شوہر کی بیوی پر لعنت بھیجنے کا شرعی حکم قرآن و حدیث کی روشنی میں

یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

شوہر اگر بیوی پر قصداً لعنت بھیجے تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا اس کی لعنت کی وجہ سے بیوی اس کے لیے حرام ہو جائے گی، یا عورت کو طلاق ہو جائے گی؟ اور اس کا کفارہ کیا ہے؟

جواب:

شوہر کا بیوی پر لعنت بھیجنا ناجائز اور گناہ ہے، بلکہ کبیرہ گناہ ہے۔ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مومن پر لعنت بھیجنا اس کو قتل کرنے کے مانند ہے۔“
بخاري، كتاب الأدب، باب ما ينهى من السباب واللعن (6047)
اور دوسری حدیث میں فرمایا:
”مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر ہے۔“
مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان قول النبي صلى الله عليه وسلم سباب المسلم فسق وقاتله كفر (64)، بخاري (6044)
تیسری حدیث میں فرمایا:
”لعنت بھیجنے والے قیامت کے دن گواہ اور سفارشی نہیں ہوں گے۔“
مسلم، كتاب البِرِّ والصِّلَةِ، باب النهي عن لعن الدواب وغيرها (2598)
بیوی پر لعنت بھیجنے والے شخص پر واجب ہے کہ اس سے توبہ کرے اور بیوی سے معافی کی درخواست کرے اور جو شخص اللہ سے خالص توبہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا۔ لعنت کی وجہ سے بیوی اس کے لیے حرام نہیں ہوگی، بلکہ اس کی زوجیت میں باقی رہے گی، ایسے شخص پر واجب ہوتا ہے کہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے اور اپنی زبان کو ہر اس بات سے محفوظ رکھے جو اللہ کے غضب کا باعث ہو، بیوی پر بھی واجب ہے کہ شوہر کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور اپنی زبان کو ہر اس چیز سے محفوظ رکھے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے شوہر کے غصے کا سبب بن جائے، مگر حق بات زبان سے کہہ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾
(النساء: 19)
”اور عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“
اور دوسری جگہ فرمایا:
﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ﴾
(البقرة: 228)
”جس طرح عورتوں پر حقوق ہیں اسی طرح بھلائی کے ساتھ ان کے حقوق بھی ہیں اور مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فوقیت حاصل ہے۔“

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے