی 795ھ)

"إنما القطعيات ما جاء عن الله ورسوله من الآيات المحكمات البينات، فترد إليها المتشابهات.”
(روائع التفسير)

🔹 ترجمہ: قطعی دلائل وہ ہیں جو اللہ اور رسول سے محکم و واضح نصوص کی صورت میں آئی ہیں۔ متشابہات کو محکم پر لوٹایا جاتا ہے۔

🔹 شیخ الاسلام ابن تیمیہ (متوفی 728ھ)

"أما إدخال أسماء الله وصفاته… في المتشابه… فما أعلم أحدا من السلف جعله من المتشابه.”
(مجموع الفتاوى)

🔹 ترجمہ: اللہ کے اسماء و صفات کو متشابہ کہنا باطل ہے۔ میں نہیں جانتا کہ کسی سلف نے اسے متشابہ کہا ہو۔

🔹 حافظ ابن کثیر (متوفی 774ھ)

"الراسخون في العلم ردوا المتشابه إلى المحكم فاهتدوا، والذين في قلوبهم زيغ ردوا المحكم إلى المتشابه فغووا.”
(تفسير القرآن العظيم)

🔹 ترجمہ: راسخین فی العلم متشابہ کو محکم کی طرف لوٹاتے ہیں اور ہدایت پاتے ہیں، اور جن کے دلوں میں کجی ہے وہ محکم کو متشابہ کی طرف پھیرتے ہیں اور گمراہ ہوجاتے ہیں۔

🔹 بدر الدین زرکشی (متوفی 794ھ)

"النزاع لفظي… من قال يعلم الراسخون أراد به ظاهرًا لا حقيقةً.”
(البحر المحيط)

🔹 ترجمہ: راسخون علم متشابہ جانتے ہیں، اس کا مطلب ظاہر ہے نہ کہ حقیقت۔ اور نزاع زیادہ تر لفظی ہے۔

🔹 محمود شکری الالوسی حنفی (متوفی 1342ھ)

"يردون المتشابه إلى المحكم… وهذا من علائم أهل الحق الناجين يوم القيامة.”
(غاية الأماني)

🔹 ترجمہ: اہل سنت متشابہ کو محکم کی طرف لوٹاتے ہیں۔ یہی اہل حق کی نشانی ہے جو قیامت کے دن نجات پائیں گے۔

🔹 مرعی بن یوسف المقدسی (متوفی 1033ھ)

"قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنا مِمَّن يعلم تأويله، ورجحه جماعات من المحققين… كالغزالي والقاضي أبي بكر.”
(أقاويل الثقات)

🔹 ترجمہ: ابن عباس نے کہا: میں ان لوگوں میں سے ہوں جو متشابہ کی تفسیر جانتے ہیں۔ اس قول کو غزالی اور قاضی ابوبکر جیسے محققین نے راجح قرار دیا۔

🔹 شمس الأئمۃ السرخسی حنفی (متوفی 483ھ)

"وكذلك الوجه واليد على ما نص الله تعالى في القرآن معلوم، وكيفية ذلك من المتشابه، فلا يبطل به الأصل المعلوم… والمعتزلة… أنكروا الأصل، فكانوا معطلة.”
(أصول السرخسي)

🔹 ترجمہ: اللہ کا چہرہ اور ہاتھ قرآن میں نص سے ثابت ہیں۔ ان کے اصل معنی معلوم ہیں، مگر کیفیت متشابہ ہے۔ معتزلہ نے کیفیت کے متشابہ ہونے کی وجہ سے اصل معنی کا انکار کردیا اور معطلہ بن گئے۔

🔹 علاء الدین بخاری حنفی (متوفی 730ھ)

"وكذلك إثبات اليد والوجه حق عندنا معلوم بأصله متشابه بوصفه، ولن يجوز إبطال الأصل بالعجز عن درك الوصف، وإنما ضلت المعتزلة من هذا الوجه.”
(كشف الأسرار شرح أصول البزدوي)

🔹 ترجمہ: ہاتھ اور چہرے کا اثبات ہمارے نزدیک حق ہے، ان کا اصل معلوم ہے لیکن وصف متشابہ ہے۔ اصل کو سمجھنے سے عاجز ہونے کی وجہ سے معتزلہ گمراہ ہوگئے اور صفات کا انکار کر بیٹھے۔

🔹 عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا فرمان

"سيأتي ناس يجادلونكم بشبهات القرآن فخذوهم بالسنن، فإن أصحاب السنن أعلم بكتاب الله.”
(الشريعة للآجري)

🔹 ترجمہ: عنقریب لوگ آئیں گے جو قرآن کے متشابہات پر جھگڑیں گے، تم انہیں سنت سے جواب دو کیونکہ اصحاب السنن قرآن کو زیادہ جانتے ہیں۔

🔹 ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول

"يؤمنون عند محكمه ويهلكون عند متشابهه.”

(المصنف لابن أبي شيبة، وتفسير عبد الرزاق)

🔹 ترجمہ: خوارج قرآن کے محکم پر ایمان لاتے ہیں مگر متشابہات میں ہلاک ہوجاتے ہیں۔

✅ اہل سنت کا منہج

  • صفات باری تعالیٰ کا اثبات:
    قرآن و سنت میں جو صفات وارد ہیں (جیسے استواء، نزول، ید، وجہ وغیرہ)، اہل سنت ان کے ظاہر پر ہی ایمان رکھتے ہیں۔

  • کیفیت کی نفی:
    ان صفات کی کیفیت (کیسی ہے؟ کیونکر ہے؟) ہمیں معلوم نہیں۔ یہی "تفویض” ہے۔

  • محکم اور متشابہ کا تعلق:

    • محکم آیات اصل اور واضح ہیں۔

    • متشابہات کو محکم کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔

    • اہل علم ان کی صحیح تفسیر جانتے ہیں، جیسا کہ ابن عباس، مجاہد، اور جمہور مفسرین نے وضاحت کی۔

  • خوارج و معتزلہ و جہمیہ کا طریقہ:
    انہوں نے صفات کی اصل کو ہی متشابہ کہہ کر رد کردیا، یا ان کی تاویلیں گھڑ لیں۔ یہ طریقہ سلف صالحین کے خلاف ہے۔

🔴 خلاصہ

  • جہمی و بدعتی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ صفاتِ الٰہیہ پر وارد آیات متشابہ ہیں۔

  • تحقیق سے معلوم ہوا کہ سلف و ائمہ نے ان کو محکم آیات قرار دیا، ان کے معنی کو ثابت کیا اور کیفیت کو اللہ کے سپرد کیا۔

  • اکابر ائمہ (امام مالک، امام احمد، امام بخاری، ابن تیمیہ، ابن قیم، ابن کثیر، ابن قدامہ، غزالی، خطابی، بغوی، سرخسی، علاء الدین بخاری وغیرہ) سب نے یہی منہج اپنایا۔

  • متشابہ کو محکم کی طرف لوٹانا ہی اہل سنت کا اصل اصول ہے۔

🌟 نتیجہ

قرآن کی محکم آیات اور صفات باری تعالیٰ پر وارد نصوص کو متشابہ قرار دینا، ان کا انکار یا ان کی تاویل کرنا خوارج، معتزلہ اور جہمیہ کا طریقہ ہے۔
اہل سنت و جماعت کا طریقہ یہ ہے کہ:

  • صفات کو ان کے ظاہر پر محمول کیا جائے۔

  • اصل معنی کو مانا جائے۔

  • کیفیت کو اللہ کے سپرد کیا جائے۔

یہی راستہ نجات یافتہ فرقہ (اہل الحدیث و اہل سنت والجماعت) کا ہے۔

اہل حوالاجات کے سکین

صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 01 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 02 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 03 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 04 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 05 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 06 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 07 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 08 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 09 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 10 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 11 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 12 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 13 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 14 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 15 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 16 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 17 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 18 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 19 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 20 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 21 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 22 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 23 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 24 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 25 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 26 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 27 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 28 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 29 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 30 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 31 صفاتِ الٰہیہ کے ظاہر پر ایمان اہلسنت کا منہج جبکہ ان کی تاویل کرنا جہمی بدعتیوں کا مذہب ہے – 32

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے