صدقۂ فطر، زکاۃ کی ادائیگی اور مصارفِ زکاۃ کا جامع بیان

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل زکوٰۃ کے مسائل:جلد 01: صفحہ 297
مضمون کے اہم نکات

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
صدقۂ فطر کا بیان

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صدقۂ فطر (فطرانہ) کا تعلق ماہِ رمضان المبارک سے ہے۔ اسے “صدقۂ فطر” اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ روزوں کی تکمیل کے بعد ادا کیا جاتا ہے۔

صدقۂ فطر کی فرضیت (لازم ہونا) کتاب و سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿قَد أَفلَحَ مَن تَزَكّىٰ ﴿١٤﴾… سورة الاعلىٰ
"بے شک فلاح پا گیا وہ جو پاک ہوا۔” [الاعلیٰ 14/87]

بعض سلف صالحین کے نزدیک یہاں "تَزَكّىٰ” سے مراد صدقۂ فطر ادا کرنا ہے۔ نیز آیت "وَآتُوا الزَّكَاةَ” کے عمومی حکم میں بھی صدقۂ فطر شامل ہے۔

حدیثِ نبوی میں ہے:

"فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، عَلَى العَبْدِ وَالحُرِّ، وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى، وَالصَّغِيرِ وَالكَبِيرِ، مِنَ المُسْلِمِينَ”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۂ فطر (فطرانہ) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو (وغیرہ) مسلمان غلام و آزاد، مرد و عورت، چھوٹے و بڑے سب پر فرض قرار دیا۔” [صحیح البخاری صدقۃ الفطر باب فرض صدقۃ الفطر حدیث 1503، وصحیح مسلم الزکاۃ باب زکاۃ الفطر علی المسلمین من التمر والشعیر حدیث 984]

علمائے کرام نے اس مسئلے پر اہلِ اسلام کا اجماع بھی نقل کیا ہے۔

(1) صدقۂ فطر کی مشروعیت کی حکمت

① صدقۂ فطر کی مشروعیت میں یہ حکمت بیان کی گئی ہے کہ انسان کی طبعی کمزوریوں کے باعث روزے دار کے روزوں میں جو لغزشیں، گناہ اور لغویات واقع ہو جاتی ہیں، ان کے اثرات زائل ہو جاتے ہیں، روزے دار پاک صاف ہو جاتا ہے۔
② ساتھ ہی مساکین کے لیے کھانے کا انتظام ہو جاتا ہے۔
③ نیز روزوں کی تکمیل پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا ہوتا ہے۔

(2) مشروعیت کی حکمت کی مزید تاکید

② (یہی مضمون تاکید کے طور پر دوبارہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ) بشری کمزوریاں روزے میں لغویات اور گناہوں کا سبب بن سکتی ہیں، صدقۂ فطر سے ان کے آثار ختم ہوتے ہیں اور روزے دار پاک صاف ہوتا ہے، مساکین کے کھانے کا بندوبست ہوتا ہے، اور رمضان کے اختتام پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جاتا ہے۔

(3) کن افراد پر صدقۂ فطر فرض ہے؟

③ صدقۂ فطر ہر مسلمان پر فرض ہے، خواہ:
◈ مرد ہو یا عورت
◈ بچہ ہو یا بالغ
◈ آزاد ہو یا غلام
جیسا کہ اوپر حدیث میں صاف طور پر ذکر ہو چکا ہے۔ [صحیح البخاری حدیث 1503، صحیح مسلم حدیث 984]

(4) مقدار اور جنس (کون سی چیز دینی ہے)

④ صدقۂ فطر کی مقدار “ایک صاع نبوی” ہے۔
جہاں تک جنس (چیز) کا تعلق ہے تو وہ ایسی کوئی بھی ایک چیز دی جا سکتی ہے جو اس علاقے کے لوگوں کی عام خوراک ہو، مثلاً:
◈ گندم
◈ جو
◈ کھجور
◈ منقیٰ
◈ پنیر
◈ چاول
◈ مکئی وغیرہ

(5) صدقۂ فطر ادا کرنے کا افضل وقت

⑤ صدقۂ فطر کا بہترین وقت یکم شوال (عید) کی رات غروبِ آفتاب سے لے کر نمازِ عید سے پہلے تک ہے۔
البتہ عید سے ایک یا دو دن پہلے بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔

صحیح بخاری میں آیا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین عید سے ایک دو دن پہلے فطرانہ ادا کر دیتے تھے۔ [صحیح البخاری صدقۃ الفطر باب فرض صدقہ الفطر حدیث 1503، وصحیح مسلم الزکاۃ باب زکاۃ الفطر علی المسلمین من التمر والشعیر حدیث 984]

یعنی اس مسئلے میں ان کا یہ طرزِ عمل گویا اجماع کی حیثیت رکھتا ہے۔

(6) نمازِ عید سے پہلے دینا، اور تاخیر کی صورت

⑥ افضل یہی ہے کہ صدقۂ فطر نمازِ عید سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ اگر کوئی شخص کسی عذر کی بنا پر نمازِ عید سے پہلے ادا نہ کر سکا تو عید کے بعد بطورِ قضا ادا کر دے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

"أدَّاهَا قَبلَ الصَّلَاةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقبُولَةٌ، وَمَن أدَّاهَا بَعدَ الصَّلَاةِ فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ”
"جس نے نمازِ عید سے پہلے صدقۂ فطر ادا کیا تو وہ مقبول زکاۃ ہے، اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔” [سنن ابن داود الزکاۃ باب زکاۃ الفطر حدیث 1609]

اور جو شخص مقرر وقت میں بلاعذر تاخیر کرے، وہ ضرور گناہ گار ہوگا، کیونکہ اس میں حکمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ہے۔

(7) اپنی طرف سے اور زیرِ کفالت افراد کی طرف سے

⑦ مسلمان اپنی طرف سے بھی صدقۂ فطر ادا کرے اور جن کے نان و نفقہ کا وہ ذمہ دار ہے، مثلاً:
◈ بیویاں
◈ اولاد
◈ اور دیگر زیرِ کفالت اقارب
ان سب کی طرف سے بھی صدقۂ فطر ادا کرے۔

اس کی دلیل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے:

"أن النبي صلى الله عليه وسلم فرض زكاة الفطر على الصغير والكبير، والذكر والأنثى، مِمَّن تمونون”
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۂ فطر ہر چھوٹے بڑے اور ہر مرد و عورت پر (بالخصوص) ان میں سے جن کا تم نان و نفقہ اٹھاتے ہو، فرض کیا ہے۔” [سنن الدارقطنی 2/140۔141۔حدیث 2058۔2059]

(8) حمل والے بچے کا صدقۂ فطر

⑧ جو بچہ ابھی حمل میں ہو، اس کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا مستحب ہے۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہی عمل تھا۔

(9) دوسرے کی طرف سے ادا کرنا

⑨ اگر کسی شخص نے کسی دوسرے کی جانب سے صدقۂ فطر ادا کرنے کی ذمہ داری لے لی، لیکن وہ دوسرا شخص اس کے اجازت کے بغیر خود ہی اپنا فطرانہ ادا کر دے، تو یہی ادا کرنا کافی ہوگا، کیونکہ اصل میں فطرانہ اس دوسرے پر فرض تھا، ذمہ دار پر نہیں۔

اور اگر کوئی شخص ایسے آدمی کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرے جس کا نفقہ اس کے ذمہ نہیں تھا، تو یہ تب درست ہوگا جب اس نے اجازت دی ہو۔ اگر اجازت کے بغیر ادا کیا گیا تو وہ ادا نہیں ہوگا۔

(10) صدقۂ فطر کی اجناس کے بارے میں ابن قیم رحمہ اللہ کا بیان

⑩ یہاں ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کا وہ کلام ذکر کیا جاتا ہے جو انہوں نے صدقۂ فطر کی اجناس کے متعلق فرمایا:

“حدیث میں پانچ اجناس یعنی گندم، جو، کھجور، منقیٰ اور پنیر کا ذکر آیا ہے۔ یہ اہلِ مدینہ کی عام خوراک تھی۔ اگر کسی علاقے کی خوراک ان اجناس کے علاوہ ہو تو وہی چیزیں ایک صاع کی مقدار میں صدقۂ فطر ادا کریں گے، مثلاً دودھ، گوشت یا مچھلی وغیرہ۔ یہ جمہور علماء کا قول ہے اور یہی درست ہے، کیونکہ صدقۂ فطر کا مقصد عید کے دن مساکین کو کھانا مہیا کرنا ہے، اور یہ مقصد ہر علاقے میں وہاں کی خوراک کے ذریعے زیادہ بہتر طور پر حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا صدقۂ فطر میں آٹا دینا بھی درست ہے اگرچہ اس بارے میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں۔ پکی ہوئی روٹی یا تیار کھانا دینا اگرچہ مساکین کے لیے زیادہ مفید ہے اور ان کی مشقت کم ہو جاتی ہے، لیکن غلہ اور اناج بہتر ہے کیونکہ اسے ذخیرہ بھی کیا جا سکتا ہے۔” [اعلام الموقعین 3/15]

(11) ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا بیان

⑪ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

“اگرچہ حدیث میں (پانچ) مقرر اجناس مذکور ہیں، لیکن مناسب یہی ہے کہ صدقۂ فطر میں وہ جنس ادا کی جائے جو اس علاقے کے لوگوں کی عام خوراک ہو، مثلاً چاول وغیرہ۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ایک قول یہی ہے بلکہ اکثر علماء کا یہی مؤقف ہے، اور یہی صحیح ہے، کیونکہ صدقات کے وجوب کا اصل مقصد فقراء و مساکین کی ہمدردی ہے۔” [مجموع الفتاویٰ 13/43۔بتصرف یسیر]

(12) اجناس کے بدلے نقد رقم دینا

⑫ صدقۂ فطر میں غلہ و اجناس کے بجائے ان کی نقد قیمت (روپے) دینا خلافِ سنت ہے، اس لیے (اس مؤقف کے مطابق) یہ کافی نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے یہ منقول نہیں کہ وہ صدقۂ فطر میں اجناس کی قیمت ادا کرتے ہوں۔

امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کیا گیا ہے:
“صدقۂ فطر میں نقد قیمت نہ دی جائے۔ کسی نے کہا: کچھ لوگ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ نقد قیمت دینے لینے کے قائل تھے۔ تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو چھوڑ کر فلاں کے قول کی بات کرتے ہیں؟ حالانکہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (گندم، جو… کا ایک صاع صدقۂ فطر) فرض کیا ہے۔” [المغنی والشرح الکبیر 2/671۔یہ ایک موقف ہے جبکہ دوسرا موقف یہ بھی ہے کہ صدقۃ الفطر میں قیمت بھی دی جاسکتی ہے۔(ع۔و)]

(13) صدقۂ فطر مستحق تک پہنچانا اور ایک اہم غلطی

⑬ صدقۂ فطر مقررہ وقت میں مستحقین تک خود پہنچا دینا چاہیے، یا کسی بااعتماد نائب کے ذریعے سے مستحق کے پاس بھیج دینا چاہیے۔ اگر کسی خاص مسکین تک جانا ممکن نہ ہو، یا پہنچانے والا کوئی نہ ملے، تو کسی دوسرے مسکین یا فقیر کو دے دے۔

ملاحظہ

بعض لوگ ایک غلطی کرتے ہیں: وہ صدقۂ فطر ایسے شخص کے حوالے کر دیتے ہیں جو مستحق کی طرف سے نائب یا ذمہ دار نہیں ہوتا۔ ایسے شخص کے سپرد کرنا درست نہیں، اس لیے اس مسئلے کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے۔

زکاۃ کی ادائیگی کا بیان

زکاۃ کے احکام میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ شرعی مصارف کو پہچانا جائے، تاکہ زکاۃ صحیح جگہ اور صحیح مستحق تک پہنچے، اور ادا کرنے والا اپنی ذمہ داری سے بری ہو جائے۔

میرے مسلمان بھائی! جب مال میں زکاۃ واجب ہو جائے تو واجب ہونے کے ساتھ ہی بلا تاخیر ادا کر دینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم "وَآتُوا الزَّكَاةَ” میں "وَآتُوا” صیغۂ امر ہے، اور امر فوراً ادا کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"ماخالطت الصدقة مالاً قط إلا أهلكته”
"جب زکاۃ (نکالے بغیر) مال کے ساتھ مل جاتی ہے تو وہ اس مال کو تباہ کر دیتی ہے۔” [(ضعیف) المسند لامام الحمیدی 1:115 حدیث 237 وھدایۃ الرواۃ۔2/254 حدیث 1733]

لہٰذا مال کی تباہی سے بچنے کے لیے زکاۃ جلد از جلد الگ کر کے ادا کر دینا چاہیے۔ مزید یہ کہ فقراء و مساکین کی ضرورتیں بھی اس امر کی متقاضی ہیں کہ مالِ زکاۃ فوراً مستحقین تک پہنچے۔ تاخیر میں ان کا نقصان ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ زکاۃ فرض ہونے کے بعد سستی کرنے والا کسی رکاوٹ یا موت کا شکار ہو جائے اور یہ فرض قرض بن جائے۔

زکاۃ کی جلد ادائیگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ادا کرنے والا بخل سے پاک ہے اور ذمہ داری سمجھ کر عمل کر رہا ہے، اور یہ رب تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ ہے۔

لہٰذا جب زکاۃ فرض ہو جائے تو فوراً ادا کی جائے، البتہ کسی خاص مصلحت کی بنا پر تاخیر ہو سکتی ہے، مثلاً:
◈ چند دن میں زیادہ ضرورت مند مستحق تک پہنچنے کی امید ہو
◈ یا اس وقت مال موجود نہ ہو وغیرہ

(1) بچے اور مجنون کے مال میں زکاۃ

① بچے اور مجنون کے مال میں بھی زکاۃ واجب ہے، کیونکہ دلائل عام ہیں اور ان کے لیے استثنا کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کے مال کے سرپرست پر لازم ہے کہ وہ زکاۃ ادا کرے، کیونکہ نیابت کی بنا پر یہ حق سرپرست کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔

(2) زکاۃ ادا کرتے وقت نیت

② زکاۃ نکالتے وقت نیت ضروری ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِنَّمَا الأعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ”
"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔” [صحیح البخاری بدء الوحی باب کیف کان بدءالوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث 1]

اور زکاۃ ادا کرنا بھی ایک عمل ہے۔

(3) بہتر طریقہ: خود تقسیم کرنا یا نمائندہ مقرر کرنا

③ افضل یہ ہے کہ صاحبِ مال خود زکاۃ تقسیم کرے تاکہ اسے یقین ہو جائے کہ زکاۃ مستحقین تک پہنچ گئی۔ تاہم وہ کسی بااعتماد شخص کو نمائندہ بھی بنا سکتا ہے۔ اور اگر مسلمانوں کا خلیفہ خود تقسیم کے لیے زکاۃ طلب کرے تو اسے یا اس کے نمائندے کے حوالے کر دینا چاہیے۔

(4) ادائیگی کے وقت دعا

④ زکاۃ ادا کرتے وقت دینے والا اور لینے والا دونوں دعائیہ کلمات کہیں، مثلاً:

◈ زکاۃ دینے والا کہے:

"اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مَغْنَمًا ، وَلَا تَجْعَلْهَا مَغْرَمًا”
"اے اللہ! اسے میرے لیے غنیمت بنا، نقصان نہ بنا۔” [(موضوع) سنن ابن ماجہ الزکاۃ باب مایقال عند اخراج الزکاۃ؟ حدیث 1797 وارواء الغلیل 3/343 حدیث 852]

◈ اور زکاۃ لینے والا کہے:

"آجَرَكَ اللهُ فِيْمَا أعْطَيْتَ، وَجَعَلَهُ لَكَ طَهُوْراً، وبَارَكَ لَكَ فِيْمَا أبْقَيْتَ”
"اللہ تمہیں تمہارے دیے پر اجر عطا فرمائے، اسے تمہارے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنائے، اور تمہارے باقی مال میں برکت دے۔” [الام للشافعی 2/316 وشرح النووی علی صحیح مسلم 17/259]

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿خُذ مِن أَمو‌ٰلِهِم صَدَقَةً تُطَهِّرُهُم وَتُزَكّيهِم بِها وَصَلِّ عَلَيهِم …﴿١٠٣﴾… سورةالتوبة
"(اے نبی!) ان کے مالوں میں سے صدقہ لیجئے تاکہ اس کے ذریعے انہیں پاک کریں اور ان کا تزکیہ کریں، اور ان کے لیے دعا کیجئے۔” [التوبہ 9/103]

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی قوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زکاۃ کا مال لے کر آتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے یوں دعا فرماتے: "اے اللہ! ان پر رحمت فرما۔” [صحیح البخاری المغازی باب غزوۃ الحدیبیہ حدیث 4166، وصحیح مسلم الزکاۃ باب الدعاء لمن اتی بصدقۃ حدیث 1078]

(5) محتاج کو زکاۃ دیتے وقت بتانا ضروری نہیں

⑤ اگر کوئی شخص محتاج ہو اور زکاۃ لینا اس کا معمول ہو، تو اسے دیتے وقت یہ بتانا ضروری نہیں کہ یہ زکاۃ ہے، تاکہ اسے تکلیف نہ ہو۔ البتہ اگر کسی محتاج کا زکاۃ لینا معمول نہیں، تو اسے آگاہ کر دیا جائے۔

(6) اپنے شہر میں دینا، اور ضرورت پر منتقل کرنا

⑥ بہتر یہی ہے کہ زکاۃ دینے والا اپنے محلے یا شہر میں زکاۃ تقسیم کرے۔ مگر کسی شرعی ضرورت و مصلحت سے دوسرے شہر بھیجنا بھی درست ہے، مثلاً:
◈ محتاج رشتے دار دوسرے شہر میں ہوں
◈ یا دوسرے شہر کے فقراء زیادہ ضرورت مند ہوں

عہدِ نبوی میں مختلف اطراف سے زکاۃ مدینہ منورہ آتی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے مستحق مہاجرین و انصار میں تقسیم فرما دیتے تھے۔

(7) امیرِ مسلمین کے نمائندے اور فائدہ

⑦ مسلمانوں کے امیر پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں کے ظاہری مال (مثلاً جانور، غلہ، پھل وغیرہ) کی زکاۃ وصول کرنے کے لیے نمائندے بھیجے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضوان اللہ عنہم اجمعین کرتے تھے۔

اس سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ:
◈ سست لوگ سستی نہیں کر پاتے
◈ ناواقف کو مسائل معلوم ہو جاتے ہیں
◈ لوگوں کو سہولت ملتی ہے
◈ فرض کی ادائیگی میں تعاون ہوتا ہے

(8) زکاۃ میں جلدی اور پیشگی زکاۃ

⑧ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ زکاۃ فرض ہونے کے بعد جلدی کرے اور بلا وجہ تاخیر نہ کرے، البتہ ایک سال کی پیشگی زکاۃ دینا جائز ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دو سال کی زکاۃ وصول کی تھی (جس میں ایک سال کی زکاۃ پیشگی تھی)۔ [صحیح البخاری الزکاۃ باب قول اللہ تعالیٰ :”وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ” حدیث 1468، وصحیح مسلم الزکاۃ باب فی تقدیم الزکاۃ ومنعھا حدیث 983]

جمہور کے نزدیک پیشگی زکاۃ اسی شرط پر درست ہے کہ وجوب کا سبب قائم ہو چکا ہو۔ یہ حکم جانور، غلہ، سونا، چاندی، سامانِ تجارت وغیرہ سب پر یکساں ہے، بشرطیکہ نصاب اور ملکیت موجود ہو۔ اختلاف سے نکلنے کے لیے پیشگی زکاۃ نہ دینا بہتر کہا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔

زکاۃ کے مستحق اور غیر مستحق افراد

قرآن مجید نے زکاۃ کے آٹھ مصارف بیان کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّمَا الصَّدَقـٰتُ لِلفُقَراءِ وَالمَسـٰكينِ وَالعـٰمِلينَ عَلَيها وَالمُؤَلَّفَةِ قُلوبُهُم وَفِى الرِّقابِ وَالغـٰرِمينَ وَفى سَبيلِ اللَّهِ وَابنِ السَّبيلِ فَريضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ ﴿٦٠﴾… سورة التوبة
"صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے” [التوبۃ9/60]

زکاۃ انہی جگہوں میں دی جا سکتی ہے، ان کے علاوہ بالاجماع کوئی اور مصرف نہیں۔

سیدنا زیاد بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَاغَيْرِهِ فِي الصَّدَقَاتِ حَتَّى حَكَمَ فِيهَا هُوَ فَجَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ”
"اللہ تعالیٰ نے زکاۃ کے آٹھ مصارف خود بیان فرمائے، اور اس معاملے میں اپنے نبی یا کسی اور کی مداخلت پسند نہیں فرمائی۔” [سنن ابی داود الزکاۃ باب من یعطی من الصدقۃ وحد الغنی حدیث 1630]

ایک سائل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الْأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ "
"اگر تو ان آٹھ حصوں (مصارف) میں سے ہے تو میں تجھے تیرا حق دے دوں گا۔” [سنن ابی داود الزکاۃ باب من یعطیٰ من الصدقۃ وحدالغنی حدیث 1630]

یہ بات اس موقع پر فرمائی گئی جب بعض منافقین نے زکاۃ/صدقات کی تقسیم پر اعتراض کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا کہ یہ تقسیم اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائی ہے، اور اسی نے فیصلہ صادر فرمایا ہے، اور کسی دوسرے کو اس میں اختیار نہیں دیا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
“اگر آٹھ مصارف موجود ہوں تو زکاۃ انہی میں تقسیم کی جائے۔ اگر سب موجود نہ ہوں تو جو موجود ہوں، انہی میں تقسیم کر دی جائے۔ اور اگر کسی جگہ کوئی مصرف موجود نہ ہو تو جہاں مصارف موجود ہوں وہاں پہنچا دی جائے۔” [الفتاویٰ الکبریٰ لابن تیمیہ الاختیارات العلمیۃ 5/373]

نیز شیخ موصوف نے یہ بھی فرمایا:
“زکاۃ ایسے موحد اور نیک شخص کو دینی چاہیے جو اسے اللہ کی اطاعت میں خرچ کرے، کیونکہ اللہ نے زکاۃ اسی لیے فرض کی ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ تعاون ہو۔ اور جو فقراء و مساکین نماز ادا نہیں کرتے، انہیں تب تک زکاۃ نہ دی جائے جب تک وہ توبہ کر کے نماز کی پابندی اختیار نہ کریں۔”

(1) آٹھ مصارف کے علاوہ خرچ کرنا

① اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ان آٹھ مصارف کے علاوہ کسی اور جگہ زکاۃ اور صدقات صرف نہ کیے جائیں، مثلاً: مساجد اور مدارس کی تعمیر کے لیے، کیونکہ آیت میں "إِنَّمَا” حصر کا فائدہ دیتی ہے، یعنی زکاۃ کے مصارف صرف یہی آٹھ ہیں، ان کے علاوہ نہیں۔ [التوبۃ9/60]

مصارف کی دو بڑی قسمیں بیان کی جاتی ہیں:
◈✔ پہلی قسم: ضرورت مند مسلمان
◈✔ دوسری قسم: وہ لوگ جنہیں مال دینا اسلام کی تقویت کا سبب بنے

(یہی آیت دوبارہ بطور اصل بیان):

﴿إِنَّمَا الصَّدَقـٰتُ لِلفُقَراءِ وَالمَسـٰكينِ وَالعـٰمِلينَ عَلَيها وَالمُؤَلَّفَةِ قُلوبُهُم وَفِى الرِّقابِ وَالغـٰرِمينَ وَفى سَبيلِ اللَّهِ وَابنِ السَّبيلِ فَريضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ ﴿٦٠﴾… سورة التوبة
"صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے” [التوبۃ9/60]

اب انہی مصارف کی تفصیل:

① فقراء

فقراء مساکین سے زیادہ محتاج ہوتے ہیں، اسی لیے پہلے فقراء کا ذکر کیا گیا۔ فقیر وہ ہے جس کے پاس گزر بسر کے لیے کچھ نہ ہو، یا کمانے کی ہمت و طاقت نہ ہو، یا کچھ مل بھی جائے تو بہت کم۔ ایسے لوگوں کو زکاۃ میں سے اتنا دیا جائے کہ ایک سال کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں۔

② مساکین

مسکین فقیر کے مقابلے میں بہتر حالت میں ہوتا ہے۔ اس کی کچھ آمدنی ہوتی ہے مگر وہ اس کی ضروریات کے لیے ناکافی ہوتی ہے۔ اسے بھی زکاۃ سے اتنا دیا جائے کہ ایک سال کی ضروریات پوری ہو جائیں۔

③ عاملین علیھا (زکاۃ وصول کرنے والے)

خلیفہ المسلمین کے حکم سے جو افراد زکاۃ جمع کریں، نگرانی کریں اور تقسیم کا انتظام کریں، ان کی اجرت اسی مالِ زکاۃ سے دی جائے۔ لیکن اگر امیر نے بیت المال سے تنخواہ مقرر کر دی ہو تو پھر ان کے لیے زکاۃ کے مال سے لینا جائز نہیں۔ (آج کل بعض جگہ یہ ہوتا ہے کہ تنخواہ بھی مقرر ہے اور پھر زکاۃ سے بھی مراعات لیتے ہیں) ایسا کرنا حرام ہے، کیونکہ معاوضہ دوسری جگہ سے مل رہا ہے۔

④ مؤلفۃ القلوب (دل جوئی/تالیف قلوب)

اس مصرف میں دو طرح کے لوگ شامل کیے جاتے ہیں:

❀ وہ کافر جو اسلام کی طرف مائل ہو اور اس کے مسلمان ہونے کی امید ہو—اسے زکاۃ دی جائے تاکہ رغبت بڑھے۔ یا وہ کافر جسے مال دینے سے اس کے شر سے مسلمان محفوظ رہیں، یا اس کے ذریعے دوسروں کے فتنوں سے بچاؤ ہو۔
❀ نو مسلم کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے اسے زکاۃ دینا درست ہے۔ اسی طرح اگر اس نو مسلم کو دینے سے اس جیسے دوسرے غیر مسلم میں اسلام کی رغبت پیدا ہونے کی امید ہو تو بھی یہ درست ہے۔

جو مقاصد اسلام اور اہل اسلام کے فائدے کے ہوں وہ اس مصرف کے تحت آ سکتے ہیں، لیکن اس میں مالِ زکاۃ اسی وقت صرف کیا جائے جب شدید ضرورت ہو۔ اسی وجہ سے حضرت عمر، عثمان اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے تالیف قلوب کا مصرف ختم کر دیا تھا، کیونکہ اس وقت اس کی ضرورت نہیں رہی تھی۔

⑤ فی الرقاب (غلام آزاد کرانا)

اس میں مکاتب غلام شامل ہیں، یعنی جنہوں نے اپنے مالک سے آزادی کے بدلے قیمت دینے کا معاہدہ کر لیا ہو مگر ادائیگی کے لیے مال نہ ہو یا کم ہو—ایسے شخص کو زکاۃ سے دیا جائے تاکہ وہ آزادی حاصل کر سکے۔

اسی طرح زکاۃ کے مال سے غلام خرید کر آزاد کرنا بھی اسی مصرف میں شامل ہے۔ اور اگر کسی قیدی کے ذمہ فدیہ یا دیت ہو تو ادا کر کے اسے چھڑانا بھی گردن چھڑانے ہی میں آتا ہے۔

⑥ غارمین (قرض دار)

غارم یعنی مقروض کی دو قسمیں:

❀ غارم لغیرہ: وہ شخص جس نے دو افراد/قبائل/بستیوں کے درمیان خون یا مال کے جھگڑے میں صلح کرانے کے لیے مداخلت کی، اور اس مقصد کے لیے مال ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی—ایسے شخص کی زکاۃ سے مدد ضروری ہے، تاکہ وہ ذمہ داری پوری کر سکے، اور دوسروں کو بھی بڑے فتنے ختم کرنے کی ترغیب ہو۔

صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا قبیصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:

"أَقِمْ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا”
"یہیں قیام کرو، ہمارے پاس صدقہ/زکاۃ کا مال آئے گا تو ہم تمہیں دلوادیں گے۔” [صحیح مسلم،الزکاۃ باب من تحل لہ المسالۃ حدیث 1044]

❀ غارم لنفسہ: وہ شخص جو اپنے آپ کو کفار کی ماتحتی سے نکلانے کے لیے فدیہ دے، یا جس پر اتنا قرض ہو کہ ادا نہ کر سکے—ایسے لوگوں کی بھی زکاۃ سے مدد کی جائے تاکہ وہ مشکل سے نکل سکیں۔

⑦ فی سبیل اللہ

جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد و قتال میں لگے ہوں اور انہیں بیت المال سے تنخواہ نہ ملتی ہو، ان کی مدد بھی زکاۃ سے کی جائے۔

یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ قرآن میں جہاں "فی سبیل اللہ” مطلق آئے تو اس سے مراد جہاد و قتال ہی ہوتا ہے۔ [تفصیل کے لیے دیکھئے ابحاث ھیۃ کبار العلماء 1/61 ومسند احمد 3/56]

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذينَ يُقـٰتِلونَ فى سَبيلِهِ …﴿٤﴾… سورة الصف
"بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر جہاد کرتے ہیں۔” [الصف 61/4]

اور فرمایا:

﴿وَقـٰتِلوا فى سَبيلِ اللَّهِ …﴿١٩٠﴾… سورة البقرة
"اور تم اللہ کی راہ میں لڑو۔” [البقرۃ:2/190]

⑧ ابن السبیل (مسافر)

وہ مسافر جس کا خرچ ختم ہو جائے، یا مال ضائع/گم ہو جائے، وہ زکاۃ سے اتنا لے سکتا ہے کہ اپنی منزل تک اور پھر واپس گھر تک پہنچ سکے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے کے مطابق مہمان بھی اس حکم میں داخل ہے۔

اگر مسافر، مجاہد، مقروض یا مکاتب نے ضرورت کے لیے زکاۃ لی اور ضرورت پوری ہونے کے بعد کچھ بچ گیا تو اسے اپنے پاس رکھنا جائز نہیں، کیونکہ وہ مطلق مالک نہیں بنا تھا، بلکہ ضرورت کے سبب بقدرِ ضرورت مالک ہوا تھا؛ جب سبب ختم ہوا تو استحقاق بھی ختم ہو گیا۔

(2) ایک ہی مصرف میں ساری زکاۃ دینا

② آٹھ مصارف میں سے کسی ایک مصرف کو بھی زکاۃ کا پورا مال دیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَإِن تُخفوها وَتُؤتوهَا الفُقَراءَ فَهُوَ خَيرٌ لَكُم …﴿٢٧١﴾… سورة البقرة
"اور اگر تم اسے چھپا کر فقیروں کو دے دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔” [البقرۃ 2/271]

اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا:

"فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ”
"انہیں بتا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں میں زکاۃ فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے فقراء میں لوٹا دی جائے گی۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب وجوب الزکاۃ حدیث 1395، وصحیح مسلم الایمان باب الدعاء الی الشھادتین وشرائع الاسلام حدیث 19]

ان نصوص میں ایک صنف (فقراء) کا ذکر ہے، جس سے معلوم ہوا کہ ایک صنف کو سارا مال دینا جائز ہے۔

(3) ایک شخص کو پوری زکاۃ دینا

③ زکاۃ دینے والا اپنا پورا مالِ زکاۃ ایک ہی شخص کو بھی دے سکتا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو زریق کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنا مالِ زکاۃ سلمہ بن صخر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دیں۔ [سنن ابی داود الطلاق باب فی الظھار حدیث 2213، ومسند احمد 4/37]

اور سیدنا قبیصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بھی فرمایا تھا:

"أَقِمْ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا”
"یہیں قیام کرو، ہمارے پاس صدقہ/زکاۃ آئے گی تو ہم تمہیں دلوادیں گے۔” [صحیح مسلم،الزکاۃ باب من تحل لہ المسالۃ حدیث 1044]

(4) محتاج رشتہ داروں کو زکاۃ

④ محتاج اقرباء (ایسے نادار رشتے دار جن کا نان و نفقہ زکاۃ دینے والے پر لازم نہ ہو) کو زکاۃ دینا مستحب ہے، اور جتنا قریبی رشتہ ہو اتنا زیادہ حق دار ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"صَدَقَتُكَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَعَلَى ذِي الْقُرْبَى الرَّحِمِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ”
"مسکین کو تیرا صدقہ (صرف) صدقہ ہے، اور رشتہ دار کو تیرا صدقہ دو چیزیں ہیں: صدقہ بھی اور صلہ رحمی بھی۔” [(ضعیف) جامع الترمذی الزکاۃ باب ماجاء فی الصدقۃ علی ذی القرابۃ حدیث 658، ومسنداحمد 4/214 واللفظ لہ]

(5) بنو ہاشم کو زکاۃ نہیں

⑤ بنو ہاشم (آل عباس، آل علی، آل جعفر، آل عقیل، آل حارث اور آل ابولہب) کو زکاۃ/صدقہ دینا جائز نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إن الصدقة لا تنبغي لآل محمد، إنما هي أوساخ الناس”
"بے شک صدقہ (زکاۃ) آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جائز نہیں، یہ لوگوں کے مال کی میل ہے۔” [صحیح مسلم الزکاۃ باب ترک استعمال آل النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی الصدقۃ حدیث 1072]

(6) چند غیر مستحق افراد اور اہم اصول

⑥ کسی ایسی محتاج عورت کو زکاۃ دینا درست نہیں جو مالدار شوہر کے نکاح میں ہو اور وہ شوہر اسے نان و نفقہ دیتا ہو۔ اسی طرح ایسے فقیر کو بھی زکاۃ نہ دی جائے جس کا قریبی سرپرست مالدار ہو اور وہ اس پر خرچ کرتا ہو—کیونکہ ان کے اخراجات میسر ہیں، اس لیے وہ زکاۃ کے حق دار نہیں۔ [یہ مسئلہ بلادلیل ہے۔]

⑦ اگر کسی کے اخراجات (نان و نفقہ) زکاۃ دینے والے پر لازم ہوں تو اسے انہیں زکاۃ دینا جائز نہیں، ورنہ یہ اپنے مال کو بچانے کے مترادف ہوگا۔ ہاں! اگر اخراجات شرعاً لازم نہیں اور وہ محض ہمدردی سے خرچ کرتا ہے تو پھر زکاۃ دے سکتا ہے۔

صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے یتیم بھتیجوں کے متعلق پوچھا جو اس کی پرورش میں تھے کہ کیا وہ انہیں زکاۃ دے سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں”۔ [صحیح البخاری الزکاۃ باب الزکاۃ علی الزوج والایتام فی الحجر حدیث 1466]

⑧ اپنے باپ، دادا، اپنی اولاد اور اولاد کی اولاد کو زکاۃ دینا جائز نہیں۔
⑨ اپنی بیوی کو زکاۃ دینا جائز نہیں کیونکہ اس کا نفقہ شوہر کے ذمہ ہے، اور زکاۃ دینے میں اپنے مال کو بچانے کا شائبہ ہوگا۔

⑩ زکاۃ دینے سے پہلے یہ دیکھنا لازم ہے کہ لینے والا واقعی مستحق ہے۔ دو اشخاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور زکاۃ طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو طاقتور اور کمانے والے محسوس ہوئے، تو فرمایا:

"إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا مِنْهَا , وَلا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ”
"اگر تم چاہو تو میں تمہیں (زکاۃ) دے دوں، لیکن یاد رکھو! مالدار کے لیے اور طاقتور کمانے والے کے لیے اس میں کوئی حصہ نہیں۔” [سنن ابی داود الزکاۃ باب من یعطی من الصدقۃ وحد الغنی حدیث 1633، وسنن النسائی الزکاۃ باب مسالۃ القوی المکتسب حدیث 2599]

نفلی صدقات کا بیان

کتاب و سنت میں فرض زکاۃ کے ساتھ نفلی صدقات کی بھی ترغیب آئی ہے، اور نفلی صدقہ کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَءاتَى المالَ عَلىٰ حُبِّهِ ذَوِى القُربىٰ وَاليَتـٰمىٰ وَالمَسـٰكينَ وَابنَ السَّبيلِ وَالسّائِلينَ وَفِى الرِّقابِ …﴿١٧٧﴾… سورة البقرة
"اور مال سے محبت کے باوجود اسے رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سوال کرنے والوں اور گردنیں چھڑانے کے لیے خرچ کرے۔” [البقرۃ 2/177]

اور فرمایا:

﴿وَأَن تَصَدَّقوا خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم تَعلَمونَ ﴿٢٨٠﴾… سورة البقرة
"اور اگر تم صدقہ کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔” [البقرہ 2/280]

اور ارشاد فرمایا:

﴿ مَن ذَا الَّذى يُقرِضُ اللَّهَ قَرضًا حَسَنًا فَيُضـٰعِفَهُ لَهُ أَضعافًا كَثيرَةً …﴿٢٤٥﴾… سورة البقرة
"کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے، پھر اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر دے؟” [البقرۃ 2/245]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"إن الصدقَةَ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ، وتَدْفَعُ مِيتَة السُّوءِ”
"صدقہ رب تعالیٰ کے غضب کو بجھا دیتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے۔” [(الضعیف) جامع الترمذی الزکاۃ باب ماجاء فی فضل الصدقۃ حدیث 664]

صحیح حدیث میں ہے:

"السبعة الذين يظلهم الله في ظله يوم لا ظل إلا ظله، …….”رجل تصدق بصدقة فأخفاها؛ حتى لا تعلم شماله ما تنفق يمينه”
"جس دن کوئی سایہ نہ ہوگا اللہ تعالیٰ سات قسم کے افراد کو اپنے سائے میں جگہ دے گا… (ان میں سے ایک) وہ شخص ہے جو اس طرح چھپا کر صدقہ دے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب الصدقۃ بالیمین حدیث 1423، وصحیح مسلم الزکاۃ باب فضل اخفاء الصدقۃ حدیث 1031]

اس مضمون میں مزید بھی بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں۔

(1) چھپا کر صدقہ دینا

خفیہ طور پر صدقہ کرنا افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَإِن تُخفوها وَتُؤتوهَا الفُقَراءَ فَهُوَ خَيرٌ لَكُم …﴿٢٧١﴾… سورة البقرة
"اور اگر تم اسے چھپا کر فقیروں کو دے دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔” [البقرہ 2/271]

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ریا سے حفاظت ہوتی ہے۔ تاہم اگر اظہار میں کوئی شرعی مصلحت ہو (مثلاً دوسروں کو ترغیب دینا) تو بھی گنجائش ہے۔

(2) احسان جتلانے سے بچنا

صدقہ خوش دلی سے، رضائے الٰہی کے لیے دیا جائے، اور محتاج پر احسان جتلانا مقصد نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تُبطِلوا صَدَقـٰتِكُم بِالمَنِّ وَالأَذىٰ…﴿٢٦٤﴾… سورة البقرة
"اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور تکلیف دے کر برباد نہ کرو، اس شخص کی طرح جو لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے۔” [البقرۃ 2/264]

(3) صحت میں صدقہ افضل

تندرستی اور صحت کے زمانے میں صدقہ کرنا افضل ہے۔ جب پوچھا گیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْغِنَى …”
"یہ کہ تم اس حالت میں صدقہ کرو کہ تم تندرست ہو، مال کی حرص بھی ہو، فقر کا خوف بھی ہو اور غنا کی امید بھی ہو…” [صحیح البخاری الزکاۃ باب فضل صدقۃ الشحیح الصحیح حدیث 1419، وصحیح مسلم الزکاۃ باب بیان ان افضل الصدقۃ۔۔۔حدیث 1032]

(4) حرمین میں صدقہ

حرمین شریفین (مکہ و مدینہ) میں صدقہ دینا افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:

﴿فَكُلوا مِنها وَأَطعِمُوا البائِسَ الفَقيرَ ﴿٢٨﴾… سورة الحج
"پھر تم خود بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ۔” [الحج 22/28]

(5) رمضان میں صدقہ

رمضان المبارک میں صدقہ کرنا بھی افضل ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:

"عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے بڑھ کر سخی تھے، اور رمضان میں اس وقت سب سے زیادہ سخاوت کرتے جب جبریل علیہ السلام آپ سے ملتے۔ جبریل علیہ السلام رمضان کی ہر رات ملاقات کرتے اور قرآن کا دور کرتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر میں چلتی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے۔” [صحیح البخاری الصوم باب اجود ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یکون فی رمضان حدیث 1902]

(6) مشکل اوقات میں صدقہ

جب لوگوں پر تنگی اور مشکل وقت ہو تو ایسے وقت میں صدقہ کرنا سب سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ أَو إِطعـٰمٌ فى يَومٍ ذى مَسغَبَةٍ ﴿١٤﴾ يَتيمًا ذا مَقرَبَةٍ ﴿١٥﴾ أَو مِسكينًا ذا مَترَبَةٍ ﴿١٦﴾… سورة البلد
"یا بھوک والے دن کھانا کھلانا، کسی قرابت دار یتیم کو، یا خاک آلود (نہایت محتاج) مسکین کو۔” [البلد 90/14۔16]

(7) اقارب اور پڑوسیوں کو ترجیح

دور والوں کے مقابلے میں اقارب اور پڑوسیوں کو صدقہ دینا افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَءاتِ ذَا القُربىٰ حَقَّهُ …﴿٢٦﴾… سورة الإسراء
"اور رشتے داروں کا حق ادا کرتے رہو۔” [بنی اسرائیل 17/26]

اور حدیث:

"صَدَقَتُكَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَعَلَى ذِي الْقُرْبَى الرَّحِمِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ”
"مسکین کو تیرا صدقہ صدقہ ہے، اور رشتہ دار کو تیرا صدقہ صدقہ بھی اور صلہ رحمی بھی۔” [(ضعیف) جامع الترمذی حدیث 658، ومسند احمد 4/214 واللفظ لہ]

صحیح بخاری و مسلم میں آیا ہے:

” أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ”
"… رشتہ دار کو دینے پر دو اجر ہیں: قرابت کا اجر اور صدقہ کا اجر۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب الزکاۃ علی الزوج والایتام فی الحجر حدیث 1466، وصحیح مسلم الزکاۃ باب فضل النفقۃ والصدقۃ علی الاقربین۔۔۔حدیث 1000]

(8) مال میں زکاۃ کے علاوہ دیگر حقوق

مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی حقوق ہیں، مثلاً:
◈ اقرباء سے ہمدردی اور صلہ رحمی
◈ سائل کی مدد
◈ کسی ضرورت مند کو چیز عاریتاً دینا
◈ تنگ دست کو قرض کی ادائیگی میں مہلت دینا
◈ ضرورت مند کو قرض دینا

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ وَفى أَمو‌ٰلِهِم حَقٌّ لِلسّائِلِ وَالمَحرومِ ﴿١٩﴾… سورةالذاريات
"اور ان کے اموال میں سائل اور محروم (نہ مانگنے والے) کا حق (حصہ) ہوتا تھا۔” [الذریت 51/19]

(9) بعض کاموں کا واجب ہونا

بھوکے کو کھانا کھلانا، مہمان کی مہمان نوازی کرنا، ننگے کو کپڑا دینا، پیاسے کو پانی پلانا—یہ سب کام واجب ہیں۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک قیدیوں کا فدیہ دے کر انہیں چھڑانا بھی مسلمانوں پر واجب ہے، چاہے اس میں ان کا تمام مال خرچ ہو جائے۔

(10) تقسیم کے وقت موجود فقراء کو دینا

جب مال کے حصے/تقسیم کے وقت فقراء و مساکین موجود ہوں تو انہیں بھی کچھ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَءاتوا حَقَّهُ يَومَ حَصادِهِ …﴿١٤١﴾… سورةالانعام
"اور اس میں جو حق واجب ہے، وہ کاٹنے کے دن ادا کرو۔” [الانعام 7/141]

اور فرمایا:

﴿وَإِذا حَضَرَ القِسمَةَ أُولُوا القُربىٰ وَاليَتـٰمىٰ وَالمَسـٰكينُ فَارزُقوهُم مِنهُ وَقولوا لَهُم قَولًا مَعروفًا ﴿٨﴾… سورةالنساء
"اور جب تقسیم کے وقت قرابت دار، یتیم اور مسکین آجائیں تو تم اس میں سے انہیں بھی کچھ دے دو، اور ان سے نرمی کے ساتھ اچھی بات کہو۔” [النساء:4/8]

میرے بھائی! یہ اسلام کے محاسن اور خوبیاں ہیں۔ اسلام ہمدردی، رحمت، باہمی تعاون اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بھائی چارے کا نام ہے۔ یہ کتنا اچھا دین ہے، اور اس کے احکام کتنے مضبوط اور اعلیٰ ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے دین کی بصیرت دے اور احکامِ شریعت کی پیروی و تمسک کی توفیق دے، بے شک وہ سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب