صابئین کی حقیقت ─ قرآن، تاریخ اور مفسرین کی روشنی میں

مرتب کردہ: ابو عبدالعزیز محمد یوسف مدنی
مضمون کے اہم نکات

صابئین کا ذکر قرآن مجید میں کئی مقامات پر آیا ہے اور مفسرین و مؤرخین نے اس پر تفصیلی کلام کیا ہے۔ بعض تاریخی روایات انہیں قدیم عراقی اقوام سے جوڑتی ہیں جبکہ محدثین اور فقہاء نے ان کی حقیقت کے بارے میں مختلف اقوال ذکر کیے ہیں۔ اس مضمون کا مقصد صابئین کے اصل مذہب، ان کے فرقوں اور ان پر محدثین کی تحقیق کو واضح کرنا ہے۔

✦ قول و روایات کا ذکر

➊ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ صابئین کا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کلدانی قوم سے تھا۔
➋ عراق اور شام و یمن میں بھی یہ مذہب پھیلا رہا، لیکن بعد میں یہودیت اور عیسائیت کے زیرِ اثر کمزور ہوگیا۔
➌ پھر مجوسیت اور دیگر ادیان کے ساتھ مل کر عراق اور خلیج کے بعض علاقوں میں اس کے پیرو باقی رہے۔

📚 حوالہ جات: تاریخ ارض القرآن (2/193–208)، الرحیق المختوم (ص61)

✦ تحقیق و تجزیہ

▣ مفسرین کی آراء

ابن کثیر رحمہ اللہ:
صابئین نہ یہودی تھے، نہ نصرانی، نہ مجوسی اور نہ مشرک؛ بلکہ فطرت پر تھے، کسی خاص مذہب کے پابند نہ تھے۔ مشرکین صحابہ کو بھی "صابی” کہتے تھے کہ انہوں نے سب مذاہب ترک کر دیے۔

قرطبی رحمہ اللہ (تفسیر بقرہ 62):
ان کی حقیقت پر سلف کا اختلاف ہے:
① کچھ نے انہیں اہل کتاب مانا اور کہا کہ ان کا ذبیحہ اور عورتیں ہمارے لیے حلال ہیں۔
② بعض نے کہا کہ ان کا دین نصرانیوں سے ملتا جلتا تھا اور وہ نوح علیہ السلام کی پیروی کا دعویٰ کرتے تھے۔
③ کچھ نے کہا کہ یہ یہود و مجوس کا ملغوبہ مذہب تھا۔
④ بعض نے کہا کہ یہ فرشتوں کے پجاری تھے، نماز پڑھتے اور زبور کی تلاوت کرتے تھے۔

امام قرطبی کا خلاصہ: یہ لوگ بظاہر موحد تھے مگر نجوم و کواکب کے قائل، اس لیے علماء نے انہیں کافر کہا۔

▣ دیگر مآخذ

موسوعۃ میسرۃ:
صابئین کا ایک فرقہ آج بھی باقی ہے جو یحییٰ علیہ السلام کو نبی مانتا ہے، بہتے پانی میں بپتسمہ لیتا ہے اور ستاروں کی تقدیس کرتا ہے۔

ابن تیمیہ رحمہ اللہ:
صابئین دو قسم کے تھے:
① صابئہ حنفاء → وہ لوگ جو اصل تورات و انجیل پر چلتے تھے، تحریف سے پہلے۔
② صابئہ مشرکین → جو فرشتوں کی پوجا کرتے، زبور پڑھتے اور نماز ادا کرتے مگر کواکب کے معتقد تھے۔

ابن القیم رحمہ اللہ:
صابئین ایک بڑی امت تھی، ان میں مؤمن بھی تھے اور کافر بھی۔ قرآن نے انہیں یہود و نصاریٰ کے ساتھ ذکر کیا اور ان کے مؤمنین کے لیے اجر کا وعدہ کیا (البقرہ 62، المائدہ 69، الحج 17)۔

✦ صابئین کے فرقے

❶ کچھ اپنے آپ کو نوح علیہ السلام کے پیروکار کہتے تھے۔
❷ کچھ یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے متبع۔
❸ کچھ نے یہودیت و نصرانیت کی ملاوٹ سے مذہب بنایا۔
❹ کچھ نے یہودیت و مجوسیت کو ملا کر دین بنایا۔

✦ خلاصہ و نتیجہ

① صابئین کوئی ایک ہی مذہب نہیں تھے بلکہ ایک پرانی امت کے مختلف گروہ تھے۔
② ان میں سے کچھ موحد اور فطرت پر تھے، اور کچھ مشرکین و مجوسیوں کے مشابہ۔
③ قرآن میں انہیں یہود و نصاریٰ کے ساتھ ذکر کیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان میں مومنین بھی تھے۔
④ آج جو صابئین باقی ہیں (مندائیہ وغیرہ) وہ کواکب پرست اور بپتسمہ لینے والے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ اہل کتاب جیسا معاملہ نہیں کیا جائے گا۔

✅ نتیجتاً: صابئین ایک قدیم امت تھی جس کے اندر مؤمن اور کافر دونوں طرح کے لوگ تھے۔ لیکن موجودہ صابئین کافر ہیں اور ان کے ساتھ اہل کتاب جیسا حکم لاگو نہیں ہوتا۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️