صبر کی حقیقت، فضیلت اور ثمرات قرآن و حدیث کی روشنی میں

ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

زیرِ نظر مضمون ایمان کے ایک عظیم رکن ’’صبر‘‘ کی حقیقت، اس کی اہمیت، فضیلت اور قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کے ثمرات و فوائد پر مشتمل ہے۔ گزشتہ خطبے میں ایمان کے پہلے حصے یعنی شکر پر گفتگو کی گئی تھی، جبکہ اس مضمون میں ایمان کے دوسرے بنیادی حصے صبر کو تفصیل سے بیان کیا جا رہا ہے۔ اس میں صبر کا لغوی و اصطلاحی مفہوم، قرآن مجید میں صبر کا مقام، انبیائے کرام علیہم السلام کے صبر کے نمونے، اور صبر کے دنیوی و اُخروی فوائد کو واضح کیا گیا ہے، تاکہ ہر مومن اپنی عملی زندگی میں صبر کو اختیار کر سکے۔

صبر کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم

عربی زبان میں صبر کا معنی ہے: روکنا اور باندھنا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ﴾
(الکہف 18:28)

ترجمہ:
’’اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روکے رکھیے جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور اسی کی رضا چاہتے ہیں۔‘‘

اسی لغوی مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے بعض اہلِ علم نے صبر کی تعریف یوں کی ہے:

(حَبْسُ النَّفْسِ عَنِ الْجَزَعِ وَالتَّسَخُّطِ، وَحَبْسُ اللِّسَانِ عَنِ الشَّكْوَى، وَحَبْسُ الْجَوَارِحِ عَنِ التَّشْوِيشِ)

یعنی:
’’دل کو گھبراہٹ اور ناگواری سے روکنا، زبان کو شکوہ شکایت سے باز رکھنا اور اعضائے جسم کو بے قراری اور انتشار سے بچانا۔‘‘

گویا صبر کا مطلب ہے کہ انسان مصیبت میں ثابت قدم رہے، زبان سے شکوہ نہ کرے اور مایوسی یا بے چینی کا اظہار نہ کرے۔

صبر: سب سے بڑی خیر

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ صبر سب سے بڑی خیر ہے اور اس سے بہتر کوئی عطیہ نہیں۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((مَا يُعْطَى أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ))
صحیح البخاری: 1469، 6470 | صحیح مسلم: 1053

ترجمہ:
’’کسی شخص کو صبر سے بہتر اور اس سے زیادہ وسیع عطیہ نہیں دیا گیا۔‘‘

قرآن مجید میں صبر کی اہمیت

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سو سے زائد مرتبہ مختلف انداز میں صبر کا ذکر فرمایا ہے، جو اس کی عظمت اور ضرورت کو واضح کرتا ہے۔

رسول ﷺ کو صبر کا حکم

﴿فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ﴾
(الأحقاف 46:35)

ترجمہ:
’’پس آپ صبر کیجئے، جیسا کہ اولو العزم رسولوں نے صبر کیا۔‘‘

اہلِ ایمان کو صبر کی تلقین

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا﴾
(آل عمران 3:200)

ترجمہ:
’’اے ایمان والو! صبر کرو، ثابت قدم رہو اور ڈٹے رہو۔‘‘

صبر کرنے والوں کیلئے بشارت

﴿وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ﴾
(الحج 22:34-35)

ترجمہ:
’’اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔‘‘

صبر اور نماز کا باہمی تعلق

﴿وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ﴾
(البقرۃ 2:45)

ترجمہ:
’’صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد مانگو۔‘‘

اللہ کی معیت صابرین کے ساتھ

﴿إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾
(البقرۃ 2:153)

ترجمہ:
’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘

صابرین سے اللہ کی محبت

﴿وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ﴾
(البقرۃ 2:153)

ترجمہ:
’’اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘

صابرین کا اجر ضائع نہیں

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ﴾
(یوسف 12:90)

ترجمہ:
’’اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔‘‘

یہ کلمات حضرت یوسف علیہ السلام کے ہیں، جنہوں نے اپنے بھائیوں کے ظلم، قید و بند اور طویل آزمائشوں پر صبر کیا، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں صبر کے بدلے حکومتِ مصر عطا فرمائی۔

یہ تمام آیات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مومن کو ہر حال میں صابر اور ثابت قدم رہنا چاہیے، اور انبیائے کرام علیہم السلام کے صبر کو اپنے لیے نمونہ بنانا چاہیے۔

انبیائے کرام علیہم السلام اور صبر کا اعلیٰ نمونہ

قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ سب سے سخت آزمائشیں انبیائے کرام علیہم السلام پر آئیں، لیکن ان پاک ہستیوں نے ان مصائب میں جس صبر، استقامت اور توکل کا مظاہرہ کیا وہ ہر مومن کیلئے مشعلِ راہ ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

((اَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْاَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْاَمْثَلُ فَالْاَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلٰى حَسَبِ دِينِهِ…))
سنن الترمذی: 2398، سنن ابن ماجہ: 4023 (حسنہ الالبانی)

ترجمہ:
’’لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء علیہم السلام پر آتی ہیں، پھر ان پر جو ان کے بعد درجہ میں ہوتے ہیں۔ انسان کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔ اگر وہ دین میں مضبوط ہو تو اس کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے، اور اگر کمزور ہو تو اسی کے مطابق۔ یہاں تک کہ بندہ زمین پر اس حال میں چلنے لگتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔‘‘

حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر

صبرِ انبیاء کا سب سے روشن اور مشہور نمونہ حضرت ایوب علیہ السلام ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی سخت جسمانی بیماری، مالی نقصان اور اہل و عیال کی جدائی کا ذکر خود قرآن میں فرمایا:

﴿وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ﴾
(صٓ 38:41)

ترجمہ:
’’اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کیجئے، جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے سخت تکلیف اور عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا:

﴿إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾
(صٓ 38:44)

ترجمہ:
’’بے شک ہم نے ایوب کو صابر پایا، وہ بہترین بندہ تھا، جو ہر حال میں ہماری طرف رجوع کرنے والا تھا۔‘‘

ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِنْ ضُرٍّ﴾
(الانبیاء 21:84)

ترجمہ:
’’چنانچہ ہم نے اس کی دعا قبول کی اور جو تکلیف اسے لاحق تھی اسے دور کر دیا۔‘‘

حضرت ایوب علیہ السلام پر تقریباً بارہ سال شدید بیماری رہی، مگر زبان پر کبھی شکوہ نہ آیا۔ دعا بھی کی تو بس یہی کہا:

﴿أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾
’’اے میرے رب! مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔‘‘

صبر کا بدلہ: اللہ کی خاص رحمت

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’جب حضرت ایوب علیہ السلام نہا رہے تھے تو ان پر سونے کی ٹڈیاں برسنے لگیں…‘‘
صحیح البخاری: 279

یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صبر کبھی ضائع نہیں جاتا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ دنیا اور آخرت دونوں میں عطا فرماتا ہے۔

دیگر انبیاء علیہم السلام کا صبر

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَإِسْمَاعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ كُلٌّ مِنَ الصَّابِرِينَ﴾
(الانبیاء 21:85)

ترجمہ:
’’اور اسماعیل، ادریس اور ذوالکفل (علیہم السلام) سب صبر کرنے والوں میں سے تھے۔‘‘

نبی کریم ﷺ کا بے مثال صبر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں جس قدر اذیتیں برداشت کیں، اس کی مثال نہیں ملتی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے طائف کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

((بَلْ أَرْجُوْ أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ))
صحیح البخاری: 3231، صحیح مسلم: 1795

ترجمہ:
’’بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اللہ ہی کی عبادت کریں گے۔‘‘

یہ ہے صبر، حلم اور رحمت کا وہ اعلیٰ ترین نمونہ جو قیامت تک انسانیت کیلئے مثال ہے۔

صبر کے چند عظیم ثمرات

❀ صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی معیت
❀ صبر کرنے والوں سے اللہ کی محبت
❀ صبر کرنے والوں کیلئے بغیر حساب اجر
❀ صبر گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾
(الزمر 39:10)

ترجمہ:
’’صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب کے دیا جائے گا۔‘‘

صبر کے بعض عظیم ثمرات اور فوائد

قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ سے یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ صبر محض ایک اخلاقی وصف نہیں بلکہ یہ دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ صبر کرنے والوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے بے شمار دنیوی اور اُخروی انعامات مقرر فرمائے ہیں۔

➊ دنیا میں صبر کرنے والوں پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ٭ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ٭ أُولٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾
البقرۃ 2:155-157

ترجمہ:
’’اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے، کچھ خوف، کچھ بھوک، مالوں اور جانوں کے نقصان اور پھلوں کی کمی کے ذریعے۔ اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے نوازشیں اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘

ان آیات سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والوں پر:
❀ اللہ کی خاص رحمت نازل ہوتی ہے
❀ ان کیلئے ہدایت کا دروازہ کھل جاتا ہے
❀ دنیا کی آزمائشیں ان کیلئے خیر میں بدل جاتی ہیں

مصیبت پر دعا اور صبر

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ: إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اَللّٰهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَخْلَفَ اللّٰهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا))
صحیح مسلم: 918

ترجمہ:
’’جس مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ یہ دعا پڑھے: ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ! مجھے میری مصیبت پر اجر عطا فرما اور اس کے بدلے مجھے اس سے بہتر عطا فرما، تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔‘‘

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے یہی دعا پڑھی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بہتر شوہر یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرمائے۔

➋ آخرت میں صبر کرنے والوں کا عظیم بدلہ

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُوا أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾
النحل 16:96

ترجمہ:
’’اور ہم صبر کرنے والوں کو ان کے اعمال سے کہیں بہتر بدلہ ضرور عطا کریں گے۔‘‘

یہ بہترین بدلہ جنت کے بالا خانے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿أُولٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا﴾
الفرقان 25:75

ترجمہ:
’’یہی وہ لوگ ہیں جنہیں صبر کے بدلے جنت کے بالا خانے عطا کئے جائیں گے اور وہاں ان کا استقبال سلام اور دعاؤں کے ساتھ کیا جائے گا۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾
العنکبوت 29:59

ترجمہ:
’’یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر توکل کیا۔‘‘

مصیبتیں گناہوں کا کفارہ ہیں

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ﴾
الشوریٰ 42:30

ترجمہ:
’’تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے، اور اللہ بہت سے گناہوں کو ویسے ہی معاف فرما دیتا ہے۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ، حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا، إِلَّا كَفَّرَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ))
صحیح البخاری: 5641، صحیح مسلم: 2573

ترجمہ:
’’مسلمان کو جو بھی تکلیف، بیماری، غم یا پریشانی پہنچتی ہے، حتیٰ کہ کانٹا چبھنے پر بھی، اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘

آزمائشیں مومن کا پیچھا کرتی رہتی ہیں

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((مَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَمَالِهِ، حَتَّى يَلْقَى اللّٰهَ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ))
سنن الترمذی: 2399 (صححہ الالبانی)

ترجمہ:
’’آزمائشیں مومن مرد اور مومنہ عورت کے جان، مال اور اولاد میں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔‘‘

یہ تمام دلائل اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ صبر کرنے والا دراصل اللہ کا محبوب بندہ بن جاتا ہے، اور دنیا کی ہر مصیبت اس کیلئے آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

پیاروں کی جدائی پر صبر

اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی آزمائشوں میں ایک بڑی آزمائش پیاروں کی جدائی ہے۔ اس موقع پر مومن مرد اور مومنہ عورت کیلئے صبر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے اور یہی شریعتِ اسلام کا تقاضا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی کے واقعے سے رہنمائی

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی (حضرت زینب رضی اللہ عنہا) نے آپ کے پاس پیغام بھیجا کہ ان کا بچہ قریب المرگ ہے، آپ تشریف لے آئیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھجوا کر فرمایا:

((إِنَّ لِلّٰهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ))
صحیح البخاری: 1284 | صحیح مسلم: 923

ترجمہ:
’’اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا، اور اسی کا ہے جو اس نے دیا، اور ہر چیز کا ایک مقرر وقت ہے، لہٰذا صبر کرے اور اللہ سے اجر کی امید رکھے۔‘‘

بعد ازاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچے کے پاس تشریف لائے۔ بچے کی نازک حالت دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:

((هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللّٰهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ))
صحیح البخاری: 1284 | صحیح مسلم: 923

ترجمہ:
’’یہ وہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے۔‘‘

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ آنکھوں سے آنسو بہنا صبر کے منافی نہیں، ممنوع صرف نوحہ، چیخ و پکار اور جاہلیت کے طریقے ہیں۔

بے صبری سے ممانعت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ))
صحیح البخاری: 1294 | صحیح مسلم: 103

ترجمہ:
’’وہ ہم میں سے نہیں جو رخسار پیٹے، گریبان چاک کرے اور جاہلیت کی پکار پکارے۔‘‘

اور حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
صحیح البخاری: 1296 | صحیح مسلم: 104

ترجمہ:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس عورت سے براءت کا اظہار فرمایا جو مصیبت کے وقت چیخ و پکار کرے، سر منڈوائے یا کپڑے پھاڑے۔‘‘

معصوم بچوں کی وفات پر صبر کی عظیم بشارتیں

معصوم بچوں کی جدائی پر صبر کرنے والوں کیلئے شریعت میں عظیم خوشخبریاں ہیں:

➊ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((مَا مِنَ النَّاسِ مُسْلِمٌ يَمُوتُ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللّٰهُ الْجَنَّةَ))
صحیح البخاری: 1303 | صحیح مسلم: 2315

ترجمہ:
’’جس مسلمان کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں، اللہ اسے جنت میں داخل فرما دیتا ہے۔‘‘

➋ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت

((مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ كَانُوا لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ))
صحیح البخاری: 1303 | صحیح مسلم: 2315

ترجمہ:
’’جس کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں وہ اس کیلئے جہنم سے پردہ بن جاتے ہیں۔‘‘

➌ خواتین کیلئے خصوصی بشارت

((مَا مِنْكُنَّ مِنِ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ ثَلَاثَةً مِنْ وَلَدِهَا إِلَّا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ))
صحیح البخاری: 1249 | صحیح مسلم: 2633

ترجمہ:
’’تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں وہ اس کیلئے جہنم سے پردہ بن جاتے ہیں۔‘‘
ایک عورت نے پوچھا: دو؟
آپ ﷺ نے فرمایا: ’’دو بھی۔‘‘

صبر کرنے والوں کیلئے جنت کی ضمانت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((يَقُولُ اللّٰهُ تَعَالٰى: مَا لِعَبْدِيَ الْمُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنَ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ إِلَّا الْجَنَّةُ))
صحیح البخاری: 6424

ترجمہ:
’’جب میں اپنے مومن بندے کا محبوب قبض کر لیتا ہوں اور وہ صبر کرے تو اس کا بدلہ صرف جنت ہے۔‘‘

یہ تمام احادیث اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ پیاروں کی جدائی پر صبر کرنا ایمان کا اعلیٰ ترین مظہر ہے اور ایسے صابرین کیلئے جنت یقینی ہے۔

جسمانی تکالیف اور بیماریوں پر صبر

آزمائشوں میں سے ایک بڑی آزمائش جسمانی بیماری اور تکلیف ہے۔ مومن بندے کو ایسی حالت میں گھبراہٹ، شکوہ شکایت اور ناامیدی کے بجائے صبر، توکل اور دعا کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔

حضرت ایوب علیہ السلام کی پوری زندگی اس صبر کی روشن مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾
الأنبیاء 21:83

ترجمہ:
’’اور ایوب (علیہ السلام) کو یاد کیجئے جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف پہنچ گئی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور فرمایا:

﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِنْ ضُرٍّ﴾
الأنبیاء 21:84

ترجمہ:
’’تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور جو تکلیف اسے لاحق تھی اسے دور کر دیا۔‘‘

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بیماری میں دعا کرنا صبر کے خلاف نہیں بلکہ صبر کے ساتھ دعا کرنا ہی انبیاء کا طریقہ ہے۔

بیماری گناہوں کا کفارہ ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا كَفَّرَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سَيِّئَاتِهِ))
صحیح البخاری: 5648 | صحیح مسلم: 2571

ترجمہ:
’’مسلمان کو کانٹا چبھنے جیسی معمولی تکلیف بھی پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔‘‘

بینائی کی آزمائش پر صبر کا اجر

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((إِنَّ اللّٰهَ قَالَ: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ، عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ))
صحیح البخاری: 5653

ترجمہ:
’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں اپنے بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں (آنکھوں) کے ذریعے آزماتا ہوں اور وہ صبر کرتا ہے تو میں اس کے بدلے اسے جنت عطا کرتا ہوں۔‘‘

مرگی والی عورت اور صبر کی بشارت

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک سیاہ فام عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ مجھے مرگی کے دورے پڑتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:

((إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ، وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللّٰهَ أَنْ يُعَافِيَكِ))
صحیح البخاری: 5652 | صحیح مسلم: 2576

ترجمہ:
’’اگر تم چاہو تو صبر کرو اور تمہارے لئے جنت ہے، اور اگر چاہو تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا دے دے۔‘‘

اس خاتون نے صبر کو ترجیح دی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے پردے کی دعا فرمائی۔

لوگوں کی اذیتوں پر صبر

کبھی آزمائش لوگوں کی طرف سے آتی ہے:
❀ طعن و تشنیع
❀ جھوٹے الزامات
❀ زبان درازی
❀ کردار کشی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایسی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر آپ ﷺ نے ہمیشہ صبر کا راستہ اختیار کیا۔

اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:

﴿فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ﴾
طٰهٰ 20:130

ترجمہ:
’’آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے۔‘‘

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم پر اعتراض کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:

((يَرْحَمُ اللّٰهُ مُوسَىٰ، قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هٰذَا فَصَبَرَ))
صحیح البخاری: 3405 | صحیح مسلم: 1062

ترجمہ:
’’اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے، انہیں اس سے بھی زیادہ اذیت دی گئی مگر انہوں نے صبر کیا۔‘‘

لوگوں میں رہ کر صبر کرنے کا اجر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((اَلْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَىٰ أَذَاهُمْ أَعْظَمُ أَجْرًا))
سنن الترمذی: 2507 | سنن ابن ماجہ: 4032 (صححہ الالبانی)

ترجمہ:
’’وہ مومن جو لوگوں میں رہ کر ان کی اذیتوں پر صبر کرتا ہے، اس مومن سے زیادہ اجر والا ہے جو لوگوں سے الگ رہتا ہے اور صبر نہیں کرتا۔‘‘

حکمرانوں کے ظلم پر صبر

بعض آزمائشیں ظالم حکمرانوں کی طرف سے بھی آتی ہیں۔ ایسی حالت میں شریعت نے صبر کی تلقین کی ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((مَنْ رَأَىٰ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ))
صحیح مسلم: 1849

ترجمہ:
’’جو شخص اپنے حکمران سے کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو اس پر صبر کرے۔‘‘

بیٹیوں کی آزمائش پر صبر

بعض اوقات انسان کو بیٹیوں کی وجہ سے بھی آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مثلاً مناسب رشتوں کا نہ ملنا، مالی تنگی، یا معاشرتی دباؤ۔ اسلام نے ایسی تمام صورتوں میں والدین کو صبر، حسنِ سلوک اور اچھی تربیت کی تلقین کی ہے اور اس پر عظیم اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

((مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنَ الْبَنَاتِ فَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ))
سنن الترمذی: 1913 (صححہ الالبانی)

ترجمہ:
’’جس شخص کو بیٹیوں کے ذریعے آزمایا گیا اور اس نے ان پر صبر کیا تو وہ بیٹیاں اس کیلئے جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔‘‘

بیٹیوں کے ساتھ حسنِ سلوک

صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہے کہ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کو لے کر آئی، اس کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک کھجور دی، اس نے اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے دونوں بیٹیوں کو دے دیا اور خود کچھ نہ کھایا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی تو آپ نے فرمایا:

((مَنِ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ))
صحیح البخاری: 1418، 5995 | صحیح مسلم: 2629

ترجمہ:
’’جس شخص کو بیٹیوں کی وجہ سے آزمایا گیا اور اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ اس کیلئے جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔‘‘

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّىٰ تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ))
صحیح مسلم: 2631

ترجمہ:
’’جو شخص دو بچیوں کی پرورش کرے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں تو قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح ساتھ ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں۔‘‘

صبر کی شرائط

صبر کے حقیقی فوائد اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب اس میں چند بنیادی شرائط پائی جائیں:

➊ صبر صرف اللہ کی رضا کیلئے ہو

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ﴾
الرعد 13:22

ترجمہ:
’’اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی رضا کیلئے صبر کیا۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ﴾
المدثر 74:7

ترجمہ:
’’اور اپنے رب ہی کیلئے صبر کیجئے۔‘‘

➋ زبان سے شکوہ شکایت نہ کی جائے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((قَالَ اللّٰهُ: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِيَ الْمُؤْمِنَ فَلَمْ يَشْكُنِي إِلَىٰ عُوَّادِهِ أَطْلَقْتُهُ مِنْ إِسَارِي))
المستدرک للحاکم: 1/349 (صحیح علی شرط الشیخین)

ترجمہ:
’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں اپنے مومن بندے کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہوں اور وہ لوگوں کے سامنے میری شکایت نہیں کرتا تو میں اسے آزمائش کی قید سے آزاد کر دیتا ہوں۔‘‘

➌ ابتدائے مصیبت میں صبر کیا جائے

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَىٰ))
صحیح البخاری: 1283 | صحیح مسلم: 926

ترجمہ:
’’اصل صبر تو پہلی چوٹ کے وقت ہوتا ہے۔‘‘

دعا اور صبر کا باہمی تعلق

آزمائش میں دعا کرنا صبر کے منافی نہیں بلکہ عین صبر ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام نے ہمیشہ صبر کے ساتھ دعا کی۔

حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا:

﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللّٰهِ﴾
یوسف 12:86

ترجمہ:
’’میں اپنا شکوہ اور غم صرف اللہ ہی کے سامنے پیش کرتا ہوں۔‘‘

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا:

﴿لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾
الانبیاء 21:87

ترجمہ:
’’تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا۔‘‘

نتیجہ

ہر مسلمان مرد اور عورت کیلئے ضروری ہے کہ وہ زندگی کی ہر آزمائش میں صبر کو اپنا شعار بنائے، زبان کو شکوہ سے بچائے، دل کو اللہ کی رضا پر راضی رکھے اور عمل کے ذریعے ثابت کرے کہ وہ واقعی صابر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صبر کی تمام اقسام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب فرمائے۔ آمین

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے