صحابی رسول حضرت اَنَسؓ کے نام کی درست ادائیگی

ماخوذ : قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 01، ص 545

سوال

لفظ ’’اَنَسْ‘‘ کی درستگی کے بارے میں وضاحت درکار ہے۔ میں نے حدیث میں {عَنْ اَنَسٍ} پڑھا ہے، جبکہ میرے تایا زاد بھائی کا کہنا ہے کہ اصل لفظ ’’اَنْسْ‘‘ ہے، یعنی نون اور سین دونوں ساکن ہیں۔ کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی اور خادم اَنَس بن مالک رضی الله عنہ کے نام کو ہمزہ اور نون کے فتحہ کے ساتھ پڑھا جائے گا۔

مشہور ومعروف لغت دان صاحبِ قاموس لکھتے ہیں:

وَالْأَنَسُ مُحَرَّکَةٌَ الْجَمَاعَۃُ الْکَثِیْرَۃُ ، وَالْحَیُّ الْمُقِیْمُوْنَ وَبِلاَلاَمٍ خَادِمُ النَّبِیِّ صلی الله علیہ وسلم
[اور "اَنَس” حرکت کے ساتھ بہت زیادہ جماعت اور رہائشی قبیلہ کے معنی میں آتا ہے، اور بغیر لام کے نبی صلی الله علیہ وسلم کے خادم کا نام ہے۔]

البتہ لفظ ’’اَنس‘‘ اگر نون کو ساکن اور ہمزہ کو فتحہ یا ضمہ کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ وحشت کی ضد کے معنی دیتا ہے، اور یہ ایک مصدر ہے۔

نتیجہ

لہٰذا درست صورت یہی ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے صحابی اور خادم کا نام ’’اَنَس‘‘ (ہمزہ اور نون دونوں پر فتحہ کے ساتھ) پڑھا جائے، نہ کہ ’’اَنس‘‘ (نون اور سین دونوں ساکن کے ساتھ)۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️