سوال :
آج کل بعض لوگ امام بخاری رحمہ اللہ کی مرتب کردہ کتاب ”صحیح البخاری“ پر اعتراضات کر کے اس کی عظمت کم کرنے کی ناکام سعی کر رہے ہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب :
دین اسلام کا قرآن حکیم کے بعد بڑا ماخذ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں جو احکامات صادر فرمائے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقوال، اعمال اور تقریرات کے ذریعے ان کی تفصیل و تشریح فرمائی ہے۔ محدثین نے بڑی محنت اور جانفشانی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کو کتابی صورت میں جمع کیا ہے۔ ان کتب میں سب سے زیادہ عظمت اور شان امت مسلمہ نے جس کتاب کو دی ہے وہ امام بخاری کی صحیح بخاری کو دی ہے۔ منکرین حدیث قرآن حکیم کے الفاظ کو اپنی من مانی تغییر کا لبادہ پہنانے کے لیے احادیث صحیحہ و جلیلہ کا انکار کرتے ہیں، کیونکہ حدیث رسول ان کی مرضی و منشا کے آگے بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اس رکاوٹ سے چھٹکارے کے لیے وہ صحیح بخاری پر بے جا اعتراضات کر کے اپنی عقل ناروا کو معیار بناتے ہیں۔ چاند کی طرف تھوکنے سے چاند کا کچھ نہیں بگڑتا، جب سے یہ کتاب مرتب ہوئی، امت مسلمہ نے اسے قبول عام کا درجہ دیا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ويلتحق بهذا التفاضل ما اتفق الشيخان على تخريجه بالنسبة إلى ما اتفق الفراد به أحدهما وما انفرد به البخاري بالنسبة إلى ما انفرد به مسلم لإنفاق العلماء بعدهما على تلقي كتابيهما بالقبول
(نزهة النظر في توضيح ناحية الفكر ص 35 مطبوعہ فاروقی کتاب خانہ ملتان)
”اور ایک دوسرے پر فضیلت پانے میں سب سے پہلے درجے میں وہ احادیث آتی ہیں جن کی تخریج پر بخاری و مسلم دونوں متفق ہوں، نہ کہ وہ جسے ان میں سے کسی ایک نے روایت کیا ہو اور جس کے بیان کرنے میں بخاری منفرد ہیں وہ ان احادیث پر فضیلت رکھتی ہیں جن کے بیان کرنے میں مسلم منفرد ہے۔ اس لیے کہ شیخین کی ان کتابوں کو ان کے بعد علمائے امت نے بالا تفاق شرف قبولیت سے نوازا ہے۔“
علامہ قسطلانی رحمہ اللہ شارح بخاری رقمطراز ہیں:
وأما تأليفه يعني البخاري فإنها سارت مسير الشمس ودارت فى الدنيا فما حد فصلها إلا الذى يتحبطه الشيطان من الفي وأخلها وأعظمها الجامع الصحيح
(إرشاد الساري شرح صحیح البخاري ص 62)
”امام بخاری کی تالیفات سورج کی طرح گردش کر رہی ہیں اور ساری دنیا میں متداول و مقبول ہو گئی ہیں۔ ان کی فضیلت و شرف کا منکر صرف وہی شخص ہو سکتا ہے جسے شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہے۔ امام بخاری کی جملہ تالیفات میں سب سے عمدہ اور عظمت والی صحیح بخاری ہے۔“
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أما الصحيحان فقد انفق المحدثون على أن جميع ما فيهما من المتصل المرفوع صحيح بالقطع وإنهما متواتران إلى مصنفيهما وأن كل من يهود أمرهما فهو مبتدع متبع غير سبيل المؤمنين وإن شئت الحق الصراح فقسهما بكتاب ابن أبى شيبة وكتاب المحاوي ومسند الخوارزمي وغيرها تجد بينها وبينهما بعد المشرقين
(حجة الله البالغة 124/1)
”جہاں تک صحیحین کا معاملہ ہے تو یاد رہے محدثین نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ ان میں پائی جانے والی تمام احادیث جو متصل و مرفوع ہیں، وہ قطعی یقینی طور پر صحیح ہیں اور متواتر اسانید سے ان کے مصنفین تک پہنچی ہیں۔ اب جو آدمی ان کی عظمت کم کرتا ہے وہ بدعتی ہے اور ایمان والوں کی راہ سے منحرف ہے۔ اگر تم صحیحین کا حقیقی مرتبہ و مقام واضح طور پر جاننا چاہتے ہو تو ان کا ابن ابی شیبہ، طحاوی کی کتاب اور مسند خوارزمی وغیرہ سے موازنہ کر کے دیکھ لو تو ان کتب اور صحیحین میں بعد المشرقین پاؤ گے۔“
معلوم ہوا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی عظمت گھٹانے والے اور ان پر بے جا اعتراضات کرنے والے لوگ مخبوط الحواس، مجہول اور شیطان کے پیروکار اور سبیل المؤمنین سے انحراف کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت نصیب فرمائے۔ (آمین!)