مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

شوہر خرچ نہ دے اور طلاق سے انکار کرے تو بیوی کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 457

سوال

علمائے دین سے یہ دریافت کیا گیا ہے کہ:
تقریباً چھ (6) ماہ کا عرصہ ہوا ہے کہ محمد بخش نے اپنی بیوی کو گھر سے نکال دیا ہے۔ نہ وہ خرچ دیتا ہے اور نہ ہی طلاق دے رہا ہے۔ بیوی طلاق اور خرچ دونوں کا مطالبہ کر رہی ہے کیونکہ اس کے چار چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، وہ خود بھی اس وقت حاملہ ہے اور حقِ مہر بھی لینا چاہتی ہے۔ اب گزارش یہ ہے کہ شریعت کی روشنی میں اس مسئلہ کا جو بھی حکم یا فیصلہ ہے، وہ بیان فرما دیا جائے۔

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

◄ شریعتِ مطہرہ کے مطابق بیوی کا خرچ شوہر پر واجب ہے۔
◄ اگر شوہر ظلم کرے اور خرچ نہ دے تو عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شوہر سے طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے۔
◄ اگر عورت حاملہ ہو تب بھی اس پر طلاق واقع ہو سکتی ہے۔
◄ کم سن (صغیر) بچے اپنی ماں کے پاس ہی رہیں گے جب تک وہ بالغ نہ ہو جائیں۔
◄ بچوں کا خرچ باپ کے ذمے ہوگا۔
◄ حق مہر عورت اسی وقت وصول کر سکتی ہے جب شوہر طلاق دے۔
◄ لیکن اگر عورت خلع کے ذریعے علیحدگی لے تو اس صورت میں وہ مہر واپس نہیں لے سکتی۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔