مضمون کے اہم نکات
سوال:
تیر اور گولی اور چھرا کا ایک ہی حکم ہے یا الگ الگ؟
جواب:
جو چیز نوکدار ہو وہ تیر کے حکم میں ہے جس طرح تیر چلاتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر پڑھ کر پرندے پر یا جانور پر چلایا جائے اگر وہ مر جائے تو وہ حلال ہے, اسی طرح جو بھی چیز نوک دار ہے اس کا حکم بھی یہی ہے۔ یعنی کلاشن کی گولی اور چھرا جو نوکدار ہو۔
دلیل ملاحظہ فرمائیں:
1= فَقَالَ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چیز بھی خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا ہوتو اسے کھاؤ
صحیح البخاری رقم الحدیث5498
2= أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ إِلَّا بِسِنٍّ أَوْ ظُفُرٍ
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جو چیز خون بہادے اور اللہ کا نام لیا گیا ہو تو(وہ ذبیحہ) کھا لے مگر دانت اور ناخن کا ذبح نہیں۔
نسائی رقم الحدیث 4408
سوال:
شکار پر بسم اللہ اللہ اکبر پڑھ کر کے تیر چلا جائے یا گولی چلایا جائے اسی تیر کی وجہ سے وہ مر جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب:
جس پرندے پر گولی یا تیر چلایا جائے بسم اللہ پڑھ کر کے وہ پرندہ اس تیر یا گولی کی وجہ سے مر جائے وہ پرندہ حلال ہے اس کو بلا شک و شبہ انسان کھا سکتا ہے۔
دلیل ملاحظہ فرمائیں:
قال عدي بن حاتم رضي الله عنه سألتُ رَسولَ اللهِ ﷺ عنِ الصَّيدِ، فقالَ: إذا رَمَيتَ بسَهمِكَ فاذكُرِ اسمَ اللهِ، فإنْ وَجَدتَه قد قُتِلَ فكُلْ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے متعلق سوال کیا اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تو تیر مارے بسم اللہ اللہ اکبر پڑھ کر تیر مار اگر تو اس کو ((پرندہ یا جانور)) پائے کہ وہ مر گیا ((اس تیر کی وجہ سے)) تو اس کو کھا لیں۔
صحيح مسلم (١٩٢٩) • [صحيح] • أخرجه الترمذي (١٤٦٩) والدارقطني (٤٧٩٩)
سوال:
جو پرندہ ہے جانور تیر یا گولی ((یعنی نوکدار چیز ))مارنے کے بعد پانی میں گر کر مر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
جو پرندہ یا جانور تیر یا گولی لگنے کے بعد پانی میں گر کر مر جائے اس کو کھانا منع ہے۔
دلیل ملاحظہ فرمائیں
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إِنْ وَقَعَ فِي الْمَاءِ فَلَا تَأْكُلْ»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ پانی میں گر جائے اس کو نہ کھا۔
نسائی4404
سوال:
جو پرندہ یا جانور گولی لگنے کے بعد پانی میں گر کر مر جائے اس کو کھانے سے منع کیوں کیا گیا ہے ؟
جواب:
جو پرندہ یا جانور تیر یا گولی لگنے کے بعد پانی میں گر کر مر جائے اس کو کھانے سے اس لیے منع کیا گیا ہے اس میں شک ہوتا ہے کہ یہ پانی کی وجہ سے مرا ہے یا تیر کی وجہ سے اس لیے اس کو کھانے سے منع کیا گیا ہے۔
حدیث ملاحظہ فرمائیں
1= قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ، وَلَا تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ أَوْ سَهْمُكَ»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو اس کو پائے کہ وہ پانی میں گر کر مر چکا ہے((تو اس کو نہ کھا)) کیونکہ تجھے پتہ نہیں اس کو پانی نے مارا ہے یا تیر نے۔
نسائی رقم الحدیث 4403
2= قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إنْ وجَدْتَهُ غَرِيقًا في الماءِ، فلا تَأْكُلْ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو اس کو پائے ڈوبا ہوا پانی میں ((مر جائے))تو اس کو نہ کھا۔
مسلم، صحيح مسلم (١٩٢٩) • [صحيح] • أخرجه البخاري (٥٤٨٤)، ومسلم (١٩٢٩). •
سوال:
حلال پرندے گندگی کھاتے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟
جواب
حلال پرندے جو گندگی کھاتے ہیں ان کے گوشت کھانے سے منع کیا گیا ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَهْمٍ حَدَّثَنَا عُمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَلَّالَةِ
سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے گندگی کھانے والے ((پرندے جانور کے گوشت)) کھانے سے منع فرمایا ہے۔
ابو داؤد رقم الحدیث 3787