شوال کے چاند کی گواہی کے لیے دو افراد کی شرط
عبید اللہ طاہر حفظ اللہ

شوال کے ثبوت کے لیے دو اشخاص کی گواہی ضروری ہے
❀ «عن حسين بن الحارث الجدلي من جديلة قيس،” ان امير مكة خطب، ثم قال: عهد إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ننسك للرؤية، فإن لم نره وشهد شاهدا عدل، نسكنا بشهادتهما، فسالت الحسين بن الحارث: من امير مكة؟ قال: لا ادري، ثم لقيني بعد، فقال: هو الحارث بن حاطب اخو محمد بن حاطب، ثم قال الامير: إن فيكم من هو اعلم بالله ورسوله مني، وشهد هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم، واوما بيده إلى رجل، قال الحسين: فقلت لشيخ إلى جنبي: من هذا الذى اوما إليه الامير؟ قال: هذا عبد الله بن عمر رضى الله عنه، وصدق كان اعلم بالله منه، فقال: بذلك امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم.»
حضرت حسین بن حارث جدلی سے روایت ہے کہ مکہ کے امیر نے خطبہ دیا، پھر کہا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عہد لیا کہ ہم عبادت چاند دیکھ کر ادا کریں، اور اگر خود نہ دیکھ پائیں اور دو معتبر آدمی گواہی دیں تو ان کی گواہی پر ادائیگی کریں۔ ابو مالک کہتے ہیں کہ میں نے حسین بن حارث سے پوچھا کہ مکہ کے امیر کون تھے ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں ہے۔ پھر اس کے بعد جب دوبارہ مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ مکہ کے امیر کا نام حارث بن حاطب تھے جو کہ محمد بن حاطب کے بھائی ہیں، اس کے بعد امیر نے یہ بھی کہا تھا کہ تم میں وہ شخص موجود ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کو مجھ سے بہتر جانتا ہے، اور اسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس بات کی گواہی دی ہے، اور یہ کہتے ہوئے امیر نے اپنے ہاتھ سے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا، حسین بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے اپنے برابر والے ایک بزرگ سے پوچھا کہ یہ کون ہیں جن کی طرف امیر نے اشارہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ اور امیر نے یہ بات سچ کہی تھی، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے زیادہ اللہ سے واقف تھے۔ پس حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہی حکم فرمایا ہے۔“ [سنن ابو داود 2338، حسن]

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1