مضمون کے اہم نکات
صدقے کے آداب و مسائل
اخلاص ضروری ہے:
کسی بھی عمل کی اللہ کی بارگاہ میں قبولیت اسی وقت ہوتی ہے جب وہ اخلاص کے ساتھ سرانجام دیا جاتا ہے۔ صدقہ خیرات کی قبولیت میں بھی یہی معاملہ ہے۔ تھوڑا مال اگر اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے تو وہ اس بہت زیادہ مال سے بہتر ہے جو ریا کاری اور دکھلاوے کے لیے خرچ کیا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ مال کو نہیں، اخلاص کو دیکھتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله لا ينظر إلى صوركم وأموالكم ولٰكن ينظر إلى قلوبكم وأعمالكم
”اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔“
صحیح مسلم: 2564
یعنی اللہ تعالیٰ اخلاص کے ساتھ کیے ہوئے اعمال کو دیکھتا ہے نہ کہ شکل و صورت اور مال و دولت۔ اگر دل میں اخلاص ہو تو عمل قبول کر لیتا ہے ورنہ وہ عمل قبول نہیں ہوتا۔
ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله لا يقبل من العمل إلا ما كان له خالصا وابتغي به وجهه
”بے شک اللہ تعالیٰ صرف اسی عمل کو قبول کرتا ہے جو خالص اس کے لیے کیا جائے اور اس عمل سے اس کی رضا مقصود ہو۔“
إسناده حسن، سنن النسائی: 3142
اس شخص سے بڑا بدبخت کون ہو گا جو ساری زندگی اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہے، لیکن قیامت کے دن جب اس کا صلہ ملنے کا وقت آئے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی بارگاہ سے یہ کہہ کر دھتکار دیں کہ میرے پاس تیرے لیے کچھ نہیں۔ ابوسعد بن ابو فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا جمع الله الأولين والآخرين يوم القيامة ليوم لا ريب فيه نادى مناد من كان أشرك فى عمل عمله لله فليطلب ثوابه من عند غير الله فإن الله أغنى الشركاء عن الشرك
”جب اللہ تعالیٰ روز قیامت، کہ جس دن کے بارے میں کوئی شک نہیں، پہلے اور پچھلے سب لوگوں کو جمع کرے گا تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ جس شخص نے اللہ کے لیے کیے ہوئے عمل میں کسی دوسرے کو شریک کیا، وہ اس کا ثواب غیر اللہ ہی سے طلب کر لے کیونکہ اللہ تعالیٰ دوسرے شریکوں کے مقابلے میں شراکت سے سب سے زیادہ بے نیاز ہے۔“
حسن، سنن ابن ماجه: 4203
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور قیامت کے دن جس شخص کے بارے میں سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ شہید ہو گا، اس کو بلایا جائے گا اور اسے اس کی نعمتیں یاد کروائی جائیں گی۔ جب وہ ان نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں سے کیا کام لیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بولتا ہے، بلکہ تو نے اس لیے قتال کیا تھا تا کہ تو بہادر کہلائے۔ سو تجھے بہادر کہا گیا حتیٰ کہ اسے جہنم میں ڈالنے کا حکم دیا جائے گا۔
اور ایک شخص نے علم حاصل کیا اور لوگوں کو تعلیم دی اور قرآن مجید پڑھا۔ اس کو بلایا جائے گا اور اس کو اس کی نعمتیں دکھائی جائیں گی۔ جب وہ نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں سے کیا کام لیا؟ وہ کہے گا میں نے علم حاصل کیا اور اس علم کو سکھایا اور تیرے لیے قرآن مجید پڑھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بولتا ہے، تو نے قرآن پڑھا تا کہ تجھے قاری کہا جائے سو تجھے قاری کہا گیا، پھر اس کو منہ کے بل جہنم میں ڈالنے کا حکم دیا جائے گا۔ اور ایک شخص پر اللہ نے وسعت کی اور اسے ہر قسم کا مال عطا کیا۔ اس کو قیامت کے دن بلایا جائے گا اور وہ نعمتیں دکھائی جائیں گی اور جب وہ ان نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں سے کیا کام لیا؟ وہ کہے گا: میں نے ہر اس راستے میں مال خرچ کیا جس راستے میں مال خرچ جو تجھے پسند ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بولتا ہے تو نے یہ کام اس لیے کیے تاکہ مجھے سخی کہا جائے، سو تجھ کو سخی کہا گیا، پھر اس کو منہ کے بل جہنم میں ڈالنے کا حکم دیا جائے گا اور اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔
صحیح مسلم: 1905
معلوم ہوا کہ جو شخص اس لیے صدقہ خیرات کرتا ہے کہ لوگ اسے سخی کہیں اور اس کا خوب چرچا اور شہرت ہو تو ایسے شخص کو بجائے اجر و ثواب کے، جہنم کا عذاب ملے گا۔
حلال اور پاکیزہ مال ہی اللہ کی راہ میں خرچ کیجیے
❀ ارشاد باری تعالی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَهُ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ
(2-البقرة:267)
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے خرچ کرو جو تم نے کمائی ہیں اور ان میں سے بھی جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہیں اور اس میں سے گندی چیز کا ارادہ نہ کرو، جسے تم خرچ کرتے ہو، حالانکہ تم خود اسے کسی صورت لینے والے نہیں، مگر یہ کہ اس کے بارے میں آنکھیں بند کر لو اور جان لو کہ بے شک اللہ بڑا بے پروا، بے حد خوبیوں والا ہے۔“
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اپنی پاکیزہ اور حلال کمائی میں سے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ ایسی فضول اور روی قسم کی چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو جنہیں تم خود لینا پسند نہیں کرتے۔ حرام کمائی سے حاصل شدہ مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اللہ کی عظمت اور اس کی شان کے خلاف ہے، کیونکہ اس نے خود حرام کمانے اور کھانے سے منع فرمایا ہے، لہذا اللہ کی نافرمانی کر کے حرام ذرائع سے حاصل شدہ مال اللہ صدقے میں کیسے قبول کر سکتا ہے؟ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ رزق حلال کمانا اللہ کا پہلا حکم ہے اور اسے اللہ کی مرضی کے مطابق خرچ کرنا دوسرا حکم ہے اور یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيها الناس إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم وقال يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يديه إلى السماء يا رب يا رب ومطعمه حرام ومشربه حرام وملبسه حرام وغذي بالحرام فأنى يستجاب لذلك
”اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ پاک چیز کے سوا اور کسی چیز کو قبول نہیں کرتا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا ہے۔ اور فرمایا: اے رسولو! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، میں تمہارے کاموں سے باخبر ہوں۔“ اور فرمایا: ”اے ایمان والو! ہماری عطا کردہ چیزوں میں سے پاک چیزیں کھاؤ۔“ پھر آپ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال غبار آلود ہیں، وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے: یا رب! یا رب! جبکہ اس کا کھانا حرام ہو، اس کا لباس حرام ہو، اس کی غذا حرام ہو تو اس کی دعا کیسے قبول ہوگی۔
(2-البقرة:172) (23-المؤمنون:51) (صحیح البخاری: 91؛ صحیح مسلم: 1015)
یاد رہے کہ حرام مال میں سے کیا گیا صدقہ نہ صرف یہ کہ قبول نہیں ہوتا، بلکہ الٹا ایسے شخص کو گناہ ہوتا ہے جو حرام مال کا صدقہ کرتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أديت زكاة مالك فقد قضيت ما عليك ومن جمع مالا حراما ثم تصدق به لم يكن له فيه أجر وكان إصره عليه
”جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی تو تم نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی اور جس شخص نے حرام مال جمع کیا پھر اس کا صدقہ کر دیا تو اسے اس صدقے کا کوئی اجر نہیں ملے گا بلکہ اس پر اسے گناہ ہو گا۔“
حسن، صحیح ابن خزیمہ: 2471 واللفظ له، سنن ابن ماجه: 1788، سنن الترمذی: 618
چھپا کر صدقہ کریں یا علانیہ؟
چھپا کر صدقہ کرنا زیادہ فضیلت کا حامل ہے کیونکہ اس میں انسان ریا کاری اور دکھلاوے سے بچ جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيِّئَاتِكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(2-البقرة:271)
”اگر تم صدقے ظاہر کرو تو یہ اچھی بات ہے اور اگر انہیں چھپاؤ اور انہیں محتاجوں کو دے دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ اچھا ہے اور یہ تم سے تمہارے کچھ گناہ دور کرے گا اور اللہ اس سے جو تم کر رہے ہو، پوری طرح باخبر ہے۔“
وہ سات خوش نصیب جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انھیں اپنا سایہ عطا کرے گا، ان میں ایک کے بارے میں آپ نے فرمایا:
ورجل تصدق بصدقة فأخفاها حتى لا تعلم شماله ما تنفق يمينه
”وہ آدمی جو صدقہ کرتا ہے اور اسے چھپاتا ہے حتی کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتا نہیں چلتا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔“
صحیح البخاری: 1423
اگر بندے کے دل میں اخلاص ہو اور وہ ریا کاری سے بچتے ہوئے اس نیت سے لوگوں کو دکھا کر صدقہ کرے کہ تا کہ اسے دیکھ کر وہ بھی صدقہ کریں تو یہ بھی اجر و ثواب میں کچھ کم نہیں، بلکہ اگر اسے دیکھ کر دوسرے صدقہ کرتے ہیں تو اسے بھی اچھے کام کی ابتدا کرنے کی وجہ سے سب کا ثواب ملے گا۔ چھپا کر اور علانیہ صدقے کے بارے میں آیت کریمہ ملاحظہ فرمایے:
الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
(2-البقرة:274)
”جو لوگ اپنے مال رات اور دن، چھپا کر اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، نہ ان پر کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے چھپا کر اور علانیہ طور پر صدقہ کرنے والے دونوں کی تعریف کی ہے اور ان کے لیے اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا ہے۔ دونوں کا اپنی اپنی جگہ فائدہ ہے۔ چھپا کر کرنے سے انسان ریا کاری سے بچ جاتا ہے اور علانیہ صدقہ کرنے سے دوسروں کو بھی ترغیب ہوتی ہے اور انسان اچھے عمل کی شروعات کرنے کی وجہ سے بہت سے اجر کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم دن کے ابتدائی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اچانک آپ کے پاس لوگوں کی ایک جماعت آئی۔ جن کے پیر ننگے، بدن ننگے، گلے میں چمڑے کی کفنیاں یا عبائیں پہنے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے۔ ان میں اکثر بلکہ سب قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی غربت دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا، آپ گھر کے اندر گئے، پھر باہر آئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کا حکم دیا۔ حضرت بلال نے اذان دی، پھر اقامت کہی۔ آپ نے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا: ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈر جاؤ۔ لوگوں کو چاہیے کہ درہم، دینار، کپڑے، گیہوں، جو اور کھجور کا ایک صاع صدقہ کریں، خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو۔“ (یہ سن کر) انصار میں سے ایک صحابی تھیلی لے آئے جس کو اٹھانے سے ان کا ہاتھ تھک گیا تھا۔ یہاں تک کہ میں نے کھانے اور کپڑے کے دو ڈھیر دیکھے۔ میں نے دیکھا کہ خوشی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمک رہا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے آپ کا چہرہ سونے کا ہو۔ پھر آپ نے فرمایا: ”جس شخص نے اسلام میں کسی نیک کام کی ابتدا کی اس کو اپنے عمل کا بھی اجر ملے گا اور بعد میں عمل کرنے والوں کے عمل کا بھی اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس نے اسلام میں کسی برے عمل کی ابتدا کی اسے اپنے عمل کا بھی گناہ ہوگا اور بعد میں عمل کرنے والوں کے عمل کا گناہ بھی ہو گا اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔“
صحیح مسلم: 1017
احسان جتلانے سے صدقہ باطل ہو جاتا ہے
❀ ارشاد باری تعالی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى
(2-البقرة:264)
”اے ایمان والو! احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر اپنے صدقے برباد مت کرو۔“
یعنی کسی مسکین، فقیر کو صدقہ دینے کے بعد اسے پریشان کرنا یا اسے اپنا احسان یاد دلا کر اس کی عزت نفس کو مجروح کرنا نہایت سنگین جرم ہے۔ اس سے ایک تو صدقہ باطل ہو جاتا ہے، یعنی اس کا اجر و ثواب ضائع ہو جاتا ہے اور دوسرا ایسا شخص اللہ کے غضب اور عذاب کا حقدار قرار پاتا ہے۔ احسان کر کے جتانے سے تو بہتر ہے کہ بندہ کسی پر احسان ہی نہ کرے۔ کم از کم وہ اس رسوائی سے بچ جائے گا جس کا سامنا اسے قیامت کے دن کرنا ہے۔
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا ينظر إليهم ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم
”تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ کلام کرے گا، نہ نظر رحمت سے انہیں دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“
یہ بات آپ نے تین بار دہرائی۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: نامراد ہوئے اور گھاٹے میں رہے۔ یا رسول اللہ! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا:
المسبل والمنان والمنفق سلعته بالحلف الكاذب
”نخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے والا، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال بیچنے والا۔“
صحیح مسلم: 106
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بیان کردہ حدیث کے الفاظ یوں ہیں:
وثلاثة لا يدخلون الجنة: العاق لوالديه والمدمن على الخمر والمنان بما أعطى الله
”تین شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے: ماں باپ کا نافرمان، ہمیشہ شراب پینے والا اور دے کر احسان جتلانے والا۔“
حسن، سنن النسائی، کتاب الزكاة، باب المنان بما أعطى، ح 2563
اپنی پسندیدہ چیز ہی صدقہ کیجیے
❀ ارشاد باری تعالی ہے:
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ
(3-آل عمران:92)
”تم ہرگز بھلائی نہ پا سکو گے، حتی کہ اس میں سے خرچ کرو جس سے تم محبت رکھتے ہو اور تم جو چیز بھی خرچ کرو گے بے شک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔“
حقیقی صدقہ وہی ہے جو انسان اپنے پسندیدہ مال میں سے کرے۔
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں مسجد میں تشریف لائے، جبکہ آپ کے ہاتھ میں لاٹھی تھی۔ کسی نے ردی قسم کی کھجوروں کا ایک گچھا لٹکا رکھا تھا۔ آپ نے اپنی لاٹھی سے اس گچھے میں ٹھوکا دیا اور فرمایا:
لو شاء رب هذه الصدقة تصدق بأطيب منها وقال إن رب هذه الصدقة يأكل الحشف يوم القيامة
”یہ صدقہ کرنے والا اس سے عمدہ صدقہ بھی کر سکتا تھا۔ یہ شخص قیامت کے روز ردی کھجور ہی کھائے گا۔“
حسن، سنن ابی داود : 1607
معلوم ہوا کہ انسان جس قسم کی چیز صدقہ کرے گا قیامت کے روز اسے ویسا ہی بدلہ ملے گا۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ کے انصاریوں میں باغات کے اعتبار سے سب سے زیادہ مالدار تھے اور انہیں اپنے مال میں سے بیرحاء نامی باغ سب سے زیادہ پسند تھا جو مسجد نبوی کی جانب واقع تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس باغ میں تشریف لے جاتے اور اس کے نفیس پانی کو نوش فرماتے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ….﴾ تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ….﴾ اور مجھے اپنے مال میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ چیز بیرحاء نامی باغ ہے۔ میں اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کے اجر و ثواب سے نوازے گا۔ آپ اس کے بارے میں جو چاہے فیصلہ فرما دیں۔
یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت خوب! بہت خوب! یہ نفع مند مال ہے، یہ نفع مند مال ہے۔ میں نے تمہاری بات سن لی ہے، میری رائے یہ ہے کہ تم یہ باغ اپنے قریبی رشتہ داروں کو دے دو۔“
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں اسی طرح کرتا ہوں، چنانچہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ باغ اپنے قرابت داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔
صحیح البخاری: 1461، صحیح مسلم: 998
❀ ارشاد باری تعالی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَهُ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ
(2-البقرة:267)
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم ان پاکیزہ چیزوں میں سے خرچ کرو جو تم کماتے ہو اور ان میں سے بھی جو ہم نے تمہارے لیے زمین میں سے نکالی ہیں اور (اللہ کی راہ میں) ردی اور خراب چیز خرچ کرنے کا ارادہ نہ کرو، جبکہ تم (خود) وہ چیز لینا بھی پسند نہیں کرتے الا یہ کہ تم اس کے بارے میں چشم پوشی کر جاؤ اور جان لو کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ بے پروا ہے، قابل تعریف ہے۔“
کسی معمولی چیز کے صدقے کو حقیر مت سمجھیے
ہر مسلمان کو اپنی حیثیت کے مطابق اللہ کی راہ میں مال ضرور خرچ کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ یہ نہیں دیکھتے کہ مال کتنا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ تو بندے کا جذبہ اور خلوص دیکھتے ہیں، لہذا کسی کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کوئی معمولی سی چیز ہی کیوں نہ ہو، اسے شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے، نہ گھبرانا چاہیے۔ بلکہ یہ سوچ کر صدقہ کر دینا چاہیے کہ ہو سکتا ہے اللہ اس کے خلوص کو دیکھ کر اس کی یہ چھوٹی سی نیکی قبول فرما لے اور یہ اس کی نجات کا ذریعہ بن جائے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اتقوا النار ولو بشق تمرة
”آگ سے بچ جاؤ، اگر چہ کھجور کا کچھ حصہ (صدقہ کرنے) کے ذریعے ہی ہو۔“
صحیح البخاری: 1413، صحیح مسلم: 1016
حضرت ام بجیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں۔ مسکین میرے دروازے پر آ کھڑا ہوتا ہے اور میرے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا جو میں اسے دوں؟ آپ نے فرمایا:
إن لم تجدي له شيئا تعطينه إياه إلا ظلفا مخرقا فادفعيه إليه فى يده
”اگر تمہیں اسے دینے کے لیے کچھ نہ ملے اور تمہارے پاس بکری کا جلا ہوا کھر ہی ہو تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو۔“
صحیح سنن ابی داود: 1667
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا نساء المسلمات لا تحقرن جارة لجارتها ولو فرسن شاة
”اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی دوسری پڑوسن کے لیے کسی چیز کو حقیر نہ سمجھے، اگر چہ بکری کا کھر ہی ہو۔“
صحیح البخاری: 2566؛ صحیح مسلم: 1030
صدقہ کرنے والے کو لوگوں کے طعنوں یا ان کی باتوں کی پروا نہیں کرنی چاہیے اور یہ بات ذہن میں نہیں لانی چاہیے کہ اگر وہ معمولی سی چیز صدقہ کرے گا تو لوگ دیکھ کر کیا کہیں گے۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب صدقہ کی آیت نازل ہوئی تو ہم لوگوں کا سامان اٹھایا کرتے تھے (تا کہ اس طرح جو مزدوری ملے اسے صدقہ کر دیا جائے)۔ ایک شخص آیا اور اس نے بہت زیادہ مال صدقہ کیا۔ منافقین کہنے لگے: یہ ریا کار ہے۔ پھر ایک شخص آیا اور اس نے ایک صاع صدقہ کیا تو منافقین کہنے لگے: اللہ (اتنے تھوڑے صدقے سے) مستغنی ہے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی:
الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(9-التوبة:79)
”وہ لوگ جو صدقات میں خوش دلی سے حصہ لینے والے ایمانداروں پر طعن کرتے ہیں اور ان پر بھی جو اپنی محنت کے سوا کچھ نہیں پاتے، سو وہ ان سے مذاق کرتے ہیں، اللہ نے ان سے مذاق کیا ہے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔“
صحیح البخاری: 1415؛ صحیح مسلم: 1018
معلوم ہوا کہ لوگ تو کبھی کسی سے خوش نہیں ہوتے اگر کوئی زیادہ مال خرچ کرے تو لوگ کہتے ہیں یہ ریا کار ہے اور اگر کوئی کم مال دے تو لوگ پھر بھی مذاق اڑاتے ہیں۔ اس لیے لوگوں کی باتوں کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے بلکہ اپنی حیثیت کے مطابق صدقہ کرتے رہنا چاہیے۔
ضرورت دیکھ کر صدقہ کیجیے
ہمارے معاشرے میں عموماً جب صدقے کا ذکر ہوتا ہے تو عام لوگوں کے ذہن میں فوراً صدقے کا بکرا آ جاتا ہے۔ لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ صدقہ تو کسی جان کا خون بہانے سے ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ جب کسی کو کوئی پریشانی یا ناگہانی آفت وغیرہ پہنچتی ہے تو وہ صدقے کا بکرا خرید کر کسی قریبی مدرسے وغیرہ میں دے آتے ہیں۔ یہ صدقے کا بکرا اتنا کمزور اور نحیف ہوتا ہے کہ اس کے لیے چلنا بھی مشکل ہوتا ہے اور اس کا گوشت بھی کھانے کے قابل نہیں ہوتا۔ اس لیے بعض مدرسے والے تو ایسے بکرے کو لینے سے ہی انکار کر دیتے ہیں یا ان کی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں اس کی قیمت ادا کر دی جائے لیکن صدقہ کرنے والوں کا اصرار ہوتا ہے کہ انہیں بکرا ہی صدقہ کرنا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ اصرار درست نہیں، بلکہ جیسی کسی کی ضرورت ہو، اس کے ساتھ ویسا ہی تعاون کرنا چاہیے۔ یہ تو عقل مندی نہیں کہ کسی غریب کے پاس ایک روٹی کا آٹا بھی موجود نہ ہو اور اسے گوشت ہی دینے کی ضد کی جائے۔ جہاں تک تعلق ہے اس بات کا کہ جان کا صدقہ ضروری ہے۔ یہ بات بالکل خود ساختہ ہے۔ قرآن وحدیث نے ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی۔ صرف عید الاضحی کے موقع پر جانور ذبح کرنے کا حکم ہے۔ اس کے علاوہ ہر مسلمان کو اختیار ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق غریبوں، محتاجوں اور مسکینوں وغیرہ کے ساتھ تعاون کرے۔
ہمارے ہاں ایک اور صدقہ بڑا عام ہے اور وہ ہے ”چیل گوشت“۔ لاہور میں دریائے راوی کے پل سے اگر صبح صبح گزریں تو نو عمر لڑکے لفافوں میں گوشت لیے کھڑے نظر آتے ہیں اور چیل گوشت، چیل گوشت کی آواز میں لگا رہے ہوتے ہیں۔ صدقے کا خواہشمند اس گوشت کی قیمت ادا کرتا اور وہ گوشت والا گاہک کے سر سے وار کر وہ گوشت دریا میں پھینک دیتا ہے جہاں چیلیں اور کوے وغیرہ اسے کھا لیتے ہیں۔ یوں صدقہ دینے والا یہ سمجھتا ہے کہ اس نے پورے دن کے لیے اپنا صدقہ اتار دیا ہے۔ اب سارا دن اچھا گزرے گا اور کوئی آفت اور مصیبت وغیرہ بھی نہیں آئے گی۔
حالانکہ صدقے کو سر سے وار کر دینے کا اسلام میں کوئی تصور نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ جس ملک میں انسان بھوکے مرتے ہوں اور دو وقت کی روٹی کو ترستے ہوں، وہاں چیلوں کو گوشت کھلانا کوئی عقلمندی نہیں۔ یہ پرندے اپنا رزق خود تلاش کرتے ہیں اور اللہ انہیں کھلاتا ہے۔ انہیں کھلانا ہماری ذمہ داری نہیں ہے اور نہ ہم انہیں کھلا ہی سکتے ہیں۔ البتہ اگر کسی نے کوئی جانور یا پرندہ پال رکھا ہے اور اسے باندھ کر یا قید کر کے رکھا ہے تو پھر اسے کھلانا پلانا مالک کی ذمہ داری ہے۔
ہمارے ہاں شہروں میں صدقے کی ایک اور قسم رائج ہے اور وہ ہے چڑیوں کو آزاد کرنا۔ آدمی چڑیوں کو پنجرے میں بند کر کے سڑکوں پر پھر رہے ہوتے ہیں اور لوگ انہیں پیسے دے کر چڑیاں آزاد کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ انہوں نے ان پرندوں کو آزاد کر کے بڑا ثواب کمایا ہے اور وہ اسے صدقے کا نام دیتے ہیں، حالانکہ یہ آزادی بھی سمجھ سے بالا تر ہے کہ پہلے اس آدمی نے خود پرندوں کو قید کیا ہے اور اب پیسے لے کر انہیں آزاد کر رہا ہے۔ یہ سراسر مذاق ہے۔ صدقے کی ان تمام خود ساختہ صورتوں سے بچتے ہوئے اپنے پاکیزہ مال کو درست مصارف پر خرچ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
دیر کس بات کی؟
صاحب مال کو چاہیے کہ اگر اس کا صدقہ کرنے کا ارادہ ہے تو صدقے میں دیر نہ کرے بلکہ اول فرصت میں پہلے صدقہ کرے اور پھر کوئی دوسرا کام، کیونکہ انسان کو اپنی زندگی کا پتا نہیں کہ کب ختم ہو جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ موت آ جائے اور صدقہ کرنے کا موقع ہی نہ ملے۔ ❀ ارشاد باری تعالی ہے:
وَأَنْفِقُوا مِنْ مَا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُنْ مِنَ الصَّالِحِينَ
(63-المنافقون:10)
”اور اس مال میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمہیں دیا ہے، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے، پھر وہ کہے: اے میرے رب! تو نے مجھے قریب مدت تک مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیک لوگوں میں سے ہو جاتا۔“
معلوم ہوا کہ زندگی کے ایک ایک لمحے کو غنیمت سمجھتے ہوئے نیکی کے کسی کام میں ٹال مٹول سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ جب بھی موقع ملے، اسے کر گزرنا چاہیے ورنہ بعد میں افسوس کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال خرچ کرنے کے حوالے سے کس قدر ذمہ داری کا مظاہرہ فرماتے تھے۔ چند احادیث ملاحظہ ہوں۔
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی، پھر جلدی سے آپ گھر تشریف لے گئے اور تھوڑی دیر بعد واپس تشریف لے آئے۔ اس پر میں نے یا کسی اور نے پوچھا تو آپ نے فرمایا:
كنت خلفت فى البيت تبرا من الصدقة فكرهت أن أبيته فقسمته
”میں گھر میں صدقے کے سونے کا ایک ٹکڑا چھوڑ آیا تھا۔ مجھے یہ بات پسند نہیں آئی کہ اسے تقسیم کیے بغیر رات گزاروں ، لہذا میں نے اسے تقسیم کر دیا۔“
صحیح البخاری: 1430
اندازا کیجیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عوام کو صدقے کے مال کی کتنی فکر تھی کہ نماز کے فوراً بعد جاتے ہیں اور صدقہ تقسیم کر کے مسجد میں واپس بھی تشریف لے آتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لو كان لي مثل أحد ذهبا ما يسرني أن يمر على ثلاث وعندي منه شيء إلا شيء أرصده لدين
”اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو، تب بھی مجھے یہ پسند نہیں کہ تین دن گزر جائیں اور اس سونے کا کوئی بھی حصہ میرے پاس رہ جائے۔ سوائے اس کے جو میں کسی کا قرض دینے کے لیے اپنے پاس رکھ چھوڑوں۔“
صحیح البخاری: 2389؛ صحیح مسلم: 991
صدقہ کرنے والا اپنی صدقہ کی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتا
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو فی سبیل اللہ ایک گھوڑا دیا۔ اس نے اسے ضائع کر دیا (اور اس کی خدمت نہ کی) اس لیے میں نے چاہا کہ اسے خرید لوں۔ میرا یہی خیال تھا کہ وہ اسے سستے داموں بیچ ڈالے گا۔ چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا:
لا تبتعه ولا تعد فى صدقتك وإن أعطاكه بدرهم فإن العائد فى صدقته كالكلب يعود فى قيئه
”اسے مت خریدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو، چاہے وہ تجھے ایک درہم میں دے دے، کیونکہ دیا ہوا صدقہ واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے اسے چاٹ لے۔“
صحیح البخاری: 1490
کتے سے تشبیہ دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت برا کام ہے۔ اس لیے نہ تو صدقہ کی ہوئی چیز واپس لینی چاہیے اور نہ اسے قیمتاً خریدنا چاہیے۔
کسی مالدار سے صدقے کی سفارش کرنے سے صدقہ کا ثواب ملتا ہے
اگر کوئی مسلمان کسی اچھے کام میں مال خرچ کرنا چاہتا ہے یا اس کے پاس کوئی صدقے کا مستحق مسکین آ جاتا ہے اور اس کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں تو اسے چاہیے کہ کسی مالدار کے پاس جا کر اس کی سفارش کر دے۔ اسے بتائے کہ میں اسے جانتا ہوں اور یہ واقعی صدقے کا حقدار ہے۔ اس طرح سفارش کرنے والے کو بھی صدقہ کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا۔
❀ ارشاد باری تعالی ہے:
مَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُنْ لَهُ نَصِيبٌ مِنْهَا
(4-النساء:85)
”جو کوئی اچھی سفارش کرے گا، اس کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہو گا۔“
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اگر کوئی مانگنے والا آتا یا آپ کے سامنے کوئی حاجت پیش کی جاتی تو آپ صحابہ سے فرماتے:
اشفعوا توجروا
”سفارش کرو، اجر پاؤ۔“
صحیح البخاری: 1432، صحیح مسلم: 2627
بیوی اپنے شوہر کے مال میں سے صدقہ کرے تو ثواب دونوں کو ملے گا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أنفقت المرأة من طعام بيتها غير مفسدة كان لها أجرها بما أنفقت ولزوجها أجره بما كسب وللخازن مثل ذلك لا ينقص بعضهم أجر بعض شيئا
”اگر عورت اپنے شوہر کے مال سے کچھ خرچ کرے اور اس کی نیت شوہر کا مال برباد کرنا نہ ہو تو اسے خرچ کرنے کا ثواب ملے گا اور شوہر کو بھی اس کا ثواب ملے گا، کیونکہ اس نے کمایا ہے اور خزانچی کو بھی اس کا ثواب ملے گا۔ ایک کا ثواب دوسرے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔“
صحیح البخاری: 1425؛ صحیح مسلم: 1024
لیکن عورت کو یہ ثواب اس صورت میں ملے گا جب شوہر نے اسے اپنا مال خرچ کرنے کی عام اجازت دے رکھی ہو۔ اگر شوہر کا مال چوری کر کے صدقہ کرے گی تو گناہگار ہوگی۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر خطبہ دیا تو اس میں آپ نے فرمایا:
لا يجوز لامرأة عطية إلا بإذن زوجها
”کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر کوئی تحفہ یا عطیہ دے۔“
سنن النسائی: 2541؛ سنن ابی داود: 3547
یاد رہے کہ اس سے مراد خاوند کے مال میں سے عطیہ یا صدقہ کرنا ہے، ورنہ اگر عورت اپنے مال میں سے صدقہ دینا چاہے تو خاوند سے اجازت ضروری نہیں۔
خزانچی کو بھی اپنے مالک کا مال خرچ کرنے کا ثواب ہوتا ہے
اگر کوئی مالدار شخص اپنے خزانچی کو صدقہ کرنے کا کہے اور وہ اسے صدقہ دے جسے مالک نے دینے کا حکم دیا ہے اور خیانت بھی نہ کرے بلکہ پورا پورا مال خرچ کرے تو خزانچی کو بھی صدقے کا ثواب ملے گا۔
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الخازن المسلم الأمين الذى ينفذ وربما قال يعطي ما أمر به كاملا موفرا طيبة به نفسه فيدفعه إلى الذى أمر له به أحد المتصدقين
”مسلمان امانت دار خزانچی جو مالک کے حکم کے مطابق خوش دلی سے پورا پورا دے، اور جس کے متعلق کہا گیا ہے اسے ہی دے تو وہ دو صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے۔“
صحیح البخاری: 1438، صحیح مسلم: 1023
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان امانت دار خزانچی کو صدقے کا ثواب اس وقت ہو گا جب چار شرطیں موجود ہوں گی:
(1) مالک کی اجازت
(2) خوشی سے دینا
(3) پورا پورا دینا
(4) اور اسے دینا جس کے بارے میں مالک نے حکم دیا ہے۔
اگر ان چار شرطوں میں سے کوئی شرط خزانچی میں نہیں پائی جاتی تو پھر وہ ثواب سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ گناہ کا مرتکب بھی ہو گا۔
گن گن کر مت دیجیے ورنہ اللہ بھی گن گن کر دے گا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے) کئی مساکین کو شمار کیا یا کئی صدقات کو گنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أعطي ولا تحصي فيحصى عليك
”دو اور گنو نہیں، ورنہ تمہیں بھی گن گن کر دیا جائے گا۔“
صحیح، سنن ابی داود: 1700
اللہ تعالیٰ بندے کو بغیر گنے اور بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔ اس لیے بندے کو بھی اللہ کی راہ میں گن گن کر خرچ نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ جہاں ضرورت پڑے، ٹال مٹول اور حساب کتاب کیے بغیر اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے اور اللہ سے امید رکھنی چاہیے کہ وہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کرے گا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صدقات کو شمار کر رہی تھیں کہ فلاں کو اتنا دیا، فلاں کو اتنا دیا تو آپ نے یہ سن کر مذکورہ بالا بات ارشاد فرمائی۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ خیرات کا حساب کتاب لگانا اچھی بات نہیں۔ بس بندہ ذہن میں یہ بات رکھے کہ اللہ ہی نے اسے دیا تھا اور جتنا اس کے بس میں تھا اس نے اس کی راہ میں خرچ کر دیا۔ اسے گننے کی ضرورت نہیں کہ اس نے کتنا خرچ کیا۔ جیسے کسی نے اللہ کی نعمتوں کو بھی تو کبھی شمار نہیں کیا۔
اگر مالدار کو صدقے کی چیز بطور تحفہ ملے تو اس کا استعمال جائز ہے
ویسے تو مالدار یا غنی کے لیے جائز نہیں کہ وہ صدقہ لے یا صدقے کی کوئی چیز استعمال کرے، لیکن کوئی ایسا شخص جو صدقے کا مستحق ہو اور اس کے پاس لوگوں کا دیا ہوا صدقے کا مال ہو، وہ اگر کسی مالدار کو بطور تحفہ اس مال میں سے کچھ دے دے تو اس کا استعمال اس کے لیے جائز ہے، کیونکہ وہ صدقہ تو اس مستحق کے لیے تھا اس مالدار کے لیے تو تحفہ ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وہ گوشت پیش کیا گیا جو بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقے کے طور پر ملا تھا۔ آپ نے فرمایا:
هو عليها صدقة وهو لنا هدية
”یہ اس پر صدقہ تھا لیکن ہمارے لیے یہ ہدیہ ہے۔“
صحیح البخاری: 1495؛ صحیح مسلم: 1074
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے اور پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ نہیں، صرف بریرہ کے بھیجے ہوئے بکری کے گوشت کے سوا کوئی چیز نہیں جو انہیں صدقہ کے طور پر ملی ہے۔ تو آپ نے فرمایا:
إنها قد بلغت محلها
”صدقہ تو اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیا۔“
صحیح البخاری: 1494؛ صحیح مسلم: 1076
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مطلب وہی ہے جو اوپر والی حدیث کا ہے۔ صدقہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیا، یعنی جس کو صدقہ ملا اس نے اسے بطور صدقہ لے لیا لیکن اب اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو بطور ہدیہ دیا ہے، جس کا استعمال ان کے لیے حلال ہے۔
صدقہ میں دی ہوئی چیز وراثت میں مل جائے تو اسے واپس لینا جائز ہے
سابقہ صفحات میں یہ مسئلہ گزر چکا ہے کہ صدقہ دینے کے بعد اسے واپس لینا یا خریدنا جائز نہیں۔ لیکن ماں باپ کو صدقے میں دی ہوئی چیز اگر ورثہ بن کر صدقہ کرنے والے کو واپس مل جائے تو یہ لینا جائز ہے۔
سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی صدقہ کے طور پر دی تھی۔ اب والدہ فوت ہو گئی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أجارك الله ورد عليك الميراث
”اللہ نے تجھے (صدقے کا) اجر دے دیا اور وہ لونڈی وراثت کے طور پر تیرے پاس واپس آ گئی۔“
صحیح سنن ابن ماجه: 2394
اسی سے ملتا جلتا ایک واقعہ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میں نے اپنی والدہ کو اپنا ایک باغ دیا تھا۔ اب وہ فوت ہو گئی ہیں اور میرے علاوہ کوئی وارث چھوڑ کر نہیں گئیں۔ آپ نے فرمایا:
وجبت صدقتك ورجعت إليك حديقتك
”تجھے تیرے صدقے کا ثواب مل گیا اور تیرا باغ تیرے پاس واپس آ گیا۔“
صحیح سنن ابی ماجہ : 2395
کن لوگوں کو صدقہ دینا درست نہیں
مالدار اور صحیح الاعضاء آدمی جو خود کما کر اپنا گزارا کر سکتا ہو، اس کو صدقہ دینا جائز نہیں اور ایسے شخص کو خود بھی خیال کرنا چاہیے کہ اگر کوئی انجانے میں اسے صدقہ کی پیش کش کرے تو اسے لینے سے انکار کر دینا چاہیے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تحل الصدقة لغني ولا لذي مرة سوي
”صدقہ کسی غنی کے لیے حلال نہیں اور نہ کسی طاقت ور صحیح سالم کے لیے۔“
حسن، سنن أبی داود کتاب الزكاة، باب من يعطى من الصدقة وحد الغني، ح 1634
عبید اللہ بن عدی بن خیار بیان کرتے ہیں کہ مجھے دو آدمیوں نے بتایا کہ وہ دونوں حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جبکہ آپ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے بھی آپ سے صدقے کی درخواست کی۔ آپ نے ہمیں اوپر سے نیچے (سر سے پاؤں) تک دیکھا۔ آپ نے دیکھا کہ ہم دونوں طاقت ور ہیں، تو آپ نے فرمایا:
إن شئتما أعطيتكما ولا حظ فيها لغني ولا لقوي مكتسب
”اگر تم چاہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں مگر (یاد رکھو) اس میں غنی اور طاقتور، کما کر کھا سکنے والے کا کوئی حصہ نہیں۔“
صحيح سنن أبي داود كتاب الزكاة ، باب من يعطى من الصدقة وحد الغنى. ح 1633 ، سنن النسائي : 2599
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل کے لیے صدقات حلال نہیں ہیں۔ آپ کی آل میں بنو ہاشم اور بنو مطلب آتے ہیں۔
عبد المطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن هذه الصدقات إنما هي أوساخ الناس وإنها لا تحل لمحمد ولا لآل محمد
”یہ صدقات تو لوگوں کے مال کا میل کچیل ہے، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد کے لیے حلال نہیں۔“
صحیح مسلم: 1072
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے کے مال سے خود بھی بچتے تھے اور اپنی اولاد کو بھی بچنے کی تلقین کرتے تھے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں پڑی ہوئی ایک کھجور دیکھی تو فرمایا:
لولا أني أخاف أن تكون من الصدقة لأكلتها
”اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ یہ صدقے کی ہوگی تو میں اسے ضرور کھا لیتا۔“
صحيح البخاری : 2055، صحیح مسلم: 1071
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لی اور اسے منہ میں ڈال لیا تو آپ نے فرمایا: ”کھاؤ کھاؤ“ پھر فرمایا:
أما شعرت أنا لا نأكل الصدقة
”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے؟“
صحیح البخاری: 1491؛ صحیح مسلم: 1069
پانچ قسم کے غنی جن کے لیے صدقہ لینا جائز ہے
عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ (تابعی) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تحل الصدقة لغني إلا لخمسة: لغاز فى سبيل الله أو لعامل عليها أو لغارم أو لرجل اشتراها بماله أو لرجل كان له مسكين فتصدق على المسكين فأهداها المسكين للغني
”پانچ قسم کے اشخاص کے سوا کسی مالدار کے لیے صدقہ حلال نہیں:
(1) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا
(2) صدقات وصول کرنے والا
(3) تاوان بھرنے والا
(4) جو اپنے مال سے صدقے کی چیز خرید لے
(5) اور وہ شخص جس کا پڑوسی مسکین ہوا سے صدقہ دیا گیا ہو اور وہ مسکین اس میں سے مالدار کو ہدیہ دے دے۔“
صحیح سنن ابی داود: 1635؛ الموطا: 608
مجاہد بذات خود جتنا بھی امیر ہو، لیکن جہاد فی سبیل اللہ میں وہ صدقہ لے سکتا ہے۔ اسی طرح ایک امیر شخص کو کوئی چٹی بھرنی پڑ جائے تو اس کے لیے بھی وہ صدقہ لے سکتا ہے۔ چٹی بھرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص فریقین کا جھگڑا ختم کرانے کے لیے ایک فریق کی طرف سے ادائیگی کی ذمہ داری لے اور بعد میں وہ رقم اسی کو دینی پڑ جائے۔ چوتھے نمبر پر اپنے مال سے صدقے کی چیز خریدنے کا ذکر ہے، یاد رہے کہ یہ کسی دوسرے کی طرف سے صدقہ کی ہوئی چیز ہے، جو یہ خرید سکتا ہے۔ اپنی صدقہ کی ہوئی چیز کو خود خریدنا جائز نہیں ہے۔ (جیسا کہ یہ مسئلہ تفصیلاً گزر چکا ہے۔)
صدقے کا سوال کس کے لیے جائز ہے اور کس کے لیے نہیں
مسلمان معاشرے میں بہت سے ضرورت مند اور مسکین قسم کے لوگ ہوتے ہیں جن کا گزر بسر بڑی مشکل سے ہو رہا ہوتا ہے، لیکن وہ سفید پوشی کی وجہ سے کسی سے مانگتے نہیں۔ مالدار اور صاحب حیثیت لوگوں کو چاہیے کہ اپنے قرب و جوار میں ایسے لوگوں کو خود تلاش کریں اور ان کے ساتھ مالی تعاون کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو صدقات و خیرات کے مصارف میں بیان فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ
(2-البقرة:273)
”صدقات ان محتاجوں کے لیے ہیں جو اللہ کے راستے میں روکے ہوئے ہیں، زمین میں سفر نہیں کر سکتے، ناواقف انہیں سوال نہ کرنے کی وجہ سے مالدار سمجھتا ہے۔ آپ انہیں ان کے چہروں سے پہچان لیں گے۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے اور تم خیر میں سے جو خرچ کرو گے، اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔“
ایسے فقراء اور محتاج لوگوں کے ساتھ اگر لوگ خود تعاون نہیں کرتے تو اس صورت میں ان کے لیے سوال کرنا جائز ہے لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ صرف اتنی دیر تک انہیں مانگنے کی اجازت ہے جب تک ان کی ضرورت پوری نہیں ہو جاتی یا گزر بسر درست نہیں ہو جاتا۔ اگر ضرورت پوری ہو جانے کے بعد بھی مانگتے رہیں تو یہ جائز نہیں بلکہ وہ مال ان کے لیے حرام شمار ہو گا۔
قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی کی ضمانت کی ذمہ داری اٹھائی، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تا کہ اس کے لیے آپ سے سوال کروں۔ آپ نے فرمایا: ”تم ٹھہرو حتی کہ میرے پاس صدقہ آ جائے تو پھر ہم تمہیں صدقہ دینے کا حکم دیں گے۔“ پھر آپ نے فرمایا:
يا قبيصة إن المسألة لا تحل إلا لأحد ثلاثة: رجل تحمل حمالة فحلت له المسألة حتى يصيبها ثم يمسك ورجل أصابته جائحة اجتاحت ماله فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش أو قال سدادا من عيش ورجل أصابته فاقة حتى يقوم ثلاثة من ذوي الحجى من قومه لقد أصابت فلانا فاقة فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش أو قال سدادا من عيش فما سواهن من المسألة يا قبيصة سحتا يأكلها صاحبها سحتا
”اے قبیصہ! صرف تین قسم کے اشخاص کے لیے سوال کرنا جائز ہے: وہ آدمی جس نے ضمانت دی ہو تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے حتی کہ وہ اسے ادا کر دے اور پھر سوال نہ کرے۔ ایک وہ آدمی جس کو ایسی آفت آ جائے کہ وہ اس کے مال کو تباہ کر دے تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے حتی کہ وہ اپنی گزر بسر درست کر لے اور ایک اس آدمی کے لیے سوال کرنا جائز ہے جو فاقہ میں مبتلا ہو حتی کہ اس کی قوم میں سے تین سمجھدار آدمی گواہی دے دیں کہ فلاں آدمی واقعی فاقے میں مبتلا ہے تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے حتی کہ وہ اپنی گزر بسر درست کر لے اور اے قبیصہ! ان تین کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے اور اگر کوئی سوال کرتا ہے تو وہ حرام کھاتا ہے۔“
صحیح مسلم: 1044
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف احادیث میں بلاوجہ سوال کرنے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بے حد مذمت بیان فرمائی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما يزال الرجل يسأل الناس حتى يأتى يوم القيامة ليس فى وجهه مزعة لحم
”آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے حتی کہ جب وہ روزِ قیامت پیش ہو گا تو اس کے چہرے پر کوئی گوشت نہیں ہوگا۔“
صحيح البخاري. 174؛ صحيح مسلم 1040
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سأل الناس أموالهم تكثرا فإنما يسأل جمرا فليستقل أو ليستكثر
”جو شخص مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے ان کے مال کا سوال کرتا ہے، وہ (آگ کے) انگارے مانگ رہا ہے، وہ کم مانگے یا زیادہ۔“
صحیح مسلم: 1041
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المسألة كدوح يكدح بها الرجل وجهه فمن شاء أبقى على وجهه ومن شاء ترك إلا أن يسأل الرجل ذا سلطان أو فى أمر لا يجد منه بدا
”سوال کرنا نوچنا ہے، اس سے انسان اپنا چہرہ نوچتا ہے۔ چنانچہ جو چاہے انہیں اپنے چہرے پر باقی رکھے اور جو چاہے اسے ترک کر دے۔ البتہ اگر کوئی بادشاہ سے سوال کرنے یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس میں مانگے بغیر چارہ ہی نہ ہو تو پھر سوال کرنا جائز ہے۔“
صحيح ، سنن ابو داود: 1639؛ سنن الترمذی: 681
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے جو ضرورت کے وقت بھی سوال سے بچتے ہیں۔
ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من تكفل لي أن لا يسأل الناس شيئا فأتكفل له بالجنة
”جو شخص مجھے ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے سوال نہیں کرے گا، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“
صحيح، سنن ابو داود: 1643؛ سنن النسائی: 2591
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لأن يأخذ أحدكم حبله فيأتي بحزمة حطب على ظهره فيبيعها فيكف الله بها وجهه خير له من أن يسأل الناس أعطوه أو منعوه
”اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی رسی لے کر اپنی پشت پر لکڑیوں کا گٹھا لا کر فروخت کرے اور اس طرح اللہ اس کے چہرے کو مانگنے کی رسوائی سے بچا لے، تو یہ اس کے لیے لوگوں سے سوال کرنے سے بہتر ہے۔ ممکن ہے کہ وہ اسے کچھ دیں یا نہ دیں۔“
صحيح البخاری: 1471
حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے کچھ مانگنے لگا۔ آپ نے اسے دے دیا، جب اس نے اپنا پاؤں دروازے کی دہلیز پر رکھا تو آپ نے فرمایا:
لو تعلمون ما فى المسألة ما مشى أحد إلى أحد يسأله شيئا
”اگر تم مانگنے کی قباحت یا گناہ جان لو تو تم میں سے کوئی کسی کے پاس کچھ بھی مانگنے نہ جائے۔“
حسن ، سنن النسائي، كتاب الزكاة، باب المسالة، حديث: 2587
صدقہ فطر
صدقہ فطر اس صدقے کو کہتے ہیں جو رمضان مبارک کے اختتام پر عید الفطر کی نماز سے پہلے ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ ہر مسلمان چھوٹے بڑے، مرد عورت، غلام اور آزاد پر فرض ہے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کو فرض قرار دیا ہے، ایک صاع کھجور یا جو ہر مسلمان مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے اور حکم دیا کہ نماز کے لیے جانے سے پہلے پہلے اسے ادا کر دیا جائے۔
صحیح البخاری: 1503
صدقہ فطر کا مقصد اور حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ اس سے ایک تو روزے داروں کے رمضان مبارک میں کیے گئے گناہ معاف ہوتے ہیں اور دوسرے اس کے ذریعے غریبوں اور مسکینوں کی مدد ہو جاتی ہے اور وہ بھی عید کی خوشیوں میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ شریک ہو جاتے ہیں۔
❀ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين فمن أداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة ومن أداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے دار کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے صدقہ فطر کو فرض کیا ہے، لہذا جس نے اسے عید کی نماز سے پہلے ادا کیا، اس کا صدقہ قبول ہوا اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ عام صدقات کی طرح ایک صدقہ ہے (صدقہ فطر نہیں ہے)۔“
حسن، سنن ابن ماجه: 1827؛ سنن أبی داود: 1609
حدیث میں ایک صاع گندم یا جو کا ذکر ہے۔ صاع کی مقدار ہمارے موجودہ وزن کے پیمانوں کے مطابق تقریباً اڑھائی کلو بنتی ہے، لہذا مسلمان جو بھی اناج استعمال کرتا ہو مثلاً گندم، جو، چاول، چنے، مکئی یا دیگر اجناس وغیرہ اڑھائی کلو کے حساب سے ہر فرد کی طرف سے اسے ادا کر دے اور جن کے پاس اناج گھر میں موجود نہ ہو، جیسا کہ اکثر شہروں میں ہوتا ہے، تو وہ اناج کی قیمت بھی ادا کر سکتے ہیں، لیکن افضل و بہتر جنس میں سے ادا کرنا ہی ہے اور کوشش کرنی چاہیے کہ عید سے ایک دو دن پہلے ہی یہ رقم مسکینوں تک پہنچا دی جائے تاکہ وہ عید کی تیاری کر سکیں۔ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اسے عید سے ایک دو دن پہلے ہی ادا کر دیا کرتے تھے۔
صحیح مسلم: 986، سنن أبي داود : 1610