مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

شوہر کے ظلم اور ناجائز کام پر مجبور کرنے پر عورت کا طلاق لینے کا حق

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 458

سوال

علماء دین سے یہ مسئلہ دریافت کیا گیا ہے کہ مسمات حاجو بنت دین محمد کا بیان ہے کہ میرا شوہر، محمد صدیق، مجھے زبردستی شراب پلاتا ہے اور برے کام کے لیے غیر مردوں کے پاس بھیجتا ہے۔ اگر میں انکار کرتی ہوں تو وہ مجھے سزا دے کر بھیجتا ہے۔ اب میں ان باتوں سے سخت بیزار ہوں اور نکاح ختم کروانا چاہتی ہوں۔ تو کیا شریعت کے مطابق عورت طلاق لے سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اگر شوہر بداخلاق اور اس قسم کے برے افعال میں مبتلا ہو تو عورت کو طلاق لینے کا حق حاصل ہے۔ جیسا کہ حدیث پاک میں ہے:

((عن سعيد بن المسيب رضى الله عنه فى الرجل لا يجد ما ينفق على إمرأته قال يفرق بينهما.))
بخاری: بحوالہ سنن سعيد بن منصور، جلد ٢، صفحه ٥٥

اسی طرح ایک دوسری حدیث میں فرمایا گیا ہے:

((لاضرر ولا ضرار.))
ابن ماجه، كتاب الأحكام، باب من بنى فى حقه ما يضر بجاره، رقم الحديث: ٢٣٤١

ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر شوہر نقصان پہنچانے والا ہو یا بیوی کو غیر شرعی کام پر مجبور کرتا ہو، تو ان دونوں صورتوں میں شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی۔

ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔