صحیح مدت رضاعت کیا ہے اس صورت میں کمی پیشی ہو سکتی ہے یا نہیں؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

صحیح مدت رضاعت کیا ہے اور کسی صورت میں کمی پیشی ہو سکتی ہے یا نہیں؟

جواب:

مکمل مدت رضاعت دو سال ہے ، اس مدت کے دوران اگر کم سے کم پانچ مرتبہ کسی عورت کا دودھ پیا ہے، تو حرمت رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔ اگر اس مدت کے بعد کسی عورت کا دودھ پیا ہے، خواہ کتنی ہی مرتبہ پیا ہو، تو حرمت رضاعت ثابت نہ ہوگی۔
❀فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾
(البقرة : 233)
”مائیں اپنے بچوں کو مکمل دو سال دودھ پلائیں، جن کا ارادہ (مدت) رضاعت مکمل کرنے کا ہو۔“
حرمت رضاعت کے لیے آخری مدت دو سال ہے، یہ مطلب نہیں کہ اس مدت کے بعد بچہ عورت کا دودھ نہیں پی سکتا ، لہذا اگر بچہ جسمانی طور پر کمزور اور نا تواں ہے اور وہ ماں کے دودھ کے علاوہ کوئی غذا نہیں کھا سکتا ، تو اسے دو سال سے زائد مدت تک بھی دودھ پلایا جا سکتا ہے، مگر دو سال کے بعد رضاعت ثابت نہ ہوگی ۔