مضمون کے اہم نکات
فضائل صدقات
صدقے کی اہمیت اور مقام و مرتبہ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”على كل مسلم صدقة“ ہر مسلمان پر صدقہ کرنا (ضروری) ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اگر وہ (اس کی طاقت) نہ پائے؟ آپ نے فرمایا: ”فليعمل بيديه فينفع نفسه ويتصدق“ وہ اپنے ہاتھوں سے کمائے، خود اپنے آپ کو نفع پہنچائے اور صدقہ (بھی) کرے۔ انہوں نے کہا: اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھے یا اسے نہ کر پائے؟ آپ نے فرمایا: ”فيعين ذا الحاجة الملهوف“ ضرورت مند مجبور شخص کی مدد کرے۔ انہوں نے عرض کیا: اگر وہ یہ نہ کر سکے؟ آپ نے فرمایا: ”فَيَأْمُرْ بِالْخَيْرِ“ خیر و بھلائی کا حکم کرے۔ انہوں نے کہا: اگر یہ بھی نہ کر سکے؟ آپ نے فرمایا: ”فيمسك عن الشر فإنه له صدقة“ وہ برائی سے رک جائے کیونکہ اس کے لیے یہ بھی صدقہ ہے۔
صحیح البخاری: 6022، صحیح مسلم: 1008
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن ظل المؤمن يوم القيامة صدقته
بلاشبہ قیامت کے دن مومن کا سایہ اس کا صدقہ ہوگا۔“
صحیح، مسند احمد: 4/233؛ ابن خزیمہ: 2432، 2431
یعنی روز قیامت مومن کا صدقہ سائے کی طرح ہوگا جو اسے قیامت کی شدت و حرارت سے محفوظ رکھے گا۔ دیکھیے مرقاۃ المفاتح۔ مال خرچ کرنے والا اس لحاظ سے بھی بہتر اور افضل ہے کہ وہ دینے والوں میں سے ہے، لینے والوں میں سے نہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دینے والے کو بہتر قرار دیا ہے۔ جس کا ہاتھ ہمیشہ اوپر رہتا ہے یعنی وہ لوگوں میں مال خرچ کرتا ہے اور کسی سے سوال کرتا ہے اور نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اليد العليا خير من اليد السفلى فاليد العليا هي المنفقة والسفلى هي السائلة
اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر والا خرچ کرنے والے کا ہاتھ ہے اور نیچے کا مانگنے والے کا۔“
صحیح البخاری: 1429، صحیح مسلم: 1033
صدقہ کرنے والا شخص اللہ اور اس کے رسول کا اتنا محبوب ہے کہ آپ نے ایسے شخص کو قابل رشک قرار دیا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا حسد إلا فى اثنتين رجل آتاه الله القرآن فهو يتلوه آناء الليل وآناء النهار ورجل آتاه الله مالا فهو ينفقه آناء الليل وآناء النهار
”صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا جائز ہے، ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا کیا، وہ اس کے ساتھ رات اور دن کی گھڑیوں میں قیام کرتا ہے اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہے، وہ اسے اس کی راہ میں رات اور دن کی گھڑیوں میں خرچ کرتا ہے۔“
صحیح البخاری: 7529، صحیح مسلم: 815
صدقے کا اجر و ثواب
اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے والے کو بہت زیادہ اجر و ثواب ملتا ہے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کے اجر و ثواب کے بارے میں قرآنی آیات اور احادیث نبویہ میں جو انداز اختیار کیا گیا ہے وہ اور کسی نیک عمل کے بارے میں نہیں کیا گیا۔ چند آیات اور احادیث ملاحظہ فرمائیے۔
❀ اللہ مالک الملک کا ارشاد ہے:
مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
(2-البقرة:261)
ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ایک دانے کی مثال کی طرح ہے جس نے سات خوشے اگائے، ہر خوشے میں سو دانے ہیں اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے اور اللہ وسعت والا، خوب جاننے والا ہے۔“ اس مثال کی وضاحت کچھ اس طرح ہے کہ جیسے ایک دانہ زمین میں اگانے سے سات سو دانے خوشوں پر اگ آتے ہیں۔ اسی طرح جو شخص اللہ کی راہ میں کوئی چیز خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سات سو گنا ثواب عطا فرماتا ہے۔ یہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمائی ہے۔
خريم بن فاتك رضى الله عنه سے روايت هے كه رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمايا:
من أنفق نفقة فى سبيل الله كتبت له بسبع مائة ضعف
جو شخص اللہ کی راہ میں کوئی چیز خرچ کرے اس کے لیے وہ چیز سات سو گنا تک بڑھا کر لکھی جاتی ہے۔
سنن الترمذی: 1625، سنن النسائی: 3186، وسندہ حسن
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک اونٹنی لے کر حاضر ہوا جسے تکمیل ڈالی ہوئی تھی۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ اونٹنی فی سبیل اللہ وقف ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لك بها يوم القيامة سبعمائة ناقة كلها مخطومة
تمہیں اس کے بدلے میں قیامت کے دن سات سو تکمیل والی اونٹنیاں ملیں گی۔“
صحیح مسلم: 1892
بعض آیات میں اللہ رب العزت نے صدقے کو قرض قرار دیا ہے اور اپنے بندوں سے قرض کا مطالبہ کیا ہے، پھر وعدہ کیا ہے کہ جو اللہ کو قرض دے گا، وہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس لوٹا دے گا۔ پر واپسی مال کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے اور اجر و ثواب کی شکل میں بھی۔
إِنَّ الْمُصَّدِّقِينَ وَالْمُصَّدِّقَاتِ وَأَقْرَضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ
(2-البقرة:245)
کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے، پس وہ اسے اس کے لیے بہت زیادہ بڑھا دے۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
إِنَّ الْمُصَّدِّقِينَ وَالْمُصَّدِّقَاتِ وَأَقْرَضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ
(57-الحديد:18)
بے شک صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں اور جنہوں نے اللہ کو قرض حسنہ دیا، انہیں کئی گنا دیا جائے گا اور ان کے لیے باعزت اجر ہے۔
بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو مال بندہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بڑھاتا ہے، اس کی نشو و نما کرتا ہے حتی کہ وہ بڑھ کر پہاڑ جتنا ہو جاتا ہے۔ یہ صدقے کے اجر و ثواب کی کثرت کی دلیل ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من تصدق بعدل تمرة من كسب طيب ولا يقبل الله إلا الطيب وإن الله يتقبلها بيمينه ثم يربيها لصاحبه كما يربي أحدكم فلوه حتى تكون مثل الجبل
جو شخص حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرے اور اللہ تعالیٰ صرف حلال کمائی کو قبول کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول کرتا ہے، پھر صدقہ کرنے والے کے لیے اس کی اس طرح نشو و نما کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے جانور کے بچے کو کھلا پلا کر بڑا کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ صدقہ بڑھ کر پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔
صحیح البخاری: 1410؛ صحیح مسلم: 1014
❀ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ
(2-البقرة:276)
اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔
گناہوں کی معافی کا ذریعہ
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ایک قاعدہ اور اصول بیان فرمایا ہے کہ نیکیاں کرنے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
❀ ارشاد باری تعالیٰ:
إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ
(11-هود:114)
بے شک نیکیاں برائیوں کو (مٹا کر) لے جاتی ہیں۔
اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
واتبع السيئة الحسنة تمحها
برائی کرنے کے بعد نیکی کر لو، نیکی برائی کو مٹا دے گی۔
صحیح سنن الترمذی: 1987
یہ اصول ہر قسم کی نیکی کے لیے عام ہے۔ چنانچہ کوئی مسلمان جب بھی کوئی چھوٹی یا بڑی نیکی کرتا ہے تو اس کے صغیرہ گناہ معاف ہوتے رہتے ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کسی عورت کو بوسہ دیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں بتایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمادی:
وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ
(11-هود:114)
اس شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ حکم بطور خاص میرے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا:
لجميع أمتي كلهم
میری ساری امت کے لیے یہی حکم ہے۔
صحیح البخاری: 526
صدقہ تو بہت بڑی نیکی ہے لہذا اس سے بھی گناہ معاف ہوتے ہیں اور مغفرت کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔
❀ ارشاد باری تعالی ہے:
وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٣﴾ الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴿١٣٤﴾
(3-آل عمران:133،134)
اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دوڑو، اپنے رب کی طرف سے بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ جو خوشحالی اور تنگی میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
درج بالا آیات میں غور کیجیے کہ پہلی آیت میں اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنی مغفرت کی جانب دوڑ دھوپ کرنے کی رغبت دلائی ہے اور ساتھ ہی دوسری آیت میں سب سے پہلے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو خوشحالی میں اور تنگی میں بھی اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں۔ گویا ان آیات سے واضح طور پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا مغفرت کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فتنة الرجل فى أهله وولده وجاره تكفرها الصلاة والصدقة والمعروف
آدمی کی آزمائش اس کے خاندان، اولاد اور پڑوسیوں میں ہوتی ہے اور نماز، صدقہ اور اچھے کام اس فتنے کا کفارہ بن جاتے ہیں۔
صحیح البخاری: 1435
اس حدیث پر امام بخاری رحمہ اللہ نے یوں باب باندھا ہے:
”باب الصدقة تكفر الخطيئة“
صدقہ خیرات گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک فاحشہ عورت نے پیاسے کتے کو پانی پلایا تو اللہ نے اس عمل کی وجہ سے اسے بخش دیا۔
صحیح البخاری: 3321
یہ حدیث بھی دلیل ہے کہ صدقہ خیرات گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے۔ پیاسے کتے کو پانی پلانے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں تو بھوکے، غریب اور مسکین لوگوں پر مال خرچ کرنا بالخصوص گناہوں کی مغفرت کا سبب بنے گا۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طویل حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:
والصدقة تطفئ الخطيئة كما يطفئ الماء النار
صدقہ گناہوں کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔
صحیح سنن ابن ماجہ: 3973، سنن الترمذی: 2616، مسند احمد: 5/231
مصائب و آلام سے نجات کا ذریعہ
انسان کو جو بھی مصیبت یا پریشانی آتی ہے وہ اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:
وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ
(42-الشورى:30)
اور جو بھی تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے وہ اس کی وجہ سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور وہ (اللہ) بہت سی چیزوں سے درگزر کر جاتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اسے ان گناہوں کی پاداش میں مصائب جھیلنے پڑتے ہیں۔ اگر بندہ گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا رہے اور کثرت سے نیک اعمال کرے تو ان مصائب و آلام سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں صدقہ خیرات بڑی کارآمد چیز ہے۔ بڑی سے بڑی آفت اور مصیبت صدقے سے دور ہو جاتی ہے اور یہ صدقہ مزید آفات و مصائب کے لیے مضبوط دیوار کا کام کرتا ہے اور صدقہ کرنے والے کی حفاظت کرتا ہے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ نے لوگوں کو نماز کسوف پڑھائی پھر آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا:
إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته فإذا رأيتم فادعوا الله وكبروا وصلوا وتصدقوا
سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان کو کسی کی موت یا حیات کی وجہ سے گہن نہیں لگتا۔ پس جب تم سورج گہن دیکھو تو اللہ سے دعا کرو، اللہ کی بڑائی بیان کرو، نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔
صحیح البخاری: 1044
آپ کے اس فرمان میں دلیل ہے کہ دعا، نماز اور صدقے سے اللہ کا عذاب دور ہوتا ہے، اس لیے آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ سورج کو گرہن لگنے کی صورت میں یہ اعمال صالحہ بجا لائیں۔
رزق میں برکت اور مال میں اضافے کا سبب
صدقہ خیرات کرنا رزق میں برکت اور مال میں اضافے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ کتاب و سنت کے متعدد دلائل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کوئی مسلمان اللہ کے راستے میں جتنا زیادہ مال خرچ کرتا ہے اللہ تعالی اس کے رزق اور مال میں اتنا ہی اضافہ فرماتے ہیں۔ بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ جب بندہ اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں دیتا ہے، تو اس کا مال کم ہوتا جاتا ہے لیکن حقیقت میں اس مال میں بے حد برکت شامل ہو جاتی ہے اور اللہ تعالی اخروی اجر و ثواب کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی بندے کو مزید مال و دولت سے نوازتے ہیں۔ لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما نقصت صدقة من مال
صدقہ مال میں سے کچھ بھی کم نہیں کرتا۔
صحیح البخاری: 2055
شیطان جو انسان کا ازلی ابدی دشمن ہے اور اسے نیک اعمال سے روکتا اور برائیوں پر اکساتا ہے۔ جب کوئی مسلمان اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو شیطان اس کے ذہن میں یہ بات ڈالتا ہے کہ صدقہ کرنے سے تمہارا مال کم ہو جائے گا، تم فقیر ہو جاؤ گے اور اس کے برعکس یہی انسان جب فضول خرچی کرتا ہے اور دنیاوی کاموں میں بے جا مال خرچ کرتا ہے تو شیطان اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ شیطان کی اس چال کو اللہ رب العزت نے یوں بیان فرمایا ہے:
الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاءِ وَاللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
(2-البقرة:268)
شیطان تمہیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے اور اللہ وسعت والا، خوب جاننے والا ہے۔
اللہ تعالی نے کتنے خوبصورت انداز میں رحمانی اور شیطانی وعدوں کا فرق بیان فرمایا ہے کہ شیطان تو اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے سے روک کر گناہ اور بے حیائی کے کاموں میں مال خرچ کرنے کی رغبت دلاتا ہے اور ڈراتا ہے کہ اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے سے فقیر ہو جاؤ گے، جبکہ اللہ رب العزت کا وعدہ یہ ہے کہ وہ اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کو اپنے فضل سے نوازتا ہے۔ اب یہ فیصلہ مسلمانوں پر ہے کہ وہ اللہ کے وعدے کو سچ سمجھتے ہوئے اس کی راہ میں مال خرچ کر کے اس کے فضل و کرم کے حق دار بنتے ہیں یا شیطان کی چالوں میں آ کر اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے روک لیتے ہیں۔ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ایک ایسی کامیاب تجارت ہے کہ اس میں نفع ہی نفع ہے اور نقصان بالکل نہیں۔ یہ ایک ایسا کاروبار ہے کہ جس میں ترقی ہی ترقی ہے اور گھاٹے کا کوئی موقع نہیں۔ جو مسلمان اپنا پیسہ اس کاروبار میں صرف کرتا ہے، اللہ تعالی اسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس لوٹا دیتے ہیں۔
❀ ارشاد باری تعالی ہے:
قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
(34-سبأ:39)
کہہ دیجیے، بلا شبہ میرا رب رزق فراخ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے اور تم جو بھی خرچ کرتے ہو وہ اس کی جگہ اور دیتا ہے اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔
غور فرمائیے کہ جب رزق میں فراخی اور تنگی کرنا اللہ کے اختیار میں ہے اور وہی اصل رازق ہے تو بھلا اس کے ساتھ تجارت کر کے انسان کیسے گھاٹے میں رہ سکتا ہے، بلکہ اس نے تو وعدہ فرمایا ہے کہ جو تم میری راہ میں خرچ کرو گے، میں تمہیں واپس لوٹاؤں گا۔
یہی بات ایک حدیث قدسی میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
يا ابن آدم أنفق أنفق عليك
اے آدم کے بیٹے! تو (میری راہ میں) خرچ کر، تم پر (بھی میری طرف سے) خرچ کیا جائے گا۔
صحیح البخاری: 4684، صحیح مسلم : 993
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من يوم يصبح العباد فيه إلا ملكان ينزلان فيقول أحدهما اللهم أعط منفقا خلفا ويقول الآخر اللهم أعط ممسكا تلفا
ہر روز جس میں بندے صبح کرتے ہیں، اور دو فرشتے نازل ہوتے ہیں ایک فرشتہ کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ! مال روکنے والے کے مال کو تلف کر دے۔
صحیح البخاری: 1442
صدقہ خیرات کرنے والوں کے رزق میں اللہ تعالی ایسی برکت عطا کرتے ہیں کہ بعض دفعہ انسان خود مشاہدہ کر لیتا ہے کہ غیبی طریقے سے اس کی مدد ہو رہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے ہی شخص کا واقعہ بیان فرمایا جو اپنی زمین کی پیداوار کا ایک تہائی حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا کرتا تھا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ ایک شخص نے جنگل میں بادل سے ایک آواز سنی کہ فلاں آدمی کے باغ کو سیراب کرو، وہ بادل چل پڑا اور اس نے ایک پتھریلی زمین پر پانی برسایا، وہاں کے نالوں میں سے ایک نالہ خوب بھر گیا، وہ شخص اس پانی کے پیچھے پیچھے گیا، وہاں ایک شخص باغ میں کھڑا اپنے بیلچے سے پانی کو ادھر ادھر کر رہا تھا، اس شخص نے باغ والے سے پوچھا: اے اللہ کے بندے! تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے اپنا وہی نام بتایا جو اس نے بادل سے سنا تھا۔ اس شخص نے پوچھا: اے اللہ کے بندے! تم نے میرا نام کیوں پوچھا ہے؟ اس نے کہا: جس بادل نے اس باغ میں پانی برسایا ہے، میں نے اس بادل سے یہ آواز سنی تھی کہ فلاں آدمی کے باغ کو سیراب کرو، اس نے تمہارا نام لیا تھا، تم اس باغ میں کرتے کیا ہو؟ اس نے کہا: اب جب تم نے یہ بتایا ہے تو سنو! میں اس باغ کی پیداوار پر نظر رکھتا ہوں، اس میں سے ایک تہائی کو میں صدقہ کرتا ہوں، ایک تہائی میں اور میرے اہل و عیال کھاتے ہیں اور باقی ایک تہائی کو میں اس باغ میں لگا دیتا ہوں۔
صحیح مسلم: 2984
یہ مثال ہے اس شخص کی جو اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے کہ کس طرح اللہ غیبی طریقے سے ایسے لوگوں کی مدد فرماتا ہے۔ دیکھیے کہ بادل بھی کہاں کہاں سے آ کر اس کے باغ کو سیراب کر رہے ہیں۔ یہ سب بلا وجہ نہیں بلکہ اللہ رب العزت کی طرف سے اپنے بندے کی مدد و نصرت ہے، اور اتفاق کا بدلہ اور انعام ہے۔ یاد رہے کہ جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے روک لیتے ہیں، اس پر سانپ بن کر بیٹھ جاتے ہیں اور کبھی کسی یتیم، مسکین اور ضرورت مند کی مدد نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالی بھی رزق گن گن کر ہی دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا:
أنفقي ولا توعي فيوعي الله عليك ولا تحسي فيحسي الله عليك
خرچ کیا کرو، گنا نہ کرو، تاکہ تمہیں بھی گن گن کر نہ ملے اور جوڑ روک کر نہ رکھا کرو، تاکہ تم سے بھی اللہ تعالی (اپنی نعمتوں کو) نہ روکے۔
صحیح البخاری: 2591
عذاب الہی سے نجات اور جنت میں داخلے کا ذریعہ
انسان کی اصل کامیابی جہنم سے بچ جانا اور جنت میں داخل ہو جانا ہے۔ یہی وہ کامیابی ہے جس کے حصول کے لیے ایک مسلمان اپنی زندگی کھپا دیتا ہے اور اس کامیابی کے لیے ساری عمر کوشش کرتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
مَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ
(3-آل عمران:185)
”جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو یقیناً وہ کامیاب ہو گیا۔“
جہنم سے بچاؤ اور جنت میں داخلے کے لیے ایک بہترین نسخہ صدقہ خیرات بھی ہے۔ اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنا نہ صرف جنت کے حصول کا ذریعہ ہے بلکہ اس کے ذریعے سے عذاب الہی سے بھی نجات پائی جا سکتی ہے۔ وہ عذاب جہنم کا ہو یا قبر کا یا اس کے علاوہ کوئی دنیاوی عذاب۔
درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ عذاب قبر سے نجات دلاتا ہے اور بندے کی حفاظت کے لیے عذاب کے فرشتے کے سامنے ڈٹ جاتا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الميت إذا وضع فى قبره إنه يسمع خفق نعالهم حين يولون عنه فإن كان مؤمنا كانت الصلاة عند رأسه وكان الصيام عن يمينه وكانت الزكاة عن شماله وكان فعل الخيرات من الصدقة والصلة والمعروف والإحسان إلى الناس عند رجليه فيؤتى من قبل رأسه فتقول الصلاة ما قبلي مدخل ثم يؤتى عن يمينه فيقول الصيام ما قبلي مدخل ثم يؤتى عن يساره فتقول الزكاة ما قبلي مدخل ثم يؤتى من قبل رجليه فتقول فعل الخيرات من الصدقة والصلة والمعروف والإحسان إلى الناس ما قبلي مدخل
جب میت کو قبر میں دفن کیا جاتا ہے تو وہ واپس پلٹنے والے لوگوں کے جوتوں کی آواز سنتی ہے۔ اگر مرنے والا مومن ہو تو اس کی نماز اس کے سر کے پاس کھڑی ہو جاتی ہے، روزہ اس کے دائیں جانب، زکوٰۃ بائیں جانب اور دیگر نیک اعمال (صدقہ، صلہ رحمی، لوگوں کے ساتھ کی ہوئی نیکیاں اور احسان) اس کے پاؤں کے پاس ہوتے ہیں۔ عذاب کا فرشتہ سر کی طرف سے آتا ہے تو نماز کہتی ہے: میری طرف سے کوئی راستہ نہیں۔ پھر وہ دائیں طرف سے آنا چاہتا ہے تو روزہ کہتا ہے: میری طرف سے کوئی راستہ نہیں۔ پھر وہ بائیں جانب سے آنا چاہتا ہے تو زکوٰۃ رکاوٹ بن جاتی ہے۔ پاؤں کی طرف سے آنا چاہتا ہے تو دیگر نیک اعمال (صدقہ، صلہ رحمی، لوگوں کے ساتھ کی ہوئی نیکیاں اور احسان) کہتے ہیں: ہماری طرف سے کوئی راستہ نہیں۔
ابن حبان: 3113؛ المستدرک للحاکم: 1/380، رقم: 1403، وسندہ حسن
صدقہ عذاب جہنم سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ درج ذیل حدیث اس پر دلالت کرتی ہے۔
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما منكم أحد إلا سيكلمه ربه ليس بينه وبينه ترجمان فينظر أيمن منه فلا يرى إلا ما قدم من عمله وينظر بين يديه فلا يرى إلا النار تلقاء وجهه فاتقوا النار ولو بشق تمرة
تم میں سے ہر شخص سے تمہارا رب اس طرح بات کرے گا کہ تمہارے اور اس کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا۔ وہ اپنی دائیں طرف دیکھے گا تو اسے اپنے اعمال کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دے گا۔ وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو جہنم کے سوا کوئی چیز نہ دیکھے گا۔ پس جہنم سے بچ جاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے سے ہو۔
صحیح البخاری: 7512، صحیح مسلم: 1016
ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں:
من استطاع منكم أن يستتر من النار ولو بشق تمرة فليفعل
تم میں سے جو شخص جہنم سے بچنے کی طاقت رکھتا ہے، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے ہی ہو تو وہ (بچنے کے لیے) ضرور ایسا کرے۔
صحیح مسلم: 1016
یعنی اگر کسی کے پاس کھجور کا ایک ٹکڑا ہی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے ہے تو وہ اسے خرچ کرے اور اس کے ذریعے سے جہنم کی آگ سے بچ جائے۔
اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے والے قیامت کے دن ہر قسم کے خوف اور غم سے محفوظ رہیں گے جس کا یہ واضح معنی ہے کہ وہ جہنم سے بھی دور رہیں گے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
(2-البقرة:274)
”جو لوگ اپنے مال رات اور دن چھپا کر اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، نہ ان پر کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو نصیحت فرمائی کہ جہنم میں ان کی تعداد زیادہ ہوگی، اس لیے اگر جہنم سے بچنا چاہتی ہیں تو کثرت سے صدقہ خیرات کیا کریں۔ یہ بھی دلیل ہے کہ صدقہ جہنم سے بچنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے دن عید گاہ تشریف لے گئے، وہاں آپ عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا:
يا معشر النساء تصدقن فإني أريتكن أكثر أهل النار
اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔
صحیح البخاری: 304
انفاق فی سبیل اللہ نہ صرف جہنم سے آزادی کی ضمانت ہے بلکہ جنت میں داخلے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔ صدقہ خیرات کرنے والے بڑے پروٹوکول کے ساتھ جنت میں جائیں گے اور ان کے لیے جنت کا ایک مخصوص دروازہ ہے جس کا نام ہی ”باب الصدقة“ ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أنفق زوجين فى سبيل الله نودي من أبواب الجنة يا عبد الله هذا خير فمن كان من أهل الصلاة دعي من باب الصلاة ومن كان من أهل الجهاد دعي من باب الجهاد ومن كان من أهل الصيام دعي من باب الريان ومن كان من أهل الصدقة دعي من باب الصدقة
جو اللہ کے راستے میں کسی چیز کا جوڑا خرچ کرے گا، اسے فرشتے جنت کے دروازوں سے بلائیں گے کہ اے اللہ کے بندے! یہ دروازہ اچھا ہے، پھر جو شخص نمازی ہو گا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو روزے دار ہو گا اسے باب الریان سے بلایا جائے گا اور جو صدقہ کرتا ہو گا، اسے باب الصدقہ سے بلایا جائے گا۔
صحیح البخاری: 1897، صحیح مسلم: 1027
سچے ایمان کی دلیل
❀ ارشاد باری تعالی ہے:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا
(8-الأنفال:2-4)
ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیات پڑھی جائیں تو ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسا کرتے ہیں، وہ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے مومن ہیں۔
درج بالا آیات کریمہ میں اللہ رب العزت نے سچے مومن کی صفات بیان فرمائی ہیں۔ ان صفات میں سے ایک اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے خرچ کرنا بھی ہے۔ گویا اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا کسی بھی شخص کے ایمان کی دلیل ہے۔ اسی بات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے الفاظ میں یوں بیان فرمایا ہے:
والصدقة برهان
صدقہ دلیل / حجت ہے۔
صحیح مسلم: 223
امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
معناه الصدقة حجة علىٰ إيمان فاعلها فإن المنافق يمتنع منها لكونه لا يعتقدها فمن تصدق استدل بصدقته علىٰ صدق إيمانه
اس کا معنی یہ ہے کہ صدقہ کرنے والے کے لیے صدقہ اس کے ایمان کی دلیل ہے۔ کیونکہ منافق تو صدقہ خیرات نہیں کرتا اور نہ صدقے میں کوئی فائدہ خیال کرتا ہے۔ لہذا جو شخص صدقہ کرے گا تو اس سے اس کے سچے ایمان کی تصدیق ہو گی۔
شرح النووی: 3/101، طبع دار احیاء التراث العربی
گناہوں سے خلاصی کا ذریعہ
صدقہ خیرات کرنے سے انسان بہت سی اخلاقی برائیوں سے بچ جاتا ہے۔ خاص طور پر مال سے بے جا محبت، حرص، بخل اور کنجوسی جیسی برائیوں سے انسان کی خلاصی ہو جاتی ہے۔ مال کی حرص اور بخل سے بچ کر جو دوستا کو اپنا لینا بہت بڑی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(59-الحشر:9)
اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچالیا گیا تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔
مال سے بہت زیادہ محبت کرنا اور اس کے لیے دل میں طمع اور حرص رکھنا کوئی اچھی عادت نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے انسان کے لیے ہلاکت کا سبب قرار دیا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تعس عبد الدينار وعبد الدرهم وعبد الخميصة إن أعطي رضي وإن لم يعط سخط تعس وانتكس وإذا شيك فلا انتقش
درہم و دینار کا بندہ اور کمبل کا بندہ ہلاک ہو گیا۔ اگر اسے دیا جائے تو خوش ہوتا اور اگر نہ دیا جائے تو غصے (اور ناراض) ہو جاتا ہے۔ ایسا شخص تباہ و برباد ہو جائے اور جب اسے کانٹا لگے تو (اللہ کرے) وہ نہ نکلے۔
صحيح البخاري: 2887
جو شخص مال کی حرص سے بچ کر اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتا ہے وہ اس وعید سے بھی بچ جاتا ہے اور صدقہ خیرات انسان کے دل سے مال کی محبت نکال کر اس کے دل میں جود و سخا کو بھر دیتا ہے اور وہ اعلیٰ اخلاق کا مالک بن جاتا ہے۔
اللہ رب العزت نے صدقے کا یہ فائدہ خود بیان فرمایا ہے کہ صدقے سے انسان گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کا تزکیہ نفس بھی ہوتا ہے۔
❀ ارشاد باری تعالی ہے:
خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا
(9-التوبة:103)
ان کے مالوں سے صدقہ لیجیے، اس سے آپ انہیں پاک کریں گے اور انہیں صاف (تزکیہ) کریں گے۔
گویا صدقہ اور زکوٰۃ دینے سے انسان گناہوں اور اخلاق رذیلیہ سے بچ جاتا ہے اور اس کے اندر اخلاق حسنہ اور اعمال صالحہ کو اپنانے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
اعمالِ صالحہ کے لیے توفیق
❀ ارشادِ باری تعالی ہے:
فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ
(92-الليل:5-7)
پس جس نے دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور نیک بات کی تصدیق کی تو ہم اسے آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے۔
ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص تین باتوں کو اپنا لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر بھلائی پر عمل کرنا آسان اور ہر برائی کو ترک کرنا بھی آسان بنا دیتا ہے، کیونکہ اس نے آسانی کے اسباب اختیار کیے تو اللہ نے اس کو نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دی۔ وہ تین باتیں جن کو اپنانے سے یہ توفیق ملتی ہے وہ درج ذیل ہیں:
➊ جس نے دیا، یعنی اللہ کے راستے میں مال خرچ کیا۔
➋ تقویٰ اختیار کیا۔
➌ نیک بات کی تصدیق کی یعنی اس نے لا إله إلا الله اور دیگر دینی عقائد کی تصدیق کی اور ان پر سچے دل سے ایمان لایا۔
صدقہ کرنے والے کو عمل کا ثواب
صدقے کی یہ بہت بڑی فضیلت ہے کہ صدقہ کرنے والا بغیر عمل کیے صرف مال خرچ کر کے ہی اس عمل کا ثواب بھی حاصل کر لیتا ہے۔ جیسے روزہ کھلوانے والا روزے دار جتنا ثواب حاصل کر لیتا ہے۔ مجاہد کو تیار کرنے والا اور اس کو سامان دینے والا جہاد جیسے عظیم عمل میں برابر کا شریک ہو جاتا ہے۔ حالانکہ نہ تو وہ عملاً جہاد کرتا ہے اور نہ جہاد کی مشکلات کو برداشت کرتا ہے، صرف اپنا مال خرچ کر کے گھر بیٹھے ہی اسے جہاد کا ثواب مل جاتا ہے۔
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من جهز غازيا فقد غزا ومن خلف غازيا فى سبيل الله بخير فقد غزا
جس شخص نے مجاہد کو ساز و سامان دیا تو گویا وہ خود غزوہ میں شریک ہوا اور جس نے خیر خواہانہ طریقے سے مجاہد کے گھر بار کی نگرانی کی تو گویا وہ خود غزوہ میں شریک ہوا۔
صحیح البخاری: 2843، صحیح مسلم: 1895
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من فطر صائما كتب له مثل أجره إلا أنه لا ينقص من أجر الصائم شيئا
جس نے روزے دار کا روزہ افطار کروایا اس کے لیے اس کے برابر ثواب لکھا جائے گا اور روزے دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
صحیح سنن الترمذی: 807؛ مسند احمد، الموسوعة الحديثية: 17033؛ ابن حبان: 8/216، رقم: 3429
یاد رہے کہ یہ فضیلت صرف روزے اور جہاد کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی عبادت کے لیے عام ہے۔ جو شخص کسی بھی نیک کام میں دوسرے کی مدد کرے گا اسے بھی اس نیک کام کرنے کا ثواب ملے گا۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص کسی کو حج یا عمرے کے لیے رقم دیتا ہے تو اسے بھی حج یا عمرے کا ثواب ملے گا اور حاجی یا عمرہ کرنے والے کے ثواب میں کمی بھی نہیں کی جائے گی، اسے اپنا پورا ثواب ملے گا اور رقم خرچ کرنے والے کو اپنا ثواب ملے گا۔ اسی طرح ایک شخص قرآن کی تعلیم کے لیے ایک ادارہ قائم کرتا ہے، وہاں اساتذہ اور دیگر عملے کے اخراجات برداشت کرتا ہے تو اسے بھی تعلیم قرآن کا ثواب حاصل ہو گا، حالانکہ وہ قرآن کی تعلیم کے عمل میں شامل نہیں۔ صرف مال خرچ کرنے کی وجہ سے اسے یہ ثواب مل جائے گا۔
جیسا کرو گے ویسا بھرو گے
انفاق فی سبیل اللہ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جب بندہ اللہ کی رضا کے لیے اللہ کی مخلوق پر مال خرچ کرتا ہے، ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری کرتا ہے، بھوکوں کو کھلاتا اور پیاسوں کی پیاس بجھاتا ہے، پریشان حال لوگوں کی پریشانی دور کرتا ہے اور مصیبت زدوں کی مدد کرتا ہے تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرماتے ہیں۔ گویا یہاں ”جیسا کرو گے ویسا بھرو گے“ کا اصول کارفرما ہوتا ہے۔ جو اللہ کی مخلوق کے ساتھ جیسا سلوک کرے گا، اللہ بھی اس کے ساتھ دنیا اور آخرت میں ویسا ہی برتاؤ کریں گے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من نفس عن مؤمن كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة ومن يسر على معسر يسر الله عليه فى الدنيا والآخرة ومن ستر مسلما ستره الله فى الدنيا والآخرة والله فى عون العبد ما كان العبد فى عون أخيه
جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی مشکلات میں سے کوئی مشکل دور کی، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مشکلات میں سے کوئی مشکل دور کر دے گا اور جس شخص نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی کی اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی کر دے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ بھی دنیا اور آخرت میں اس کے عیبوں کی پردہ پوشی کرے گا اور جب تک کوئی بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا رہتا ہے۔
صحیح مسلم: 2699
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أعتق رقبة مسلمة أعتق الله بكل عضو منه عضوا من النار حتى فرجه بفرجه
جس شخص نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا، اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کا ہر عضو جہنم سے آزاد کرے گا۔ یہاں تک کہ غلام کی شرمگاہ کے بدلے میں آزاد کرنے والے کی شرمگاہ بھی (جہنم سے آزاد ہو جائے گی)۔
صحیح البخاری: 6715
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كان تاجر يداين الناس فإذا رأى معسرا قال لفتيانه تجاوزوا عنه لعل الله أن يتجاوز عنا فتجاوز الله عنه
ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہہ دیتا کہ اس سے درگزر کرو، شاید اللہ تعالیٰ بھی ہم سے درگزر فرمائے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔
صحیح البخاری: 2078، صحیح مسلم: 3998
درج بالا تمام احادیث اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہیں کہ جیسا کوئی کسی کے ساتھ کرے گا، اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کریں گے۔ گویا کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے جس چیز کی خواہش رکھتا ہے اسے چاہیے کہ لوگوں کے ساتھ ویسا معاملہ کرے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اسے وہی چیز لوٹا دیں گے۔
میدان محشر میں سائے کا سبب
قیامت کے دن کی سختیوں کو کون برداشت کر سکتا ہے؟ جو دن پچاس ہزار سال کے برابر ہو گا، سورج نہایت قریب ہو گا اور گرمی کی شدت کی وجہ سے لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ڈوبے ہوں گے، کسی کا پسینہ ٹخنوں تک تو کسی کا گھٹنوں تک ہوگا، بعض کا کندھوں تک ہوگا اور کچھ لوگ تو سارے کے سارے ہی اپنے پسینے میں ڈوبے ہوں گے۔
صحیح مسلم: 2683، 2684
اتنے سخت اور شدید دن میں جب کوئی سایہ بھی نہیں ہو گا تو صدقہ اُس دن سایہ فراہم کرے گا۔
❀ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كل امرئ فى ظل صدقته حتى يفصل بين الناس
ہر آدمی اپنے صدقے کے سائے میں ہو گا، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان (جنت یا جہنم کا) فیصلہ کر دیا جائے گا۔
صحیح ابن خزیمہ: 2431؛ ابن حبان: 8/104
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سبعة يظلهم الله فى ظله يوم لا ظل إلا ظله إمام عادل وشاب نشأ فى عبادة الله ورجل قلبه معلق فى المساجد ورجلان تحابا فى الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه ورجل دعته امرأة ذات منصب وجمال فقال إني أخاف الله ورجل تصدق بصدقة فأخفاها حتى لا تعلم شماله ما تنفق يمينه ورجل ذكر الله خاليا ففاضت عيناه
سات قسم کے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنا سایہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا: انصاف کرنے والا حاکم، وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں جوان ہوا، وہ شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہے، دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں، اس کی خاطر جمع ہوئے اور اس کی خاطر جدا ہوئے، ایسا شخص جسے کسی خوبصورت اور عزت دار عورت نے برائی کی دعوت دی لیکن اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، وہ شخص جو صدقہ کرے اور اسے اتنا چھپائے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا اور وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔
المستدرک للحاکم: 1/416؛ صحیح البخاری: 1423
پہلی حدیث میں ذکر ہے کہ صدقہ خود سایہ کرے گا، جبکہ دوسری حدیث میں ہے کہ اسے اللہ کا سایہ حاصل ہو گا۔ یعنی صدقہ کرنے والے کو قیامت کے دن یہ دونوں اعزاز حاصل ہوں گے۔
فرض زکوۃ میں ہونے والی کمی کوتاہی کی تکمیل
زکوۃ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ صاحب نصاب کو سال میں ایک بار اپنے مال کا چالیسواں حصہ یعنی اڑھائی فیصد اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہوتا ہے۔ اس کی اہمیت اس سے واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اکثر مقامات میں اسے نماز کے ساتھ ذکر فرمایا ہے، نیز زکوۃ ادا کرنے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے بڑی سخت وعید سنائی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے:
وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۖ هَٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ
(9-التوبة:34-35)
”اور جو لوگ سونا چاندی خزانہ بنا کر رکھتے ہیں اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے۔ جس دن اسے جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں اور ان کے پہلوؤں اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا (اور کہا جائے گا) یہ ہے جو تم نے اپنے لیے خزانہ بنایا تھا، سو چکھو جو تم خزانہ بنایا کرتے تھے۔“
زکوۃ کی اہمیت کے پیش نظر ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ سال بعد اپنے مال کا حساب کتاب کر کے مستحقین تک زکوۃ پہنچائے۔ اگر زکوۃ کی ادائیگی میں نادانستہ طور پر کوئی کمی کوتاہی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو سہولت دی ہے کہ وہ نفلی صدقہ خیرات کریں، جس سے فرض زکوۃ میں ہونے والی کمی پوری ہو جائے گی اور بندہ سخت عذاب سے بچ جائے گا۔
❀ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة صلاته فإن أكملها كتبت له نافلة فإن لم يكن أكملها قال الله سبحانه لملائكته انظروا هل تجدون لعبدي من تطوع فأكملوا بها ما ضيع من فريضته ثم تؤخذ الأعمال علىٰ حسب ذلك
قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا۔ اگر اس نے اس فریضے کو پورا کیا ہو گا تو اس کی زائد نمازوں کو اضافی لکھا جائے گا اور اگر اس کے فرائض میں کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا: دیکھو کیا تمہیں میرے بندے کے کچھ نوافل ملتے ہیں؟ (پھر اگر ہوں تو) ان کے ذریعے سے فرائض کی کمی کو پورا کر دو۔ اس کے بعد باقی اعمال کا حساب بھی اسی طرح ہوگا۔
صحیح سنن ابی داود: 866؛ سنن ابن ماجہ: 1426
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن پہلے بندے کے تمام فرض اعمال کو دیکھا جائے گا، وہ کامل ہوئے تو ٹھیک ورنہ نوافل کے ذریعے سے فرضوں کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔ جیسے نفلی نمازوں سے فرض نمازوں کی کمی اور نفلی صدقے سے فرض زکوۃ کی کمی پوری کی جائے گی۔ لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ صرف فرائض کی ادائیگی پر ہی اکتفا نہ کرے بلکہ نوافل پر بھی حسب استطاعت توجہ دے۔
قیامت کے دن کے لیے ذخیرہ
قیامت کے دن بندوں کے اعمال تو لے جائیں گے، اس لیے انہیں اُس دن نیک اعمال کی ضرورت ہو گی جس سے وہ اپنے میزان کو بھر سکیں، کیونکہ جس کا نیکیوں کا پلڑا بھاری رہا وہی کامیاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ
(23-المؤمنون:102-103)
پھر وہ شخص جس کے پلڑے بھاری ہو گئے تو وہی لوگ کامیاب ہیں اور وہ شخص جس کے پلڑے ہلکے ہو گئے تو وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا نقصان کیا، ہمیشہ جہنم میں رہنے والے ہیں۔
نیک اعمال میں صدقہ ایک ایسا عمل ہے جو بندے کے لیے آخرت کے لیے ذخیرہ ہوتا رہتا ہے۔ بندہ جو کچھ بھی صدقہ کرتا ہے وہ اللہ کے بنک میں جمع ہو رہا ہے اور قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کو اس کے بدلے میں بڑھا چڑھا کر واپس مل جائے گا۔
❀ اللہ تعالیٰ نے صدقے کی ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا:
وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا
(73-المزمل:20)
اور اللہ کو قرض حسنہ دو اور جو بھی نیکی تم اپنی جانوں کے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں بہتر اور ثواب میں کہیں بڑھ کر پاؤ گے۔
مطرف اپنے والد (عبد اللہ بن مخیر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾ کی تلاوت فرما رہے تھے۔ آپ نے فرمایا:
يقول ابن آدم مالي مالي وهل لك يا ابن آدم من مالك إلا ما أكلت فأفنيت أو لبست فأبليت أو تصدقت فأمضيت
ابن آدم کہتا ہے: میرا مال میرا مال! اے ابن آدم! تیرا مال صرف وہی ہے جو تو نے کھا کر فنا کر دیا یا پہن کر بوسیدہ کر دیا یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔
صحیح مسلم: 2958
❀ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں:
إنما له من ماله ثلاث ما أكل فأفنى أو لبس فأبلى أو أعطى فاقتنى وما سوى ذلك فهو ذاهب وتاركه للناس
اس کے لیے تو اس کے مال سے صرف تین چیزیں ہیں: جو اس نے کھا کر فنا کر دیا، جو پہن کر بوسیدہ کر دیا یا کسی کو دے کر آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیا۔ اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ جانے والا ہے اور وہ اس کو لوگوں کے لیے چھوڑنے والا ہے۔
صحیح مسلم: 2959
❀ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيكم مال وارثه أحب إليه من ماله؟ قالوا يا رسول الله ما منا أحد إلا ماله أحب إليه قال إن ماله ما قدم ومال وارثه ما أخر
تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال پیارا ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جسے اپنا مال زیادہ پیارا نہ ہو۔ آپ نے فرمایا: ”اس کا مال تو وہ ہے جو اس نے آگے بھیج دیا اور جو وہ چھوڑ کر مرا وہ تو اس کے وارث کا مال ہے۔“
صحیح البخاری: 6442
ان تمام احادیث سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ بندہ جو مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ آخرت میں اسے مل جائے گا اور اس کی نجات کا ذریعہ بنے گا۔ حقیقت میں یہی اس کا مال ہے جو آخرت میں اس کے کام آئے گا، اور جس مال کو وہ جمع کر کے رکھتا رہا وہ تو اس کے مرنے کے بعد وارثوں کا ہو جائے گا۔
مرنے کے بعد بھی ثواب
دنیا کی زندگی دار الامتحان ہے۔ یہاں اللہ نے انسان کو مہلت دی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو غنیمت جان کر کچھ کر لے اور اپنی آخرت کو سنوارنے کا سامان کر لے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، جو چیز دنیا میں بوئے گا آخرت میں وہی کاٹے گا۔
دنیا دارالعمل ہے اور آخرت دار الجزاء۔ زندگی میں انسان کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ وہ اعمال کر لے، لیکن مرنے کے ساتھ ہی اس سے یہ اختیار چھین لیا جاتا ہے اور وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتا۔
البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند ایسے اعمال کی نشاندہی فرما دی ہے کہ مرنے کے بعد بھی ان کے ثواب کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ بندہ قبر میں ہوتا ہے لیکن اسے برابر ثواب مل رہا ہوتا ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا مات الإنسان انقطع عمله إلا من ثلاث إلا من صدقة جارية أو علم ينتفع به أو ولد صالح يدعو له
جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے:
(1) صدقہ جاریہ۔
(2) وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جاتا رہے۔
(3) نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔
صحیح مسلم: 1631
کسی شے کو بطور صدقہ وقف کر دینا، جو لوگوں کے لیے مستقل خیر کا باعث بنی رہے، صدقہ جاریہ کہلاتا ہے۔ جب تک صدقہ کی گئی چیز سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں گے، میت کو اس کا ثواب ملتا رہے گا۔ جیسے کوئی شخص اپنی زندگی میں قرآن مجید کے نسخے تقسیم کرتا ہے اور لوگ اس سے تلاوت کرتے ہیں۔ اس کے مرنے کے بعد بھی جب تک لوگ اس کے تقسیم کردہ مصاحف سے تلاوت کرتے رہیں گے، اسے برابر ثواب ملتا رہے گا۔ ایک شخص مسجد بنوا کر مر جاتا ہے تو جب تک لوگ اس مسجد میں نماز پڑھتے رہیں گے اسے اس کا ثواب ملتا رہے گا۔ صدقہ جاریہ کی اور بھی بہت سی صورتیں ہیں۔ جیسے کنواں کھدوا کر یا ٹیوب ویل لگوا کر اس کا پانی لوگوں کے لیے وقف کر دینا، کسی کو کوئی ہنر سکھا دینا تا کہ وہ حلال روزی کما سکے، مسجد تعمیر کرنا یا مسجد میں نمازیوں کی سہولت کے لیے کوئی انتظام کرنا مثلاً پنکھے لگوا دینا، گرمیوں میں نمازیوں کے پینے کے لیے ٹھنڈے پانی کا کولر لگوا دینا وغیرہ۔ اس طرح قبرستان کے لیے جگہ وقف کرنا، ہسپتال بنوانا، ہسپتال میں مریضوں کے لیے کوئی چیز وقف کرنا جیسے وہیل چیئر، ایکسرے مشین یا ایمبولینس وغیرہ، دینی مدارس کا انتظام و انصرام اور علوم دینیہ کے طلبا کی کفالت کرنا، عوام کے مطالعے کے لیے لائبریری بنانا وغیرہ۔
میت کی طرف سے صدقے کی سہولت
زندگی میں کیے گئے صدقہ جاریہ کا ثواب تو مرنے کے بعد ملتا ہی ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں صدقہ خیرات کیے بغیر فوت ہو جائے تو اس کے ورثا اس کی طرف سے صدقہ کر سکتے ہیں اور اس کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:
ان رجلا قال للنبی صلی اللہ علیہ وسلم إن أمي افتلتت نفسها وأظنها لو تكلمت تصدقت فهل لها أجر إن تصدقت عنها؟
ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا میری والدہ اچانک وفات پا گئیں اور میرا خیال ہے کہ اگر وہ بات کر پاتیں تو صدقہ کرتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انہیں اجر ملے گا؟ آپ نے فرمایا: (جی ہاں)۔
صحیح البخاری: 1388
❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
إن سعد بن عبادة والله توقيت أمه وهو غائب عنها فقال: يا رسول الله إن أمي توفيت وأنا غائب عنها أينفعها شيء إن تصدقت به عنها؟ قال: ((نعم)) قال: فإني أشهدك أن حائطى المحراف صدقة عليها
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ان کی عدم موجودگی میں وفات پا گئیں۔ انہوں نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول! میری والدہ وفات پا گئیں اور میں ان کے پاس موجود نہیں تھا۔ اگر میں ان کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کروں تو کیا اس سے انہیں فائدہ پہنچے گا؟) آپ نے فرمایا: (جی ہاں)۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: (میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا محراف نامی باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔)
صحیح البخاری: 2756
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر میت نے وصیت نہ بھی کی ہو اور ورثا اس کی طرف سے صدقہ کریں تو اس کا ثواب بھی میت کو پہنچتا ہے۔
درج ذیل حدیث بھی اس کی واضح دلیل ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم إن أبى مات وترك مالا ولم يوص فهل يكفر عنه أن أتصدق عنه؟
ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”(میرے والد فوت ہو گئے ہیں، انہوں نے مال چھوڑا ہے اور وصیت نہیں کی۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کے گناہوں کا کفارہ ادا ہو جائے گا؟) آپ نے فرمایا: (جی ہاں)۔
صحیح مسلم: 1630
شیطان کے مقابلے میں فتح
شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ اللہ نے اسے ذلیل و خوار کر کے جنت سے نکالا تھا، اس لیے وہ نہیں چاہتا کہ کوئی انسان نیک اعمال کر کے جنت میں جائے۔ وہ لوگوں کے سامنے برائیوں کو اچھا کر کے دکھاتا ہے اور انہیں گناہوں کی طرف راغب کرتا ہے۔ جب کوئی انسان اچھا کام کرنے لگتا ہے تو وہ انسان کو اس سے روکنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے اور راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ جب کوئی مسلمان صدقہ خیرات کرتا ہے تو شیطان کی جان پر بن جاتی ہے، وہ یہ کہہ کر ڈراتا ہے کہ صدقہ کرو گے تو مفلس اور قلاش ہو جاؤ گے۔
❀ ارشاد باری تعالی ہے:
الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلًا وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
(2-البقرة:268)
شیطان تمہیں فقر کا ڈراوا دیتا ہے اور تمہیں بے حیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تمہیں اپنی طرف سے بڑی بخشش اور فضل کا وعدہ دیتا ہے اور اللہ وسعت والا، خوب جاننے والا ہے۔
مشاہدے کی بات ہے کہ جب مسجد، مدرسہ یا کسی اور کار خیر کے لیے جیب سے پیسے نکالنے پڑتے ہیں تو انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے، لیکن یہی شخص جب دنیاوی کاموں پر پیسہ خرچ کرتا ہے تو اسے کسی قسم کی ہچکچاہٹ اور تردد نہیں ہوتا اور بغیر سوچے سمجھے پیسہ اڑا دیتا ہے۔
اس لحاظ سے صدقہ کرنے والا بہت بڑا فاتح ہے جو شیطان کی طرف سے آنے والے وسوسوں کو خاطر میں نہیں لاتا اور بے دریغ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے بے حد خوش ہوتا ہے وہاں شیطان اپنی شکست تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
ثواب مل کر ہی رہتا ہے
ہر عبادت صرف اسی وقت قبول ہوتی ہے جب وہ شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کی جائے۔ نماز کا ثواب اس وقت ملے گا جب سنت کے مطابق ادا کی جائے گی، حج تب ہی قبول ہو گا جب اس کے تمام ارکان کو صحیح طریقے سے ادا کیا جائے گا، لیکن صدقہ ایک ایسی عبادت ہے کہ جب بندہ اللہ کی رضا کی خاطر پاکیزہ مال خرچ کر دیتا ہے تو اس کا ثواب لازمی ہو جاتا ہے اور اس کی نیت کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ اسے شرف قبولیت بخش دیتے ہیں، خواہ وہ مال کسی وجہ سے صحیح جگہ پر نہ پہنچے۔
درج ذیل حدیث اس بات کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ایک شخص نے کہا: میں ضرور صدقہ کروں گا۔ چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور (غلطی سے) ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ صبح ہوئی تو لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ آج رات کسی نے چور کو صدقہ دے دیا ہے۔ اس شخص نے کہا: اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ آج میں پھر ضرور صدقہ کروں گا۔ چنانچہ وہ دوبارہ صدقہ لے کر نکلا اور اس مرتبہ ایک فاحشہ کے ہاتھ میں دے آیا۔ جب صبح ہوئی تو پھر لوگوں میں چرچا ہوا کہ آج رات کسی نے فاحشہ عورت کو صدقہ دے دیا ہے۔ اس شخص نے کہا: اے اللہ! تمام تعریف تیرے لیے ہے، میں زانیہ کو صدقہ دے آیا ہوں۔ آج میں پھر صدقہ نکالوں گا۔ چنانچہ اپنا صدقہ لیے ہوئے وہ پھر نکلا اور اس مرتبہ ایک مالدار کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگ کہنے لگے کہ ایک مالدار کو کسی نے صدقہ دے دیا ہے۔ اس شخص نے کہا: اے اللہ! حمد تیرے ہی لیے ہے۔ میں اپنا صدقہ (لاعلمی سے) چور، زانیہ اور مالدار کو دے آیا۔
اسے بتایا گیا کہ جہاں تک چور کے ہاتھ میں صدقہ چلے جانے کی بات ہے تو ممکن ہے کہ وہ چوری سے رک جائے۔ اسی طرح زانیہ کو صدقے کا مال مل جانے پر اس بات کا امکان ہے کہ وہ زنا سے باز آجائے اور مالدار کو صدقہ دینے سے ہو سکتا ہے کہ وہ عبرت پکڑ لے اور اللہ کے دیے ہوئے مال کو خرچ کرنے لگے۔
صحیح البخاری: 1421
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر غلطی یا لاعلمی سے غیر مستحق کو صدقہ دے دیا جائے تو اللہ اسے قبول فرما لیتا ہے اور صدقہ دینے والے کو ثواب بھی مل جاتا ہے۔ یاد رہے کہ جان بوجھ کر کسی ایسے شخص کو صدقہ دے دینا جو مستحق ہی نہ ہو، یہ ہرگز جائز اور درست نہیں۔
قرب الہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے حصول کا ذریعہ
اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہر مسلمان کے دل کی تمنا و آرزو ہوتی ہے اور اگر کسی کو یہ اعزاز حاصل ہو جائے تو اس سے بڑھ کر خوش بخت کوئی انسان نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو حکم بھی دیا ہے کہ اگر وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اللہ کے قرب کی تلاش میں لگے رہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
(5-المائدة:35)
”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور اس کا قرب تلاش کرو، اور اس کے راستے میں جہاد کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔“
اللہ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین طریقہ فرائض کی ادائیگی کے بعد نوافل کو ذوق و شوق سے ادا کرنا ہے۔ قرب الہی کا یہ ذریعہ خود اللہ تعالیٰ نے بندوں کو بتایا ہے چنانچہ حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب وما تقرب إلى عبدي بشيء أحب إلى مما افترضت عليه وما زال عبدي يتقرب إلى بالنوافل حتى أحبه فإذا أحببته كنت سمعه الذى يسمع به وبصره الذى يبصر به ويده التى يبطش بها ورجله التى يمشي بها وإن سألني لأعطينه ولئن استعاذني لأعيذنه
جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے۔ میرا بندہ جن جن چیزوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور جو عبادت میں نے اس پر فرض کی ہے، اس سے بڑھ کر مجھے کوئی عبادت پسند نہیں اور میرا بندہ (فرض ادا کرنے کے بعد) نفلی عبادتیں کر کے میرے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں، پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اور اگر وہ کسی چیز سے میری پناہ طلب کرتا ہے تو میں پناہ دیتا ہوں۔
صحیح البخاری: 6502
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بندہ نفلی عبادت یعنی نفلی نماز، نفلی روزے اور نفلی صدقہ خیرات وغیرہ کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کر لیتا ہے اور اللہ کا محبوب بھی بن جاتا ہے اور وہ ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ، پاؤں، آنکھیں اور کان سب کچھ اللہ کی مرضی کے مطابق کام کرنے لگتے ہیں۔ وہ آنکھوں سے وہی دیکھتا ہے جو اللہ کو پسند ہوتا ہے، کانوں سے وہی سنتا ہے جسے اللہ چاہتا ہے، غرض اس کا سارا جسم اللہ کی مرضی کے مطابق کام کرنے لگتا ہے۔
اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کو اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں تقرب الہی کے حصول کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
وَمِنَ الْأَعْرَابِ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللَّهِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ ۚ أَلَا إِنَّهَا قُرْبَةٌ لَهُمْ ۚ سَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
(9-التوبة:99)
اور کچھ دیہاتی وہ ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں قربتوں کا ذریعہ اور رسول کی دعاؤں کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ آگاہ رہو! یقیناً (یہ خرچ کرنا) ان کے لیے قربت (کا ذریعہ) ہے، اللہ جلد انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
اس آیت کریمہ میں انفاق فی سبیل اللہ کو رسول کی دعاؤں کے حصول کا ذریعہ بھی قرار دیا گیا ہے، یعنی اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے والا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں بھی اپنے حق میں سمیٹ لیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں تو ایسے لوگوں کو دعائیں دیا ہی کرتے تھے جو آپ کے پاس مختلف مصارف میں خرچ کرنے کے لیے مال لے کر آتے تھے، لیکن آج بھی وہ ہر شخص آپ کی ان دعاؤں کا مستحق و مصداق ہے جو خلوص سے اپنا مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے۔