صدقۂ فطر کی فرضیت اور فضیلت صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔

صدقة الفطر :۔

رمضان المبارک کے روزوں میں بسا اوقات ہم سے کوتاہی و لغزش صادر ہو جاتی ہے جس کے ازالے کے لیے صدقہ فطر فرض قرار دیا گیا ہے اور اس کی ادائیگی سے غرباء و مساکین، فقراء و حاجت مندوں کی مدد بھی ہو جاتی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ :
فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكوة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث و طعمة للمساكين من أداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة ومن أداها بعد الصلوة فهي صدقة من الصدقات
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر روزے دار کو لغو اور شہوت انگیز گفتگو سے پاک کرنے کے لیے اور مساکین کے کھانے کا انتظام کرنے کے لیے فرض قرار دیا ہے۔ جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کیا اس کا صدقہ مقبول ہے اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔“
ابو داود كتاب الزكوة باب زكوة الفطر (1609)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكوٰة الفطر صاعا من تمر او صاعا من شعير على العبد والحر والذكر والأنثى والصغير والكبير من المسلمين وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مسلمانوں کے غلام آزاد مرد عورت چھوٹے اور بڑے پر فرض کیا ہے اور لوگوں کے نماز عید کی طرف نکلنے سے پہلے اس کی ادائیگی کا حکم فرمایا۔“
مشكوة (1815) ، بخارى كتاب الزكاة باب فرض صدقۃ الفرض (1503)
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
كنا نخرج زكوة الفطر صاعا من طعام أوصاعا من شعير أو صاعا من تمر أوصاعا من أقط أو صاعا من زبيب
”ہم عہد نبوی میں صدقہ فطر ایک صاع غلہ یا ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع منقہ نکالا کرتے تھے۔“
مشكوة (1816) ، بخاری كتاب الزكاة (1507) ، مسلم كتاب الزكاة (985)
مذکور بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ صدقہ فطر ہر مسلمان پر فرض ہے خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا، مرد ہو یا عورت آزاد ہو یا غلام اور جو چیز زیر استعمال ہو اس میں سے نکالنا چاہیے۔ اس کی مقدار ایک صاع ہے جس کا وزن تقریباً ڈھائی کلو (یا سوا دو کلو) ہے اور اس کی ادائیگی نماز عید سے پہلے ہونی چاہیے۔ اس کی ادائیگی نماز عید سے چند دن پہلے بھی ہو سکتی ہے۔
صحیح بخاری (1511) میں ہے :
وكانوا يعطون قبل الفطر بيوم أو يومين
”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے صدقہ فطر دیتے تھے۔“
اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو جب صدقہ فطر پر محافظ مقرر کیا گیا اور شیطان تین راتیں مسلسل اس ڈھیر سے چوری کے لیے آتا رہا۔ بالآخر اس نے آیت الکرسی کے بارے میں بتا کر جان چھڑائی۔ ملاحظہ ہو مشکوۃ :2123 ، بخاری : 2311 یہ حدیث بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صدقہ فطر عید سے چند روز قبل بھی جمع کیا جا سکتا ہے۔