مضمون کے اہم نکات
صحیح بخاری میں بدعقیدہ یا ضعیف راویوں کے متعلق اعتراضات اور ان کے مدلل جوابات
سوال کا خلاصہ:
ایک بریلوی فرد نے "طاہر القادری پارٹی” کی نمائندگی کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ:
➊ صحیح بخاری میں بعض راوی ایسے ہیں جن کے عقائد قدری، رافضی یا مرجیہ تھے، اور کچھ راوی منکر الحدیث، واہی یا وہمی تھے۔
➋ امام بخاریؒ نے ایسے راویوں سے بھی روایات لی ہیں جن پر خود انہوں نے اپنی دوسری کتابوں میں جرح کی ہے۔
اس نے بطور مثال دو روایات پیش کیں:
❀ ایک روایت "باب الاستنجاء بالماء” کے تحت، جس میں عطاء بن ابی میمونہ راوی ہیں۔
❀ دوسری روایت "کتاب المغازی” میں، جس میں ایوب بن عائذ راوی ہیں۔
دونوں راویوں کے بارے میں امام بخاریؒ نے "کتاب الضعفاء” میں ان کے قدری یا مرجیہ عقائد کا ذکر کیا ہے۔
سوال کنندہ کا مؤقف:
یہ اعتراضات بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کی جانب سے سامنے آئے، جو کہتا ہے کہ صحیح بخاری میں اٹھارہ (18) ضعیف روایات موجود ہیں۔ جب ان سے وضاحت طلب کی گئی تو صرف دو روایات کا ادھورا حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ ان میں شامل راوی ضعیف ہیں۔ ساتھ ہی کچھ اور راویوں پر بھی اعتراض کیا جیسے:
زہیر بن محمد تیمی، عبداللہ بن کبیر، عبدالوارث بن سعید، کہمس بن منہال، عبدالملک بن اعین، عطاء بن یزید، مروان بن حکم۔
تفصیلی جواب:
راوی کا عقیدہ اور اس کی حدیث کی قبولیت:
علم حدیث کے اصولوں کے مطابق کسی راوی کا قدری، رافضی یا مرجیہ ہونا، اس کی روایت کو ضعیف نہیں بناتا اگر وہ ثقہ اور صدوق ہو۔ بدعقیدگی پر مبنی جرح اس وقت غیر مؤثر مانی جاتی ہے جب جمہور محدثین اس راوی کو ثقہ مانتے ہوں۔
ائمہ محدثین کی آراء کی روشنی میں:
❀ ابن خزیمہؒ:
حدّثنا عَبّاد بن يعقوب المُتّهم في رأيه الثقة في حديثه
(صحیح ابن خزیمہ 2/376-377، ح1497)
❀ یحییٰ بن معینؒ:
شیعہ ثقہ ہوتا ہے، قدری بھی ثقہ ہوتا ہے
(سوالات ابن الجنید: 617)
❀ ابو زرعہ رازیؒ:
كوفي، ثقة، مرجئي
(الجرح والتعدیل 2/145)
❀ یعقوب بن سفیانؒ، عجلیؒ، ابن شاہینؒ، احمد بن حنبلؒ، ابو حاتمؒ، ذہبیؒ، ابن حجرؒ اور دیگر کبار محدثین کی آراء بھی اسی اصول کی تائید کرتی ہیں۔
عطاء بن ابی میمونہ کا تحقیقی جائزہ:
جرح کرنے والے علماء:
ابو حاتم رازیؒ، امام بخاریؒ، عقیلیؒ، ابن سعدؒ، ابن الجوزیؒ، ابن عدیؒ (6 علماء)
توثیق کرنے والے علماء:
یحییٰ بن معینؒ، ابو زرعہؒ، ابن سعدؒ، ابن حبانؒ، یعقوب بن سفیانؒ، عجلیؒ، ابن شاہینؒ، بخاریؒ، مسلمؒ (9 علماء)
حافظ ابن حجرؒ:
ثقة رمي بالقدر (تقریب التہذیب: 4601)
حافظ ذہبیؒ:
صدوق (الکاشف 2/233، ت3861)
نتیجہ: عطاء بن ابی میمونہ جمہور کے نزدیک ثقہ و صحیح الحدیث ہیں۔ امام بخاریؒ نے انہیں "کتاب الضعفاء” میں ان کے عقیدے کے سبب ذکر کیا، نہ کہ ضعفِ روایت کی وجہ سے۔
ایوب بن عائذ کا تحقیقی جائزہ:
جرح:
صرف ارجاء کے عقیدے کی بنیاد پر ذکر کیا گیا، حدیث کے اعتبار سے کوئی مؤثر جرح نہیں۔
توثیق کرنے والے علماء:
یحییٰ بن معینؒ، ابو حاتمؒ، بخاریؒ، مسلمؒ، نسائیؒ، ابن المدینیؒ، ابن حبانؒ، ابن شاہینؒ، عجلیؒ (9 علماء)
امام بخاریؒ:
كان يرى الإرجاء، وهو صدوق
(الضعفاء بتحقیق: 25)
حافظ ذہبیؒ کی میزان الاعتدال میں امام بخاریؒ کے اس قول کو نقل نہ کرنا یا چھپانا غلط ہے۔
بدعقیدہ راوی اور محدثین کا موقف:
صحیح بخاری اور دیگر صحیح کتب میں ایسے کئی راوی موجود ہیں جن کے بارے میں بدعقیدگی کی بات کہی گئی، لیکن جمہور نے ان کو ثقہ مانا۔
مثلاً:
❀ محمد بن فضیل بن غزوان: ثقہ شیعی
❀ ابان بن تغلب: شیعی جلد، صدوق
❀ ثور بن یزید: قدری، ثقہ
❀ عدی بن ثابت: صدوق، شیعہ مسجد کا امام
معترضین کے دیگر اعتراضات کا جائزہ:
❀ زہیر بن محمد تیمی، عبدالوارث بن سعید، کہمس بن منہال، عبدالملک بن اعین، عطاء بن یزید، مروان بن حکم
→ یہ سب جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ یا صدوق ہیں، لہٰذا ان پر کی گئی تنقید مردود ہے۔
❀ عبداللہ بن کبیر
→ صحیح بخاری کا راوی ہی نہیں، غالباً تصحیف یا کتابت کی غلطی ہے۔
صحیح بخاری کی معلق روایات:
تعریف:
ایسی روایات جن میں امام بخاریؒ نے اپنی سند مکمل طور پر نہیں دی بلکہ صرف تابعی یا صحابی سے قول نقل کیا، انہیں معلقات کہا جاتا ہے۔
حافظ ابن حجرؒ نے اپنی کتاب تغلیق التعلیق میں ان تمام معلقات کو مکمل سند کے ساتھ بیان کیا۔
تلقی بالقبول اور صحیح بخاری کی عظمت:
❀ عینی حنفی: کتاب اللہ کے بعد سب سے صحیح کتاب بخاری و مسلم ہیں۔ (عمدۃ القاری 1/5)
❀ ملاعلی قاری: صحیحین کو تلقی بالقبول حاصل ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح 1/58)
❀ شاہ ولی اللہؒ: صحیح بخاری و مسلم کی ہر مرفوع و متصل روایت یقینی طور پر صحیح ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ 1/242)
❀ احمد رضا خانؒ: حدیث بخاری کو "اجل واعلیٰ حدیث” قرار دیا۔ (احکام شریعت حصہ اول ص62)
❀ عبد السمیع رام پوری، محمد کرم شاہ الازہریؒ نے بھی صحیح بخاری کو "اصح الکتب بعد کتاب اللہ” قرار دیا۔
حتمی جواب:
معترض کا دعویٰ کہ صحیح بخاری میں "اٹھارہ ضعیف روایات” ہیں، باطل اور مردود ہے۔ اگر کوئی شخص صرف ایک ایسی مرفوع و متصل روایت پیش کر دے جو اصولِ حدیث کے مطابق عند الجمہور ضعیف ہو، تو ہم جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
تاہم، آج تک کوئی ایسی روایت ثابت نہیں کی جا سکی۔
لہٰذا معترض سے کہا جائے:
❀ ایسی کوئی روایت اصولِ حدیث اور اسماء الرجال کے مطابق ثابت کرے۔
❀ صحیح بخاری کے اصول اور روایت کے مطابق تین مرفوع متصل ضعیف احادیث پیش کرے۔
اگر وہ اس میں ناکام رہے (اور وہ یقینی طور پر ناکام رہے گا، ان شاء اللہ) تو صحیح بخاری کے بارے میں طعن و تشنیع سے باز آئے، ورنہ آخرت میں جواب دہی سے بچنا ممکن نہیں۔