مضمون کے اہم نکات
فصل اول:
شوال کے چھ روزوں کی فضیلت یہ ہے کہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد یہ روزے رکھ لئے جائیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ ایسے ہے کہ جیسے اس نے پورا سال روزے رکھے۔ اس حوالے سے رسول اللہ ﷺ کی احادیث ملاحظہ فرمائیں:
پہلی حدیث: حدیث ابی ایوب رضی اللہ عنہ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
[من صام رمضان و اتبعه ستا من شوال كان كصيام الدهر]
ترجمہ: جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ (اجرمیں) ایسا ہے جیسے پورے سال کے روزے ہوں ۔
تخريج الحديث:
یہ روایت مندرجہ ذیل کتب میں موجود ہے۔
[صحيح مسلم: 1164، کتاب الصيام، باب استحباب صوم ستة أيام من شوال إتباعا لرمضان سنن ابی داؤد: 2433، کتاب الصوم، باب في صوم ستة أيام من شوال، جامع ترمذی: 759، کتاب الصوم، باب ما جاء في صيام ستة أيام من شوال، سنن ابن ماجة: 1716، كتاب الصيام، باب صيام ستة أيام من شوال، سنن الدارمي: 1754، مسند احمد: 417/5 419، صحيح ابن خزيمة: 1967، صحیح ابن حبان: 3634، سنن الكبرى: 292/4، مسند ابی داؤد طیالسی: 595، مسند حمیدی:384،385 ، مصنف عبدالرزاق: 7921، مصنف ابن ابي شيبة: 9811، شرح السنة: 1780]
یہ روایت صحیح ہے ۔ جیسا کہ درج ذیل علماء نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے اسے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔ لہٰذا امام مسلم رحمہ اللہ کے اپنے نزدیک یہ روایت صحیح ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی کتاب کو امت کی تلقی بالقبول بھی حاصل ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث کو درج کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
[وفي الباب عن جابر وأبي هريرة وثوبان حديث أبي أيوب حديث حسن صحيح و قد استحب قوم صيام ستة أيام من شوال بهذا الحديث]
یعنی: اس مسئلے کے بارے میں جابر، ابو ہریرہ اور ثوبان سے روایات مروی ہیں، اور ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی حدیث (مذکورہ حدیث) حسن صحیح ہے ۔ اور ایک قوم نے اسی روایت کی وجہ سے شوال کے چھ روزوں کو مستحب قرار دیا ہے ۔
[جامع ترمذی: 3/124،( 759)]
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ اسے اپنی صحیح میں لائے ہیں یعنی ان کے ہاں یہ روایت صحیح ہے۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ بھی اسے اپنی صحیح میں لائے ہیں، یعنی ان کے ہاں بھی یہ روایت صحیح ہے۔
حافظ بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : [هذا حدیث صحيح، أخرجه مسلم] یعنی یہ حدیث صحیح ہے، اسے امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے ۔
[دیکھئے: شرح السنة للبغوي:6/331]
امام ابن القیم رحمہ اللہ مذکورہ روایت میں بعض علل پر گفتگو کرنے کے بعد، متابعات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : [فالحدیث صحیح] یعنی یہ حدیث صحیح ہے ۔
[تهذيب السنن مع عون المعبود: 7/62]
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
[ارواء الغليل: 950، صحیح ابوداؤد: 2102 وغيره]
استاد محترم حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے علم کے مطابق کسی امام سے اس روایت کو ضعیف قرار دینا ثابت نہیں ہے ۔
[مقالات:2/322]
دوسری حدیث: حدیث ثوبان رضي اللہ عنہ
سید نا ثوبان رضي اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[من صام ستة ايام بعد الفطر كان تمام السنة من جاء بالحسنة فله عشر امثالها]
ترجمہ: جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے اس کے لئے اجر میں پورے سال کے روزے ہیں۔ جو کوئی نیکی کرتا ہے اسے اس کا اجر دس گنا ملے گا۔
تخريج الحديث:
یہ روایت مندرجہ ذیل کتب میں موجود ہے ۔
[سنن ابن ماجة: 1715، كتاب الصيام، باب صيام ستة أيام من شوال، سنن الدارمي: 1762 صحيح ابن خزيمة: 2115، مسند احمد: 280/5، صحيح ابن حبان: 3635، مسند بزار: 4178، السنن الكبرى للنسائي: 2874 ، المعجم الكبير: 1451، المعجم الاوسط: 7607 شعب الایمان: 3461,3460، شرح مشكل الآثار: 2349]
یہ روایت بھی سندا صحیح ہے۔ درج ذیل علماء نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ اسے اپنی صحیح میں لائے ہیں لہذا ان کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ اسے اپنی صحیح میں لائے ہیں، لہذا ان کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے۔
امام سندی رحمہ اللہ نے شرح سنن ابن ماجہ میں اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
[دیکھئے:شرح سنن ابن ماجة]
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ۔
[دیکھئے: ارواء الغلیل:4/107، تحقیق سنن ابن ماجه: 299]
علامہ شعیب الارناؤوط نے اس روایت کو صحیح قرار دیا۔
[دیکھئے: تحقیق شرح السنة: 331/6، تحقيق مسند احمد وغيره]
تیسری حدیث: حدیث جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[من صام رمضان وستة ايام من شوال فكانما صام السنة كلها]
ترجمہ: جس نے رمضان کے روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے گویا کہ اس نے پورے سال کے روزے رکھے ۔
تخريج الحديث:
یہ روایت مندرجہ ذیل کتب میں موجود ہے۔
[مسند احمد: 319,308/3، السنن الكبرى للبيهقي: 292/4، المعجم الاوسط:8979،4642,3192، شعب الایمان:3459، شرح مشکل الآثار:2350]
شیخ شعیب الارناؤوط نے مسند احمد کی تحقیق میں عمرو بن جابر الخصرمی کی سند والی روایت کو صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔ کیونکہ عمرو بن جابر کی متابعت سعید بن ابی ایوب سے ملتی ہے۔
چوتھی حدیث: حدیث ابن عباس و جابر رضی اللہ عنہما
سید نا ابن عباس اور جابر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[من صام رمضان فأتبعه ستا من شوال صام السنة كلها]
ترجمہ: جس نے رمضان کے روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے گویا کہ اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔
تخريج الحديث:
[یہ روایت المعجم الاوسط (4642)میں ہے۔]
تنبیہ: مفتی صاحب نے اس روایت کے بارے میں لکھا: ابن عباس اور جابر کی روایت میں یحیی بن سعید المازنی متروک ہے۔
بہر حال اس راوی کے متروک ہونے کی وجہ سے اس روایت کو ضعیف ماننے سے ہمیں بھی کوئی تعرض نہیں لیکن گزشتہ تین صحیح احادیث ہی کا معنی اس میں موجود ہے اور ثانیاً مفتی صاحب فضائل میں ضعیف روایات کو رد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، تفصیل آجائے گی۔
پانچویں حدیث: حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[من صام رمضان و اتبعه بست من شوال فذلك صيام الدهر]
ترجمہ: جس نے رمضان کے روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے، گویا کہ اس نے پورے زمانے کے روزے رکھے ۔
تخريج الحديث:
[المعجم الاوسط:7607، مستخرج أبي عوانة:2702]
تنبیہ: اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں: ،،و فيه من لم يعرفه،، کا کلام موجود ہے ۔
چھٹی حدیث: حدیث براء بن عازب رضی اللہ عنہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
[من صام ستة ايام بعد الفطر فكانما صام الدهر كله]
ترجمہ: جس نے عید الفطر کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے گویا کہ اس نے پورے زمانے کے روزے رکھے۔
تخريج الحديث:
[المجالس العشرة الامالي للحسن الخلال 67 الشاملة ، ذيل تاريخ بغداد لابن النجار: 29/1 طبعة مكتبة الأيمان المدينة المنورة ترجمه: عبد الملك بن حبيب، أبو القاسم البزاز الحنبلي]
ساتویں حدیث: غنام رضی اللہ عنہ
سیدنا غنام رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[من صام ستا بعد يوم الفطر فكانما صام الدهر او قال السنة]
ترجمہ: جس نے عید الفطر کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے گویا کہ اس نے پورے زمانے کے روزے رکھے۔ یا فرمایا: سال کے روزے رکھے ۔
تخريج الحديث:
یہ روایت مندرجہ ذیل کتب میں موجود ہے۔
[معرفة الصحابة لا بي نعيم: 5641/4،دار الوطن، تاريخ كبير: 206/5، علامه ہیثمی رحمہ اللہ نے اسے معجم الکبیر کے حوالے سے نقل کیا ہے، لیکن معجم میں مجھے یہ روایت نہ مل سکی، اور انہوں نے عبد الرحمان کے بارے میں کہا کہ،، لم اعرف،، (مجمع الزوائد:5104) تاریخ دمشق: 46/330 ترجمه نمبر:5253 ، طبع دارا الاحياء التراث العربي، علامه ابن الاثير الجزری رحمه الله اس روایت کو عنان کے ترجمے میں لائے ہیں۔ (اسد الغابة) لیکن حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے اسے تصحیف قرار دیا اور صحیح ،،غنام،، قرار دیا دیکھئے: الاصابة:6892] اور پھر غنام والد عبد الرحمن کے ترجمے میں یہ روایت ذکر کی۔[الاصابة:6918]
آٹھویں حدیث: مرسل طاؤس رحمہ اللہ
سیدنا طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[من صام رمضان و اتبعه بستة ايام من شوال كتب له صيام سنة]
ترجمہ: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے اس کے نامہ اعمال میں پورے سال کے روزے لکھ دئیے جاتے ہیں ۔
تخريج الحديث:
[مصنف عبد الرزاق:7920، كتاب الصيام، باب صوم ستة التي بعد رمضان ]
احناف کے یہاں مرسل روایت حجت ہوتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
امام سرخسی الحنفی فرماتے ہیں کہ
[فاما مراسيل القرن الثاني والثالث حجة في قول علمائنا رحمهم الله]
دوسرے اور تیسرے قرن کی مرسل روایت ہمارے علماء کے قول کے مطابق حجت اوردلیل ہے۔
[الاصول للسرخسي، باب الكلام في قبول اخبار الآحاد والعمل بها، فصل في بيان وجوه الانقطاع،1/370]
مولانا ظفر علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں: اور ہمارے نزدیک مرسل روایت حجت ہے۔
[اعلاء السنن 82/1، بحث المرسل]
ابو عبد الله الزرکشی نے البحر المحیط میں مرسل کے حوالے سے 18 موقف بیان کئے اور دوسرا موقف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
[قبوله من العدل مطلقا، وهو مذهب مالک و ابی حنیفة]
عادل راوی کی مرسل روایت کو مطلق طور پر قبول کرنا، یہ موقف ہے، امام مالک اور امام ابو حنیفہ کا۔
[البحر المحيط: 410/4]
اور ابن الہمام نے فتح القدیر میں کئی جگہ مرسل کی حجیت کا ذ کر کیا اور کئی ایک مرسل روایات کو بیان کر کے اس کی حجیت کا اثبات بھی کیا۔
اصول حدیث میں لکھی گئی کئی ایک کتب میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ احناف کے یہاں مرسل حجت ہے۔ مثلا دیکھئے: حافظ ابن کثیر کی اختصار علوم الحديث مع الباعث الحثيث: 48، علامه سخاوی کی فتح المغیث: 246/1، امام نووی کی التقریب اور فقہ کی کتاب المجموع شرح المهذب میں یہ بیان کیا۔
مزید اس حوالے سے امام ابن حزم رحمہ اللہ نے المحلی میں کئی ایک مقامات پر حنفیہ کے اس اصول کو بیان کیا، اور اس کی تردید کی۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ نے نقل کیا کہ احناف کے یہاں مرسل سند (متصل) کی طرح ہے ۔ اور کئی ایک مقامات پر تعجب کا اظہار بھی کیا کہ وہ اپنے اس اصول پر قائم بھی نظر نہیں آتے۔
[دیکھئے: المحلى بالآثار: (كتاب الزكاة 208/5)، (زكاة الفطر: 137/6)، (قسم الصدقة، 154/6)، (كتاب الصيام، مسئلة:737، 190/6)، (كتاب الحج، مسئلة7/813،48)، (الوعد رقم المسئلة: 1125، 29/8)، (كتاب الاستحقاق والغصب والجنايات على الأموال:رقم المسئلة (1265، 146/8) (كتاب البيوع: مسئلة: 1507، 517/8)، (كتاب الكتابة: مسألة: 1688، 228/9)، (العدد [مسألة:10،2006/305)، (كتاب الدماء، باب۔۔ الجراح و اقسامها، مسئلة:2090(514/10]
بلکہ بعض حنفیہ سے تو مرسل کا متصل روایت سے زیادہ اقوی ہونا منقول ہے، جیسا کہ بزدوی لکھتے ہیں: هو فوق المسند
[اصول بزدوى مع كشف الاسرار: 4/3]
صاحب شرح التلویح لکھتے ہیں: عندنا ما يقبل بل يقدم على المسند
(شرح التلويح على التوضيح)
بعض مقامات پر امام ابن حزم رحمہ اللہ نے حنفیہ سے مرسل کا مسند (متصل روایت) سے اقوی ہونا نقل کیا ہے۔
دیکھئے:( المحلى: صلاة الجمعة: مسئلة:,527 58/5) ,(كتاب الجهاد [ مسئلة: 348/7,960) (كتاب البيوع: مسئلة:1415، 348/8), (كتاب الشفعة: مسئلة: 1594, 87/9)
اور کئی ایک جگہ اپنے اس اصول پر قائم نظر نہ آتے ہوئے تعجب کا اظہار بھی کیا۔
جو تعجب بیسیوں مسائل میں ابن حزم رحمہ اللہ کو ہے، یہی تعجب ہمیں بھی ہے کہ ایک طرف ضعیف و مرسل روایات بھی قابل قبول !! اور دوسری طرف صحیح مسلم کی روایت بھی قابل تنقید اور قابل رد؟؟ فيا للعجب
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہم نے اس باب میں موجود آٹھ احادیث کو ذکر کیا ہے۔ جو کہ فضیلت والے اس عمل کی اہمیت اور مہتم بالشان ہونے کو واضح کر دیتی ہیں۔ اس حوالے سے بعض اہل علم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی روایت کا بھی اشارہ کیا ہے، جیسا کہ امام شوکانی رحمہ اللہ اور بعض شارحین نے اس روایت کی نسبت امام طبرانی رحمہ اللہ کی طرف کی ہے۔ اسی طرح اس باب میں بعض نے کہا ہے کہ انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مروی ہے۔ ان بکثرت روایات کی موجودگی میں انکار فضیلت تقلیدی جمود کی بین دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ اس جمود سے ہمیں محفوظ رکھے اور خالص قرآن و سنت پر عمل کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین
فصل ثانی:
اعتراضات و شبہات اور ان کا جائزہ
مفتی زرولی صاحب نے اپنے کتا بچے بنام ،،احسن المقال في كراهية ستة شوال،، میں چند اعتراضات و شبہات وارد کئے ہیں جو سراسر دھوکہ دہی پرمشتمل ہیں، ان کا جواب پیش خدمت ہے۔
اعتراض:
موصوف نے حدیث ابی ایوب رضي اللہ عنہ پر کچھ اعتراض کئے ہیں، جن میں سے پہلا اعتراض یہ ہے کہ اس کی سند میں سعد بن سعید متکلم فیہ اور ضعیف ہے۔
(احسن المقال: 26)
جواب:
اولاً: سعد بن سعید جمہور کے نزدیک ثقہ ہیں۔
[دیکھئے حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کا مضمون (مقالات3/324,325:)]
ثانیاً: ان کے بارے میں مدار الحدیث ہونے کا دعوی غلط ہے۔ کیونکہ تین ثقہ راویوں سے ان کی متابعت ثابت ہے۔
جن کے نام یہ ہیں:
①صفوان بن سلیم،
(مسند حمیدی: 380)
②زید بن اسلم،
(شرح مشكل الآثار: 2343 باب بیان مشكل ما روي عن رسول الله صلي الله عليه وسلم من قوله من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال فكأنما صام السنة)
③یحیی بن سعید بن قیس،
(مسند حمیدی: 382)
ثالثا: امام مسلم، ابن حبان، ابن خزیمہ، امام ترمذی رحمہم اللہ اور دیگر سے اس روایت کو صحیح قرار دینا ثابت ہے۔
اعتراض:
مفتی صاحب لکھتے ہیں : امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی مدار الحدیث سعد بن سعید پر کلام کیا ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو۔
(وسعد ابن سعيد هو اخو يحيى بن سعيد الانصاری، و قد تكلم بعض اهل الحديث في سعد بن سعيد من قبل حفظه)
(احسن المقال: 27)
جواب:
اولاً: امام ترمذی رحمہ اللہ نے ہی اس روایت کو حن صحیح کہا ہے جو کہ اکثر نسخوں میں ہے۔ اور امام ترمذی رحمہ اللہ کا حسن کہنا آپ کو بھی مسلم ہے۔ جس کا واضح معنی یہ ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ کے پیش نظر دیگر طرق بھی ہیں جن کی طرف او پر اشارہ کر دیا گیا ہے۔
ثانیاً: اس روایت کا مدار السند سعد بن سعید کو کہنا قطعاً صحیح نہیں۔ کیونکہ ان کی مزید تین ثقہ راویوں نے متابعت کر رکھی ہے ۔ (جیسا کے گزر چکا ہے)
اعتراض:
موصوف ،،شرح مشکل الآثار،، کے حوالے سے لکھتے ہیں: ابو جعفر الطحاوی رحمہ اللہ نے سعد بن سعید کی وجہ سے صحت حدیث کا انکار کیا ہے اور فرمایا کہ محدثین بھی اس کی وجہ سے اس حدیث سے اعراض کر چکے ہیں ۔
(احسن المقال: 27)
جواب:
مفتی صاحب نے یہاں بڑی بد دیانتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اور امام طحاوی کے پورے کلام کو نقل نہیں کیا، آئیے پہلے امام طحاوی کا کلام ملاحظہ فرمائیں:
[قال أبو جعفر: فكان هذا الحديث مما لم يكن بالقوي في قلوبنا لما سعد بن سعيد عليه في الرواية عند أهل الحديث, ومن رغبتهم عنه، حتى وجدناه قد أخذه عنه من قد ذكرنا أخذه إياه عنه من أهل الجلالة في الرواية والثبت فيها، فذكرنا حديثه لذلك]
یہ روایت ہمارے نزدیک قوی نہیں تھی کیونکہ اس میں سعد بن سعید ہے جس سے محدثین نے اعراض کیا ہے حتی کہ ہم نے ایسے لوگ جو اہل روایت اور ثبت ہیں انہوں نے اس سے اس روایت کو لیا ہے۔ پس اسی لئے ہم نے اس کی حدیث کو ذکر کیا ہے۔
اب اس عبارت میں دیکھیں کہ امام طحاوی تو یہ کہ رہے ہیں کہ محد ثین کے اعراض کی وجہ سے ہم اس روایت کو قابل قبول نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن بعد میں بڑے مرتبت والے روایت لینے والے مل گئے۔ اب عبارت کے ایک ٹکڑے کو لینا اور ایک کو چھوڑ کر کہنا کہ امام طحاوی نے کہا کہ محدثین نے اعراض کیا ہے، یہ تو بالکل اسی طرح ہے جس طرح کوئی کہے کہ قرآن میں ہے کہ نماز کے قریب نہ جاؤ، اور اگلا جملہ حذف کر جائے کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔
بہر حال پہلا دھوکہ تو یہ کہ ادھوری عبارت نقل کر کے غلط مفہوم کشید کیا گیا او مفتی صاحب نے یہ بددیانتی نادانستہ نہیں کی بلکہ قصدا کی ہے۔ جیسا کہ ان کی اگلی ہی عبارت اس بات کی چغلی کھارہی ہے۔ لکھتے ہیں: آگے کچھ طرق کے بارے میں امام ابوجعفر طحاوی رحمہ اللہ نے کچھ اظہار رائے فرمایا ہے۔ مگر ان تمام روایات میں یا تو عمرو بن ثابت ہے جسے امام مالک نے منکر اور غیر ثقہ اور نا قابل اعتماد کہا ہے ۔۔۔
(احسن المقال: 27)
تجاہل عارفانہ کی بھی حد ہوتی ہے، بلکہ ہم یہاں مفتی صاحب سے پوچھیں گے کہ ذرا یہ بھی تو بتادیں کہ امام طحاوی رحمہ اللہ کی اس روایت کو شرح ،،مشکل الآثار،، میں لانے کی غایت کیا ہے۔ وہ غایت یہی ہے کہ اس حدیث پر جو اشکال وارد کیا جاتا ہے اس کا جواب دیا جائے۔ اور امام طحاوی رحمہ اللہ نے دو طرح کے اشکال کا جواب دیا، ایک سند کے حوالے سے تھا: امام طحاوی رحمہ اللہ نے اس کا جواب اسی مذکورہ عبارت میں دے دیا۔
دوسرا اشکال، اس کے متن پر تھا وہ اعتراض کہ ان روایات کی رو سے رمضان کے روزے اور غیر رمضان کے روزے برابر ہو جائیں گے نقل کرنے کے بعد اس کا مدلل جواب دیتے ہیں، جسے شرح ،،مشکل الآثار،، میں دیکھا جا سکتا ہے، ہم یہاں صرف اس بات کی طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ امام طحاوی اور مفتی زرولی دو علیحدہ وادیوں میں ہیں۔ امام طحاوی تو ان روایت پر وارد اشکال کو دور کر رہے ہیں جس سے ان کا موقف بھی واضح ہے، کہ وہ اس کے استحباب کے قائل ہیں، بلکہ دفاع بھی کر رہے ہیں۔ لیکن مفتی صاحب تو بالکل اس وادی میں ہیں، جن کا جواب امام طحاوی رحمہ اللہ دے رہے ہیں۔ اب یہ فیصلہ قارئین پر ہی چھوڑتے ہیں کہ مفتی صاحب کے اس طرز عمل کو وہ کیا نام دیتے ہیں۔
صحیح مسلم پر مقلدانہ حملہ
اعتراض:
چونکہ حدیث ابی ایوب رضی اللہ عنہ صحیح مسلم میں موجود ہے، جس کی صحت کو امت نے تسلیم کیا ہے ۔ مگر موصوف اپنے موقف کے دفاع کے لئے صحیح مسلم پر حملہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
[قال الحاكم و كتاب مسلم ملان من الشيعة]
[احسن المقال: 27]
جواب:
مفتی صاحب نے دراصل یہاں بڑے غیر محسوس انداز میں صحیح مسلم کی صحت پر حملہ کیا ہے۔ دوسرے سے لفظوں میں یہاں صحیح مسلم کی صحت پر حملہ کر کے موصوف نے منکرین حدیث کی ہی ترجمانی کی ہے۔
نرا دھو کہ:
مفتی صاحب نے جو قول امام حاکم رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے، دراصل یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ امام حاکم رحمہ اللہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے صحیح ترین ہونے کو مانتے تھے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل امام حاکم رحمہ اللہ کی کتاب جس کا نام انہوں نے المستدرک علی الصحیحین رکھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کتاب میں موجود روایات صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے درجے کی نہیں اور نہ ہی ان کی طرح اسے امت کے ہاں قبولیت حاصل ہے لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ امام حاکم رحمہ اللہ ان دونوں کتابوں کو صحیح مانتے تھے۔ اور دل میں اس حد تک ان کی حیثیت تھی کہ اپنی بساط کے مطابق اسی طرز پر المستدرک لکھنے کی کوشش کی۔ اور نام میں ہی الصحیحین لکھ کر بتا دیا کہ ان کے نزدیک یہ دونوں کتا ہیں صحیح ہیں۔ اتنی بڑی منہ بولتی اس حقیقت کے باوجود اس مقام پر ان کا یہ قول پیش کرنا !! نرا دھوکہ ہے۔
علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ امام حاکم رحمہ اللہ نے صحیح حدیث کی دس اقسام بنائی ہیں، پانچ جن پر اتفاق ہے، اور پانچ جن میں اختلاف ہے صحیح حدیث کی پانچ وہ اقسام جن کی صحت پر اتفاق ہے، ان میں سب سے پہلے نمبر پر کون سی احادیث ہیں، چنانچہ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[اختيار البخاري ومسلم، وهو الدرجة الأولى من الصحيح]
وہ حدیث جسے امام بخاری و مسلم نے اختیار کیا ہے صحیح کے سب سے پہلے درجے پر وہی حدیث فائز ہے۔
[تدريب الراوي: 198/1، طبع دار العاصمة]
اندازہ لگائیں کہ امام حاکم رحمہ اللہ صحیح حدیث کے اعلیٰ ترین درجے پر بخاری و مسلم کی روایات کو رکھ رہے ہیں، جس پر سب کو اتفاق بھی ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ امام حاکم رحمہ اللہ تو صحیحین کی روایات پر تنقیدکو ناجائز سمجھیں، چنانچہ امام حاکم رحمہ اللہ: معرفة علوم الحدیث کی انیسویں فصل میں معرفة الصحیح والسقیم کے تحت فرماتے ہیں:
[ان الصحيح لا يعرف بروايته فقط و انما يعرف بالفهم والحفظ و كثرة السماع، وليس لهذا النوع من العلم عون أكثر من مذاكرة أهل الفهم والمعرفة ليظهر ما يخفى من علة الحديث فاذا وجد مثل هذه الأحاديث بالأسانيد الصحيحة غير مخرجة في كتابي الامامين البخاری و مسلم لزم صاحب الحديث التنقير عن علته و مذاكرة أهل المعرفة به لتظهر علته]
صحیح حدیث کو صرف روایت کے ذریعے سے نہیں پہچانا جاتا، بلکہ صحت حدیث کو فہم، حفظ اور کثرت سماع کے ذریعے سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ اور اس حوالے سے مخفی علل کے اظہار کے لئے، اس فن کے اہل فہم و معرفت سے مذاکرہ سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ معاون نہیں ہو سکتی، اس طرح کی معلول احادیث پائی جائیں جو کہ صحیح سند کے ساتھ مروی ہیں، اور وہ احادیث بخاری و مسلم کی نہ ہوں، تو صاحب حدیث پر اس حدیث کے حوالے سے علت کی تفتیش لازم ہے، اور اہل معرفہ سے مذاکرہ لازم ہے تا کہ خفی علت واضح ہو جائے۔
(معرفة علوم الحاديث: 108، دار أحياء العلوم)
اس عبارت سے بالکل واضح ہے کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی روایات کے علاوہ دیگر کتب کی روایات کی مخفی عمل کے حوالے سے اہل علم سے پوچھ گچھ کر لینی چاہئے تا کہ اس روایت کی مخفی علت پر مطلع ہوا جاسکے لیکن ،،غير مخرجة في كتابي الامامین البخاری و مسلم،، کہہ کر بتلا دیا کر صحیح بخاری و مسلم میں موجود روایات پر اس قسم کی تنقید نہیں کی جائے گی۔
مستدرک کے مقدمہ میں اسناد کو خصائص امت میں سے قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں علماء دین اور ائمہ مسلمین کو پیدا فرمایا جنہوں نے روایات و آثار کے رواة و ناقلین کا تزکیہ کیا، تا کہ وحی الہی میں جھوٹ شامل ہونے سے بچ جائے، اور پھر ان ائمہ مسلمین کی مثال دیتے ہوئے سب سے پہلے جن کا نام لیا فرماتے ہیں:
[فمن هؤلاء الأئمة: أبو عبد الله محمد بن إسماعيل الجعفي، وأبو الحسين مسلم بن الحجاج القشيري رضي الله عنهما، صنفا في صحيح الأخبار كتابين مهذبین انتشر ذكر هما في الأقطار]
ان ائمہ میں سے ابو عبدالله محمد بن اسماعیل الجعفی اور ابوالحسین مسلم بن الحجاج القشیری ہیں، جنہوں نے صحیح روایات پر مشتمل کتابوں کو تصنیف کیا جنہیں دنیا کے ہر کونے میں شہرت ملی ۔
(مستدرک حاکم: 2/1 مقدمه)
یہاں بھی امام حاکم رحمہ اللہ نے صحیحین کی کتب کو جو مقام دیا ہے، واضح ہے کہ ان کی احادیث کو صحیح قرار دیا۔ پھر مقدمہ مستدرک ہی میں امام حاکم رحمہ اللہ نے مستدرک حاکم کی وجہ تالیف بیان کرنے کے بعد فرمایا:
[وقد خرج جماعة من علماء عصرهما ومن بعدهما عليهما أحاديث قد أخرجاها، وهي معلولة، وقد جهدت في الذب عنهما في المدخل إلى الصحيح بما رضيه أهل الصنعة]
ایک جماعت نے شیخین کے دور میں بھی اور ان کے دور کے بعد بھی صحیحین پر استخراج کا کام کیا لیکن وہ احادیث معلول تھیں، میں نے اس حوالے سے ،،المدخل الی الصحیح،، میں شیخین کے دفاع کی کوشش کی، جسے اہل فن نے پسند کیا۔
[مستدرک حاکم: 3/1 مقدمه]
اب دیکھیں! امام حاکم رحمہ اللہ کے نزدیک صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث کی کیا حیثیت ہے؟؟ ان کا ،،مستدرک علی الصحیحین،، لکھنا اور مقدمہ میں ان کتب کی جلالت کو بیان کرنا، المدخل میں صحیحین پر معلول مستخرج روایات پر بحث کرتے ہوئے صحیحین کا دفاع کرنا، علامہ سیوطی کا ان سے صحیح کے سب سے اعلی ترین درجے میں صحیح بخاری و مسلم کی روایات کو رکھنا، اور پھر معرفہ سے جیسا کہ ثابت ہوا کہ صحیحین پر تنقید کو ناجائزسمجھنا، ان سب حقائق کی موجودگی میں امام حاکم رحمہ اللہ کا مجمل قول پیش کر کے اپنا کام سیدھا کرنے کی ناکام کوشش کرنا کتنا بڑا دھوکہ ہے؟؟
لہذا اس تمام تر تفصیل کی روشنی میں ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہاں امام حاکم رحمہ اللہ کی لفظ شیعہ سے مراد وہ راوی ہیں، جو سید نا علی رضی اللہ عنہ کو دیگر صحابہ پر فوقیت دیتے ہیں۔ اور ثقاہت، دیانت اور عقائد میں وہ صحیح ہیں۔ لہذا مفتی صاحب کا یہ قول پیش کر نانر ادھوکہ ہے۔
دوسرا دھوکہ یا۔۔۔!!!
موصوف کا دوسرا دھوکہ یہ ہے کہ انہوں نے تدریب الراوی کا حوالہ دیا ہے۔ اور تدریب الراوی میں شیعہ راویوں کے حوالے سے امام سیوطی اور امام ذہبی رحمہما اللہ کا کلام چند ہی صفحات کے بعد ہے ۔(یہ دونوں قول آگے آرہے ہیں۔) جس کی موجودگی میں امام حاکم رحمہ اللہ کے اس مذکورہ بالا قول کو ذکر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
تین نکاتی جواب
موصوف کے ان دو دھوکوں کے ذکر کے بعد طوالت سے بچتے ہوئے ہم مفتی صاحب کی صحیح مسلم کے متعلق اس ہرزہ سرائی کا تین نکات میں جواب دیتے ہیں۔
①پہلا نکتہ: صحیح مسلم کی صحت پر اجماع امت:
صحیح مسلم کو امت کی تلقی بالقبول حاصل ہے۔ اس حوالے سے کئی ایک اہل علم کے اقوال پیش کئے جاسکتے ہیں ہم چند ایک پر اکتفاء کرتے ہیں:
امام نووی رحمہ اللہ:
[اتفق العلماء رحمهم الله على أن أصح الكتب بعد القرآن العزيز الصحيحان البخاري ومسلم وتلقتهما الامة بالقبول.]
یعنی: علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کے بعد صحیح ترین کتا بیں صحیح بخاری اور صحیح مسلم ہیں۔
[شرح النووى: 128/1، مقدمة، فصل اصح الكتب بعد القرآن الصحيحان]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ،،الخبر المحتف بالقرائن،،کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
[و الخبر المحتف بالقرائن أنواع: منها ما أخرجه الشيخان في صحيحيهما معالم يبلغ حد المتواتر فانه احتف به قرائن منها: جلالتهما في هذا الشأن وتقديمهما في تمييز الصحيح على غيرهما-وتلقى العلماء لكتابيهما بالقبول]
یعنی: ایسی حدیث جسے کئی قرائن نے گھیرا ہوا ہو۔ اس کی کئی اقسام ہیں۔ ان میں سے ایک قسم یہ ہے کہ جسے امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہو اور وہ روایت حد تو اتر کو نہ پہنچے۔ ایسی روایت کو کئی قرائن نے گھیرا ہوا ہے، امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ کی فن حدیث میں جلالت شان، یہ صحیح اور ضعیف احادیث کے مابین فرق کرنے میں سب سے مقدم ہیں ، اور ان کی کتابوں کو امت نے قبولیت کے ساتھ لیا ہے ۔
[شرح نخبة الفكر: 37/38 طبع الميزان]
امام ابو عبد الله الحمیدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لم نجد من الأئمة الماضين من أفصح لنا في جميع ما جمعه با الصحة الا هذين الامامين.]
یعنی: امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ کے علاوہ ائمہ سلف میں سے ہم کسی کو نہیں پاتے کہ جس نے یہ کہا ہو کہ ہم نے جو کچھ بھی ذکر کیا ہے وہ صیح ہے۔
[مقدمة ابن الصلاح:ص 95]
امام ابن الصلاح رحمہ اللہ نے مستقل کتاب ،،صيانه صحیح مسلم،، لکھی۔ اور اہل علم کا اس میں اس کی صحت پر اجماع نقل کیا۔
امام نووی رحمہ اللہ نے امام جوینی کا ایک فتوی بھی نقل کیا ہے کہ
[لو حلف انسان بطلاق امرأته أن مافي كتابى البخاری و مسلم مما حكما بصحته من قول النبي صلى الله عليه وسلم لما ألزمته الطلاق ولا حنثته لاجماع المسلمين على صحتهما.]
یعنی: اگر کوئی شخص یہ قسم اٹھالیتا ہے، کہ اگر صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نبی ﷺکی جو بھی حدیث ہے وہ صحیح نہ ہو تو میری بیوی کو طلاق ہو۔ تو یہ طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ مسلمانوں کا ان دونوں کی صحت پر اجماع ہے۔
(شرح النووى: 136/1، مقدمة، فصل في حكم احاديث صحيح مسلم)
شاہ ولی الله رحمه الله:
[أما الصحيحان فقد اتفق المحدثون على أن جميع ما فيهما من المتصل المرفوع صحيح بالقطع وأنهما متواتران الى مصنفيهما وأنه كل من يهون أمرهما فهو مبتدع متبع غير سبيل المؤمنين۔]
یعنی: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود روایت کے بارے میں محدثین کا اتفاق ہے، کہ وہ قطعی طور پر صحیح ہیں۔ یہ دونوں کتابیں اپنے مصنفین تک متواتر ہیں۔ اور جو صحیح بخاری و صحیح مسلم کو یہ حیثیت نہیں دیتا وہ بدعتی ہے اور مسلمانوں کے علاوہ دوسروں کی راہ پر گامزن ہے ۔
(حجة الله البالغة:1/232)
ہم مفتی صاحب کو مشورہ دیں گے کہ یہ قول بار بار پڑھیں تا کہ انہیں احساس ہو کہ وہ کس ڈگر پر چل رہے ہیں۔
②دوسرا نکتہ: صحیح مسلم کا مقام احناف کے نزدیک:
خود حنفیہ نے صحیح مسلم کی صحت کو قبول کیا ہے۔ مثلاً
علامہ عینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[اتفق علماء الشرق والغرب على أنه ليس بعد كتاب الله تعالى أصح من صحيحي البخاري و مسلم]
یعنی: مشرق و مغرب کے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ کی کتاب قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب صحیح بخاری اور صحیح مسلم ہیں۔
[عمدة القارى: 32/1 دار احياء التراث العربي]
ملا علی قاری صاحب مشکوۃ کے مقدمے کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
[اتفقت العلماء على تلقي الصحيحين بالقبول]
یعنی: علماء صحیح بخاری اور صحیح مسلم کو قبول کرنے میں متفق ہیں ۔
[مرقاة المفاتيح: 62/1]
انور شاہ کشمیری کتب ستہ پر لفظ صحاح کے استعمال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
که کتب ستہ پر صحاح کا اطلاق تغلیباً ہے، ورنہ صحیح تو صرف صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں اور باقی سنن ہیں۔
[العرف الشذى:32/1]
سرفراز صفدر نے بھی اس کی صحت پر امت کے اجماع کا اقرار کیا ہے۔
[احسن الكلام: 249/1 طبع سوم]
③تیسرا نکتہ: لفظ تشیع کے استعمال کی دو اقسام:
تشیع کا استعمال دو قسم کے افراد پر ہوا ہے۔
①جن کے عقائد شرکیہ وکفر یہ ہیں۔
②متقدمین وہ لوگ جو عقیدے میں تو صحیح تھے صرف سید نا علی رضي اللہ عنہ کو باقی صحابہ پر فضیلت دیتےتھے۔ ایسے راویوں پر بھی متقدمین نے تشیع کا اطلاق کیا ہے۔ جیسا کہ تدریب الراوی ہی کو لے لیں! (جس کا مفتی صاحب نے حوالہ دیا ہے مگر افسوس علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے جو تشیع سے مراد ذکر کی ہے وہ ان کو نظر ہی نہیں آئی) علامہ سیوطی رحمہ اللہ صحیحن میں وہ راوی جن پر تشیع کا الزام ہے کے نام ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
[هؤلاء رموا بالتشيع وهو تقديم علي على الصحابة]
یہ راوی جن پر تشیع کا الزام ہے ۔ وہ یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو د دوسرے صحابہ پر فضیلت دینا۔
[تدريب الراوي: 389/1]
اسی طرح امام ذہبی رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھتے ہیں: امام ذہبی رحمہ اللہ نے صراحت کی ہے،کہ بدعت کی دوقسمیں ہیں۔
①چھوٹی بدعت: جیسے تشیع غلو کے ساتھ ہو یا بغیر غلو کے۔،جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قتال کرنے والوں کے بارے میں کلام کرنے والا تابعین و تبع تابعین میں ایسے راوی (باوجود ان کے دین، ورع اور صدق) کے موجود ہیں۔ اگر ان کی روایت کو رد کر دیا جائے تو نبیﷺ کی احادیث کا بہت بڑا حصہ ضائع ہو جائے۔
②بدعت کبری: جیسے کامل رفض اور اس میں غلو, ابو بکر وعمر پر طعن و تشنیع کرنا ایسے راوی کی روایت حجت نہیں۔
[تدريب الراوي: 386/1]
مزید اس حوالے سے حنفیہ کیا موقف رکھتے ہیں ملاحظہ فرمائیے ہر فراز صفدر صاحب لکھتے ہیں: شیعہ ہونا بغیر داعیہ کے اصول حدیث کے لحاظ سے کوئی جرح نہیں۔
[تسكين الصدور: 110، اتمام البرهان: 41/3، نور و بشر: 72 (بحوالہ مولانا سرفراز صفد ر اپنی تصانیف کےآئینے میں]
نیز لکھتے ہیں: متقدمین اور متاخرین کی اصطلاح لفظ شیعہ کے بارے میں جدا جدا ہے۔ حضرات متقدمین کے نزدیک شیعہ کا اور مفہوم ہے اور حضرات متاخرین کے نزدیک اور ہے ۔
[ارشاد الشیعه: 19 (بحوالہ مولانا سرفراز صفد ر اپنی تصانیف کے آئینے میں]
ان اقوال سے واضح ہوا کہ سرفراز صفدر صاحب بھی شیعہ کی اصطلاح میں فرق کرتے ہیں، اور تشیع کے حوالے سے یہ بات بھی ملحوظ رکھی جائے کہ محدثین کے یہاں بدعتی راوی کی روایت کا کیا حکم ہے؟
امام ذہبی رحمہ اللہ ابان بن تغلب کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
[شيعي جلد، لكنه صدوق، فلنا صدقه و عليه بدعته]
یعنی ابان بن تغلب کٹر شیعہ ہے لیکن صدوق ہے، ہمارے لئے اس کا صدق ہے، اور اس کی بدعت کا معاملہ اور عتاب اسی پر ہے۔
[ميزان الاعتدال:1/5]
پتہ چلا کہ صحیحین میں شیعہ راوی کے ہونے سے روایت اثر انداز نہ ہوگی، کیونکہ محدثین نے مبتدع راوی کی روایت کو دو شروط کے ساتھ قبول کیا ہے۔
① وہ بدعت کا داعی نہ ہو۔
② وہ روایت اس کے بدعی عقیدے کی مؤید نہ ہو۔
اگر روایت ان دو شرائط پر پوری اترتی ہے، تو وہ روایت مقبول ہوگی۔
بہر حال ان تینوں نکات پر ہماری گفتگو سے صحیح مسلم کا مقام واضح ہو چکا ہے اور ساتھ ہی صحیحین کے بارے میں مفتی صاحب کا دلی بغض بھی واضح ہو گیا۔
اعتراض:
عمر بن ثابت پر کلام کے بارے میں ,,الاستذكار,,کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
[واظن الشيخ عمر بن ثابت لم يكن عنده ممن يعتمد عليه.]
[احسن المقال: 55]
جواب:
خیانت کی حد ہوتی ہے جن کا حوالہ دیا جارہا ہے وہ خود عمر بن ثابت کو ثقہ قرار دے رہے ہیں اور لکھ رہے ہیں:
[عمر بن ثابت الأنصاري وهو من ثقات أهل المدينة.]
یعنی: عمر بن ثابت مدینہ کے ثقہ لوگوں میں سے ہیں۔
[الاستذكار: 380/3]
اب اندازہ لگائیں کہ ,,الاستذكار,,میں تو ان کی توثیق کو ثابت کیا جارہا ہے، مگر مفتی صاحب اس کتاب کے حوالے سے عمر بن ثابت پر جرح کر رہے ہیں ۔
ثانياً: صاحب ,,الاستذكار,,نے یہ بھی لکھا ہے کہ حدیث ثوبان رضی اللہ عنہ عمر بن ثابت کی روایت کو قوی کرتی ہے۔
[الاستذكار:3/380]
ثالثاً: یہی صاحب ,,الاستذكار,,علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ بڑے واشگاف الفاظ میں شوال کے ان چھ روزوں کی فضیلت بھی بیان کرتے ہیں اور امام مالک رحمہ اللہ کے قول کی توجیہ بھی کرتے ہیں لیکن مفتی صاحب یہاں آکر ان سے اختلاف کر جاتے ہیں۔
جہاں تک عمر بن ثابت کی توثیق کا معاملہ ہے تو وہ پہلے ہی حافظ زبیر علی زئی رحمہ للہ بیان کر چکے ہیں [جیسا کہ وہ لکھتے ہیں: حافظ ابن حبان نے آپ کو کتاب الثقات (5/149) میں ذکر کیا، امام عجلی نے کہا: مدنی تابعی ثقہ ( تاریخ العجلی: 1333)، ابن شاہین نے انہیں کتاب اسماء الثقات (693) میں ذکر کیا، امام مسلم، امام ترمذی، امام ابن خزیمہ، حافظ ابوعوانہ اور حافظ بغوی، نے ان کی حدیث کو صحیح قرار دے کر ان کی توثیق کی ہے ۔ حافظ ابن حجر نے کہا: ثقہ ہے ۔ (تقریب التهديب:4780)]
[مقالات:2/323]
اعتراض:
,,الاستذكار,,کے حوالے سے لکھتے ہیں: اس روایت کے موقوف و مرفوع ہونے کا اضطراب بھی موجود ہے۔
[احسن المقال : 55]
جواب:
یہ بھی بہت بڑا دھوکہ ہے، صاحب ,,الاستذكار,,کی عبارت یہ ہے:
[هكذا ذكره موقوفا على أبي أيوب وقد روي عن يحيى بن سعيد عن عمر بن ثابت بإسناده مثله موقوفا]
یعنی: یہ روایت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے موقوفا بھی مروی ہے یحیی بن سعید نے اسے عمر بن ثابت سے اسی سند کے ساتھ موقوف بیان کیا ہے۔
[الاستذكار: 368/3]
در حقیت صاحب ,,الاستذكار,, نے اس روایت کے موقوف اور مرفوع ہونے کا تو ذکر کیا ہے، لیکن یہ نہیں کہا کہ یہ اضطراب ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہئے کہ وہ یہ بیان کر رہے ہیں کہ یہ روایت مرفوعا اور موقوفا دونوں طرح ثابت ہے۔ مگر مفتی صاحب نے صاحب ,,الاستذكار,, پر بہت بڑا بہتان باندھتے ہوئے ,,الاستذكار,, کا حوالہ دے کر گویا یہ ثابت کیا کہ انہوں نے اس حدیث کا مضطرب ہونا ثابت کیا ہے۔ حالانکہ یہ حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔
ثانیا: اگر اسے مضطرب مان بھی لیا جائے تو ترجیح بھی ممکن ہے یعنی عمر بن ثابت سے اس روایت کو چار شاگردوں نے مرفوعاً بیان کیا ہے اور ایک نے موقوف۔ اب میرا مفتی صاحب سے سوال ہے کہ اگر انہوں نے اصول حدیث پڑھے ہیں، تو اب ایک طرف چار راوی جو مرفوع بیان کر رہے ہیں اور ایک طرف ایک! کیا چار کی بات راجح نہیں؟! واضح سی بات ہے کہ چار راویوں کی روایت کا مرفوع ہو نا راجح ہے، پھر مزید یہ کہ دیگر مرفوع شواہد بھی موجود ہوں تو پھر تو اس کا مرفوع ہونا اور زیادہ قوی ہو جاتا ہے۔
اعتراض:
موصوف فتوحات مکیہ کے حوالے سے روایت کے متن کو منکر کہتے ہیں۔
[احسن المقال: 55/46]
جواب:
اولاً: جمہور اہل علم کے مقابلے میں ابن عربی کی بات کی کوئی حیثیت نہیں۔ اور اہل علم میں سے کسی نے بھی اس حدیث کو منکر قرار نہیں دیا۔
ثانیاً: اس روایت کے متن کو منکر قرار دینے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ایام سارے مذکر ہوتے میں لہذا اس حدیث میں ستا کا لفظ آیا ہے جبکہ ستۃ آنا چاہئے لہٰذا یہ حدیث متنا منکر ہے۔ اس اشکال کا امام نووی رحمہ اللہ نے جواب دیا ہے کہ عدد کا معدود جب محذوف ہو تو ایسا جائز ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے اہل لغت کے حوالے سے بھی اس کی مثال دی ہے۔ بلکہ قرآن مجید سے بھی اس کی ایک مثال نقل کی ہے، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے:
[يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا]
[شرح النووى: 297/8، سورة البقرة: 234]
اور دیگر شارحین نے بھی امام نووی رحمہ اللہ والی ہی بات کو بیان کیا ہے۔ قرآن مجید کی مذکورہ مثال میں بھی معاملہ ایسا ہی ہے کہ عشرہ ہونا چاہئے تھا لیکن بغیر تاء کے آیا ہے، جو اب اس کا وہی ہے جو گزر چکا ہے،کہ معدود محذوف ہو تو بغیر تاء کے بھی آنا جائز ہے۔ لہذا اس بنیاد پر حدیث کے متن کو منکر قرار دینا عجیب سے عجیب تر ہے۔
مفتی زرولی کے عذر لنگ
موصوف حدیث کا انکار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: واضح رہے کہ ثواب کے لئے ہمیشہ ایسے اعمال اور اجور ذکر کئے جاتے ہیں ،جو شرعا محمود ہیں جیسے جامع ترمذی میں ہے کہ جس نے فجر کی نماز جماعت سے پڑھی پھر بیٹھ کر ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج نکلا اور اس نے دو رکعت پڑھیں تو اس کو حج اور عمرہ کا ثواب ملے گا۔ حج و عمرہ باعث اجر افعال ہیں۔ اس لئے وہ ثواب میں ذکر کئے گئے۔
[احسن المقال: 28]
پھر لکھتے ہیں: یا دوسری روایت جو معروف عند اصحاب السنن ہے کمافی البخاری کہ سورہ اخلاص تین مرتبہ پڑھنے سے ایک قرآن کا ثواب ملتا ہے۔ تو چونکہ قرآن کریم پورا کرنا باعث اجر عظیم ہے اس لئے بطور ثواب کے ذکر کیا گیا۔
[احسن المقال: 28]
جواب:
ہمارے نزد یک مفتی صاحب کی یہ بات عذر لنگ سے کم نہیں۔ موصوف کا مذکورہ قاعدہ ثواب کے لئے ہمیشہ ایسے اعمال اور اجور ذکر کئے جاتے ہیں جو شرعاً محمود ہیں۔ مفتی صاحب کے اس قاعدے کی رو سے کتنے فضائل اور اعمال پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے؟ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
پانچ نمازیں، اجر میں پچاس کے برابر!!
[صحیح بخاری: کتاب الصلوة باب كيف فرضت الصلوة ، رقم الحديث: 349 ، صحیح مسلم: کتاب الايمان باب الإسراء برسول الله إلى السماوات وفرض الصلوات، رقم الحديث: 163]
کیا پچاس نمازیں فرض پڑھنا شرعاً محمود ہیں؟؟
مؤذن قیامت کے دن لمبے قد والے ہوں گے۔
[صحيح مسلم: كتاب الصلوة، باب فضل الاذان، و هرب الشيطان عند سماعه، رقم الحديث: 387]
کیا لمبا قد یا لمبی گردن شرعا محمود ہے؟
حدیث میں ہے: جو عشاء اور فجر کی فضیلت جان لے تو اسے اگر گھٹنے کے بل چل کر آنا پڑے تو وہ آئے۔
[صحیح بخاری: کتاب الاذان، باب الاستهام في الاذان، رقم الحديث: 615، صحیح مسلم: کتاب الصلوة باب تسوية الصفوف:981]
حالانکہ سکینت اور وقار کے ساتھ آنے کا حکم ہے۔
[صحیح بخاری کتاب الاذان باب لا يسعى إلى الصلاة وليأت بالسكينة والوقار رقم الحديث: 636،، صحیح مسلم: کتاب المساجد و مواضع الصلوة ، باب استحباب اتبان الصلوة بوقار و سكينة والنهي عن اتيانها سعياً، رقم الحديث: 602]
اس روایت کے مقابلے میں کیا گھٹنے کے بل آنا شرعا محمود ہے؟؟
اسی طرح رسول اللہ ﷺنے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
[صحیح بخاری: کتاب الجهاد والسير باب دعاء النبي صلى الله عليه وسلم الناس إلى الإسلام والنبوة وأن لا يتخذ بعضهم بعضا أربابا من دون الله:ح 2942، صحيح مسلم: كتاب فضائل الصحابة رضي الله تعالى عنهم، باب من فضائل علي بن أبي طالب رضي الله عنه: ح 2406]
اب کیا سرخ اونٹ رکھنا شرعاً محمود ہیں؟
اس حوالے سے مزید مثالیں بھی دی جاسکتی ہیں، فی الحال انہیں پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔
شوال کے چھ روزے اور صوم الدھر کے مفہوم کی وضاحت
اعتراض:
ان روزوں کے لئے صوم الدھر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس سے مفتی صاحب نے اس کی کراہیت کا استدلال کیا ہے۔
[احسن المقال: 28،29]
جواب:
اولا: قاعده ،،الحديث يفسر بعضه بعضا،،یعنی ایک حدیث دوسری حدیث کی وضاحت کرتی ہے۔ اگر ایک روایت میں ” الدھر“ کے الفاظ ہیں تو دوسری میں ،،السنة،، کے الفاظ بھی ہیں ۔ جس سے مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔
ثانياً: صوم الدھر کو اصل معنی میں رکھا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ جب حدیث ثابت ہو جائے تو ہمارا کام ماننا ہے نہ کہ فرار کی راہیں ڈھونڈنا۔
ثالثاً: اگر الدھر کالفظ مفتی صاحب پر اتنا ثقیل گزر رہا ہے کہ اس کی بنیاد پر اصل حدیث کا ہی انکار کردیں تو پھر اس مفہوم کا اجر دیگر روزوں اور عبادات کے لئے بھی ثابت ہے۔ مثلاً
ایام بیض کے تین روزوں کی فضیلت کے بارے میں رسول اللہﷺکافرمان ہے :
[من صام ثلاثة ايام من كل شهر فذلك صوم الدهر فانزل الله عز وجل تصديق ذلك في كتابه: {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} (الانعام: 160) فاليوم بعشرة ايام]
ترجمہ : جس نے ہر مہینے تین روزے رکھے (ایام بیض کے) یہ پورے سال کے روزوں کے برابر ہے۔ اس کی تصدیق اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں نازل کی ہے۔ کہ جس نے ایک نیکی کی اسے اس کے مثل دس نیکیوں کا اجر ملے گا۔ تو گویا کہ ایک دن دس دن کے برابر ہوا۔
[سنن ابن ماجة: 1708، كتاب الصيام، باب ما جاء في صيام ثلاثة أيام من كل شهر]
نیز،یہ اللہ کی طرف سے خصوصی عنایت ہے کہ اللہ تعالی نے جو بھی چیز تخفیفا مسلمانوں سے ہٹائی، اس کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی مثلاً پہلے پچاس نمازیں فرض تھیں، پھر پانچ نمازیں ہوئیں۔ اور پانچ نمازوں کی فرضیت کے وقت کہا گیا کہ نمازیں پانچ ہیں اور اجر پچاس کا ہی ملے گا۔
[صحیح بخاری: 349، صحیح مسلم: 163]
تو یہ اللہ تعالی کی خصوصی عنایت ہے۔
اسی طرح اگر ایک شخص بغیر کسی ناغے کے اور بغیر سوئے مسلسل سال بھر کی راتوں کا قیام کرتا ہے۔ تو اس کا یہ عمل شریعت میں نہیں ، جیسا کہ اس میں تین صحابہ والے واقعے(صحیح بخاری:5063) سے اس کی نفی پرنص موجود ہے۔ لیکن اللہ تعالی نے اس حوالے سے اجر کا سلسلہ ایسا رکھا کہ ایک رات (لیلۃ القدر) جسے ہزار مہینوں کی راتوں کی عبادت سے افضل قرار دے دیا۔ (القدر: 3) جبکہ ہزار مہینوں کی راتوں کا قیام مسلسل بغیر ناغے کے کرنا مستحسن نہیں ۔
جولوگ صیام الدھر کی منع کے ذریعے سے استدلال کر کے ان روزوں کو ممنوع قرار د دینا چاہتے ہیں، یہ صحیح نہیں کیونکہ اگر یہ مان لیا جائے تو اس طرح حج مبرور کے ثواب، پانچ نمازوں کے ثواب اور ایام بیض کے روزوں کے اجر وغیرہ سب پر سوالیہ نشان کھڑا ہو جاتا ہے؟ اور سب کو اگر اسی عینک سے دیکھا جائے تو سب مکروہ نظر آتے ہیں۔
امام مالک رحمہ اللہ اور شوال کے چھ روزے
امام مالک رحمہ اللہ کے حوالے سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے، کہ امام مالک رحمہ اللہ سے مؤطا میں صراحتا ان روزوں کا انکار اور اس کے ارتکاب کو بدعت فرمانا منقول ہے۔
[احسن المقال: 24]
جواب:
اولاً: آپ کا امام مالک رحمہ اللہ کا قول اور ان کا موقف پیش کرنا کسی عجوبے سے کم نہیں کیونکہ ایک طرف تو آپکا زور اس بات پر ہے کہ فتوی اصل امام کے فتوی پر ہی ہو گا۔ لہذا حنفی مقلد کی حیثیت سے امام مالک کا قول پیش کرنا بہت بڑا عجوبہ ہے۔
ثانياً: امام مالک رحمہ اللہ کے اپنے قول:
[إنما أنا بشر أخطئ وأصيب فانظروا في رأيي فكل ما وافق الكتاب والسنة فخذوه و كل ما لم يوافق الكتاب والسنة فاتركوه]
یعنی: میں انسان ہوں بھی غلطی بھی ہو جاتی ہے، اور کبھی میرا موقف صحیح بھی ہوتا ہے۔ پس میری رائے میں سے جو کتاب وسنت کے مطابق ہو اسے لے لو۔ اور جو خلاف ہو اسے چھوڑ دو ۔
[جامع بيان العلم: 777/1]
اس قول کی وجہ سے امام مالک رحمہ اللہ کا شوال کے روزوں سے متعلق مذکورہ قول حدیث رسول ﷺکے مقابلے میں متروک ہے۔
ثالثاً: امام مالک رحمہ اللہ کے اس قول کی وضاحت مختلف اہل علم نے نقل کی ہے، مالکیہ نے اس قول کی جو وضاحت کی ہے اور اللہ کے رسول ﷺکی عظیم سنت کو سینے سے لگایا ہے۔ اور امام مالک کے قول کی ایسی توجیہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کا قول حدیث کے بالکل مقابل آکر کھڑا نہ ہو جائے۔ ان کا یہ عمل قابل تحسین ہے، جنہوں نے تقلیدی جمود کی ایسی کالی پٹی نہیں پہنی کہ انکار یا تاویل کرتے وقت وہ بھول ہی جائیں کہ ہم یہ جرات پیغمبر ﷺکی حدیث کے بارے میں کر رہے ہیں۔ آئیے ملاحظہ کیجئے کہ مالکیہ سمیت دیگر اہل علم نے اس قول کی کیا وضاحت کی ہے۔
امام زرقانی رحمہ اللہ نے اس کی وضاحت میں مطرف کا قول نقل کیا ہے: امام مالک رحمہ اللہ نے صرف اس ڈر سے کہ جہلاء اسے رمضان کے ساتھ نہ ملا دیں، نا پسند سمجھا۔ البتہ اس بارے میں وارد احادیث سے جو فضیلت ملتی ہے اس بنا پر کوئی روزہ رکھتا ہے تو یہ مستحسن ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں۔
پھر فرماتے ہیں:
[قال شيوخنا إنما كره مالك صومها مخافة ان يلحق الجهلة برمضان غيره.]
یعنی:ہمارے شیوخ کے نزدیک امام مالک رحمہ اللہ کا ان روزوں کو مکروہ سمجھنا اس ڈر سے تھا کہ کہیں جاہل لوگ اسے رمضان کے ساتھ نہ ملادیں۔
[شرح الزرقاني: 2/301]
امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے بھی ,,الاستذكار,, میں ان کے اس قول کی وضاحت یہی کی ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے اس ڈر سے کہ جہلاء اسے رمضان کے ساتھ نہ ملا دیں۔ یا امام مالک رحمہ اللہ تک یہ حدیث ہی نہیں پہنچی۔
نیز اہل علم میں سے بڑی تعداد نے امام مالک رحمہ اللہ کے اس قول کی توجیہ کی یا یہی سمجھا کہ امام مالک رحمہ اللہ تک حدیث نہ پہنچ سکی، اور نبی ﷺ کی حدیث کے مقابلے میں اس قول کو متروک سمجھا۔ چند ایک اہل علم کے نام ملاحظہ فرمائیں:
[امام نووی ( شرح النووی: 8/44 ، شرح المهذب: 6/378) ، ابن رشد (بداية المجتهد:225/1)، ابن عبد البر( الاستذکار: 9/368)، امام زرقانی( شرح الزرقانی: 2/452)، امام سندی (شرح سنن ابن ماجة: 679/1)، ملا علی قاری(المرقاة: 476/4)، انور شاہ کشمیری (عرف الشذی)، امام طیبی (شرح الطيبي: 220/4)،امام صنعانی (سبل السلام: 340/2)، ابومحمد موفق الدین عبدالله ابن قدامة (المغنی:112/3)]. ابو الفرج شمس الدین عبدالرحمن بن محمد ابن القدامة (شرح الكبير: 97/3) یحیی کاندھلوی (الکوکب الدری علی جامع ترمذی: 61/2)، قاضی حسین محمد المغربي (البدر التمام شرح بلوغ المرام:2/452)(ابن البناء (فتح الربانی: 2/1567).امام شوکانی(نیل الاوطار: 4/243) عبید الرحمن مبارکپوری (مرعاة المفاتيح: 64/7)،]
عبد الرحمن مبارکپوری (تحفة الاحوذی: 3/388) شمس الحق عظیم آبادی (عون المعبود: 62/7) رحمهم الله تعالی اجمعین
اور دیگر کی ایک اہل علم نے اس قول کی توجیہ کی یا پھر کھلے انداز میں حدیث کو ہی ترجیح دی۔ اور ہونا بھی یہی چاہئے کہ حدیث کو ترجیح دی جائے اس لئے کہ خود امام مالک رحمہ اللہ کا قول آپ نے ملاحظہ فرمایا: کہ اگر میری بات حدیث کے موافق ہو تو لے لو اور اگر مخالف ہو تو اسے چھوڑ دو۔ لہذا ہمیں ان کے بارے میں یہی حسن ظن ہے کہ ان تک یہ حدیث ہی نہیں پہنچی ہوگی۔
اور مفتی صاحب کو عجیب کشمکش کا سامنا ہے کہیں وہ لکھتے ہیں : یہ کہنا قواعد علم کے خلاف ہے کہ مؤطا یا امام مالک رحمہ اللہ کے ہم مقلد نہیں ہیں ۔ اولاً یہ دین کا مسئلہ ہے اور ثانیاً ہمارے امام سے بھی کراہت منقول ہے ۔( احسن المقال: 38) یعنی کہیں وہ کہتے ہیں کہ مؤطا پر عمل سے تقلید پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ دوسری طرف ان کا موقف یہ بھی ہے کہ فتوی مطلق امام کے قول پر ہو گا یہاں وفائے تقلید میں اس قدر خالص نظر آتے ہیں کہ مشائخ حنفیہ کی بھی بات قبول نہیں، جن کی کتابوں کے حوالے دے کر قول امام پیش کرتے ہیں۔
رابعاً: امام مالک رحمہ اللہ نے اسے بدعت کہا ہے اور موصوف نے تو امام مالک رحمہ اللہ کے قول کو لیا ہی نہیں۔ اس لئے کہ موصوف لکھتے ہیں : ان کا ترک مناسب اور اولی ہے ۔(احسن المقال: 65) مفتی صاحب کے اس جملے سے جو مفہوم نکل رہا ہے وہ یہی ہے کہ روزہ رکھنے والے کے بارے میں موصوف بدعت کا فتویٰ نہیں لگاتے، جبکہ جو مؤقف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے مفتی صاحب نے نقل کیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ روزے مکروہ ہیں ۔
حدیث پر جرح اور اصل مقصد:
مفتی صاحب نے حق تقلید نبھاتے ہوئے حدیث پر جرح کی ہے۔ ہم بڑے وثوق سے کہہ رہے ہیں کہ مفتی صاحب کو یہاں حدیث سے کوئی سروکار نہیں اصل مقصد مذہب امام کا دفاع ہے۔ کیونکہ خود مفتی صاحب یہ لکھ چکے ہیں:
صرف روایت میں آنا عمل کے لئے کافی نہیں ہے جب تک فقہاء کرام نے اس پر عمل نہیں فرمایا ہو۔
[احسن المقال: 36]
یہ نبی ﷺ کی حدیث کا انکار نہیں تو کیا ہے؟ کہ آپ کی ﷺ کی حدیث کو قابل عمل بنانے کے لئے فقہاء کا اس پر عمل کرنا ضروری ہے ۔ یہ جرات تو منکرین حدیث نے بھی نہیں کی وہ تو بظاہر یہی کہتے ہیں، کہ ہم وہی حدیث لیں گے کہ جو قرآن کے موافق ہو۔ لیکن مفتی صاحب تو انکار حدیث میں ان سے بھی آگے نکل گئے ،کہ حدیث پر عمل کے لئے موافق قرآن نہیں بلکہ عمل فقہاء کے موافق ہونا ضروری ہے۔لیکن ہماری دعوت یہ ہے کہ ہم نے کلہ محمدرسول اللہ ﷺ کا پڑھا ہے، لہذا آپ ﷺ کے مقابلے میں ساری دنیا کی بات کو ترک کیا جا سکتا ہے ۔ آپ ﷺ کی بات کو کسی کے قول و عمل کی وجہ سے ترک نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح ایک جگہ مفتی صاحب لکھتے ہیں: جبکہ مشائخ اول تو امام کے مقلد ہیں اور مجتہد کا قول مقلد کے لئے چھوڑنا قلب موضوع اور خروج عن المذھب کے مترادف ہے۔
[احسن المقال: 37]
اسی طرح ایک جگہ لکھتے ہیں: امام صاحب کی پیروی ضروری ہے ۔( احسن المقال:65)
ان تمام عبارات سے واضح ہوا کہ دراصل یہاں حدیث پر طرح طرح کے طعن کرنے کا مقصد صرف تقلید کا دفاع ہے۔ اور اس دفاع کے لئے احادیث کے ساتھ خواہ جو بھی سلوک ہو اس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں۔
شوال کے چھ روزے اور سلف صالحین
شبه:
موصوف لکھتے ہیں: شوال کا پہلا دن یعنی عید کا دن چھوڑ کر متفرق مہینے کے کسی حصے میں بھی یہ روزے رکھنا گو متاخرین حنفیہ کے قول کے مطابق مباح اور سنت حسنہ مستحب ہو سکتے تھے۔ مگر احادیث کے قرن اول میں متروک ہونے کی وجہ سے اور ائمہ کبار کے انکار اور اقوال مشائخ کے اضطراب کے نتیجہ میں اس کا ترک زیادہ بہتر اور باعث ثواب ہے۔
[احسن المقال: 66]
ازاله:
اس عبارت میں موصوف نے دو دعوی کئے۔
① ان احادیث کا قرن اول میں متروک ہونا۔
② ائمہ کبار کا انکار
کیا قرن اول میں یہ روایات متروک تھیں؟
عرض یہ ہے کہ اگر قرن اول سے مفتی صاحب کی مراد صحابہ کرام ہیں، تو واضح رہے یہ ان کی طرف بہت بڑا انتساب اور بہتان ہے، اس لئے کہ کسی ایک صحابی سے بھی اس کا ترک ثابت نہیں۔ بلکہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے موقو فاروایت ثابت ہے، جس کے حوالے سے بحث گزر چکی۔ اور اگر بالفرض یہ ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے بھی موقوفا ثابت نہ ہوتا تو بھی کوئی حرج نہیں تھا، کیونکہ کسی صحابی کے سکوت کو ترک پر دلیل نہیں بنایا جا سکتا، جیسا کہ مشہور اور مسلمہ اصول ہے کہ عدم ذکر نفی کو مستلزم نہیں ہوتا۔
بلکہ یہ سکوت تو اس مسئلہ کے استحباب و فضیلت پر صحابہ کے اجماع سکوتی کو ثابت ہے، کیونکہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت ثابت ہونے کے بعد کسی صحابی کا اس پر انکار نہ ہونا، دلیل ہے کہ وہ اسی موقف کے حامل تھے، جسے اصطلاحاً اجماع سکوتی کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ ،،البحرالمحیط،، میں الزرکشی کی عبارت ہے:
[ثم قد يكون القول من الجميع، ولا شك ، وقد يكون من بعضهم وسكوت الباقين بعد انتشاره من غير أن يظهر معهم اعتراف أو رضا به، وهذا هو الإجماع السكوتي]
کبھی تو قول سب سے منقول ہوتا ہے، جس کے (اجماع ہونے) میں کوئی شک نہیں، اور کبھی کوئی قول بعض سے منقول ہوتا ہے، اور اس قول کے پھیل جانے کے بعد بغیر کسی اعتراف اور رضامندی کے باقی خاموش ہوتے ہیں ۔ یہ اجماع سکوتی ہے۔
[البحرالمحيط: 494/4، حجية الاجماع السكوتي]
اس تعریف کو سامنے رکھ کر ہم مفتی صاحب سے پوچھتے ہیں،اس تعریف کا ایک جزیہ ہے کہ بعض سے قول منقول ہو جائے، اور وہ ابو ایوب سے منقول ہو گیا ، اب اس تعریف کا دوسرا جزء یہ ہے کہ کسی دوسرے کا اعتراف اور رضامندی منقول نہ ہو، جیسا کہ اس مذکورہ مسئلہ کا معاملہ ہے۔ اسے اجتماع سکوتی کہا اور اس کی حجیت پر بحث کر رہے ہیں۔ اب مذکورہ مسئلہ میں دور صحابہ میں سے کسی صحابی کی نہ ہی نفی پیش کی جاسکتی ہے اور نہ ہی عمل ملتا ہے۔ لیکن احادیث مروی ہو جانے کے بعد ایک صحابی کا قول موجود ہونے کے بعد کیا ہم یہ گمان رکھ سکتے ہیں کہ صحابہ نے اسے نہ کیا ہو گا؟
آپ کے اصول کے مطابق تو یہ اجماع سکوتی کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر بڑا عجب معاملہ ہے کہ کہیں سکوت سے اجماع سکوتی کو ثابت کیا جائے اور کہیں سکوت کا اس حد تک خیال تو کجا اسے اجماع سکوتی مانا جائے،کم از کم اس فقہی قاعدے کا بھی پاس نہیں کیا جاتا کہ عدم ذکر نفی کو مستلزم نہیں۔
بہر حال اس عبارت میں موصوف کا یہ کہنا سراسر غلط ہے، کہ یہ احادیث قرن اول میں متروک تھیں۔ یہ احادیث قطعاً قرن اول میں متروک نہیں تھیں۔ بلکہ موجود، متداول اور معمول بہا تھیں۔
امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ کے انکار پر مبنی اقوال سے ان روایات کی حیثیت اور صحابہ کے دور میں متروک ہونے کا استدلال صحیح نہیں، کیونکہ ان دو ائمہ سے کسی مسئلہ کا اثبات یا نفی اس بات کو مستلزم نہیں، کہ وہی موقف صحابہ کا ہو۔ اور پھر امام ابو حنیفہ سے اس کا انکار بسند صحیح ثابت نہیں۔ اور پھر مزید یہ کہ مشائخ حنفیہ میں سے بھی جمہور کا موقف اس باب میں عام سلف صالحین کے ہی مواقف ہے۔ اور یہی معاملہ جمہور مالکیہ کا ہے۔ اب امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ کا ایک ایسا موقف جو احادیث اور جمہور محدثین کے نہ کہ صرف خلاف ہے۔ بلکہ ان مؤقفات کو خود حنفیہ اور مالکیہ نے قبول نہیں کیا، جن اقوال کی پوزیشن یہ ہوکہ خود مالکیہ اور حنفیہ ہی قبول نہ کریں ،ان اقوال کی بناء پر یہ دعویٰ کر نا سراسر غلط ہے، کہ متقدمین یا قرن اول میں یہ احادیث متروک تھیں ۔
شوال کے چھ روزے اور ائمہ کبار کا انکار
لہذا مفتی صاحب نے ،،ائمہ کبار کا انکار،، کا لفظ استعمال کیا ہے، اب آئیے ائمہ کبار و سلف صالحین میں یہ مسئلہ کتنا معروف متداول تھا، ملاحظہ فرمائیں۔
تابعین میں سے:
امام ابن قدامتہ رحمہ الله:
[وجملة ذلك ان صوم ستة ايام من شوال مستحب عند كثير من اهل العلم روي ذلك عن كعب الاحبار و الشعبي و ميمون بن مهران و به قال الشافعي]
یعنی: اکثر اہل علم کے نزدیک شوال کے چھ روزے مستحب ہیں، اور یہی مؤقف کعب احبار رحمہ اللہ، شعبی رحمہ اللہ، میمون بن مہران رحمہ اللہ اور یہی مؤقف امام شافعی رحمہ اللہ کا ہے۔
[المغنى لا بن قدامة: 112/3]
تابعین میں سے مشہور و معروف امام شیخ اہل البصرة حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:
[لقد رضي الله عز و جل بهذا الشهر للسنة كلها]
یعنی: اللہ تعالیٰ اس مہینے (شوال کے چھ روزوں کا ثواب) سال کے برابر ہونے میں راضی ہو گیا ہے۔
[جامع ترمذى مع التحفة: 182/3، مصنف ابن ابي شيبة: 6/322]
ان تابعین جو کہ صحابہ میں سے ایک بڑی تعداد کے شاگرد رہے، ان کے علاوہ بعد کے محد ثین میں سے بھی ائمہ کبار کا یہی موقف ہے،
ملاحظہ فرمائیں۔
عبد الله بن مبارک رحمہ اللہ(118-181ھ) کا قول جامع ترمذی میں موجود ہے۔
[هو حسن هو مثل صيام ثلاثة أيام من كل شهر]
یعنی: ان روزوں کا رکھنا اچھا عمل ہے، اور ایام بیض کے روزوں کی طرح ہیں۔
[جامع ترمذى مع التحفة: 182/3]
امام بخاری رحمہ اللہ اس موضوع پر حدیث غنام رضی اللہ عنہ روایت تاریخ کبیر میں لائے ہیں۔
اس حوالے سے امام مسلم رحمہ اللہ: اپنی صحیح میں حدیث (حدیث ابی ایوب) لائے۔ (جیسا گزر چکا ہے) امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں باب قائم کیا۔،،باب في صوم ستة من شوال،،امام ترمذي رحمہ اللہ نے اپنی جامع السنن میں باب قائم کیا۔
،،باب ما جاء في صيام ستة أيام من شوال،،
امام نسائی رحمہ اللہ نے السنن الکبری میں باب قائم کیا: ،،صيام ستة أيام من شوال،،
امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں باب قائم کیا ۔ ،،باب صيام ستة أيام من شوال،،
امام دارمی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں باب قائم کیا: ،،باب في صيام الستة من شوال،،
امام احمد رحمہ اللہ (المتوفی 241 ) اپنی مسند میں اس موضوع پر احادیث لائے ۔
امام عبد الرزاق رحمہ اللہ نے اپنی مصنف میں باب قائم کیا: ،،باب صوم الستة التي بعد رمضان،،
تنبیه:
اس باب کے آخر میں امام عبد الرزاق رحمہ اللہ نے معمر رحمہ اللہ کا اور خود اپنا ایک فتوی ذکر کیا ہے۔ یہ فتوی شوال کے چھ روزوں کی مطلق کراہت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ عید سے متصل ابتدائی دنوں میں ان روزوں کی کراہت کا اظہار کیا جارہا ہے۔( مصنف عبد الرزاق: 316/4) یہ الگ بات ہے اپنی جگہ یہ موقف بھی محل نظر ہے ۔
امام ابن ابی شیبہ ہم اللہ نے اپنی مصنف میں باب قائم کیا ۔ ،،ما قالوا في صيام ستة أيام من شوال بعدرمضان،،
امام ابو د اؤدطیالسی رحمہ اللہ اپنی مسند میں اس موضوع سے متعلق احادیث لائے ۔
امام ابو یعلی الموصلی رحمہ اللہ اپنی مسند میں اس موضوع سے متعلق احادیث لائے ۔
امام حمیدی رحمہ اللہ اپنی مسند میں اس موضوع سے متعلق احادیث لائے ۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے شرح السنہ میں باب قائم کیا۔ ،،باب صوم ست من شوال،،
امام ابوعوانہ رحمہ اللہ نے اپنی مستخرج میں باب قائم کیا۔ ،،باب بیان ثواب من صام رمضان، وفضيلة صومه إذا أتبع بصوم ستة أيام من شوال،،
امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں باب قائم کیا۔ ،،ذكر كتابة الله صيام الدهر المعقب رمضان بست من شوال،،
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں باب قائم کیا۔،،باب فضل إتباع صیام رمضان بصيام ستة أيام من شوال، فيكون كصيام السنة كلها،،
ابونعیم رحمہ اللہ نے المسند المستخرج علی صحیح مسلم میں باب قائم کیا۔ ،،باب في صيام الأيام الستة من شوال،،
امام نووی رحمہ اللہ نے صحیح مسلم پر باب قائم کیا۔ ،،باب استحباب صوم ستة أيام من شوال إتباعا لرمضان،، اسی طرح ریاض الصالحین میں باب قائم کیا: ،،باب استحباب صوم ستة ايام من شوال،،
امام بیہقی رحمہ اللہ کی چھ کتابوں میں شوال کے چھ روزوں کی فضیلت و استحباب کو بیان کیاگیا ہے ۔ السنن الکبری میں باب قائم کیا: ،،باب في فضل صوم ستة أيام من شوال،،اور السنن الصغیر میں باب قائم کیا:،،باب صوم ستة أيام من شوال،، اسی طرح معرفة السنن والآثار میں باب قائم کیا: ،،صوم ستة أيام من شوال،، فضائل الاوقات میں باب قائم کیا:،،باب فضل صوم شوال،، اور شعب الایمان میں باب قائم کیا: ،،صوم ستة أيام من شوال،، اور خلافیات میں بھی اس کے استحباب کو بیان کیا۔
قاضی عیاض رحمہ اللہ نے بھی اس کے استحباب کو بیان کیا۔ (دیکھئے: اکمال المعلم للفوائد المسلم للقاضي عياض)
امام سندھی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث (حدیث ابی ایوب رضی اللہ عنہ) شوال کے چھے روزوں کے بارے میں واضح ہے۔ حنفیہ میں سے اکثر متاخرین نے اسے لیا ہے۔ (شرح سنن ابن ماجة: 679/1)
امام صنعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ،،فيه دلیل على استحباب صوم ستة أيام من شوال،،
یعنی: اس حدیث (حدیث ابی ایوب) میں شوال کے چھ روزوں کے مستحب ہونے کی دلیل موجود ہے۔
[سبل السلام: 2/340]
پھر مزید ابن السبکی رحمہ اللہ کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
[ثم قال ابن السبكي وقد اعتنى شيخنا ابو محمد الدمياطي بجمع طرقه فا سنده عن بضعة وعشرين رجلا رووه عن سعد بن سعيد واكثرهم حفاظ ثقات منهم السفيانان]
یعنی: امام ابن السبکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کہ ہمارے شیخ ابومحمد الدمیاطی نے اس کے تمام طرق جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے بیس سے زائد کو ذکر کیا جنہوں نے سعد بن سعید سے روایت کی ہے اور ان میں سے اکثر حفاظ ، ثقات ہیں، ان میں سفیان بن عیینہ اور سفیان الثوری بھی ہیں۔
[سبل السلام: 2/341]
امام شوکانی رحمہ اللہ:
[استدل باحادیث الباب على استحباب صوم ستة ايام من شوال وإليه ذهب الشافعي و احمد و داود وغيرهم]
یعنی: اس باب میں موجود احادیث سے شوال کے چھ روزوں کے مستحب ہونے کا استدلال کیا گیا ہے۔ اور یہی موقف امام شافعی، امام احمد اور امام داؤد رحمہم اللہ وغیرہ کا ہے۔
[نيل الأوطار: 502/4]
یہی موقف عام متاخرین حنفیہ کا ہے۔ (فتاوی عالمگیری: 201/1) اور متاخرین حنفیہ کے بارے میں خود مفتی صاحب کو بھی یہ مسلم ہے۔ جیسا کہ لکھتے ہیں: انہیں مستحب سمجھنا متاخرین حنفیہ یا دوسرے مذاہب کے لوگوں کا خیال ہے ۔ [احسن المقال: 65]
فضائل میں ضعیف احادیث اور شوال کے روزے
موصوف نے صحیح روایات کو ضعیف ثابت کرنے کی کوشش کی ہے: موصوف کا انہیں ضعیف ثابت کر لینے کے بعد بھی چارہ نہیں بنتا اس لئے کہ ان کے یہاں تو فضائل میں ضعیف روایت قابل قبول ہوتی ہے۔ آئیے ملاحظہ کیجئے:
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ایک قول امام ابن حزم رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے ۔
[الخبر المرسل والضعيف عن رسول الله اولى من القياس، ولا يحل القياس مع وجوده]
یعنی: مرسل اور ضعیف حدیث قیاس سے اولی ہے۔ اور اس ضعیف روایت کی موجودگی میں قیاس جائز نہیں۔
[الاحكام في اصول الاحكام ، الباب الثامن والثلاثون في ابطال القياس في احكام الدين 120/3، طبع دار الحديث القاهرة]
امام ابن حزم رحمہ اللہ ہی نے المحلی میں ایک مقام پر ایک مسئلہ کے حوالے سے حنفیہ کے بارے میں تعجب کرتے ہوئے فرمایا:
[والعجب من الحنفيين الآخذين بكل ضعيف، ومرسل، كالوضوء من القهقهة في الصلاة، والوضوء بالنبيذ، وغير ذلك ثم يخالفون هذا المرسل وهذا الضعيف]
یعنی: حنفیہ پر تعجب ہے کہ جو ہر ضعیت و مرسل روایت کو قبول کرتے ہیں مثلا نماز میں قہقہ سے وضو ٹوٹنے والی حدیث، نبیذ سے وضوء سے متعلق حدیث، اور دیگر پھر اس مرسل اور ضعیف روایت کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔
[المحلى: كتاب البيوع: 1476، 467/8، طبع دار الفكر]
اسی طرح ابن الہمام حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ،،الاستحباب يثبت بالضعيف غيرالموضوع،،
ضعیف حدیث جو موضوع کی حد تک پہنچی ہوئی نہ ہو، اس سے استحباب ثابت ہوتا ہے ۔
[فتح القدير، باب النوافل: 139/2]
ضعیف حدیث جو کہ موضوع نہ ہو، سے استحباب ثابت ہو جاتا ہے۔ اس کی مثال جیسے حنفیہ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ضعیف روایت کی بنیاد پر صلوۃ الاوابین کو مستحب قرار دیا۔
ایک طرف تو فضائل میں ضعیف روایت قابل قبول! لیکن دوسری طرف صحیح روایت بھی اگر قول امام کے خلاف ہو تو اس حدیث کو ضعیف ثابت کرنے کے درپے ہو جایا جاتا ہے اور چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اور ایسا کرتے وقت کیوں بھلا دیا جاتا ہے کہ ضعیف ثابت کرنے کے بعد یہ آپ کے یہاں حجت ہی رہے گی۔ کیونکہ اس کا تعلق فضائل سے ہے۔
ایک طرف صحیح مسلم کی روایت اور دوسری طرف اپنی فقہ کی اندھی تقلید تقلید کے جمود میں حنفیہ نے کیا کیا کارنامے کئے یہ بڑی طویل داستان ہے کہ صرف حق تقلید نبھانے کے لئے قرآن واحادیث کے ساتھ کیا کیا سلوک نہ کیا گیا؟ ہم مفتی صاحب سے بھی یہی کہتے ہیں آپ نے تقلید سے وفا کرنی ہے، بھلے کریں! لیکن تقلید سے وفا نبھانے کے لئے احادیث کے خلاف ہرزہ سرائی نہ کریں۔
اور پھر مفتی صاحب نے تو تقلید امام کے ساتھ ایسی وفا نبھائی کہ موصوف کے اپنے حنفیہ کی بڑی تعداد اس مؤقف میں ان کے مقابل کھڑی ہے۔
فصل ثالث:
ماہ شوال کے روزوں سے متعلق فقہی مسائل
مسئلہ: رمضان کے روزوں کی قضاء سے پہلے شوال کے چھ روزے:
اگر کسی شخص یا عورت کے ذمے رمضان کے روزوں میں سے کچھ باقی ہوں تو وہ کیا رمضان کے روزے مکمل کرے یا شوال کے چھ روزے رکھے؟۔
اس بارے میں بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ رمضان کے روزوں کی قضاء پہلے دی جائے اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے جائیں لیکن اس بارے میں راجح موقف یہی ہے کہ بہتر تو یہی ہے کہ پہلے رمضان کے روزوں کی قضاء دی جائے کیونکہ یہ فرض ہیں، البتہ دلائل کی بنیاد پر یہ گنجائش موجود ہے کہ رمضان کی قضاء سے پہلے شوال کے روزے رکھے جاسکتے ہیں ، اس لئے کہ قرآن مجید میں رمضان کے روزوں کی قضاء کے بارے میں
[فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ۔۔۔]
یعنی: دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرلو (البقرة: 184) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ جو کہ پورے سال کو شامل ہیں کہ پورے سال میں اگلے رمضان سے پہلے پہلے روزوں کی قضاء دی جاسکتی ہے۔لیکن ماہ شوال کے روزے صرف ماہ شوال تک ہی خاص ہیں۔
لہذا رمضان کے روزوں کی قضاء سے پہلے ماہ شوال کے روزے رکھے جاسکتے ہیں، البتہ مستحسن یہی ہے کہ ماہ رمضان کے روزوں کی قضاء پہلے دی جائے۔
مسئلہ: شوال اور کفارے کے روزے:
اس باب میں بھی رمضان کے روزوں کی طرح گنجائش موجود ہے کہ کفارے کے روزوں کو بعد میں رکھا جا سکتا ہے اور شوال کے روزوں کو پہلے۔
مسئلہ: شوال کے چھ روزے متفرق رکھیں یا متتابع:
شوال کے چھ روزے پے در پے بغیر کسی ناغے کے رکھے جائیں یا اس میں تفریق جائز ہے۔ اس بارے میں چونکہ حدیث میں کوئی ایسی قید موجود نہیں کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ یہ پے در پے بغیر کسی ناغے کے رکھے جائیں۔ لہذا ان روزوں کو کسی بھی ترتیب کے ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔ البتہ انہیں جلدی رکھ لینا فضل ہے۔ اس لئے کہ نیکی کے کاموں میں مسابقت مطلوب ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ
[سَابِقُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ]
یعنی: تم اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کو حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے آگے نکل جاؤ جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے۔
[الحديد: 21]
اسی طرح (البقرة: 148، المائدة: 48 )میں یہ مضمون بیان ہے۔
سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا کہ
[قَالَ هُمْ أُو۟لَآءِ عَلَىٰٓ أَثَرِى وَعَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضَىٰ]
یعنی: موسی علیہ السلام نے عرض کیا: وہ لوگ بھی میرے پیچھے آہی رہے ہیں اور میں نے تیرے حضور آنے میں اس لئے جلدی کی تاکہ تو مجھ سے خوش ہو جائے۔
[طه:84]
خلاصہ یہ ہے کہ ان ادلہ کی بناء پر روزے کے رکھنے میں جلدی مستحسن ہے، اور جلدی کے مفہوم میں دونوں چیزیں آجاتی ہیں یعنی عید کے بعد ماہ شوال کے ابتدائی دنوں میں ہی رکھنا اورپے در پے رکھنا۔ تاہم پورے ماہ شوال تک اور کسی بھی ترتیب کے ساتھ روزے رکھنے میں توسع موجود ہے۔
مسئلہ: شوال کے چھ روزوں کی قضاء:
اگر کوئی شخص کسی وجہ سے ماہ شوال میں یہ چھ روزے نہ رکھ سکا یا کچھ رکھ لئے لیکن مکمل نہ کر سکا تو کیا ایسا شخص ان روزوں کی قضاء کے طور پر دوسرے مہینے میں رکھ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ایک عورت ماه رمضان میں مثلاً دس رمضان کو نفاس والی ہوگئی اور چالیس دن نفاس میں رہنے کے بعد پاک ہوئی اور اب رمضان کے روزوں کی قضاء دینا شروع کی تو ماہ ذی القعدہ آگیا۔ اور ماہ شوال کے چھ روزے نہ رکھ پائی؟
ماہ شوال کے ان روزوں کی قضاء نہیں ہے۔ اس لئے کہ اگر اس کی قضا کو عام رکھا جائے تو حدیث میں بالاختصاص شوال کے ذکر کا کوئی معنی نہیں رہتا۔ لہذا اگر کوئی یہ روزے نیت کے با وجود کسی عذر کی وجہ سے نہ رکھ سکا،یا چند رکھے لیکن مکمل نہیں کر سکا تو اب بقیہ کی قضاء نہیں دے گا۔ البتہ امید رکھی جاسکتی ہے، کہ اسے اس کی نیت کے بقدر اجر مل جائے۔ اس لئے کہ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے: [انما الاعمال بالنیات] یعنی: تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر موقوف ہے۔
[صحیح بخاری: 1 ،كتاب بدء الوحي باب كيف كان بدء الوحى إلى رسول اللهﷺ صحيح مسلم: 1907، كتاب الامارة باب قوله صلى الله عليه وسلم إنما الأعمال بالنية وأنه يدخل فيه الغزو وغيره من الأعمال]
مسئلہ: شوال کے چھ روزوں سے صیام الدھر کے استحباب پر استدلال:
بعض لوگوں نے اس حدیث سے استحباب صیام الدھر کے جواز پر استدلال کیا ہے ۔ (دیکھئے:سبل السلام: 2/341)
جواب: امام صنعانی رحمہ اللہ صوم الدھر کے حوالے سے اختلاف نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اس تشبیہ کا معنی یہ ہے کہ جس طرح پانچ نمازیں پچاس سے کفایت کر جاتی ہیں، اسی طرح یہ ایام بیض یا شوال کے روزے سال بھر کے روزوں سے کفایت کر جاتے ہیں لہذا جس طرح اب کوئی پچاس نمازیں پڑھے اسے ثواب نہیں بلکہ گناہ ہی ملے گا۔ اسی طرح جو ہمیشہ کے روزے رکھے و بھی ثواب کا مستحق نہیں۔ (جیسا کہ صیام الدھر سے متعلق نہی والی احادیث میں صراحت موجود ہے۔ )۔
( سبل السلام: 341/2)
صیام الدھر کی کراہیت سے شوال کے روزوں کی کراہیت پر استدلال:
جس طرح بعض نے صیام الدھر کے استحباب پر استدلال کیا جو کہ غلط تھا اسی طرح بعض نے اس کے بالکل برعکس صیام الدھر کے روزوں کے مکروہ ہونے سے شوال کے چھ روزے مکروہ ہونے کا استدلال کیا گیا۔
(دیکھئے: احسن المقال: 28)
جواب: یہ استدلال کرنا بھی بالکل غلط ہے۔ اس لئے کہ صریح روایت میں صیام الابد کے روزوں سے روکا گیا ہے۔ جب کہ یہاں صیام الا بد کے روزے رکھنے کا نہیں اس کے اجر کا ذکر ہے اور مزید یہ کہ بعض روایات میں اس کی بھی وضاحت ہے کہ وہ کس طرح سال بھر کے روزے بنتے ہیں (یعنی) رمضان کا ثواب دس مہینوں کے برابر اور شوال کے چھ روزوں کا ثواب دو مہینوں کے برابر اس طرح پورے سال کے روزوں کے برابر ثواب ملتا ہے۔
امام سندھی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ممکن ہے کہ جو ان روزوں کو مکروہ سمجھتا ہو وہ حدیث کی یہ تاویل کرے، کہ یہ مکروہ ہونے میں ہمیشہ کے روزوں کی طرح ہے۔ اور حدیث میں آیا ہے،کہ جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس کا روزہ نہیں۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے، کہ ہمیشہ کے روزے مکروہ ہیں لیکن یہ تاویل مردود ہے۔ کیونکہ اس سے مراد حقیقت میں مستقل روزے رکھنا مقصود ہے۔ اس لئے کہ حدیث میں ہر مہینے کے تین روزے (ایام بیض) اور اس جیسے دیگر روزوں کے بارے میں ہے کہ ان کا اجر سال کے روزوں کے برابر ہے۔ ظاہرا ہمیشہ کے روزے رکھنا مکروہ ہیں۔ اور جو پورے زمانے کے روزے نہیں اور ان کے بارے میں یہ وارد ہوا ہے کہ یہ زمانے کے روزے (کی طرح ہیں) تو یہ محبوب ہیں۔
[شروح سنن ابن ماجة: 679/1]
مسئلہ: شوال کے روزے اور کفار ہ قسم کے روزوں کا جمع کرنا:
ایک شخص شوال کے چھ روزے بھی رکھنا چاہتا ہے اور اس پر قسم کے کفارہ کے تین روزے بھی ہیں اب کیا ایک روزے میں یہ دونوں نیتوں کا جمع ہونا صحیح ہے۔
جواب: ایسا کرنا صحیح نہیں ہو گا، اس لئے کہ یہ دونوں مستقل عبادات ہیں اور دونوں کو مستقل طور پر علیحد و علیحدہ ہی ادا کیا جائے گا۔
مسئلہ: رمضان کے روزوں کی قضاء اور شوال کے چھ روزوں کا جمع ہونا:
اگر ایک شخص پر رمضان کے روزوں کی قضاء ہے، اور وہ شوال کے چھ روزوں میں ہی ان کی قضاء بھی ادا کرے تو کیا ایسا جائز ہے؟
اگر چہ بعض اہل علم اس باب میں رخصت دیتے ہیں (مقالات و فتاوی: 396/15) لیکن احتیاط یہ ہے کہ ایسا جائز نہیں ۔ واللہ اعلم
مسئلہ: پیر اور جمعرات اور شوال کے چھ روزوں کا جمع کرنا:
اگر ایک شخص پیر اور جمعرات کے روزے کی ترتیب کے اعتبار سے شوال کے چھ روزوں کی نیت بھی کر لیتا ہے؟ کیا اسے دونوں اجر ملیں گے۔
ایسی صورت میں اجر کی امید رکھی جاسکتی ہے۔ کیونکہ یہاں پیر اور جمعرات کے لحاظ سے ترتیب بنانا اس شخص کے دونوں اجروں کو پانے کی نیت سے ہے، جو کہ استباق فی الخیرات ہے اور یہ مطلوب ہے۔ اس لئے امید رکھی جاسکتی ہے کہ اسے دونوں کا اجر ملے گا۔ ان شاء اللہ
مسئلہ: ایام بیض اور شوال کے چھ روزوں کا جمع کرنا:
چونکہ یہ فضیلت میں جمع ہیں اس لئے یہ جمع کئے جاسکتے ہیں۔
مسئلہ: وقت اذان کا خیال
احناف حضرات رمضان میں تو اذان بر وقت دیتے ہیں، لیکن عام دنوں میں اپنے موقف کے مطابق احتیاطی طور پر اذان دیر سے دیتے ہیں ۔بعض اہل حدیث ان کی اذان کے مطابق سحری ختم کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایسا کرنا غلط ہو گا اور یہ روز کبھی نہیں ہوگا، لہذا اس معاملے میں احتیاط ضروری ہے اور سلفی مساجد کی اذان کے مطابق ہی روزہ رکھا جائے ۔ اگر سلفی مسجد کی اذان سنائی نہ دے تو ان کی اذان کا وقت معلوم کر کے اسی وقت کے مطابق روز و ر کھا جائے۔
فصل رابع:
شوال کے روزوں سے متعلق ضعیف روایات
شوال کے روزوں کے بارے میں کچھ ضعیف روایات بھی ہیں، جن میں سے چند ایک کی ذیل میں نشاندہی کی جاتی ہے۔
① عن ابن عمر قال قال رسول الله [من صام رمضان و اتبعه ستا من شوال خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه]
ترجمہ: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے، وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جائے گاجیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہے۔
[المعجم الأوسط: 8622]
یہ حدیث سندا ضعیف ہے۔ اس کی سند میں مسلمہ بن علی الخشنی ضعیف ہے۔ نیز صحیح احادیث کے خلاف ہے۔ اس لئے منکر ہے۔
② عن عكرمة بن خالد عريف من عرفاء قريش حدثني أبي أنه سمع من في رسول الله قال [من صام شهر رمضان وستا من شوال والاربعاء والخميس دخل الجنة)
ترجمہ: قریش کے سرداروں میں سے ایک سردار کہتے ہیں کہ ان کے والد نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کی کے منہ سے سنا. انہوں نے فرمایا: جس نے ماہ رمضان کے روزے رکھے اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے، اور بدھ اور جمعرات کے روزے رکھے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔
[مسند احمد: 78/3]
اس کی سند میں عریف (سردار) مجہول ہے، اس لئے روایت سند ضعیف ہے۔
③ عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم [من صام ستة أيام بعد الفطر متتابعة فكأنما صام السنة]
ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو عید الفطر کے بعد پے در پے چھ روزے رکھے گویا کہ اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔
[المعجم الأوسط: 7607]
یہ روایت منکر ہے،جیسا کہ علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کہ میرے نزدیک دو وجہوں سے یہ روایت منکر ہے۔ ① سعید بن الصلت کو میں نہیں جانتا۔ ② سیدنا ابوہریرہ رضي اللہ عنہ سے مروی مسند بزار وغیرہ میں دو سندوں سے روایت میں ،،متتابعة،، کے الفاظ نہیں ہیں۔ نیز حدیث ابی ایوب رضی اللہ عنہ وغیرہ میں بھی نہیں ہیں۔
ان تین روایات کی طرف نشاندہی کر کے ہم اپنے موضوع کو سمیٹتے ہیں ۔ آخر میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہماری اس حقیر سی کوشش کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ (آمین)
صحيح الاقوال في استحباب صيام ستة شوال از محدث العصر شيخ زبير علي زئي رحمه الله
الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على رسوله الأمين، أما بعد:
سید نا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: (من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال كان كصيام الدهر) جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد اس نے شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ہمیشہ روزے رکھنے (کے ثواب) کی طرح ہیں۔
[صحیح مسلم:1164، دار السلام: 2758، صحیح ابن خزیمه: 2114، صحیح ابن حبان: 3626/3634، صحيح ابی عوانه: القسم المفقود صفحه: 94/95، سنن الترمذی:759 وقال: حديث حسن صحيح، شرح السنة للبغوى: 6/331ح 1780، وقال: هذا حديث صحيح:)]
اس حدیث کو درج ذیل اماموں نے صحیح قرار دیا ہے:
① امام مسلم ② امام ابن خزیمہ ③ امام ترمذی ④ حافظ ابوعوانہ ⑤ حافظ ابن حبان
⑥ حافظ حسین بن مسعود البغوی رحمہم اللہ
میرے علم کے مطابق کسی امام سے اس روایت کو ضعیف قرار دینا ثابت نہیں ہے۔
اب اس حدیث کے راویوں کا مختصر و جامع تذکرہ پیش خدمت ہے:
سید نا ابو ایوب خالد بن زید الانصاری رضي اللہ عنہ مشہور بدری صحابی ہیں ،جو کہ (دور صحابہ کے آخری) غزوہ قسطنطنیہ میں 50 ہجری یا اس کے بعد فوت ہوئے۔
عمر بن ثابت بن الحارث الخزرجی الانصاری المدنی رحمہ اللہ
حافظ ابن حبان رحمہ اللہ نے آپ کو کتاب الثقات میں(5/149) ذکر کیا۔ امام عجلی نے کہا: مدنی تابعی ثقه(تاريخ العجلي: 1334) ابن شاہین نے انہیں کتاب اسماء الثقات(693) میں ذکر کیا۔ امام مسلم، امام ترمذی، امام ابن خزیمہ، حافظ ابوعوانہ اور حافظ بغوی نے ان کی حدیث کو صحیح قرار دے کر ان کی توثیق کی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا: ثقہ ہے۔ (تقريب التهذيب: 4780)
فائدہ: اگر کوئی محدث کسی حدیث کو مطلقا صحیح کہے تو یہ اسکی طرف سے اس حدیث کے ہر راوی کی توثیق ہوتی ہے۔
ابن القطان الفاسی (متوفی628ہجری) لکھتے ہیں:
[وفي تصحيح الترمذى اياه توثيقها و توثيق سعد بن اسحاق و لا يضر الثقة ان لا يروى عنه الا واحد،] والله اعلم
اس حدیث کو تر مذی کا صحیح کہنا ان (زینب بنت کعب) اور سعد بن اسحاق کی توثیق ہے۔
ثقہ کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا کہ اس سے روایت کرنے والا صرف ایک ہے۔ واللہ اعلم
[بيان الوهم و الا يهام في كتاب الاحكام: ج5 ص395 ح 2562، نصب الرايه للزيلعي: 3/264]
تقی الدین بن دقیق العید نے کتاب الامام میں کہا:
[و أي فرق بين ان يقول : هو ثقة او يصحح له حديث انفرد به]
اس میں کیا فرق ہے کہ راوی کو ثقہ کہے یا اس کی منفر دحدیث کو صحیح کہے۔
[نصب الرايه:ج 1 ص9]
جمہور کی اس توثیق کے مقابلے میں عمر بن ثابت تابعی رحمہ اللہ پر کسی محدث کی جرح ثابت نہیں ہے اور اگر ایک دو سے ثابت بھی ہو جاتی تو جمہور کی توثیق کے مقابلے میں مردود تھی۔
تنبیہ: عمر بن ثابت نے یہ روایت سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔
[دیکھئے: صحیح مسلم: 1164، ترقیم دار السلام: 2760/ 2759]
تنبيه: محمد زرولی دیو بندی تقلیدی نے بغیر کسی دلیل کے لکھا ہے کہ :اور طبرانی کی
روایت میں عمر بن ثابت ہے اور وہ ضعیف ہے ۔(دیکھئے: احسن المقال فی کراهية صیام ستة شوال: 26)
زرولی تقلیدی کا یہ قول امام مسلم، امام عجلی اور امام ترمذی وغیرہ کی توثیق کے مقابلے میں مردود ہے۔
زرولی نے مذکورہ روایت کے بارے میں لکھا ہے :جبکہ خود امام ترمذی نے اس کو صحیح کی بجائے صرف حسن درجہ کا تسلیم کیا ہے ۔(احسن المقال: ص 25) حالانکہ امام ترمذی نے حدیث ابی ایوب حدیث حسن صحیح لکھا ہے ۔
[دیکھئے: سنن الترمذی مع الشذى ( ص 185 ج1) دوسر انسخه (ج1 ص94) معارف السنن (ج5 ص444) تحفته الاحوذی (ج2 ص59)سنن ترمذی کے بعض نسخوں میں حسن کا لفظ بھی ہے۔ واللہ اعلم)]
عمر بن ثابت رحمہ اللہ سے یہ حدیث درج ذیل راویوں نے بیان کر رکھی ہے۔
①سعد بن سعید بن قیس
[صحیح مسلم: 1164/2758 ، سنن الترمذی: 759و قال:حسن صحیح، صحیح ابن خزیمه:2114، صحیح ابن حبان: 3634، شرح السنة للبغوى: 1780 ، وقال:هذا حديث صحيح وغيره]
②صفوان بن سلیم
[مسند الحمیدی بتحقیقی : 383 نسخه دیو بندیه : 380]
③زید بن اسلم
[مشكل الآثار للطحاوي: 2343]
④یحیی بن سعید بن قیس الانصاری
[مسند الحمیدی: 382، مشكل الآثار: 2346]
سعید بن قیس مختلف فیہ راوی ہیں، امام احمد بن حنبل، امام یحیی بن معین، اور امام نسائی رحمہم اللہ نے ان پر جرح کی ہے لیکن امام مسلم، ابن سعد، ابن عدی، ابن حبان اور ابن خزیمہ رحمہم اللہ وغیرہ نے ان کی توثیق کی ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”احدالثقات“ وہ ثقہ راویوں میں سے ایک ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء: 5/482)
ایسا راوی جس کی جمہور محد ثین نے توثیق کی ہو وہ حسن الحدیث کے درجے سے کم نہیں ہوتا، لہذا سعد بن سعید بن قیس حسن الحدیث ہیں۔
تین ثقہ رایوں نے ان کی متابعت کر رکھی ہے:
①صفوان بن سلیم (ثقہ، مفتی عابد، رمی بالقدر) ②زید بن اسلم (ثقہ عالم) ③یحیی بن سعید الانصاری (ثقه ثبت) لہذا سعد بن سعید بن قیس پر تفرد کا الزام باطل ہے۔
صفوان بن سلیم کی روایت درج ذیل کتابوں میں صحیح سند سے موجود ہے۔
[مسند الحمیدی (بتحقیقی: 383) و سنده صحیح) سنن ابی داود (2433) السنن الكبرى للنسائي (2/163ح2823) سنن الدارمی (1761) صحیح ابن خزیمه (2114) صحیح ابن حبان الاحسان:3626/3634)، شرح مشکل الآثار للطحاوى (6/123) ح2344) المعجم الكبير للطبراني (136، 4/135ح3911]
صفوان بن سلیم کے شاگرد عبد العزیز بن محمد الدر اور دی جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق اور صحیح مسلم کے راوی ہیں، (سنن ابی داؤد: 353) کی ایک روایت کو حافظ ابن حجر نے حسن قرار دیا ہے۔ جس میں دراور دی ہیں، اور نیموی تقلیدی نے (آثار السنن: 908 حدیث ابن عباس) میں اسے نقل کر کے خاموشی اختیار کی ہے۔
حافظ ابن حبان اور امام ابن معین وغیرہ ہمانے ان کی توثیق کی ہے۔
معتدل امام عجلی رحمہ اللہ نے فرمایا: ،،مدنی ثقة،،( التاريخ للعجلي: 1114)
زید بن اسلم کی روایت درج ذیل کتاب میں صحیح سند سے موجود ہے:
[شرح مشکل الآثار:2343 و سندہ صحیح]
اس میں عبد العزیز بن محمد الدراوردی ،،ثقہ صدوق،، ہیں، ان کے شاگر د سعید بن منصور ثقہ حافظ ہیں، اور ان کے شاگرد یوسف بن یزید بن کامل القراطیسی ،،ثقہ،، ہیں۔ (تقریب التهذیب: 7893)
یحیی بن سعید بن قیس الانصاری کی روایت درج ذیل کتابوں میں حسن سند کے ساتھ موجود ہے۔
(السنن الكبرى للنسائي: 2866 ،،وقال:عتبہ هذا ليس بالقوى) (مشكل الآثار: 2346) (المعجم الكبير للطبراني: 136/4،،ح3915) (مسند الحميدي:384)
یحیی بن سعید الانصاری سے یہ حدیث دو راویوں نے بیان کی ہے:
① عبد المالک بن ابی بکر (بن عبد الرحمن بن الحارث بن ہشام) ،،ثقہ،، ہیں۔
(تقريب التهذيب: 4167، دیکھئے السنن الكبرى للنسائی (2866) و تكلم في عتبة بن ابی حکیم)
عبد المالک بن ابی بکر سے یہ حدیث عتبہ بن ابی حکیم نے بیان کی ہے۔
عتبہ بن ابی حکیم مختلف فیہ راوی ہیں، لیکن جمہور محدثین نے ان کی توثیق کی ہے لہذا ان پر امام نسائی کی جرح صحیح نہیں ہے۔
تحریر تقریب التهذيب میں لکھا ہوا ہے کہ: بل صدوق حسن الحدیث،
بلکہ وہ صدوق حسن الحدیث ہیں۔ (تحرير تقريب التهذيب: 2/429 ت 4427)
لہذا یہ سند حسن ہے۔
②اسماعیل بن ابراہیم (بن میمون) الصائغ (مسند الحمیدی: 384)
حافظ ابن حبان نے اس کی توثیق کی ہے، لیکن صاحب لسان نے امام بخاری رحمہ اللہ سے ،،سكتوا عنه،، (یہ متروک ہے) کی جرح نقل کی ہے۔ (دیکھئے: لسان الميزان ( 1/391، دوسرا نسخه 11/20)
یہ جرح امام بخاری رحمہ اللہ سے باسندصحیح ثابت نہیں ہے۔ مثلاً (دیکھئے: التاریخ الکبیر (341/1) اسماعیل بن ابراہیم سے ایک جماعت
نے روایت بیان کی ہے اور ابو حاتم الرازی نے کہا: ،،شیخ،،(الجرح والتعديل: 2/152)
خلاصہ یہ ہے کہ یہ راوی مجہول الحال ہے۔ لہذا یہ سند ضعیف ہے لیکن شواہد کے ساتھ حسن و صحیح ہے۔
اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ سید نا ابو ایوب الانصاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث جس میں شوال کے چھ روزوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے، بلحاظ سند صحیح ہے۔
دوسری حدیث:
سیدنا ثوبان رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا:
(صيام شهر بعشرة أشهر وستة أيام بعدهن بشهرين فذلك تمام سنة —) يعني شهر رمضان وستة أيام بعده)
رمضان کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں اس کے بعد چھ روز سے دو مہینوں کے برابر ہیں، اس طرح سے پورے سال کے روزے بنتے ہیں۔
[سنن الدارمی: 1762، و سنده صحیح، سنن ابن ماجه: 1715، صحیح ابن خزیمه: 2115صحیح ابن حبان: 3635، السنن الكبرى للنسائی: 2821، مسنده احمد: 5/280، و غیره]
اس حدیث کو ابن خزیمہ اور ابن حبان وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ اب اس کے راویوں کاتذکرہ پیش خدمت ہے:
① سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں۔
② ابو اسماء عمرو بن مرثد الرحبی صحیح مسلم کے ،،ثقہ،، راویوں میں سے ہیں ۔(تقریب التہذیب:5109)
③ یحیی بن الحارث الذماری ،،ثقہ،، ہیں ۔ (تقريب التهذيب: 7522)
④ يحيي بن حمزه واقد الخصر مي الدمشقی القاضی صحیحین کے راوی اور ،،رمی بالقدر،، ہیں۔
(تقریب التہذیب :7536)
جمہور محد ثین کے نزدیک ثقہ راوی پر قول راجح میں رمی بالقدر روالی جرح مردود ہوتی ہے۔
⑤ يحيي بن حسان التنیسی صحیحین کے راوی اور ثقہ ہیں۔ (تقريب التهذب: 7529)
معلوم ہوا کہ یہ سند صحیح ہے، لہذا اس کے ساتھ سیدنا ابو ایوب الانصاری رضي اللہ عنہ والی حدیث اور بھی صحیح ہو جاتی ہے۔ والحمد لله
ان دو حدیثوں سے ثابت ہو گیا ہے، کہ شوال کے چھ روزے رکھنا بڑے ثواب کا کام ہے، اور زرولی دیو بندی تقلیدی کا انہیں ضیعف قرار دینا اور شوال کے چھ روزوں کو مکروہ سمجھنا باطل ومردود ہے۔
امام نسائی اوررحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[انبا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم قال: حدثنا ابو عبد الرحمن المقرى قال: حدثنا شعبة بن الحجاج عن عبد ربه بن سعيد عن عمر بن ثابت عن ابي ايوب الانصارى انه قال: من صام شهر رمضان ثم اتبعه ستة أيام من شوال فكأنما صام السنة كلها]
ابوایوب الانصاری رضي اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے سارا سال روزے رکھے ۔
[السنن الكبرى للنسائي 163/2، 164 هجریه 2865]
اس موقوف روایت کی سند صحیح ہے ۔ عبدربہ بن سعید بن قیس ثقہ اور صحیحین کے راوی ہیں،
(تقریب التهذيب (3786)
اور ان تک سند صحیح ہے۔
معلوم ہوا کہ مرفوع حدیث کے ساتھ ان روزوں کی فضیلت آثار صحابہ سے بھی ثابت ہے۔
تنبیہ: سارا سال روزے رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو سارا سال روزے رکھنے کا یہ ثواب ملتا ہے۔
تنبیہ: شوال کے چھ روزوں کو مکروہ یا ممنوع سمجھنا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے باسند صحیح ثابت نہیں ہے۔ زرولی دیوبندی نے فقہ کی کتابوں سے جو کچھ نقل کیا ہے وہ بے سند ہونے کی وجہ سےمردود ہے۔
تنبیہ: امام مالک رحمہ اللہ نے مؤطا امام مالک میں فرمایا ہے، کہ انہوں نے علماء وفقہا میں سے کسی کو یہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور ۔۔۔ علماء اسے مکروہ سمجھتے ہیں ۔۔۔ الخ(دیکھیے:صحیح مسلم: 1164، ترقیم دار السلام: 2760، 2759)
یہ قول اس کی دلیل ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ تک درج بالا دونوں صحیح حدیثین اور سید نا ابو ایوب الانصاری رضی اللہ عنہ کا فتوی نہیں پہنچا ورنہ وہ کبھی یہ الفاظ نہ بیان فرماتے۔ جب حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو اس کے مقابلے میں ہر امام کا فتوی مردود ہوتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا امام ہو۔
سرفراز خان صفدر دیوبندی تقلیدی نے کیا خوب لکھا ہے کہ مسند مرفوع اور صحیح حدیث کے مقابلہ میں دس ہزار تو کیا دس لاکھ نیکیاں بلکہ دس ارب وکھرب حضرات کی بات بھی کوئی وقعت نہیں رکھتی کیونکہ علمی قاعدہ تو یہ ہے کہ (کل احد يؤ خذ عنه ويترك الارسول الله ﷺ)
[اتمام البرهان في رد توضیح البیان ص 389]