مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

صحیح بخاری میں موجود حدیث ابو حمید ساعدی رض سے ترک رفع یدین پر استدلال

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، أما بعد:

نماز دین اسلام کا سب سے بڑا شعار ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرامؓ کے سامنے پوری زندگی نماز ادا کی اور انہوں نے اسے آگے امت تک پہنچایا۔ نماز کے اندر بعض افعال ایسے ہیں جن پر امت کے اندر اختلاف پایا جاتا ہے، ان میں سے ایک اہم مسئلہ ہے:

”رفع الیدین“ یعنی ہاتھ اٹھانا (افتتاح، رکوع سے پہلے اور بعد میں)

تارکینِ رفع الیدین (جو صرف تکبیرِ تحریمہ پر ہاتھ اٹھاتے ہیں) عموماً ایک حدیث سے دلیل پکڑتے ہیں، جو صحیح بخاری میں حضرت ابوحمید الساعدیؓ کی روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں: اس روایت میں صرف افتتاحی رفع الیدین کا ذکر ہے، رکوع سے پہلے اور بعد ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں، لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ رفع الیدین نہیں کیا جاتا تھا۔

اس مضمون میں ہم یہ ثابت کریں گے کہ:

  1. صحیح بخاری کی یہ روایت رفع الیدین کے ترک پر دلالت نہیں کرتی۔

  2. اسی مجلسِ صحابہ کی روایت سنن ابی داؤد وغیرہ میں موجود ہے جس میں رکوع سے پہلے اور بعد رفع الیدین کا صریح ذکر ہے۔

  3. جن رواۃ پر اعتراض کیا جاتا ہے، محدثین کی اکثریت نے ان کو ثقہ اور معتبر قرار دیا ہے۔

  4. صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن اربعہ اور دیگر کتبِ حدیث میں رفع الیدین کے اثبات پر دلائل موجود ہیں۔

  5. صحابہ کرامؓ اور ائمہ حدیث نے اس پر عمل بھی کیا اور اس کو نبی ﷺ کی وفات تک کی سنت قرار دیا۔

▣ مخالفین کا مؤقف

وہ درج ذیل بنیادوں پر استدلال کرتے ہیں:

  1. صحیح بخاری میں حضرت ابوحمید الساعدیؓ کی حدیث ہے:

قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ:
”أَنَا كُنْتُ أَحْفَظَكُمْ لِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، رَأَيْتُهُ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اسْتَوَى حَتَّى يَعُودَ كُلُّ فَقَارٍ مَكَانَهُ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلاَ قَابِضِهِمَا…“
(صحیح بخاری: 828، ج 1 ص 165)

ترجمہ:
ابوحمیدؓ نے کہا: میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کو جانتا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ جب آپ ﷺ تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے، پھر رکوع میں جاتے تو گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے اور کمر سیدھی کرتے، پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بالکل سیدھے کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ آ جاتی، پھر جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ زمین پر رکھتے نہ پھیلائے ہوئے اور نہ سمیٹے ہوئے…

❖ اس روایت میں صرف تکبیرِ تحریمہ پر ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے، رکوع سے پہلے اور بعد میں ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں۔

  1. ان کا کہنا ہے: “ذکر نہ ہونا = ترک کی دلیل ہے” (اصول: السکوت فی معرض البیان بیان)۔

  2. سنن ابی داؤد کی روایت جس میں رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع الیدین کا ذکر ہے، اس میں ایک راوی عبدالحمید بن جعفر ہے جو ان کے نزدیک ضعیف ہے۔

لہٰذا وہ نتیجہ نکالتے ہیں:

  • رفع الیدین صرف تکبیر تحریمہ پر ہے، باقی مقامات پر نہیں۔

سکوت فی معرض البیان” کے استدلال کا تجزیہ

▣ مخالفین کا استدلال

مخالفین کہتے ہیں:

  • چونکہ صحیح بخاری کی روایت میں صرف تکبیرِ تحریمہ کے وقت رفع الیدین کا ذکر ہے اور رکوع سے پہلے و بعد اس کا ذکر نہیں، لہٰذا یہ ترک کی دلیل ہے۔

  • اصولی قاعدہ لاتے ہیں: السکوت فی معرض البیان بیان (یعنی جس مقام پر کسی چیز کو ذکر کرنا ضروری ہو اور وہاں نہ کیا جائے تو وہ ترک کی دلیل ہے)۔

علمی جواب

عدم ذکر ≠ ترک کی دلیل نہیں

فقہ الحدیث کا ایک اصول ہے:

عدمُ الذِّكر ليس ذِكرَ العدم
کسی چیز کا ذکر نہ ہونا اس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں۔

مثال:
صحیح بخاری (803) میں حضرت ابو ہریرہؓ کی نماز کے مفصل بیان میں افتتاحی رفع الیدین کا کوئی ذکر نہیں، صرف تکبیرات کا ذکر ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ:
”كان يُكَبِّرُ في كل صلاةٍ من المكتوبة وغيرِها…“
(صحیح بخاری: 803، ج 1 ص 159)

ترجمہ:
ابوہریرہؓ ہر نماز میں تکبیر کہتے تھے، فرض ہو یا نفل، رمضان ہو یا غیر رمضان…

❖ یہاں کہیں بھی افتتاحی رفع الیدین کا ذکر نہیں۔
اگر سکوت ترک کی دلیل ہے تو کیا یہ کہا جائے کہ آپ ﷺ افتتاح پر بھی ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے؟ (نعوذ باللہ)
یہ بات خود مخالفین بھی نہیں مانتے۔

المثبت مقدم علی النافی

اصول حدیث و اصول فقہ کا قاعدہ ہے:

المُثبِتُ مقدَّمٌ على النافي
یعنی جب ایک روایت کسی چیز کا اثبات کرے اور دوسری میں اس کا ذکر نہ ہو (یا نفی ہو)، تو مثبت روایت کو ترجیح دی جاتی ہے؛ کیونکہ اثبات کرنے والے کے پاس زیادہ علم ہوتا ہے۔

یہاں بھی یہی حال ہے:

  • صحیح بخاری کی روایت میں سکوت ہے۔

  • جبکہ سنن ابی داؤد، ترمذی، ابن خزیمہ وغیرہ میں صریح اثبات ہے کہ رکوع سے پہلے اور بعد رفع الیدین کیا جاتا تھا۔

لہٰذا مثبت روایت کو لیا جائے گا، سکوتی روایت کو ترک کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔

الجمع اولیٰ من الترجيح

محدثین کا اصول ہے:

إذا تعارض المثبت والنافي، فالجمع بينهما أولى
جب مثبت اور نفی بظاہر متعارض ہوں تو ان کو جمع کرنا ترجیح دینے سے بہتر ہے۔

اس مسئلہ میں جمع بالکل آسان ہے:

  • ابوحمیدؓ کی ایک روایت میں اختصار کے ساتھ صرف افتتاحی رفع الیدین ذکر کیا گیا۔

  • دوسری روایت (ابوداؤد وغیرہ) میں مکمل تفصیل ذکر ہوئی۔

یوں دونوں روایتیں جمع ہو جاتی ہیں اور کوئی تعارض باقی نہیں رہتا۔

➍ خود حدیثِ ابوحمیدؓ میں بھی یہ اصول ٹوٹتا ہے

صحیح بخاری کی روایت میں:

  • صرف پہلی تکبیر (افتتاحی تکبیر) کا ذکر ہے۔

  • بقیہ رکوع و سجود کی تکبیریں ذکر نہیں کی گئیں۔

کیا اس سے یہ مان لیا جائے کہ نبی ﷺ صرف پہلی تکبیر کہتے تھے اور باقی نماز بغیر تکبیر کے ادا کرتے تھے؟
یقیناً نہیں!

اسی طرح صرف افتتاحی رفع الیدین ذکر ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ باقی مقامات پر رفع الیدین نہیں کیا جاتا تھا۔

سنن ابی داؤد کی روایت اور رواۃ کی تحقیق

▣ سنن ابی داؤد میں حضرت ابوحمید الساعدیؓ کی حدیث

یہی مجلسِ صحابہ جس میں دس صحابہ کرامؓ بیٹھے تھے (جن میں ابو قتادہؓ بھی شامل تھے) کو سنن ابی داؤد نے مکمل تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے:

قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ:
”أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ…
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ…
ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ…
ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا…
ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ…“
(سنن ابی داؤد: 730، ترمذی: 304، ابن خزیمہ: 587، 588)

ترجمہ:
ابوحمیدؓ نے کہا: میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کو جانتا ہوں۔ آپ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور تکبیر کہتے۔ پھر جب رکوع کے لیے جھکتے تو ہاتھ اٹھا کر کندھوں تک لاتے اور پھر رکوع کرتے۔ پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے اور کہتے: سمع اللہ لمن حمدہ، تو دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے۔ پھر جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو پھر ہاتھ اٹھا کر کندھوں تک لاتے، جیسا کہ ابتداء نماز میں کیا تھا…

❖ اس روایت میں واضح طور پر چار مقامات پر رفع الیدین کا ذکر ہے:

  1. نماز کی ابتداء (تکبیر تحریمہ)

  2. رکوع سے پہلے

  3. رکوع سے اٹھتے وقت

  4. دو رکعت کے بعد قیام

▣ اس روایت کی صحت پر محدثین کے اقوال

یہ روایت صرف ابوداؤد میں نہیں بلکہ:

  • ترمذی: حسن صحیح (ترمذی: 304)

  • ابن خزیمہ: صحیح (ابن خزیمہ: 587، 588)

  • ابن حبان (الإحسان: 1864)

  • امام بخاری نے اپنی مستقل کتاب جزء رفع الیدین میں اسے ذکر کیا

  • امام ابن تیمیہ، ابن القیم، خطابی، ضیاء مقدسی، بیہقی، حاکم، ابو نعیم، ابو عوانہ نے بھی اس کو صحیح کہا۔

اعتراض: اس روایت میں عبدالحمید بن جعفر ہے، جو ضعیف ہے

✦ جواب: عبدالحمید بن جعفر کی توثیق

اس راوی پر چند محدثین نے ہلکی سی جرح کی ہے لیکن جمہور نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔

  • یحییٰ بن معین: ثقة (تاریخ الدارمی: 263)

  • امام احمد بن حنبل: ثقة ليس به بأس (الجرح والتعدیل: 6/10)

  • ابن سعد: وكان ثقة كثير الحديث (طبقات: 10/400)

  • ابن حبان: أحد الثقات المتقنين (صحیح ابن حبان: 5/184)

  • ذہبی: الإمام المحدِّث الثقة (سیر اعلام النبلاء: 20/7)

  • علی بن المدینی: وكان عندنا ثقة

  • نسائی: ليس به بأس

  • ساجی: ثقة صدوق

  • ابوحاتم: محله الصدق

➤ یعنی جمہور نے ان کو ثقہ قرار دیا ہے، چند کے اقوال اس جمہور کے مقابلے میں ناقابلِ اعتنا ہیں۔

▣ محمد بن عمرو بن عطاء (راوی)

  • ابو زرعہ، ابوحاتم، نسائی: ثقة

  • ابن سعد: وكان ثقة له أحاديث

  • ابن حبان: کتاب الثقات میں ذکر

  • ذہبی: أحد الثقات (سیر اعلام النبلاء: 5/225)

  • ابن حجر: ثقة (تقریب التہذیب: 6187)

  • بخاری، مسلم، ترمذی، ابن خزیمہ سب نے ان کی روایت کو صحیح کہا۔

❖ لہٰذا یہ دعویٰ کہ محمد بن عمرو بن عطاء کا ابوحمیدؓ سے سماع نہیں، غلط ہے۔ صحیح بخاری (828) میں صراحت ہے کہ وہ صحابہ کی مجلس میں موجود تھے اور ابوحمیدؓ سے براہِ راست حدیث سنی۔

صحیح بخاری (803) اور حضرت ابوہریرہؓ کے عمل سے وفاتِ نبوی ﷺ تک رفع الیدین کا ثبوت

▣ صحیح بخاری کی روایت (803) – کثرت تکبیرات

صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہؓ کی نماز کا تفصیلی ذکر آیا ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ:
"كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ صَلاَةٍ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ وَغَيْرِهَا فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ، فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْجُلُوسِ فِي الِاثْنَتَيْنِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَقُولُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأُشْبِهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ”.
(صحیح بخاری: 803، ج 1 ص 159)

ترجمہ:
ابوہریرہؓ ہر نماز میں (فرض یا نفل، رمضان یا غیر رمضان) تکبیر کہتے تھے: قیام کے وقت، رکوع میں جاتے وقت، رکوع سے اٹھتے وقت ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہتے اور ”ربنا ولک الحمد“ پڑھتے، پھر سجدے میں جاتے وقت، پھر سجدے سے اٹھتے وقت، پھر دوسرے سجدے میں جاتے وقت، پھر دوسرے سجدے سے اٹھتے وقت، پھر دو رکعت کے بعد کھڑے ہوتے وقت۔ وہ اپنی ہر رکعت میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ نماز پوری کر لیتے۔ پھر فرماتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز سے مشابہ ہوں، اور آپ ﷺ کی نماز وفات تک یہی تھی۔

▣ استدلال اس حدیث سے

  1. اس روایت میں ہر رکعت کی تکبیریں گنوائی گئیں لیکن افتتاحی رفع الیدین کا ذکر نہیں۔
    ➤ اگر سکوت = ترک مانا جائے تو اس سے افتتاحی رفع الیدین کا ترک ثابت ہو گا (جو کہ باطل ہے)۔

  2. اسی ابو ہریرہؓ سے دوسری صحیح روایات میں رفع الیدین کا ذکر ہے:

    • جزء رفع الیدین للبخاری: ابوہریرہؓ خود رفع الیدین کرتے تھے (افتتاح، رکوع سے پہلے اور بعد)۔

    • صحیح ابن خزیمہ (694، 695): ابوہریرہؓ فرماتے تھے کہ نبی ﷺ ان مقامات پر رفع الیدین کرتے تھے۔

  3. اس حدیث کے آخر میں حضرت ابو ہریرہؓ نے قسم کھا کر کہا:

    "إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلاَتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا”
    ترجمہ: ”یہی رسول اللہ ﷺ کی نماز تھی یہاں تک کہ آپ ﷺ دنیا سے رخصت ہوئے۔“

❖ یعنی آپ ﷺ نے وفات تک رفع الیدین جاری رکھا۔

▣ ایک اہم اضافہ

صحیح ابن خزیمہ کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں:

ولا يفعله حين يرفع رأسه من السجود
(ابن خزیمہ: 694)

ترجمہ:
”آپ ﷺ سجدے سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔“

➤ اس سے معلوم ہوا کہ رفع الیدین صرف چار مقامات پر تھا:

  1. افتتاحِ نماز

  2. رکوع سے پہلے

  3. رکوع سے بعد

  4. دو رکعت کے بعد قیام

صحابہ کرامؓ کی گواہی اور محدثین کے اقوال

▣ حضرت ابوحمید الساعدیؓ کی مجلس (دس صحابہ کی تصدیق)

جیسا کہ سنن ابی داؤد (730) میں آیا ہے:

قَالُوا: صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
(ابو داؤد: 730)

ترجمہ:
جب ابوحمیدؓ نے نبی ﷺ کی نماز بیان کی تو حاضر صحابہ (ابوقتادہؓ سمیت دس صحابہ) نے کہا: ”تم نے سچ کہا، رسول اللہ ﷺ اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔“

➤ اس سے معلوم ہوا کہ یہ عمل کسی ایک صحابی کا انفرادی بیان نہیں تھا، بلکہ جماعتِ صحابہ کی تصدیق موجود ہے۔

▣ حضرت عبداللہ بن عمرؓ

عبداللہ بن عمرؓ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے:

”كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ… وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ… وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ…“
(صحیح بخاری: 735، صحیح مسلم: 390)

ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو رفع الیدین کرتے، جب رکوع کے ارادہ کرتے تو رفع الیدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی رفع الیدین کرتے۔

▣ حضرت مالک بن حویرثؓ

حضرت مالک بن حویرثؓ بیان کرتے ہیں:

”رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ“
(صحیح مسلم: 391)

ترجمہ:
میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ جب تکبیر کہتے تو ہاتھ کانوں تک اٹھاتے، رکوع کے وقت بھی اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی۔

▣ حضرت علی المرتضیٰؓ

حضرت علیؓ کا فرمان ہے:

”إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ“
(مسند احمد: 843، صحیح ابن خزیمہ: 586)

ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے، رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا کرتے تھے۔

▣ حضرت وائل بن حجرؓ

حضرت وائل بن حجرؓ کی روایت میں بھی تین مقامات کا ذکر ہے:

”صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ… ثُمَّ رَكَعَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ… ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ“
(مسند احمد: 18384، صحیح)

ترجمہ:
میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے تکبیر کہی اور رفع الیدین کیا، پھر رکوع میں گئے تو رفع الیدین کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو رفع الیدین کیا۔

▣ محدثین و ائمہ کا فیصلہ

  1. امام بخاریؒ (جزء رفع الیدین: 102) → رفع الیدین کے دلائل جمع کر کے کہا کہ یہ سنت ہے۔

  2. امام شافعیؒ: ”نبی ﷺ سے یہ عمل متواتر ہے۔“ (الأم: 1/97)

  3. امام ابن تیمیہؒ: ”رفع الیدین نماز کا مسنون طریقہ ہے، اس پر نبی ﷺ کا عمل متواتر ہے۔“ (مجموع الفتاویٰ: 22/453)

  4. امام ابن القیمؒ: ”آپ ﷺ وفات تک رفع الیدین کرتے رہے۔“ (زاد المعاد: 1/218)

پورے مضمون کا خلاصہ

1️⃣ اعتراض: صحیح بخاری (828) میں صرف افتتاحی رفع الیدین کا ذکر ہے، رکوع سے پہلے اور بعد کا نہیں → لہٰذا ترک کی دلیل ہے۔
جواب:

  • سکوت ترک کی دلیل نہیں (اصولی قاعدہ: عدم الذکر ≠ ذکر العدم

  • بخاری (803) میں ابو ہریرہؓ کی نماز کے ذکر میں افتتاحی رفع الیدین بھی نہیں، کیا یہ مان لیا جائے کہ افتتاح پر بھی ہاتھ نہیں اٹھائے جاتے تھے؟ ہرگز نہیں!

  • سنن ابی داؤد، ترمذی، ابن خزیمہ، ابن حبان میں صریح اثبات ہے کہ رکوع سے پہلے اور بعد رفع الیدین کیا جاتا تھا۔

2️⃣ اعتراض: روایت میں عبدالحمید بن جعفر ہے، وہ ضعیف ہے۔
جواب:

  • جمہور محدثین (احمد، یحییٰ بن معین، ابن سعد، ابن حبان، ذہبی، ابن حجر وغیرہ) نے عبدالحمید کو ثقہ کہا ہے۔

  • ترمذی، ابن خزیمہ، ابن حبان، امام بخاری (جزء رفع الیدین)، امام بیہقی، ابن تیمیہ، ابن القیم سب نے اسی روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

  • چند افراد کی جرح جمہور کی تعدیل کے مقابلے میں قابلِ قبول نہیں۔

3️⃣ اعتراض: محمد بن عمرو بن عطاء کا ابوحمیدؓ سے سماع نہیں۔
جواب:

  • بخاری (828) میں صراحت ہے کہ وہ صحابہ کی مجلس میں موجود تھے اور ابوحمیدؓ کی حدیث سنی۔

  • ابوداؤد کی روایت میں صاف الفاظ ہیں: "سمعت أبا حميد” (میں نے ابوحمید سے سنا)۔

  • لہٰذا انقطاع کا دعویٰ باطل ہے۔

4️⃣ اعتراض: روایت مضطرب ہے۔
جواب:

  • اصل سند (عبدالحمید ← محمد بن عمرو ← ابوحمیدؓ) صحیح ہے۔

  • کمزور طرق (عن رجل/عباس بن سہل وغیرہ) اضطراب نہیں پیدا کرتے بلکہ اصل روایت کی تائید کرتے ہیں۔

  • محدثین نے اس روایت کو صحیح کہا، لہٰذا اضطراب کا دعویٰ مردود ہے۔

▣ آخری نتیجہ

  1. صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، ترمذی، ابن خزیمہ، ابن حبان اور دیگر کتب میں کثرتِ اسانید سے ثابت ہے کہ:

    • نبی ﷺ افتتاح میں رفع الیدین کرتے تھے۔

    • رکوع سے پہلے کرتے تھے۔

    • رکوع سے اٹھتے وقت کرتے تھے۔

    • اور دو رکعت کے بعد قیام کرتے وقت کرتے تھے۔

  2. حضرت ابن عمرؓ، حضرت مالک بن حویرثؓ، حضرت علیؓ، حضرت وائل بن حجرؓ، حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت ابوحمیدؓ سب نے رفع الیدین کو بیان کیا اور خود بھی کیا۔

  3. صحابہ کی بڑی جماعت نے اس پر اجماع کی صورت میں تصدیق کی:
    "صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ”
    (ابوداؤد: 730)

  4. محدثین و ائمہ (بخاری، مسلم، ترمذی، ابن تیمیہ، ابن القیم، خطابی وغیرہ) نے رفع الیدین کو سنتِ مؤکدہ قرار دیا اور کہا کہ یہ عمل وفاتِ نبوی ﷺ تک جاری رہا۔

✦ خلاصہ کلام

❖ صحیح اور صریح دلائل کی روشنی میں یہ ثابت ہوا کہ:

  • رفع الیدین صرف افتتاح تک محدود نہیں تھا بلکہ رکوع سے پہلے اور بعد بھی مسنون ہے۔

  • ترکِ رفع الیدین پر کوئی صحیح دلیل موجود نہیں۔

  • یہ سنت رسول ﷺ وفات تک جاری رہی اور صحابہ کرامؓ نے بھی اس کی تصدیق کی۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔