شک کے دن (تیس شعبان) کے روزے کی ممانعت
❀ «عن صلة، قال:” كنا عند عمار رضى الله عنه فى اليوم الذى يشك فيه، فاتى بشاة فتنحى بعض القوم”، فقال عمار رضى الله عنه :” من صام هذا اليوم فقد عصى ابا القاسم صلى الله عليه وسلم. »
حضرت صلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شک کے دن (یعنی 30 شعبان کو) ہم حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، وہ ایک بکری لائے، تو بعض لوگ کنارے ہو گئے، تو حضرت عمار نے کہا: ”جس نے اس دن روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم (یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم) کی نافرمانی کی۔“ [سنن ابو داود 2334، سنن ترمذي 686، سنن نسائي 2188، سنن ابن ماجه 1645، صحيح]
نوٹ: شک کے دن سے مراد 30 شعبان ہے، جب کہ 29 تاریخ کو چاند نظر نہ آئے، اور اس میں شک ہو کہ کل شعبان کی 30 تاریخ ہے یا رمضان کی پہلی تاریخ۔
اکثر اہل علم نے شک کے دن کے روزے کو مکروہ قرار دیا ہے، اور اگر کوئی شک کے دن کا روزہ رکھ لے اور بعد میں وہ رمضان کا دن ثابت ہو جائے تو اس روزے کا کوئی اعتبار نہ ہوگا اور اس کے ذمے اس دن کے روزے کی قضا ہو گی۔ اور اگر کوئی کسی متعین دن کے روزے کا عادی ہو، اور شک کے دن یعنی 30 شعبان کو وہی دن آ جائے، تو ایسے شخص کے لیے اس دن کا روزہ مکروہ نہیں ہے۔