مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

صدقہ کب افضل ہے، تندرستی میں یا بوقت وفات؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

صدقہ کب افضل ہے، تندرستی میں یا بوقت وفات؟

جواب:

بہترین اور افضل صدقہ وہ ہے، جو انسان اپنی زندگی میں کرے، کیونکہ اس وقت انسان کو ضروریات زیادہ درپیش ہوتی ہیں، تو جو صدقہ اس وقت کیا جائے گا، وہ صدق دل اور للہیت سے ہوگا، لیکن جب انسان دنیا سے جا رہا ہوتا ہے، اس وقت اس کی بنیادی ضروریات زندگی ختم ہو چکی ہوتی ہیں، اس وقت کیے گئے صدقہ کا وہ اجر نہیں جو حالت صحت میں صدقہ کرنے کا اجر ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جاء رجل إلى النبى صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، أى الصدقة أعظم أجرا؟ قال: أن تصدق وأنت صحيح شحيح تخشى الفقر، وتأمل الغنى، ولا تمهل حتى إذا بلغت الحلقوم، قلت لفلان كذا، ولفلان كذا وقد كان لفلان
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، کہنے لگا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ اجر و ثواب کے اعتبار سے افضل ہے؟ فرمایا: وہ صدقہ، جو تندرستی کی حالت میں ہو، تمہیں فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو اور مالداری کی فکر ہو، اس وقت کا انتظار مت کرنا کہ جب تمہاری جان حلق تک پہنچ جائے اور اس وقت تم کہو کہ فلاں کو اتنا دے دیں، فلاں کو اتنا دے دیں، حالانکہ اس وقت وہ مال فلاں فلاں (ورثہ) کا ہو جائے گا۔
(صحيح البخاري: 1419، صحیح مسلم: 1032)
❀ علامہ ابو عبد اللہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
لا خلاف أن الصدقة فى حال الحياة والصحة أفضل منها عند الموت
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ زندگی اور تندرستی کی حالت میں کیا گیا صدقہ اس صدقہ سے افضل ہے، جو موت کے وقت کیا جائے۔
(تفسير القرطبي: 271/2)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔