نماز میں تکبیر تحریمہ، رفع یدین، ہاتھ ہاندھنے اور قراءت سے متعلق صحیح احادیث

یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔
مضمون کے اہم نکات

مسنون طریقہ کی اہمیت:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اہل علم کے طریقہ پر نماز ادا کرنا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ
(البقرة: 239)
”نماز اس طرح پڑھو جس طرح اللہ نے تمھیں سکھائی ہے۔“
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صلوا كما رأيتموني أصلي
”نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب الأذان للمسافرين إذا كانوا جماعة والإقامة الخ: 631)
❀ مزید فرمایا:
قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا، جس کی نماز درست (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق ہوئی) وہ کامیاب و کامران ہو گا اور جس نے نماز بگاڑ دی (یعنی محمدی طریقے پر ادا نہ کی) وہ ناکام و نامراد ہوگا۔
(ترمذی، كتاب الصلاة، باب ما جاء أن أول ما يحاسب به العبد الخ: 413 – نسائی: 466۔ صحیح)

تکبیر تحریمہ کا بیان:

❀ تکبیر تحریمہ سے نماز شروع ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تحريمها التكبير وتحليلها التسليم
”نماز کا حرام ہونا تکبیر ہی کے بعد ہے اور اس کا حلال ہونا سلام ہی کے بعد ہے۔“
(أبوداود، كتاب الطهارة، باب فرض الوضوء: 61 – ترمذی: 3 – ابن ماجه: 275 – صحیح)
”نماز کے دوران میں بات چیت کا حرام ہونا تکبیر ہی کے بعد ہے اور اس بات چیت کا حلال ہونا سلام ہی کے بعد ہے۔“
❀ نماز شروع کرتے ہوئے اللہ اکبر کہیں، اس کے علاوہ کوئی بھی جملہ جائز نہیں۔

قیام کا بیان:

❀ نماز کھڑے ہو کر پڑھنی چاہیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صل قائما، فإن لم تستطع فقاعدا، فإن لم تستطع فعلى جنب
”کھڑے ہو کر نماز پڑھو، طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ لو، اس کی طاقت نہ ہو تو پھر لیٹ کر نماز ادا کرو۔“
(بخاری، كتاب التقصير، باب إذا لم يطق قاعدًا صلى على جنب: 1117)
❀ کھڑے ہو کر نماز شروع کی لیکن دورانِ نماز میں کسی وجہ سے کھڑے ہونے کی طاقت نہ رہی تو بیٹھ جائیں۔ اسی طرح بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے کہ کھڑے ہونے کی طاقت آ گئی تو کھڑے ہو جائیں، کیونکہ طاقت نہ ہونے کی صورت میں بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔

رفع الیدین:

❀ دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھائیں، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
رأيت النبى صلى الله عليه وسلم افتتح التكبير فى الصلاة، فرفع يديه حين يكبر حتى يجعلهما حذو منكبيه
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی تکبیر کہتے ہوئے دیکھا کہ آپ تکبیر کہتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے تھے۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب إلى أين يرفع يديه؟: 738 – مسلم: 390)
❀ ہاتھ کانوں کی لو تک اٹھانا بھی جائز ہے۔
(مسلم، کتاب الصلاة، باب استحباب رفع اليدين حذو المنكبين … الخ: 391)
❀ ہاتھوں سے کانوں کو پکڑنا یا چھونا کسی حدیث سے ثابت نہیں۔
❀ رفع الیدین اور تکبیر میں تینوں شکلیں جائز ہیں، یعنی دونوں ایک ساتھ، یا پہلے رفع الیدین اور بعد میں تکبیر، یا تکبیر پہلے اور رفع الیدین بعد میں۔
(بخاری: 738۔ مسلم: 390 – ابن خزيمة: 456 – مسلم: 391)
❀ رفع الیدین کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں نہ تو آپس میں ملی ہوئی ہوتیں اور نہ کھلی اور کشادہ ہوتیں۔
(مستدرک حاکم: 234/1 – أبو داؤد: 753 – ترمذی: 240 – صحیح ابن خزيمة: 233/1 234، ح: 459)

رفع الیدین کرنے میں مرد و زن کا فرق:

❀ بعض لوگ ہاتھ اٹھانے کی مقدار میں مرد و عورت کا فرق کرتے ہیں کہ مرد کانوں تک ہاتھ اٹھائیں اور عورتیں کندھوں تک۔ یہ فرق کسی صحیح و صریح حدیث میں مذکور نہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اور علامہ ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
التفرقة لم يرد ما يدل على التفرقة فى الرفع بين الرجل والمرأة
”مرد اور عورت کے درمیان تکبیر کے لیے ہاتھ اٹھانے کے فرق کے بارے میں کوئی حدیث دلالت نہیں کرتی۔“
(فتح الباري: 222/2 – عون المعبود: 263/1)
❀ اور امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لم يرد ما يدل على الفرق بين الرجل والمرأة فى مقدار الرفع
”کوئی ایسی حدیث موجود نہیں ہے جو مرد و عورت کے درمیان ہاتھ اٹھانے کی مقدار کے فرق پر دلالت کرتی ہو۔“
(نیل الأوطار: 214/2، بعد الحدیث: 671)

ہاتھ باندھنا:

❀ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان الناس يؤمرون أن يضع الرجل يده اليمنى على ذراعه اليسرى فى الصلاة
”لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ وہ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ذراع پر رکھیں۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب وضع اليمنى على اليسرى: 740)
ذراع کہنی کے سرے سے درمیانی انگلی کے سرے تک کے حصہ کو کہتے ہیں۔ (القاموس الوحيد: 568)
❀ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھا، یوں کہ وہ پہنچے اور کلائی پر بھی آ گیا۔
(أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب رفع اليدين في الصلاة: 727 – صحیح)

ہاتھ باندھنے کا مقام:

❀ نماز میں ہاتھ سینے پر باندھنے چاہییں، یہ صحیح احادیث سے ثابت ہے، جو درج ذیل ہیں:
➊ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ووضع يده اليمنى على اليسرى على صدره
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر سینے پر ہاتھ باندھے۔“
(ابن خزيمة، كتاب الصلاة، باب وضع اليمين على الشمال في الصلاة الخ: 243/1، ح: 479)
یہ حدیث بالکل صحیح ہے، اس لیے کہ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اپنی صحیح کی شرائط کے متعلق کتاب کے آغاز میں فرمایا ہے کہ یہ مختصر صحیح احادیث کا مجموعہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک صحیح اور متصل سند کے ساتھ پہنچتی ہیں اور بیچ میں کوئی راوی ساقط یا سند میں انقطاع نہیں ہے اور نہ کوئی راوی مجروح یا ضعیف ہے۔
اس کے علاوہ حافظ ابن حجر، علامہ عینی، علامہ شوکانی، ملا علی قاری سندھی، مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی، علامہ ابن نجیم حنفی، علامہ ابو الحسن الکبیر سندھی، علامہ محمد حیات سندھی، سید ابوتراب رشد اللہ شاہ راشدی اور علامہ البانی رحمہم اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
➋ سیدنا ہلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رأيت النبى صلى الله عليه وسلم ينصرف عن يمينه وعن يساره ورأيته قال يضع هذا على صدره
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز سے دائیں اور بائیں طرف پھرتے تھے اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ آپ ہاتھ سینے پر رکھتے تھے۔“
(مسند أحمد: 226/5، ح: 22313 – قبيصة صدوق حسن الحديث، وثقه العجلي وابن حبان وحسن له الترمذي والبغوي وصحح له النووي وابن عبد البر)
اس حدیث کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں، امام ابن سید الناس رحمہ اللہ نے شرح الترمذی میں اور علامہ نووی رحمہ اللہ نے آثار السنن میں سند کو حسن تسلیم کیا ہے۔ علامہ عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے تحفۃ الاحوذی میں فرمایا:
رواة هذا الحديث كلهم ثقات وإسناده متصل
”اس حدیث کی سند کے سب راوی ثقہ اور معتبر ہیں اور اس کی سند متصل ہے۔“
➌ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أنه رأى النبى صلى الله عليه وسلم وضع يمينه على شماله ثم وضعهما على صدره
”انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر انھیں سینے پر باندھ لیا۔“
(السنن الكبرى للبيهقي، كتاب الحيض، باب وضع اليدين على الصدر الخ: 30/2، ح: 2336 – طبقات المحدثين بأصبهان لأبي الشيخ: 432 – اسے رشد اللہ شاہ راشدی اور بدیع الدین شاہ راشدی رحمہما اللہ نے حسن کہا ہے)
➍ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم يضع يده اليمنى على يده اليسرى ثم يشد بينهما على صدره وهو فى الصلاة
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر انھیں سینے پر باندھا کرتے تھے۔“
(أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب وضع اليمني على اليسرى في الصلاة: 759 – صحیح)
یہ روایت مرسل ہے، احناف کے نزدیک مرسل روایت مطلق حجت ہے (اصول سرخسی: 360/1، نور الانوار: 150، کشف الرین: 17، فتح القدير: 239/1) اور محدثین کے نزدیک متصل روایات کی موجودگی میں مقبول ہوتی ہے۔ اس روایت کے ساتھ دوسری متصل روایات موجود ہیں۔ اس کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں (معرفۃ السنن والآثار للبیہقی، فتح الغفور، درج الدرر، تحفۃ الاحوذی: 216/1) اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔

زیر ناف ہاتھ باندھنے والی روایات کی حقیقت:

مندرجہ بالا احادیث کے برعکس زیر ناف ہاتھ باندھنے والی روایت انتہائی ضعیف ہے۔ علامہ بدرالدین عینی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں۔ امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں لکھا:
متفق على ضعفه
یعنی اس روایت کے مرفوع اور موقوف دونوں صورتوں میں ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ علمائے احناف میں علامہ عبد الحی لکھنوی، ابن الہمام، ابن نجیم رحمہم اللہ نے اس سے اتفاق کیا ہے۔ علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”نماز میں ہاتھ باندھنے کی جگہ متعین کرنے والی کوئی بھی حدیث صحیح ثابت نہیں، سوائے ابن خزیمہ کی روایت کے۔“
آخر میں حنفی عالم ملا الہداد جونپوری رحمہ اللہ کی عبارت:
”امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے اور علی رضی اللہ عنہ سے روایت کہ سنت طریقہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ہے یہ روایت بالاتفاق ضعیف ہے، جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے۔ نیز میں کہتا ہوں کہ اس کے ضعیف ہونے پر دوسری دلیل یہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے آیت وانحر کی تفسیر یہ کی ہے کہ سینے پر ہاتھ باندھنے چاہییں اور ”الناحر“ سینے کی رگ کو کہا جاتا ہے۔ لہذا وانحر کا معنی یہ ہوگا کہ ان رگوں کے اوپر ہاتھ رکھے جائیں۔ جو شخص اس روایت کو رد کرے اس کے لیے وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت پر عمل کرنا واجب ہے، اور اس طرح کہنا کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا تعظیم والا فعل ہے تو یہ بات غلط ہے، کیونکہ حدیث کے خلاف ہے۔“
(شرح ہدایہ: 407 قلمی)

استفتاح نماز کی دعائیں:

❀ پھر مندرجہ ذیل میں سے کوئی دعائے استفتاح پڑھیں:
اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ
”اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری ڈال دے، جس طرح تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو برف، پانی اور اولوں سے دھو دے۔“
(بخاری، كتاب الصلاة، باب ما يقول بعد التكبير: 744)
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ
”میں تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں اے اللہ! تیری حمد کے ساتھ اور بہت بابرکت ہے تیرا نام اور بلند ہے تیری شان اور تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔“
(مسلم، كتاب الصلاة، باب حجة من قال لا يجهر بالبسملة: 399/52 – ترمذی: 242)
اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
”اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا اور تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں، بہت زیادہ اور میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں صبح و شام۔“
(مسلم، کتاب المساجد، باب ما يقال بين تكبيرة الإحرام والقراءة: 601)
❀ دعائے استفتاح نماز کے شروع میں پڑھی جائے گی، بعد میں نہیں، یعنی اگر کوئی آدمی قیام کے بعد رکوع یا سجدہ میں جماعت کے ساتھ ملا ہے تو وہ دعائے استفتاح نہیں پڑھے گا، بلکہ اسی حالت میں ساتھ مل جائے گا اور بعد میں بھی نہیں پڑھے گا، کیونکہ اس کا محل گزر چکا ہے۔

قراءت کا بیان:

❀ پھر یہ تعوذ پڑھیں:
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
”میں سننے والے، جاننے والے اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں مردود شیطان سے، اس کی پھونکوں سے، اس کی تھوک سے اور اس کے چھلکوں سے۔“
(أبو داود، كتاب الصلاة، باب من رأى الاستفتاح الخ: 775 – ترمذی: 242 – صحیح)
❀ پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے تعوذ پڑھنا لازمی ہے، بعد میں اختلاف ہے، نہ پڑھنا بہتر ہے، کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے تو بغیر کچھ دیر خاموش رہے اور سورہ فاتحہ سے قراءت شروع کرتے۔“
(مسلم، کتاب المساجد، باب ما يقال بين تكبيرة الإحرام والقراءة: 599)
❀ لیکن اگر جماعت میں قیام کے بعد ملا ہے اور تعوذ نہیں پڑھ سکا تو پھر جب قیام کے لیے کھڑا ہوگا تو تعوذ پڑھے گا، کیونکہ ایک دفعہ تعوذ پڑھنا ضروری ہے۔
فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
(النحل: 98)
پھر سورہ فاتحہ پڑھیں:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ‎﴿١﴾‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ‎﴿٢﴾‏ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ‎﴿٣﴾‏ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ‎﴿٤﴾‏ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ‎﴿٥﴾‏ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ‎﴿٦﴾‏ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ‎﴿٧﴾‏
(1-الفاتحة:1تا 7)
”اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو رب ہے سب جہانوں کا۔ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ مالک ہے جزا و سزا کے دن کا۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھے راستے پر چلا، ان کی راہ پر جن پر تو نے انعام کیا، ان کی راہ پر نہیں جن پر تیرا غضب ہوا، اور نہ ان کی جو راہ بھول گئے۔“
❀ ہر نمازی ہر حالت میں سورۃ فاتحہ ضرور پڑھے، خواہ امام ہو، مقتدی ہو، یا اکیلا ہو، کیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب
”جس شخص نے (نماز میں) سورہ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب وجوب القراءة للإمام والمأموم الخ: 756 – مسلم: 394)
❀ سورہ فاتحہ کے ساتھ بسم الله الرحمن الرحيم ضرور پڑھیں، یہ جہری پڑھنا بھی ثابت ہے اور سراً بھی۔
(نسائی، کتاب الافتتاح، باب قراءة "بسم الله الرحمن الرحيم”: 906 – إسناده صحيح – ابن خزيمة: 249/1 تا 251، ح: 499 – صحیح)

اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا:

❀ امام المحدثین امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں مذکورہ بالا حدیث پر یوں باب قائم کیا ہے: ”سورہ فاتحہ کی قراءت امام اور مقتدی پر تمام نمازوں میں فرض ہے، خواہ وہ حضر میں ہو یا سفر میں اور مجہری نماز میں بھی اور سری نمازوں میں بھی۔“
❀ امام کے پیچھے، جب امام بلند آواز سے قراءت کر رہا ہو، تو بھی سورہ فاتحہ پڑھنا فرض ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح فثقلت عليه القراءة فلما انصرف قال إني لأراكم تقرؤون وراء إمامكم قال قلنا أجل يا رسول الله إنا لنفعل هذا قال فلا تفعلوا إلا بأم الكتاب فإنه لا صلاة لمن لم يقرأ بها
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قراءت کرنا مشکل ہو گیا، تو جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’میرا خیال ہے کہ تم اپنے امام کے پیچھے قراءت کرتے ہو؟‘ ہم نے عرض کی: ’ہاں! اے اللہ کے رسول! یقیناً ہم قراءت کرتے ہیں۔‘ آپ نے فرمایا: ’کچھ نہ پڑھا کرو، سوائے سورہ فاتحہ کے، کیونکہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا۔‘“
(صحيح ابن حبان: 1785 – اسے شیخ شعیب الأرنؤوط نے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے – مسند أحمد: 313/5، ح: 23047)
❀ اس کی مزید تفصیل جماعت کے باب میں آئے گی (ان شاء اللہ)۔
❀ سورہ فاتحہ نماز کی ہر رکعت میں پڑھنا لازمی ہے، محض ایک رکعت میں پڑھ لینا کافی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز کا طریقہ بتاتے ہوئے فرمایا:
إذا استقبلت القبلة فكبر ثم اقرأ بأم القرآن ثم اقرأ بما شئت اصنع ذلك فى كل ركعة
”جب قبلہ کی طرف رخ ہو جائے تو تکبیر تحریمہ کہہ، پھر سورۂ فاتحہ پڑھ، پھر جو تو پڑھنا چاہتا ہے پڑھ، پھر یہ کام نماز کی ہر رکعت میں کر۔“
(صحيح ابن حبان: 1787 – شعیب الأرنؤوط نے اس کی سند کو قوی قرار دیا ہے – مسند أحمد: 340/4، ح: 19204 – اس کی اصل بخاری: 793 میں ہے)
❀ ہر آیت الگ الگ اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
يقطع قراءته آية آية
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت کو جدا جدا کر کے پڑھتے تھے۔“
(أبو داود، كتاب الحروف القراءات: 4001 – ترمذی: 2927 – صحیح)
بعض لوگ قراءت کرتے ہوئے دو دو، تین تین آیات کو ملا کر ایک سانس میں پڑھتے ہیں، یہ سنت کے خلاف ہے۔
❀ سورہ فاتحہ کے اختتام پر آمین کہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا قال الإمام غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فقولوا آمين
”جب امام غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کہے تو تم آمین کہو۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب جهر المأموم بالتأمين: 782 – مسلم: 410)
❀ جماعت میں امام بلند آواز سے قراءت کر رہا ہو تو امام اور مقتدیوں کو بھی بلند آواز سے ”آمين“ کہنی چاہیے۔ (تفصیل مقتدیوں کے فرائض و ذمہ داریاں میں ملاحظہ فرمائیں)
❀ فاتحہ کے بعد جو سورت پڑھنا چاہے وہ پڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا استقبلت القبلة فكبر ثم اقرأ بأم القرآن ثم اقرأ بما شئت
”جب تو قبلہ رخ ہو جائے تو تکبیر تحریمہ کہہ، پھر سورۂ فاتحہ پڑھ، پھر جو تو پڑھنا چاہتا ہے پڑھ۔“
(صحيح ابن حبان: 1787 – شعیب الأرنؤوط نے اس کی سند کو قوی قرار دیا ہے – اس کی اصل بخاری: 793 میں ہے)

ایک رکعت میں کتنی قراءت کرنی چاہیے؟:

❀ ایک رکعت میں ایک سے زیادہ سورتیں پڑھی جا سکتی ہیں۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز تہجد پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں سورۃ بقرہ پڑھی، پھر سورہ نساء، پھر سورۃ آل عمران پڑھی۔
(مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب تطويل القراءة في صلاة الليل: 772)
❀ ایک رکعت میں سورت کا کچھ حصہ بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مکہ میں نماز فجر پڑھائی اور اس میں سورہ مؤمنون شروع کی، جب موسیٰ اور ہارون علیہما السلام یا عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آگئی اور آپ رکوع میں چلے گئے۔“
(مسلم، کتاب الصلاة، باب القراءة في الصبح: 455)
❀ کسی وجہ سے بیچ میں قراءت چھوڑی جا سکتی ہے۔ (ایضاً)
❀ سورۃ فاتحہ کے بعد صرف ایک آیت پڑھنا بھی جائز ہے۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قام النبى صلى الله عليه وسلم حتى إذا أصبح بآية
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز (تہجد) میں صبح تک ایک ہی آیت پڑھتے رہے۔“
(نسائی، کتاب الافتتاح، باب ترديد الآية: 1011)
❀ ایک آیت بار بار پڑھی جا سکتی ہے۔ (ایضاً)

ایک سورت دونوں رکعات میں پڑھنا:

❀ دو رکعات میں ایک ہی سورت بار بار پڑھنا جائز ہے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أنه سمع النبى صلى الله عليه وسلم يقرأ فى الصبح إذا زلزلت الأرض فى الركعتين كلتيهما
”اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے صبح کی نماز کی دونوں رکعات میں سورت إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ کی تلاوت کی۔“
(أبو داود، كتاب الصلاة، باب الرجل يعيد سورة واحدة في الركعتين: 816 – حسن)

سورتیں ترتیب سے پڑھنا:

❀ نماز میں سورتوں کی قراءت ترتیب سے کی جائے یا بغیر ترتیب کے، دونوں طرح جائز ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں طرح ثابت ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
صليت مع النبى صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فافتتح البقرة ثم افتتح النساء فقرأها ثم افتتح آل عمران فقرأها
”ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز تہجد پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ بقرہ شروع کی… پھر سورہ نساء اور پھر سورۃ آل عمران پڑھی۔“
(مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب استحباب تطويل القراءة في صلاة الليل: 772)

قرآن مجید سے دیکھ کر قراءت کرنا:

❀ فرض نماز میں قراءت زبانی ہی کرنی چاہیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کے لیے اس شخص کو سب سے زیادہ مستحق قرار دیا ہے جو قرآن زیادہ جانتا ہو۔ نیز فرض نماز میں مصحف سے دیکھ کر پڑھنا کسی مرفوع حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
❀ نفل نماز میں بھی قراءت زبانی کرنی چاہیے، لیکن اگر کوئی قرآن سے دیکھ کر قراءت کرتا ہے تو اس کی گنجائش ہے:
كانت عائشة يؤمها عبدها ذكوان من المصحف
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کا غلام ذکوان قرآن سے دیکھ کر امامت کرواتا تھا۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب إمامة العبد والمولى، قبل الحديث: 692)

قراءت کے شروع میں اور بعد میں سکتہ:

❀ قراءت کی ابتدا میں اور بعد میں دو سکتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، جو کرنے چاہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ اور قراءت کے درمیان کچھ دیر کے لیے خاموش رہتے تھے (اور اس دوران میں دعائے استفتاح پڑھتے تھے)۔
(بخاری، کتاب الأذان، باب ما يقول بعد التكبير: 744 – مسلم: 598)
❀ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو سکتے فرمایا کرتے تھے، ایک نماز شروع کرتے ہوئے (قراءت سے پہلے) اور دوسرا جب قراءت سے فارغ ہو جاتے (یعنی رکوع سے پہلے)۔
(أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب السكتة عند الافتتاح: 778 – اسے زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے)

قرآن مجید کی بعض آیات کا جواب دینا:

قرآن مجید میں بعض آیات ایسی ہیں جن کو پڑھنے کے بعد ان کا جواب بھی دینا چاہیے، لیکن یہ فرض نماز میں ثابت نہیں، لہذا تفصیل نفل نمازوں کے بیان میں ملاحظہ فرمائیں۔
❀ مثلاً سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
إذا مر بآية فيها تسبيح سبح، وإذا مر بسؤال سأل، وإذا مر بتعوذ تعوذ
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تسبیح والی آیت سے گزرتے تو سبحان اللہ کہتے اور جب سوال والی آیت سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب پناہ مانگنے والی آیت سے گزرتے تو أَعُوذُ بِاللَّهِ پڑھتے تھے۔“
(مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب استحباب تطويل القراءة في صلاة الليل: 772)
❀ سورۃ الاعلیٰ کی پہلی آیت کے جواب میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى پڑھنا جائز ہے۔
(أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب الدعاء في الصلاة: 883 – صحیح)
❀ کسی بھی حساب والی آیت کے جواب میں اللَّهُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا يَسِيرًا پڑھنا چاہیے۔
(صحیح ابن خزيمة: 30/22، 31، ح: 849 – صحیح ابن حبان: 7372 – مسند أحمد: 48/6، ح: 24719 – مستدرک حاکم: 249/4، ح: 7636 – امام حاکم اور امام ذہبی نے اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے)

کتنی آواز سے قراءت کرنی چاہیے؟

❀ نمازی کو قراءت اور دعائیں اتنی اونچی آواز سے نہیں پڑھنی چاہییں کہ دوسروں کو تکلیف ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ولا يرفع بعضكم على بعض فى القراءة
”قراءت کے وقت تم میں سے کوئی دوسرے پر اپنی آواز بلند نہ کرے (کہ اسے تکلیف ہو)۔“
(أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب رفع الصوت بالقراءة في صلاة الليل: 1332 – صحیح)
❀ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہونٹ بند کر کے قراءت کرنی چاہیے، یہ بات غلط ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قراءت کرتے تھے تو ان کی داڑھی مبارک حرکت کرتی تھی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہونٹ بند کر کے قراءت نہیں کرتے تھے۔
(بخاری، كتاب الأذان، باب القراءة في الظهر: 760)

آخری دو رکعات میں قراءت:

تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد قراءت کرنا جائز ہے، ضروری نہیں۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يقرأ فى الظهر فى الأوليين بأم الكتاب وسورتين، وفي الركعتين الأخريين بأم الكتاب
”بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعات میں سورۃ فاتحہ اور مزید دو سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو رکعات میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے تھے۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب يقرأ في الأخريين بفاتحة الكتاب: 776 – مسلم: 451)
❀ سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يقرأ فى صلاة الظهر فى الركعتين الأوليين فى كل ركعة قدر ثلاثين آية وفي الأخريين نصف ذلك وفي العصر فى الركعتين الأوليين فى كل ركعة قدر قراءة خمس عشرة آية وفي الأخريين قدر نصف ذلك
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعات میں تیس آیات کے قریب تلاوت کرتے تھے اور آخری دو رکعات میں اس سے آدھی آیات تلاوت کرتے تھے اور عصر کی پہلی دو رکعات میں پندرہ آیات کے برابر تلاوت کرتے تھے اور آخری دو رکعات میں اس سے نصف۔“
(مسلم، كتاب الصلاة، باب القراءة فى الظهر والعصر: 452)
❀ ابو عبد اللہ صنابحی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مدینہ میں آیا اور میں نے مغرب کی نماز ان کے پیچھے پڑھی۔ انھوں نے پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ مفصل میں سے ایک سورت پڑھی، پھر جب تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو میں ان کے قریب ہو گیا، قریب تھا کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں کو چھو لیتے، میں نے سنا کہ انھوں نے سورہ فاتحہ کی قراءت کی اور پھر اس آیت کی:
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
(آل عمران: 8)
(الموطأ، كتاب الصلاة، باب القراءة في المغرب والعشاء: 25 – صحیح)
❀ نافع رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب اکیلے نماز پڑھتے تو چاروں رکعتوں میں قراءت کرتے، وہ ہر رکعت میں ام القرآن (فاتحہ) کے ساتھ قرآن مجید کی کوئی اور سورت بھی تلاوت فرماتے تھے۔
(الموطأ، كتاب الصلاة، باب القراءة في المغرب والعشاء: 26 – صحیح)

امام کے پیچھے قراءت کرنا:

❀ اس مسئلہ کی تفصیل ”مقتدیوں کے فرائض و ذمہ داریاں“ میں ملاحظہ فرمائیں۔

سجدہ تلاوت کا بیان:

❀ نماز میں سجدہ والی آیت تلاوت کی جائے تو سجدہ کرنا چاہیے۔
❀ امام نماز میں سجدہ تلاوت کرے تو مقتدیوں کو بھی سجدہ کرنا چاہیے۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے عشاء کی نماز پڑھی، تو انھوں نے إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ تلاوت کی اور سجدہ کیا۔ میں نے کہا: ’یہ کیا ہے؟‘ انھوں نے فرمایا: ’میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اس مقام پر سجدہ کیا ہے۔“
(بخاری، كتاب سجود القرآن، باب من قرأ السجدة في الصلاة فسجد بها: 1078)
❀ مزید تفصیل سجود کی بحث میں ”سجدہ تلاوت“ کے عنوان کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے