شیو کی کمائی کا حکم

تحریر: عمران ایوب لاہوری

شیو کی کمائی کا حکم
شیو کی کمائی حرام ہے کیونکہ اللہ اور اس کے رسول نے جن اعمال کو حرام قرار دیا ہے ان کی اجرت کو بھی حرام کیا ہے۔
➊ جب یہ آیت نازل ہوئی:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ [المائدة: 90]
تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور فحرم التجارة فى الخمر ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمر ( (شراب)) کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا ۔ “
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 2727 ، كتاب الأشربة: باب التجارة فى الخمر ، ابن ماجة: 3382]
➋ ایک روایت میں ہے کہ :
لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم فى الخمر عشرة عاصرها ومعتصرها وشاربها وحاملها والمحمولة إليها وساقيها وبائعها والمشترى لها والمشترى له
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے متعلق دس افراد پر لعنت کی ہے:
اسے نچوڑنے والا ، اسے نچڑ وانے والا ، اسے پینے والا ، اسے اُٹھانے والا ، جس کی طرف اُٹھا کر لے جائی جا رہی ہے ، اسے پلانے والا ، اسے فروخت کرنے والا ، اسے خریدنے والا اور جس کے لیے خریدی جارہی ہے۔“
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 2726 ، كتاب الأشربة: باب لعنة الخمر على عشرة أوجه ، ابن ماجة: 3381 ، ترمذي: 1295 ، أحمد: 71/2]
اسی طرح داڑھی مونڈنے والے کو دکان کرایہ پر دینا وغیرہ حرام کام میں تعاون کی وجہ سے ناجائز ہے۔ قرآن میں ہے:
وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ [المائدة: 2]
”اور گناہ اور سرکشی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون مت کرو۔ “

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️