شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کی اہل بدعت کی تفاسیر پر تنقید

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

اہل بدعت کی تفاسیر کا کیا حکم ہے؟

جواب:

اہل بدعت کی تفاسیر کی بنیاد عقل، رائے اور نفسانی خواہش پر ہے، وہ قرآن کریم کی من چاہی اور من پسند تفاسیر کرتے ہیں، دوسرے لفظوں میں قرآن کریم کو خواہشات کا تختہ مشق بناتے ہیں، ان کی تفاسیر سلف صالحین، صحابہ، تابعین اور ائمہ اہل سنت سے منقول تفاسیر کے مخالف ہوتی ہیں، جو ان کے باطل ہونے کے لیے کافی ہے۔
❀ شیخ الإسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
تجد المعتزلة والمرجئة والرافضة وغيرهم من أهل البدع يفسرون القرآن برأيهم ومعقولهم وما تأولوه من اللغة، ولهذا تجدهم لا يعتمدون على أحاديث النبى صلى الله عليه وسلم والصحابة والتابعين وأئمة المسلمين، فلا يعتمدون لا على السنة ولا على إجماع السلفل وآثارهم، وإنما يعتمدون على العقل واللغة، وتجدهم لا يعتمدون على كتب التفسير المأثورة والحديث وآثار السلف، وإنما يعتمدون على كتب الأدب وكتب الكلام التى وضعتها رؤوسهم، وهذه طريقة الملحدة أيضا، إنما يأخذون ما فى كتب الفلسفة وكتب الأدب واللغة، وأما كتب القرآن والحديث والآثار فلا يلتفتون إليها.
آپ دیکھیں گے کہ اہل بدعت میں سے معتزلہ، مرجئہ اور روافض وغیرہ قرآن کی تفسیر اپنی رائے، عقل اور لغوی تاویل سے کرتے ہیں، اسی لیے آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ تفسیر میں احادیث نبویہ، آثار صحابہ، تابعین اور ائمہ مسلمین پر اعتماد نہیں کرتے، وہ نہ سنت پر اعتماد کرتے ہیں، نہ سلف کے اجماع اور آثار پر اعتماد کرتے ہیں۔ ان کا اعتماد صرف عقل اور لغت پر ہوتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ وہ تفسیر ماثور، حدیث اور آثار سلف پر مشتمل کتابوں کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے، وہ فقط عربی ادب اور علم کلام پر مبنی کتابوں پر اعتماد کرتے ہیں، جنہیں ان کے مذہبی راہنماؤں نے وضع کیا ہے۔ ملحدین کا طریقہ تفسیر بھی یہی ہے، ان کا اعتماد بھی فلسفہ، عربی ادب اور لغت کی کتابوں پر ہوتا ہے، وہ قرآن و حدیث اور آثار سلف پر مشتمل کتابوں کی طرف التفات نہیں کرتے۔
(الإيمان: 99)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️