مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

صحابہ کرامؓ کا عقیدہ: اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے، صحیح آثار

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب اللہ کہاں ہے؟ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

صحابہ کرام رضی الله عنه کا عقیدہ

قرآن وحدیث کے بعد صحابہ کرام رضی الله عنه کے اقوال ملاحظہ ہوں:

①سیدنا ابو بکر صدیق رضی الله عنه

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ، تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی الله عنه نے فرمایا:

من كان يعبد محمدا، فإن محمدا قد مات، ومن كان يعبد الله فإن الله في السماء حي ، لا يموت.

’’جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا، وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو موت آچکی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا، تواللہ آسمانوں کے اوپر زندہ ہے۔ اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔‘‘

حافظ ہیثمی رحمتہ اللہ لکھتے ہیں:

(التاريخ الكبير للبخاري 202/1، مسند البزار: 103، الرد على المريسى للدارمي: 518/1-519، وسنده صحيح)

رواه البزار ورجاله رجال الصحيح غير علي بن المنذر، وهو ثقة.

’’اسے امام بزار رحمتہ اللہ نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں، سوائے علی بن منذر کے اور وہ ثقہ ہیں ۔‘‘

(مجمع الزوائد: 332/8)

حافظ ذہبی رحمتہ اللہ نے اس کی سند کو ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔

(کتاب العرش: 159/2)

②سیدنا عمر بن خطاب رضی الله عنه

آپ رضی الله عنه نے فرمایا:

ويل لديان الأرض من ديان السماء يوم يلقونه إلا من أمر بالعدل، فقضى بالحق ولم يقض على هوى ولا على قرابة ولا على رغبة ولا حب، وجعل كتاب الله مرأة بين عينيه.

’’روز قیامت زمین کے قاضی کے لیے آسمان کے قاضی (اللہ تعالیٰ) کی طرف سے ہلاکت ہے، سوائے اس قاضی کے، جو عدل کا حکم دیتا ہے اور حق کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، خواہشِ نفس، رشتہ داری، رغبت اور محبت کی بنا پر فیصلہ نہیں کرتا ، بلکہ ہر چیز کو کتاب اللہ کی روشنی میں حل کرتا ہے۔‘‘

(الرد على المريسي للدارمي: 515/1-516، العلو للذهبي، ص 78، وسنده صحيح)

③سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی الله عنه

آپ رضی الله عنه فرماتے ہیں:

ما بين كل سماء إلى أخرى مسيرة خمسمأة عام، وما بين السماء والأرض مسيرة خمسمأة عام، وما بين السماء السابعة إلى الكرسي مسيرة خمسمأة عام، وما بين الكرسي إلى الماء مسيرة خمسمأة عام، والعرش على الماء، والله على العرش، ويعلم أعمالكم.

’’ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ زمین اور آسمانِ دنیا کے درمیان پانچ سوسال کا فاصلہ ہے۔ ساتویں آسمان سے کرسی تک پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اور کرسی اور پانی کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ عرش پانی پر ہے اور اللہ عرش پر ہے اور تمھارے اعمال کو جانتا ہے۔‘‘

(كتاب التوحيد لابن خزيمة 242/1 – 243، ح 149، الرد على الجهمية للدارمي: 81 الرّد على المريسي للدارمي: 422/1 ، المعجم الكبير للطبراني: 202/9، العظمة لأبي الشيخ 888/2-889، التمهيد لابن عبد البر: 139/7 الأسماء والصفات للبيهقي: 851، وسنده حسن)

حافظ ہیثمی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں:

رجاله رجال الصحيح .

’’اس کے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں ۔‘‘

(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: 86/1)

حافظ ذہبی رحمتہ اللہ نے اس کی سند کو ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔

(العلو، ص 84)

④سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی الله عنه

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی الله عنه نے سیدہ عائشہ رضی الله عنه سے فرمایا:

أنزل الله براثتك من فوق سبع سماوات.

’’اللہ نے آپ کی برات سات آسمانوں کے اوپر سے نازل کی ہے۔‘‘

(مسند الإمام أحمد : 276/1 ، 349 ، الرّد على الجهمية للدّارمي، ص 57 ، المستدرك على الصحيحين للحاكم: 8/4، وسنده حسن)

اس روایت کو امام حاکم رحمتہ اللہ نے ’’صحیح‘‘ کہا ہے اور حافظ ذہبی رحمتہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔

ایک روایت کے الفاظ ہیں:

نزل عدرك من السماء.

’’آپ کی برات آسمانوں (کے اوپر) سے اُتری ہے۔‘‘

(صحيح البخاري: 4753)

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی الله عنه فرماتے ہیں:

ينادي مناد بين يدي الصيحة: يا أيها الناس، أتتكم الساعة، [قال:] فسمعها الأحياء والأموات، [قال:] وينزل الله عز وجل إلى السماء الدنيا، فينادي مناد: لمن الملك اليوم؟ لله الواحد القهار.

’’صیحہ (قیامت بپا ہونے کے وقت سخت چیخ) سے پہلے ایک پکارنے والا پکارے گا: لوگو! قیامت تمھارے پاس آ پہنچی ہے۔ زندہ یا مردہ سب لوگ اس آواز کوسنیں گے ۔ اللہ عزوجل آسمان دنیا کی طرف نزول فرمائیں گے۔ پھر ایک منادی یہ آواز لگائے گا: آج کے دن کس کی بادشاہی ہے؟ صرف واحد زبر دست اللہ کی ہی ہے۔‘‘

الأهوال لابن أبي الدنيا 27 ، المستدرك للحاكم: 437/2، وسنده حسن)

⑤سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی الله عنه

امام نافع رحمتہ اللہ بیان کرتے ہیں:
خرج ابن عمر في بعض نواحي المدينة ومعه أصحاب له، ووضعوا سفرة له، فمر بهم راعي غنم، قال: فسلم، فقال ابن عمر: هلم يا راعي، هلم، فأصب من هذه السفرة، فقال له: إني صائم ، فقال ابن عمر: أتصوم في مثل هذا اليوم الحار شديد سمومه وأنت في هذه الجبال ترعى هذا الغنم؟، فقال له: أي والله أبادر أيامي الخالية ، فقال له ابن عمر وهو يريد يختبر ورعه فهل لك أن تبيعنا شاة من غنمك هذه فنعطيك ثمنها ونعطيك من لحمها فتفطر عليه؟ فقال: إنها ليست لي بغنم، إنها غنم ،سيدي ، فقال له ابن عمر: فما عسى سيدك فاعلا إذا فقدها، فقلت: أكلها الذتب، فولى الراعي عنه وهو رافع أصبعه إلى السماء وهو يقول: أين الله؟ قال: فجعل ابن عمر يردد قول الراعي وهو يقول: قال الراعي فأين الله؟ قال: فلما قدم المدينة بعث إلى مولاه فاشترى منه الغنم والراعي فأعتق الراعي، ووهب له الغنم.

’’سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی الله عنه اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مدینہ کے مضافات میں تشریف لے گئے۔ ساتھیوں نے دسترخوان بچھایا، وہاں سے بکریوں کے چرواہے کا گزر ہوا، تو اس نے سلام کہا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی الله عنه (سلام کا جواب دینے کے بعد) فرمایا آئیے ، ہمارے ساتھ کھانا تناول فرمائیں۔ چرواہا کہنے لگا: مجھے روزہ ہے۔ فرمایا: اتنے سخت اور گرم لو والے دن روزہ! پھر ان پہاڑوں میں بکریاں چرا رہے ہو! کہنے لگا: بخدا! میں تو آخرت ٹھنڈی کر رہا ہوں۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی الله عنه نے اس کے تقویٰ وورع جانچنے کو پوچھا: ایک بکری ہمیں بیچ دیجیے، قیمت بھی وصول کر لیجیے اور افطاری کے لیے ہم آپ کو گوشت بھی دے دیں گے؟ کہنے لگا: ان میں میری بکری کوئی بھی نہیں ہے، سب میرے مالک کی ہیں۔ فرمایا: مالک سے کہہ دیجیے کہ بھیڑیا ایک بکری کو نگل گیا، فاین اللہ؟ تو اللہ کہاں ہے؟ چرواہے نے انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور یہ کہتے ہوئے چل دیا۔ اب کیا ہوا، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی الله عنه اس کی بات دہراتے جارہے ہیں، فرماتے: چرواہا کہتا ہے، تو اللہ کہاں ہے؟ آپ مدینہ آئے، تو اس کے مالک کو پیغام بھیجا، وہ چرواہا اور تمام بکریاں اس سے خرید لیں، پھر چرواہے کو آزاد کر دیا اور بکریاں اسے ہبہ کر دیں۔‘‘

(شعب الإيمان للبيهقي: 4908، وسنده حسن)

⑥سیدنا ابو ذر غفاری رضی الله عنه

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی الله عنه بیان کرتے ہیں:

بلغ أبا ذر مبعث النبي صلى الله عليه وسلم، فقال لأخيه: اعلم لي علم هذا الرجل الذي يزعم أنه يأتيه الخبر من السماء.

’’سیدنا ابوذر رضی الله عنه کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی اطلاع ملی، تو انھوں نے اپنے بھائی سے کہا: اس بندے کے احوال معلوم کیجیے، جو یہ دعوی کرتا ہے کہ اس کے پاس آسمانوں سے وحی آتی ہے۔‘‘

(صحيح البخاري: 3522، صحیح مسلم: 2474)

⑦سیدہ عائشہ رضی الله عنه

آپ رضی الله عنه فرماتی ہیں:

وأيم الله، إني لأخشى لو كنت أحب قتله لقتلت تعني عثمان ولكن علم الله من فوق عرشه أني لم أحب قتله.

’’اللہ کی قسم ! اگر میں سیدنا عثمان بن عفان رضی الله عنه کے قتل کو پسند کرتی، تو خطرہ تھا کہ میں ماری جاتی لیکن عرش کے اوپر اللہ جانتا ہے کہ میں آپ رضی الله عنه کے قتل کو پسند نہیں کرتی تھی۔‘‘

(الرد على الجهمية للدارمي: 83، وسنده صحيح)

⑧سیدہ ام ایمن رضی الله عنه

سیدنا انس بن مالک رضی الله عنه بیان کرتے ہیں:

قال أبو بكر رضي الله عنه بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم لعمر: انطلق بنا إلى أم أيمن، نزورها كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزورها، فلما انتهينا إليها بكت، فقالا: ما يبكيك؟ ما عند الله خير لرسوله صلى الله عليه وسلم، فقالت: ما أبكي أن لا أكون أعلم أن ما عند الله خير لرسوله صلى الله عليه وسلم، ولكن أبكي أن الوحي قد انقطع من السماء، فهيجتهما على البكاء، فجعلا يبكيان معا.

’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر رضی الله عنه نے سیدنا عمر رضی الله عنه سے کہا: عمر ! آئیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ام ایمن سے ملاقات کو چلتے ہیں، جب ہم ام ایمن رضی الله عنه کے پاس پہنچے، تو وہ رونے لگیں، شیخین نے عرض کی: آپ کیوں رو رہی ہیں؟ اللہ کے پاس اپنے رسول کے لیے خیر ہے۔ کہا: جانتی ہوں، اللہ کے پاس جو اپنے رسول کے لیے ہے، وہ بہتر ہے، لیکن میں اس لیے نہیں رو رہی، میں تو اس لیے روتی ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ یہ سنا تو شیخین کی آنکھیں بھی بہہ پڑیں۔‘‘

(صحیح مسلم:2454)

⑨سیده زینب بنت جحش رضی الله عنه

سیدنا انس بن مالک رضی الله عنه بیان کرتے ہیں:

كانت زينب بنت جحش تقول: إن الله أنكحني في السماء.

’’ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی الله عنه فرمایا کرتی تھیں کہ میرا نکاح اللہ نے آسمانوں کے اوپر کیا ہے۔‘‘

(صحیح البخاري:7421)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔