شیخ زبیر علی زئی: چار دن قربانی والی روایت ضعیف ہے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب قربانی کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

قربانی کے تین دن ہیں

سوال :
محترم حافظ صاحب میری اللہ سے دعا ہے کہ اللہ آپ کو صحت و عافیت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے اور اللہ آپ کے رسالے ”الحدیث“ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ محترم الشیخ الحدیث کا ہر شمارہ علم و تحقیق کا شاہکار اور تحقیقی مضامین کا گہوارہ ہوتا ہے۔ محترم الشیخ آپ نے رسالے کی قیمت سالانہ 200 روپے رکھی ہے اگر یہ ایک رسالہ مجھے 200 روپے کا بھی ملے تو میں یہ رسالہ لینے کے لئے تیار ہوں۔ اللہ آپ کی اس محنت کو قبول فرمائے (آمین) مگر افسوس! اتنا تحقیقی رسالہ ہمارے اہل حدیث بھائیوں تک نہیں پہنچتا اور وہ قرآن و حدیث پر مبنی اس رسالے سے ناواقف ہیں۔ اہل حدیث بھائیوں کے علاوہ پاکستان کے تمام اہل حدیث علماء کے پاس بھی یہ رسالہ نہیں پہنچ رہا صرف چند ایک علماء کے پاس یہ رسالہ پہنچتا ہے۔ میری آپ سے اور تمام اہلِ حدیث بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس رسالے کو اکثر اہل حدیث علماء تک پہنچائیں اور اہل حدیث طلباء جو مدارس میں پڑھ رہے ہیں وہاں بھی یہ رسالہ پہنچنا چاہئے تاکہ نوجوان نسل میں علم و تحقیق کی لہر دوڑے اور وہ اس رسالے کو پڑھ کر تحقیق کی طرف آئیں اور وہ اسماء الرجال کا علم حاصل کریں اور وہ مسلک اہل حدیث کی خوب خدمت کر سکیں۔
محترم الشیخ صاحب! میرے اس خط اور میرے مندرجہ ذیل سوال کو ماہنامہ الحدیث میں شائع کریں۔ اس ضروری تمہید کے بعد آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا چوتھے دن قربانی کرنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟ میں نے بعض علماء سے سنا ہے کہ چوتھے دن قربانی کرنے والی جو احادیث ہیں وہ ضعیف ہیں اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ قربانی تین دن ہے۔ اس سلسلے میں ہفت روزہ اہل حدیث میں فضیلۃ الشیخ عبد الستار حماد اللہ نے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ قربانی چار دن ہے ان کے دلائل درج ذیل ہیں:
فضیلۃ الشیخ نے لکھا ہے کہ ”قربانی، عید کے بعد تین دن تک کی جا سکتی ہے۔ عید دسویں (10) ذوالحجہ کو ہوتی ہے، اس کے بعد تین دنوں کو ایام تشریق کہتے ہیں۔ ایام تشریق کو ذبح کے دن قرار دیا گیا ہے چنانچہ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمام ایام تشریق ذبح کے دن ہیں“ (مسند امام احمد ص 82 ج 4) اگرچہ اس روایت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ منقطع ہے لیکن امام ابن حبان اور امام بیہقی نے اسے موصول بیان کیا ہے اور علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ (صحیح الجامع الصغیر: 4537)
بعض فقہاء نے عید کے بعد صرف دو دن تک قربانی کی اجازت دی ہے ان کی دلیل درج ذیل امر ہے:
قربانی یوم الاضحی کے بعد دو دن تک ہے (بیہقی ص 297 ج 9) لیکن یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرفوع حدیث کے مقابلہ میں پیش نہیں کیا جا سکتا لہذا قابل حجت نہیں۔ علامہ شوکانی نے اس کے متعلق پانچ مذاہب ذکر کئے ہیں پھر اپنا فیصلہ بایں الفاظ لکھا ہے: ”تمام ایام تشریق ذبح کے دن ہیں اور وہ یوم النحر کے بعد تین دن ہیں۔“ (نیل الاوطار ص 125 ج 5)
واضح رہے پہلے دن قربانی کرنا زیادہ فضیلت کا باعث ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی پر عمل پیرا رہے ہیں لہذا بلا وجہ قربانی دیر سے نہ کی جائے اگرچہ بعض حضرات کا خیال ہے کہ غرباء مساکین کو فائدہ پہنچانے کیلئے تاخیر کرنا افضل ہے لیکن یہ محض ایک خیال ہے جس کی کوئی منقول دلیل نہیں ہے۔ نیز اگر کسی نے تیرہ (13) ذوالحجہ کو قربانی کرنا ہو تو غروب آفتاب سے پہلے پہلے قربانی کر دے کیونکہ غروب آفتاب کے بعد اگلا دن شروع ہو جاتا ہے۔“
(ہفت روزہ اہل حدیث جلد 738 تا 13 ربیع الثانی 1438ھ 27 اپریل تا 3 مئی 2007ء)
یہ وہ دلائل ہیں جن کو حافظ عبد الستار حماد اللہ نے بیان کیا ہے۔ محترم الشیخ صاحب مندرجہ بالا دلائل اور ان کے علاوہ چوتھے دن قربانی کے جتنے دلائل ہیں ان کو بیان کریں اور ان کی اسنادی حیثیت کو واضح کریں اور اس مسئلہ قربانی کے بارے میں صحیح ترین تحقیق بیان فرمائیں، اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین) اس سوال کو الحدیث میں شائع کریں اور اس کا جواب تحریر فرما کر جوابی لفافے میں بھی ارسال فرمائیں۔
خرم ارشاد محمدی۔ دولت نگر ، گجرات 29/اپریل 2007ء
الجواب (از شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ) :
مسند احمد (1675 82/4) والی روایت واقعی منقطع ہے۔
سلیمان بن موسیٰ نے سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ امام بیہقی نے اس روایت کے بارے میں فرمایا: مرسل یعنی منقطع ہے۔“ (السنن الکبریٰ ج 5 ص 239، ج 9 ص 295)
امام ترمذی کی طرف منسوب کتاب العلل میں امام بخاری سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
سليمان لم يدرك أحدا من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم
سلیمان (بن موسیٰ) نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کو بھی نہیں پایا۔“
(العلل الکبیر 1313، ملاحظہ: مقالات 1234/6)
اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ کسی صحیح دلیل سے یہ ثابت نہیں ہے کہ سلیمان بن موسیٰ نے سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ کو پایا ہے۔ آنے والی روایت (نمبر 2) سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ سلیمان بن موسیٰ نے سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نہیں سنی۔
نیز دیکھئے نصب الرایہ (673)

روایت نمبر 2:

صحیح ابن حبان (الاحسان: 3843، دوسرا نسخہ 3854) والکامل لابن عدی (1118/3، دوسرا نسخہ 260/4) والسنن الکبریٰ للبیہقی (295، 296/9) اور مسند البزار (کشف الاستار 27/2 1126) وغیرہ میں سلیمان بن موسیٰ عن عبد الرحمن بن أبی حسین عن جبیر بن مطعم کی سند سے مروی ہے کہ وفي كل أيام التشريق ذبح اور سارے ایام تشریق میں ذبح ہے۔ یہ روایت دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ حافظ البزار نے کہا: ”وابن أبى حسين لم يلق جبير بن مطعم“ اور (عبد الرحمن) ابن ابی حسین کی جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہوئی۔
(البحر الزخار 3443 364/8، نیز دیکھئے نصب الرایہ ج 3 ص 61 والتمہید نسخہ جدید 283/10)
➋ عبد الرحمن بن ابی حسین کی توثیق ابن حبان (الثقات 109/5) کے علاوہ کسی اور سے ثابت نہیں ہے لہذا یہ راوی مجہول الحال ہے۔

روایت نمبر 3:

طبرانی (المعجم الکبیر 138/2 ح 1583) بزار (البحر الزخار 363/8 ح 3443) بیہقی (السنن الکبریٰ 239/5، 292/9) اور دار قطنی (السنن 284/4 ح 4711) وغیرہم نے سوید بن عبد العزیز عن سعید بن عبد العزیز التنوخی عن سلیمان بن موسیٰ عن نافع بن جبیر بن مطعم عن أبيه کی سند سے مرفوعاً نقل کیا کہ أيام التشريق كلها ذبح تمام ایام تشریق میں ذبح ہے۔
اس روایت کا بنیادی راوی سوید بن عبد العزیز ضعیف ہے۔ (دیکھئے تقریب التهذیب: 2692) حافظ ہیثمی نے کہا: ”وضعفه جمهور الأئمة“ اور اسے جمہور اماموں نے ضعیف کہا ہے۔ (مجمع الزوائد 147/3)

روایت نمبر 4:

ایک روایت میں آیا ہے کہ عن سليمان بن موسيٰ أن عمرو بن دينار حدثه عن جبير بن مطعم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: كل أيام التشريق ذبح
(سنن الدار قطنی 4713 284/4، والسنن الکبریٰ للبیہقی 296/9)
یہ روایت دو وجہ سے مردود ہے:
➊ اس کا راوی احمد بن عیسیٰ الخشاب سخت مجروح ہے۔ دیکھئے لسان المیزان (ج 1 ص 240-241)
عمرو بن دینار کی جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔ دیکھئے الموسوعۃ الحدیثیۃ (ج 27 ص 317)
تنبیہ: ایک روایت میں الوليد بن مسلم عن حفص بن غيلان عن سليمان بن موسيٰ عن محمد بن المنكدر عن جبير بن مطعم كي سند سے آيا هے كه عرفات موقف وادفعوا من عرفة والمزدلفة موقف وادفعوا عن محسر
(مسند الشامیین 389/2 ح 1556، ونصب الرایہ 61/3 مختصر)
اس روایت کی سند ولید بن مسلم کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے اور اس میں ایام تشریق میں ذبح کا بھی ذکر نہیں ہے۔

خلاصہ تحقیق:

ایام تشریق میں ذبح والی روایت اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف ہے لہذا اسے صحیح یا حسن قرار دینا غلط ہے۔

آثار صحابہ:

روایت مرفوعہ کے ضعیف ہونے کے بعد آثار صحابہ کی تحقیق درج ذیل ہے:
➊ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”الأضحى يومان بعد يوم الأضحى“ قربانی والے دن کے بعد (مزید) دو دن قربانی (ہوتی) ہے۔
(موطا امام مالک ج 2 ص 638 ح 1071، وسندہ صحیح، السنن الکبریٰ للبیہقی 297/9)
➋ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”النحر يومان بعد يوم النحر و أفضلها يوم النحر“ قربانی کے دن کے بعد دو دن قربانی ہے اور افضل قربانی نحر والے (پہلے) دن ہے۔
(احکام القرآن للطحاوی 205/2 ح 1571، وسندہ حسن)
➌ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”الأضحى يومان بعده“ قربانی والے (اول) دن کے بعد دو دن قربانی ہوتی ہے۔
(احکام القرآن للطحاوی 206/2 ح 1576، وسندہ حسن)
➍ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”النحر ثلاثة أيام“ قربانی کے تین دن ہیں۔ (احکام القرآن للطحاوی 205/2 ح 1569، وهو حسن)
تنبیہ: احکام القرآن میں ”حماد بن سلمة بن كهيل عن حجية عن علي“ ہے جبکہ صحیح ”حماد عن سلمة بن كهيل عن حجية عن علي“ ہے جیسا کہ کتب اسماء الرجال سے ظاہر ہے اور حماد سے مراد حماد بن سلمہ ہے۔ والحمد للہ
شرح معانی الآثار للطحاوی (178/4 ح 6231) میں ”عن حجية بن عدي“ ہے۔ عینی حنفی نے بھی نخب الافکار (545/12) بھی یہی نقل کیا ہے۔ [معاذ]
ان کے مقابلے میں چند آثار درج ذیل ہیں:
➊ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: عید الاضحی کے دن کے بعد تین دن قربانی ہے۔
(احکام القرآن للطحاوی 206/2 ح 1577، وسندہ صحیح، السنن الکبریٰ للبیہقی 297/9، وسندہ صحیح)
➋ عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: ایام تشریق کے آخر تک (قربانی ہے)
(احکام القرآن 206/2 ح 1578، وسندہ حسن، السنن الکبریٰ للبیہقی 296/9، وسندہ حسن)
➌ عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”الأضحى يوم النحر و ثلاثة أيام بعده“ قربانی عید کے دن اور اس کے بعد تین دن ہے۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی 297/9، وسندہ حسن)
امام شافعی اور عام اہل حدیث علماء کا یہی فتویٰ ہے کہ قربانی کے چار دن ہیں۔ بعض علماء اس سلسلے میں سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب روایت سے بھی استدلال کرتے ہیں لیکن یہ روایت ضعیف ہے جیسا کہ سابقہ صفحات پر تفصیلاً ثابت کر دیا گیا ہے۔
سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمان اپنی قربانیاں خریدتے پھر انہیں (کھلا کھلا کر) موٹا کرتے پھر عید الاضحی کے بعد آخری ذوالحجہ (تک) کو ذبح کرتے۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی 297، 298/9، وسندہ صحیح) [دیکھئے یہی کتاب حاشیہ ص 19]
ان سب آثار میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول راجح ہے کہ قربانی تین دن ہے۔ یعنی عید الاضحیٰ اور اس کے بعد والے دو دن۔
ابن حزم نے ابن ابی شیبہ سے نقل کیا ہے کہ:
نا زيد بن الحباب عن معاويه بن صالح: حدثني أبو مريم: سمعت أبا هريره يقول: ”الأضحى ثلاثة أيام“
یعنی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ قربانی تین دن ہے۔
(المحلی ج 2 ص 737 مسئلہ: 982)
اس روایت کی سند حسن ہے لیکن مصنف ابن ابی شیبہ (مطبوع) میں یہ روایت نہیں ملی۔ واللہ اعلم
فائدہ :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا میں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرمایا تھا، بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ یہ ممانعت اس کی دلیل ہے کہ قربانی تین دن ہے والا قول ہی راجح ہے۔
اس ساری تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحتاً اس باب میں کچھ بھی ثابت نہیں ہے اور آثار میں اختلاف ہے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور جمہور صحابہ کرام کا یہی قول ہے کہ قربانی کے تین دن (عید الاضحیٰ اور دو دن بعد) ہیں، ہماری تحقیق میں یہی رائج ہے اور امام مالک وغیرہ نے بھی اسے ہی ترجیح دی ہے۔ واللہ اعلم
(2/مئی 2007ء)
[الحدیث: 44]
[فتاويٰ علميه 175/2]