صدقہ و انفاق فی سبیل اللہ کے سبق آموز واقعات صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ عبداللہ یُوسف ذہبی کی کتاب فضائل صدقات سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

صدقہ کرنے کی چند روشن مثالیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کائنات میں سب سے بڑھ کر سخاوت کرنے والے تھے، کیونکہ آپ کے دل میں دنیا اور اس کی زیب وزینت کی کوئی حیثیت نہیں تھی، لہذا آپ کے پاس جو بھی مال آتا اسے ذخیرہ کرنے کی بجائے فوراً اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتے۔ آپ زہد اور ورع میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ کے جانثار صحابہ نے آپ کی سخاوت کو مختلف انداز میں بیان کیا ہے۔ یہاں چند احادیث پیش کی جا رہی ہیں جن سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آپ کس قدر سخی تھے اور اللہ کی راہ میں کس طرح مال خرچ کرتے تھے۔ اتباع رسول کا تقاضا ہے کہ مسلمان بھی اپنے پیارے نبی کی جود و سخا کے ان واقعات سے سبق سیکھیں اور آپ کے اس اسوہ کو اپنائیں۔
➊ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم أجود الناس بالخير وكان أجود ما يكون فى رمضان حين يلقاه جبريل عليه السلام وكان جبريل يلقاه كل ليلة فى رمضان حتى ينسلخ يعرض عليه النبى صلى الله عليه وسلم القرآن فإذا لقيه جبريل عليه السلام كان أجود بالخير من الريح المرسلة
”بھلائی کے کاموں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔ جب رمضان میں جبریل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے تو آپ بہت زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔ جبریل علیہ السلام آپ کے پاس رمضان ختم ہونے تک ہر رات تشریف لاتے تھے۔ جب جبریل آپ سے ملتے تو آپ تیز ہوا سے بھی زیادہ تیز سخاوت فرماتے تھے۔“
صحیح البخاری: 1902؛ صحیح مسلم: 2308
➋ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لو كان عندي أحد ذهبا لأحببت أن لا يأتى على ثلاث وعندي منه دينار ليس شيء أرصده فى دين على أجد من يقبله
”اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو میں پسند کرتا کہ تین دن گزرنے سے پہلے ہی میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی نہ بچے اگر اس کے لینے والے مل جائیں، سوائے اس کے جسے میں اپنے قرض اتارنے کے لیے رکھ لوں۔“
صحيح البخاری: 7228
➌ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے انہیں دے دیا۔ انہوں نے پھر مانگا تو آپ نے دے دیا حتی کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا وہ ختم ہو گیا۔ آپ نے فرمایا:
ما يكون عندي من خير فلن أخبئه عنكم ومن يستعفف يعفه الله ومن يستغن يغنه الله ومن يتصبر يصبره الله وما أعطي أحد عطاء خيرا وأوسع من الصبر
”میرے پاس جو بھی مال ہوگا وہ میں تم سے بچا کر نہیں رکھوں گا، جو عفت اختیار کرے گا، اللہ اسے عفت عطا فرمائے گا۔ جو بے نیازی چاہے گا، اللہ اسے بے نیاز کر دے گا اور جو صبر کرے گا، اللہ اسے صبر عطا فرمائے گا۔ کسی شخص کو صبر سے بہتر اور بے پایاں کوئی چیز نہیں دی گئی۔“
صحيح البخاري: 1469؛ صحیح مسلم: 1053
➍ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
ما سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا قط فقال لا
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی کوئی چیز مانگی نہیں گئی کہ آپ نے انکار کیا ہو۔“
صحيح البخاري: 6034؛ صحیح مسلم: 2311
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو چیز بھی مانگی گئی، آپ نے کبھی ”نہیں“ نہیں کہا۔
➎ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت ایک چادر لے کر آئی اور عرض کرنے لگی: اے اللہ کے رسول! یہ چادر میں نے خاص آپ کے اوڑھنے کے لیے بنائی ہے۔ آپ نے وہ چادر اس سے اس طرح لی گویا آپ کو اس کی ضرورت ہے، پھر آپ اس چادر کو بطور تہبند پہن کر ہمارے ہاں تشریف لائے۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے اس چادر کی بڑی تعریف کی اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ یہ چادر مجھے دے دیں۔ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ جتنی دیر اللہ نے چاہا آپ مجلس میں بیٹھے رہے، پھر تشریف لے گئے اور اس چادر کو لپیٹ کر اس صاحب کے پاس بھجوا دی۔ صحابہ نے اس شخص سے کہا: تم نے یہ چادر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگ کر اچھا نہیں کیا۔ تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سائل کو واپس نہیں لوٹاتے۔ تو وہ شخص کہنے لگا: اللہ کی قسم! میں نے یہ چادر اس لیے مانگی ہے کہ یہ میرا کفن بن جائے۔ سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہی چادر اس آدمی کا کفن بنی۔
صحیح البخاری: 5819
➏ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے۔ آپ کے ساتھ اور بھی بہت سے صحابہ تھے۔ وادی حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ کچھ لوگ آپ سے لپٹ کر مانگنے لگے۔ بالآخر آپ کو مجبوراً ایک ببول کے درخت کے پاس جانا پڑا۔ وہاں آپ کی چادر چھین لی گئی، آپ کھڑے ہو گئے اور فرمایا:
أعطوني ردائي لو كان لي عدد هذه العضاه نعما لقسمته بينكم ثم لا تجدوني بخيلا ولا كذوبا ولا جبانا
”میری چادر مجھے دے دو۔ اگر میرے پاس درخت کے کانٹوں جتنے بھی اونٹ ہوتے تو میں تم میں تقسیم کر دیتا، پھر تم مجھے بخیل نہیں پاؤ گے، نہ جھوٹا اور نہ بزدل ہی پاؤ گے۔“
صحیح البخاری: 2821
➐ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو پہاڑوں کے درمیان کی بکریاں مانگیں، آپ نے اسے وہ بکریاں عطا کر دیں۔ پھر وہ اپنی قوم کے پاس گیا اور کہنے لگا:
أى قوم أسلموا فوالله إن محمدا ليعطي عطاء ما يخاف الفقر
”اے میری قوم! اسلام لے آؤ، کیونکہ اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا دیتے ہیں کہ فقر کا خدشہ نہیں رہتا۔“
صحیح مسلم: 2312
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی صرف دنیا (مال) کی وجہ سے مسلمان ہوتا تھا، پھر اسلام لانے کے بعد اس کو اسلام دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب ہو جاتا تھا۔
صحیح مسلم: 2313
➑ ابن شہاب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد مسلمانوں کے ساتھ مل کر حنین میں جنگ کی اور اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ کو سو اونٹ عطا فرمائے، پھر سو اونٹ عطا فرمائے اور پھر سو اونٹ عطا فرمائے (یعنی کل تین سو اونٹ دیے)۔ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
والله لقد أعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أعطاني وإنه لأبغض الناس إلى فما برح يعطيني حتى إنه لأحب الناس إلي
”اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا جو بھی عطا فرمایا۔ آپ میری نظر میں تمام لوگوں سے زیادہ قابل نفرت تھے۔ آپ مجھے مسلسل عطا فرماتے رہے، یہاں تک کہ آپ میری نظر میں تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو گئے۔“
صحیح مسلم: 2312
یہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کے دل جیتنے کا انداز۔ اسلام اور نبی اسلام سے نفرت کرنے والے اور مسلمانوں سے دشمنی رکھنے والے لوگوں کو جب آپ مال عطا فرماتے تو اس سے ان کے دلوں میں آپ کے لیے محبت پیدا ہوتی اور وہ آپ کی ذات اور آپ کی دعوت پر سوچ بچار کرنے کے بعد بالآخر اسلام قبول کر لیتے۔
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم عند موته درهما ولا دينارا ولا عبدا ولا أمة ولا شيئا إلا بغلته البيضاء وسلاحه وأرضا جعلها صدقة
”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی موت کے وقت کوئی درہم، دینار، غلام، لونڈی یا کوئی اور چیز نہیں چھوڑی تھی، سوائے اپنے سفید خچر، ہتھیاروں اور ایک زمین کے جسے آپ نے صدقہ کر دیا تھا۔“
صحیح البخاری: 2739

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سخاوت

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ اس موقع پر میرے پاس مال بھی تھا چنانچہ میں نے دل میں سوچا: اگر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سبقت لینا چاہوں تو آج لے سکتا ہوں چنانچہ میں آدھا مال لے آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا باقی چھوڑا ہے؟“ میں نے کہا: اس قدر۔ پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا باقی چھوڑا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑا ہے۔ تب مجھے کہنا پڑا: میں کسی چیز میں کبھی ابوبکر سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔
حسن ، سنن أبي داود : 1678 ، سنن الترمذي : 3675، المستدرك للحاكم 414/1
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ان آمن الناس على فى ماله وصحبته أبو بكر ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا ولكن أخوة الإسلام لا تبقين فى المسجد خوخة إلا خوخة أبى بكر
”ایمان والوں میں مال کے لحاظ سے ابوبکر کا مجھ پر سب سے زیادہ احسان ہے۔ اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا، لیکن اسلام کا بھائی چارہ کافی ہے۔ مسجد کی طرف تمام دروازے بند کر دو، سوائے ابوبکر کے دروازے کے۔“
صحيح البخاری: 3904، صحیح مسلم: 2382
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا: ”آج کس نے روزہ رکھا ہے؟“ ابوبکر نے کہا: میں نے۔ آپ نے پوچھا: ”آج کون جنازے کے ساتھ گیا تھا؟“ ابوبکر نے کہا: میں گیا تھا۔ آپ نے پوچھا: ”آج کس نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟“ ابوبکر نے فرمایا: میں نے۔ آپ نے فرمایا: ”آج کس نے کسی مریض کی عیادت کی ہے؟“ ابوبکر نے کہا: میں نے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما اجتمعن فى امرئ إلا دخل الجنة
”یہ چیزیں جس انسان میں جمع ہو جائیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
صحیح مسلم: 1028
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آیا تو میں تمہیں اتنا، اتنا، اتنا دوں گا۔“ پھر بحرین کا مال آنے سے پہلے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور آپ کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس وہ مال آیا۔ پھر ایک منادی کرنے والے نے یہ ندا لگائی کہ جس شخص سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وعدہ کیا ہو، یا جس کا آپ پر کوئی قرض ہو وہ آ کر لے لے۔ میں گیا اور میں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر بحرین کا مال آیا تو میں تمہیں اتنا اتنا اور اتنا دوں گا۔“ پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک بار مٹھی بھر دی اور فرمایا: اس کو گنو۔ میں نے گنا تو وہ پانچ سو تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اتنے اور لے لو۔
صحيح البخاری: 2598؛ صحیح مسلم: 2314
امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے عامر بن عبد اللہ بن زبیر سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ میں اسلام لانے والے غلاموں کو خرید کر آزاد کر دیتے تھے۔ آپ خاص طور پر بوڑھوں اور عورتوں کو جب وہ مسلمان ہوتے، آزاد کیا کرتے تھے۔ آپ کے والد نے کہا: اے بیٹا! میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم کمزور لوگوں کو آزاد کرتے ہو، اگر تم قوی اور صحت مند لوگوں کو آزاد کرو تو وہ تمہارے ساتھ کھڑے ہوں گے، تمہاری حفاظت کریں گے اور دشمن کو تم سے دور ہٹائیں گے۔ آپ نے جواب دیا: ابا جان! میں تو اس ثواب کا طلب گار ہوں جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ عامر کہتے ہیں کہ مجھے میرے بعض اہل خانہ نے بتایا کہ یہ آیات انہی کے بارے میں نازل کی گئی ہیں:
فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى
(92-اللیل:5-7) تفسير الطبري: 279/30؛ و سنده ضعیف ، محمد بن اسحاق کا عنعنہ ہے.

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سخاوت

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک عورت نے آپ سے ملاقات کی اور کہنے لگی: اے امیر المومنین! میرے شوہر کی وفات ہو گئی ہے اور چند چھوٹی چھوٹی بچیاں چھوڑ گئے ہیں۔ اللہ کی قسم! اب نہ ان کے پاس بکری کے پائے ہیں کہ ان کو پکائیں، نہ کھیتی ہے، نہ دودھ دینے والے جانور ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ فقر وفاقہ سے مر نہ جائیں۔ میں خفاف بن ایماء کی بیٹی ہوں۔ میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شریک تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کچھ دیر ان کے پاس کھڑے رہے آگے نہیں بڑھے۔ پھر فرمایا: مرحبا، تمہارا خاندانی تعلق تو بہت ہی قریبی ہے۔ پھر آپ ایک بڑے طاقتور اونٹ کی طرف گئے جو گھر میں بندھا ہوا تھا اور اس پر دو بورے غلے سے بھرے ہوئے رکھ دیے۔ ان دونوں بوروں کے درمیان روپیہ اور دوسری ضرورت کی چیزیں اور کپڑے رکھ دیے اور اس اونٹ کی تکمیل اس عورت کے ہاتھ میں دے کر فرمایا: یہ ختم نہیں ہو گا، اس سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے بہتر دے گا۔
ایک آدمی کہنے لگا: اے امیر المومنین! آپ نے اسے بہت زیادہ مال دے دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیری ماں تجھے گم پائے، اللہ کی قسم! اس عورت کے والد اور بھائی اب بھی میری نظروں کے سامنے ہیں کہ ایک مدت تک ایک قلعہ کے محاصرے میں وہ شریک رہے اور آخر اسے فتح کر لیا۔ پھر ہم صبح کو ان دونوں کا مال غنیمت سے حصہ وصول کر رہے تھے۔
صحيح البخاری: 4160
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی تو آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: مجھے ایک زمین ملی ہے اور اس سے عمدہ مال مجھے بھی نہیں ملا۔ آپ مجھے اس کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو اصل جائیداد اپنے قبضے میں رکھ اور اس کے منافع کو صدقہ کر دے۔“ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شرط کے ساتھ صدقہ کیا کہ اصل زمین نہ بیچی جائے، نہ ہبہ کی جائے، نہ کسی کو وراثت میں دی جائے، البتہ فقراء، رشتہ داروں، غلام آزاد کرانے، اللہ کے راستے میں، مہمانوں اور مسافروں کے لیے وقف رہے۔
صحیح البخاری: 2772
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام اسلم بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے اپنے والد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعض حالات پوچھے جو میں نے انہیں بتا دیئے تو وہ کہنے لگے:
ما رأيت أحدا قط بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم من حين قبض كان أجد وأجود حتى انتهى من عمر بن الخطاب
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں نے کسی شخص کو دین کے لیے اتنی محنت کرنے والا اور سخاوت کرنے والا نہیں دیکھا یہ خصائل عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر ختم ہو گئے۔“
صحيح البخاری: 3687

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سخاوت

سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیش العسرہ (تبوک کی جہاد) کی تیاری کر رہے تھے تو عثمان رضی اللہ عنہ اپنی آستین میں ایک ہزار دینار لے آئے اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی میں ڈال دیے۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھولی میں الٹ پلٹ کر رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے:
ما ضر عثمان ما عمل بعد اليوم
”آج کے بعد عثمان جو بھی عمل کریں انہیں نقصان نہیں ہوگا۔“
حسن، سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب في عد عثمان تسميته شهیداً، ح 3701؛ مسند أحمد: 63/5
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو وہاں رومہ نامی کنویں کے علاوہ کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں میٹھا پانی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من يشتري بئر رومة فيجعل فيها دلوه مع دلاء المسلمين بخير له منها فى الجنة
”جو شخص بئر رومہ کو خرید لے اور اپنا ڈول مسلمانوں کے ڈول کے ساتھ کر لے (یعنی خود بھی استعمال کرے اور دوسرے مسلمان بھی اس سے پانی استعمال کریں) تو اس کے بدلے میں جنت میں ایک بڑی خیر ملے گی۔“
حسن، سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب في عد عثمان تسميته شهیداً، ح 3703؛ سنن النسائی: 3638
چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے اصل مال سے اسے خرید لیا۔ ایک روایت میں ہے:
من حفر بئر رومة فله الجنة
”جو شخص بئر رومہ کھودے گا اس کے لیے جنت ہے۔“
صحیح البخاری: 2778
مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے جب مسجد نبوی میں جگہ تنگ پڑ گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواہش ظاہر کی کہ کوئی شخص مسجد کے ساتھ والی جگہ خرید کر وقف کر دے تو اس موقع پر بھی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سبقت لے گئے اور اپنے مال سے جگہ خرید کر وقف کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من يشتري بقعة آل فلان فيزيدها فى المسجد بخير له منها فى الجنة
”جو شخص آل فلاں کی جگہ خرید کر اسے مسجد کی توسیع کے لیے وقف کر دے گا تو اس کے لیے جنت میں اس سے بہتر ہوگا۔“
حسن، سنن النسائی، کتاب الاحباس، باب وقف المساجد، ح 3638

سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی سخاوت

ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے امہات المومنین کے لیے ایک باغ کی وصیت فرمائی جسے بعد میں چار لاکھ میں فروخت کیا گیا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أمركن لمما يهينني بعدي ولن يصبر عليكن إلا الصابرون
”میرے بعد پیش آنے والے تمہارے معاملے نے مجھے پریشان کر رکھا ہے۔ صبر کرنے والے ہی تمہارے حقوق کی ادائیگی پر صبر کر سکیں گے۔“
حسن، سنن الترمذی، المناقب، باب حکایة وصیة عبد الرحمن، ح 3750
پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابو سلمہ (عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بیٹے) سے فرمایا:
فسقى الله أباك من سلسبيل الجنة
”اللہ تعالیٰ تیرے باپ کو جنت کے سلسبیل (چشمے) سے مشروب پلائے۔“
حسن، سنن الترمذی، المناقب، باب حکایة وصیة عبد الرحمن، ح 3749
دراصل انہوں نے امہات المومنین سے صلہ رحمی کرتے ہوئے انہیں ایک باغ دیا، جو چالیس ہزار کا فروخت کیا گیا۔

ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کا ایثار

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر عرض کیا: میں فاقہ سے ہوں۔ آپ نے اپنی کسی بیوی کی طرف پیغام بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میرے پاس تو پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ نے دوسری بیوی کے پاس پیغام بھیجا۔ انہوں نے بھی اس طرح کہا۔ حتیٰ کہ سب بیویوں کی طرف سے یہی جواب آیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میرے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ چنانچہ آپ نے (صحابہ سے) فرمایا: ”جو شخص اس کو آج رات مہمان بنائے گا، اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا۔“ انصار میں سے ایک شخص (ابو طلحہ رضی اللہ عنہ) نے کھڑے ہو کر کہا: یا رسول اللہ! میں اس کو مہمان بناؤں گا۔ وہ اس مہمان کو اپنے گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا: نہیں، صرف بچوں کا کھانا ہے۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بچوں کو کسی چیز سے بہلا دو، جب ہمارا مہمان آئے تو چراغ بجھا دینا اور اس پر یہ ظاہر کرنا کہ ہم کھانا کھا رہے ہیں۔ جب مہمان کھانا کھانے لگے تو تم چراغ کے پاس جا کر اسے بجھا دینا۔ پھر وہ سب بیٹھ گئے اور مہمان نے کھانا کھا لیا۔ جب صبح کو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا:
عجب الله من صنيعكما بضيفكما الليلة
”رات کو تم نے مہمان کے ساتھ جو حسن سلوک کیا، اللہ تعالیٰ اس پر بہت خوش ہوا۔“
صحیح البخاری: 3798؛ صحیح مسلم: 2054 اللفظ لہ
اسی موقع پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:
وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ
(59-الحشر:9)
”اور وہ دوسروں کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انہیں سخت حاجت ہو۔“

بنو نجار کے لوگوں کی سخاوت

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مسجد بنانے کے لیے حکم دیا (بنو نجار نے اپنا باغ مسجد کی تعمیر کے لیے وقف کر دیا)۔ آپ نے فرمایا: اے بنو نجار! اپنے باغ کی قیمت مجھ سے لے لو۔ انہوں نے کہا:
والله لا نطلب ثمنه إلا إلى الله
”نہیں، اللہ کی قسم! ہم تو اس کی قیمت صرف اللہ سے مانگتے ہیں۔“
صحيح البخاري: 2774

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی سخاوت

ام ذرہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس دو بوریوں میں ایک لاکھ کی مالیت کا مال بھیجا تو انہوں نے ایک تھال منگوا کر اسے لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ اس دن وہ روزے سے تھیں۔ جب شام ہوئی تو آپ نے فرمایا: میری افطاری کا سامان لے آؤ۔ ام ذرہ نے کہا: اے ام المومنین! کیا آپ یہ نہیں کر سکتی تھیں کہ جو مال تقسیم کر دیا ہے، اس میں سے پانچ درہم بچا کر ان سے گوشت خرید لیتیں اور اس سے روزہ افطار کر لیتیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: مجھے ملامت نہ کرو، اگر تم مجھے یاد دلا دیتی تو میں ایسا کر لیتی۔
الطبقات لابن سعد: 67/8 و صححه شيخنا الحافظ زبیر علی زئی رحمه الله وانظر الحديث : 34، ص: 62
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت اپنی دو بچیوں کے لیے کچھ مانگنے آئی۔ میرے پاس ایک کھجور کے سوا اس وقت اور کچھ نہ تھا۔ میں نے وہی اسے دے دی۔ وہ ایک کھجور اس نے اپنی دونوں بچیوں میں تقسیم کر دی اور خود نہیں کھائی، پھر وہ اٹھ کر چلی گئی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ واقعہ بتایا۔ آپ نے فرمایا:
من ابتلي من هٰذه البنات بشيء كن له سترا من النار
”جس شخص کو ان بچیوں کی وجہ سے آزمائش میں ڈالا گیا تو بچیاں اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کے لیے آڑ بن جائیں گی۔“
صحیح البخاری: 1418

ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سخاوت

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ
(3-آل عمران:92)
”تم نیکی ہرگز نہیں پا سکتے جب تک اس مال میں سے خرچ نہ کرو جو تم کو زیادہ پسند ہو۔“
تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے: ”تم نیکی کو ہرگز نہیں پا سکتے…“ میرے اموال میں سب سے زیادہ پسند مجھے بیرحاء نامی باغ ہے۔ اس باغ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے جایا کرتے تھے، اس کے سائے میں بیٹھتے اور اس کا پانی پیتے۔ ابوطلحہ نے فرمایا کہ یہ باغ اللہ کی راہ میں اور اس کے رسول کے لیے ہے۔ میں اس کی نیکی اور اس کے ذخیرہ آخرت ہونے کی امید رکھتا ہوں۔ اے اللہ کے رسول! جس طرح اللہ آپ کو بتائے، اسے خرچ کیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوطلحہ یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے۔ ہم تم سے اسے قبول کر کے پھر تمہارے ہی حوالے کر دیتے ہیں۔ اب تم اسے اپنے رشتہ داروں کو دے دو۔ چنانچہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ باغ اپنے رشتہ داروں کو دے دیا۔
صحیح البخاری: 2758؛ صحیح مسلم: 998

ابودحداح رضی اللہ عنہ کی سخاوت

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آدمی کی کھجور ہے، میں بھی اس کے ساتھ کھجوروں کے درخت لگا رہا ہوں۔ آپ اس سے فرمائیں کہ وہ کھجور مجھے دے دے تاکہ میں اپنے باغ کی دیوار بنا سکوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا:
أعطها إياه بنخلة فى الجنة
”اسے وہ کھجور دے دو، تجھے اس کے بدلے میں جنت میں کھجور ملے گی۔“
لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ ابودحداح رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے اور کہا: اپنا کھجور کا درخت مجھے میرے باغ کے بدلے میں فروخت کر دے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ ابودحداح رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میں نے فلاں کھجور کا درخت اپنے باغ کے عوض میں خرید لیا ہے، آپ یہ درخت اس ضرورت مند آدمی کو دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كم من عذق رداح لأبي الدحداح فى الجنة
”ابودحداح کے لیے جنت میں کتنے ہی بڑے بڑے اور لمبے لمبے کھجوروں کے گچھے ہیں۔“
صحیح، مسند احمد: 146/3؛ المستدرك للحاكم: 20/2
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ کئی مرتبہ دہرایا۔ ابودحداح رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے پاس گئے اور کہنے لگے: باغ سے باہر نکل آؤ، میں نے اسے جنت کے کھجور کے درخت کے عوض میں فروخت کر دیا ہے۔ بیوی کہنے لگی: تو نے تو نفع مند تجارت کی ہے۔

ام المومنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی سخاوت

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں نے آپ سے پوچھا کہ سب سے پہلے ہم میں سے آخرت میں آپ سے کون جا کر ملے گی؟ آپ نے فرمایا: ”جس کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا ہو گا۔“ اب ہم نے لکڑی سے ہاتھ ناپنے شروع کر دیے تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سب سے لمبے ہاتھ والی نکلیں۔ ہماری سمجھ میں بعد میں آیا کہ لمبے ہاتھ والی ہونے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد زیادہ صدقہ کرنے والی تھی۔ ہم میں سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زینب رضی اللہ عنہا ملیں (یعنی سب سے پہلے فوت ہوئیں)۔ آپ کو صدقہ کرنا بہت محبوب تھا۔
صحیح البخاری: 1420
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کثرت سے صدقہ خیرات کرتی تھیں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام ہی ”لمبے ہاتھ والی“ رکھ دیا، یعنی اللہ کے راستے میں اپنے مال کو خرچ کرنے میں ان کا ہاتھ بڑا کھلا تھا۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی سخاوت

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے ان میں برکت کی دعا فرمائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کھجوروں کو اکٹھا کر کے برکت کی دعا فرمائی اور ان سے کہا: ان کھجوروں کو لے کر اپنے توشہ دان (تھیلے) میں ڈال لو، اس میں سے جب بھی کھجوریں لینا چاہو تو ہاتھ ڈال کر نکال لینا اور انہیں باہر نکال کر بکھیرنا مت۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ان کھجوروں میں سے اتنے اتنے وسق اللہ کے راستے میں خرچ کیے۔ ہم ان میں سے کھاتے بھی تھے اور کھلاتے بھی تھے۔ یہ تھیلی ہر وقت میری کمر سے بندھی رہتی تھی حتی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو یہ پھٹ گئی۔
حسن، سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب أبي هريرة رضی اللہ عنہ ، ح 3839
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا نتیجہ تھا کہ معجزانہ طور پر اس تھیلی میں سے کھجوریں کبھی ختم نہیں ہوئیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس میں سے خود بھی کھاتے تھے اور اللہ کی راہ میں خرچ بھی کرتے تھے۔
وسق ایک پیمانہ ہے۔ ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں۔ موجودہ وزن کے مطابق اس کی مقدار تقریباً ڈیڑھ سو کلوگرام بنتی ہے۔

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی سخاوت

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مدینہ منورہ کے کسی کونے (کنارے) کی طرف نکلے۔ آپ کے ساتھ آپ کے چند ساتھی بھی تھے، ساتھیوں نے آپ کے لیے دستر خوان بچھایا، اسی دوران میں وہاں سے ایک چرواہے کا گزر ہوا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: ”آؤ آؤ! اس دستر خوان سے تم بھی کچھ کھا لو۔“
چرواہا بولا: میں روزے سے ہوں۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس طرح کے سخت گرم دن میں تم روزے کی مشقت برداشت کر رہے ہو، جبکہ کوہ ہے تیز ہے اور تم پہاڑوں میں بکریاں بھی چہرا رہے ہو۔ چرواہے نے جواب دیا: جی ہاں، میں ان خالی ایام کی تیاری کر رہا ہوں جن میں عمل کا موقع نہیں ملے گا، اسی لیے دنیوی زندگی میں نیک عمل کر رہا ہوں۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے چرواہے کے تقوے اور خوف الہی کا امتحان لینے کے ارادے سے اس سے کہا: کیا تم اس ریوڑ میں سے ایک بکری بیچ سکتے ہو؟ ہم تمہیں اس کی نقد قیمت دیں گے، مزید تمہارے افطار کے لیے گوشت بھی دیں گے۔ چرواہے نے جواب دیا: یہ بکریاں میری نہیں ہیں جو بیچ دوں، بلکہ یہ تو میرے آقا کی ہیں اس لیے میں انہیں نہیں بیچ سکتا۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تمہارا آقا اگر کوئی بکری کم پائے گا اور تم کہہ دو گے وہ بکری گم ہو گئی ہے تو وہ کچھ نہیں کہے گا، کیونکہ ریوڑ سے ایک دو بکریاں پہاڑوں میں گم ہوتی رہتی ہیں۔
یہ سن کر چرواہا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس سے چل دیا۔ وہ اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر یہ جملہ کہے جا رہا تھا:
أين الله؟ أين الله؟
”پھر اللہ کہاں ہے؟ اللہ کہاں ہے؟“
جب چرواہا چلا گیا تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس کا یہ جملہ بار بار دہرانے لگے۔ جب حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مدینہ آئے تو چرواہے کے آقا کے پاس اپنے آدمی بھیجے اور اس سے بکریاں اور اس چرواہے کو خرید لیا۔ چرواہے کو آزاد کر دیا اور وہ سب بکریاں اس کو تحفے میں دے دیں۔
شعب الإيمان للبيهقى 5291 مجمع الزوائد: 9/ 347 المحجم الكبير للطبراني: 13054 وسنده ضعیف، محمد بن یزید بن خنیس کا عنعنہ ہے، نیز ابو تتبہ کے حالات نہیں ہے۔

زین العابدین (علی بن حسین رضی اللہ عنہ) کی سخاوت

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس شخص نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس غلام کے جسم کے ہر عضو کی آزادی کے بدلے میں اس شخص کے جسم کے ہر ہر عضو کو جہنم سے آزاد کرے گا۔“
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کرنے والے راوی سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سن کر میں زین العابدین رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں یہ حدیث بیان کی۔ زین العابدین رضی اللہ عنہ اپنے ایک غلام کی طرف متوجہ ہوئے جس کی قیمت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار دے رہے تھے۔ انہوں نے اپنے اس غلام کو آزاد کر دیا۔
صحيح البخارى كتاب العتق، باب في العتق وفضله: 2517، صحیح مسلم: 3595

مرتد بن عبد اللہ مزنی رضی اللہ عنہ (تابعی) کی سخاوت

یزید بن ابی حبیب بیان کرتے ہیں کہ مرثد بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اہل مصر میں سے سب سے پہلے مسجد میں جاتے تھے اور میں نے جب بھی انہیں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو ان کی آستین میں صدقہ کرنے کی نقد رقم، روٹی یا گندم ضرور ہوتی۔ یہاں تک کہ بعض اوقات میں نے دیکھا کہ وہ صدقے کے لیے پیاز ہی لے آتے تو میں کہتا: اے ابوالخیر! پیاز آپ کے کپڑے بدبودار کر دیتا ہے۔ آپ جواب دیتے: اے ابن حبیب! میرے گھر میں صدقہ دینے کے لیے اس کے سوا کوئی چیز موجود ہی نہ تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے مجھے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ظل المؤمن يوم القيامة صدقته
”قیامت کے دن مومن کا سایہ اس کا کیا ہوا صدقہ ہوگا۔“
إسناده صحيح، صحیح ابن خزیمه: 2432

سیدہ زینب (زوجہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما) کی سخاوت

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کے بعد مسجد میں عورتوں کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا:
يا معشر النساء ما رأيت من ناقصات عقل ودين أذهب للب الرجل الحازم منكن وإني قد رأيت إنكن أكثر أهل النار يوم القيامة فتقربن إلى الله بما استطعتن
”اے عورتوں کی جماعت! میں نے کم عقل اور ناقص دین والوں میں تم سے بڑھ کر کسی کو عقلمند شخص کی عقل ختم کرنے والا نہیں دیکھا۔ بے شک میں نے دیکھا ہے کہ تمہاری اکثریت قیامت کے دن جہنمی ہوگی، اس لیے جتنا ہو سکے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرو۔“
عورتوں میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ زینب رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ وہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان (جو وہ ابھی سن کر آئی تھیں) انہیں بھی سنایا اور اپنا زیور لے کر چل پڑیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ زیور لے کر کہاں جا رہی ہو؟ وہ کہنے لگیں: میں اس کو صدقہ کر کے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تمہارا بھلا ہو، لاؤ مجھ پر اور میرے بچوں پر صدقہ کر دو، ہم اس کے زیادہ مستحق ہیں۔ وہ کہنے لگیں: نہیں، جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر پوچھ نہ لوں۔ چنانچہ وہ گئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ زینب اجازت طلب کر رہی ہیں۔ آپ نے پوچھا: ”کون سی زینب؟“ جواب دیا گیا کہ ابن مسعود کی بیوی۔ آپ نے فرمایا: ”انہیں اجازت دے دو۔“ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کا فرمان سنا تو میں نے جا کر ابن مسعود کو سنایا، پھر میں نے اپنا زیور لیا اور اسے اللہ اور اس کے رسول کے تقرب کے حصول کے لیے صدقہ کرنا چاہا، اس امید پر کہ اللہ مجھے اہل جہنم میں سے نہ کرے۔ تو ابن مسعود مجھے کہنے لگے کہ تم یہ زیور مجھے اور میرے بچوں کو صدقہ دے دو کیونکہ ہم اس کے حقدار ہیں تو میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تصدقي به عليه وعلى بنيه فإنهم له موضع
”تم اسے ابن مسعود اور اس کے بچوں پر صدقہ کرو، کیونکہ وہ اس کے حقدار ہیں۔“
صحیح ابن خزیمہ: 2461؛ مسند احمد: 373/2 وسنده صحیح

خاتمہ

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صدقہ خیرات اور سخاوت کی ایسی ایسی مثالیں پیش کیں کہ آج ان کی مثال ملنا مشکل ہے۔ دولت مند صحابہ کی بات تو الگ رہی، غریب اور مسکین قسم کے صحابہ بھی محنت مزدوری کر کے جو کماتے، اس کا ایک بڑا حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتے۔
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیتے تو ہم میں سے کوئی ساتھی بازار جا کر بوجھ اٹھانے کی مزدوری کرتا اور اس طرح ایک مد (غلہ وغیرہ) حاصل کرتا (اور پھر اس میں سے صدقہ کر دیتا)۔لیکن آج ہم میں سے بہت سوں کے پاس لاکھ لاکھ درہم و دینار ہوتے ہیں۔
صحيح البخاري: 1416
صحابی کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ عہد رسالت میں تو جن کے پاس کچھ نہیں ہوتا تھا وہ بھی مزدوری کر کے جو حاصل ہوتا، اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتے تھے، لیکن اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں میں انفاق فی سبیل اللہ کا وہ جذبہ نہیں رہا۔ اب لوگوں کے پاس لاکھوں روپے ہوتے ہیں، وہ پھر بھی صدقہ نہیں کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرد تو مرد، خواتین بھی صدقات میں پیچھے نہیں رہتی تھیں بلکہ صدقہ خیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھانے کے بعد، عید گاہ میں عورتوں کی طرف تشریف لے گئے اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، چنانچہ عورتوں نے اپنی بالیاں، خوشبو اور ہار اتار کر صدقے میں دے دیے۔
صحیح البخاری: 1416؛ صحیح البخاری: 5881
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مثالیں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج کے مسلمانوں میں بھی مال خرچ کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ ورنہ وہ تو اتنی عظیم ہستیاں ہیں کہ ہم ان کے برابر کبھی نہیں پہنچ سکتے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تسبوا أصحابي فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه
”میرے صحابہ کو برا مت کہو۔ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر ڈالے تو ان کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔“
معلوم ہوا کہ جب صحابہ رضی اللہ عنہم کو اللہ کی رضوان کی گارنٹی ملنے کے بعد بھی اس قدر جذبے سے صدقہ خیرات کرتے تھے تو پھر ہمیں تو ان کے مقابلے میں بہت زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔
کتاب کے آخر میں قارئین کے لیے یہ پیغام ہے کہ اگر کسی کو اللہ نے صدقہ خیرات کرنے کی مہلت اور توفیق بخشی ہے تو اسے اللہ کا فضل و کرم اور احسان سمجھتے ہوئے بڑھ چڑھ کر مال خرچ کرنا چاہیے اور اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ نے اسے توفیق بخشی ہے اور ایسے مصارف بھی اسے بآسانی میسر ہیں، جن پر وہ مال خرچ کر سکتا ہے۔ ورنہ ایک وقت قرب قیامت ایسا بھی آنے والا ہے کہ جب انسان صدقہ کرنا چاہے گا، لیکن اسے لینے والا کوئی نہیں ملے گا۔
سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تصدقوا فإنه يأتى عليكم زمان يمشي الرجل بصدقته فلا يجد من يقبلها يقول الرجل لو جئت بها بالأمس لقبلتها فأما اليوم فلا حاجة لي بها
”صدقہ کیا کرو، تم پر ایک ایسا زمانہ بھی آنے والا ہے، جب ایک شخص اپنے مال کا صدقہ لے کر نکلے گا تو کوئی اسے قبول کرنے والا نہیں ملے گا، آدمی کہے گا: اگر کل لے آتا تو میں اسے قبول کر لیتا، مگر آج مجھے اس کی ضرورت نہیں۔“
صحیح البخاری: 1411