سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عمرو اور زید آپس میں بھائی ہیں۔ عمرو کی بیٹی اور زید کا بیٹا دونوں صغیر تھے، صغر سنی میں ان کا نکاح کیا گیا۔ اب لڑکی بالغ ہوچکی ہے جبکہ لڑکا ابھی نابالغ ہے۔ دونوں طرف سے یہ رضامندی ہے کہ اس نکاح کو ختم کرکے لڑکی کا دوسرا نکاح کردیا جائے۔ کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ مذکورہ مسئلہ میں والد کو جو حق اور اختیار حاصل تھا وہ ختم ہوچکا ہے۔ اب اگر وہ عورت جس کا نکاح صغر سنی میں کیا گیا تھا، بالغ ہونے کے بعد اس نکاح کو ختم کرانا چاہتی ہے تو یہ جائز ہے۔ جیسا کہ حدیث پاک میں ہے:
((عن ابن عباس رضى الله عنه أن جارية بكر أتت النبى صلى الله عليه وسلم فذكرت أن أباها زوجها وهى كارهة فخيرهارسول الله صلى الله عليه وسلم.))
رواہ احمد، وابو داود، وابن ماجه
“ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک باکرہ عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح وہاں کیا ہے جہاں وہ ناخوش ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اختیار دے دیا۔”
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب