مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

شریعہ کمپلائنس کمپنیوں میں سرمایہ کاری کا حکم

فونٹ سائز:

سوال

مضمون کے اہم نکات

کیا شریعہ کمپلائنس کمپنیوں میں انویسٹمنٹ کرنا جائز ہے جنہیں کراچی اسٹاک ایکسچینج کے شریعہ بورڈ سے سرٹیفکیٹ ملتا ہے؟

جواب از فضیلۃ العالم خضر حیات حفظہ اللہ

اسٹاک مارکیٹ میں انویسٹمنٹ کا حکم:

ہمارے نزدیک اسٹاک مارکیٹ میں انویسٹ کرنا یا اس کے ذریعے کاروبار کرنا درست نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں کئی ایسی قباحتیں موجود ہوتی ہیں جو شریعت کے اصولوں کے خلاف ہیں، جیسے:

  • سود
  • جوا
  • غرر (دھوکہ دہی یا غیر یقینی)

شریعہ بورڈ اور ان کے سرٹیفکیٹ کا معاملہ:

اگر اسٹاک ایکسچینج کا کوئی شریعہ بورڈ ہے اور وہ شرعی رہنمائی فراہم کرتا ہے، تو:

  • اگر آپ ان علمائے کرام کو جانتے ہیں اور ان کی تحریروں و فتاویٰ پر آپ کو اعتماد ہے، تو آپ ان کے دلائل کی روشنی میں عمل کر سکتے ہیں۔
  • تاہم، یہ یاد رکھیں کہ صرف "اسلامی” کا سابقہ یا لاحقہ لگا دینے سے کسی نظام کی تمام خرابیاں ختم نہیں ہو جاتیں۔

اسلامک فنانس کے حوالے سے عمومی رائے:

اسلامک بینکنگ، اسلامی انشورنس، یا اسلامک اسٹاک ایکسچینج جیسے نظاموں میں بھی کئی قباحتیں موجود ہیں۔ اس لیے ان کے شرعی جواز کے بارے میں تفصیلی تحقیق اور اطمینان ضروری ہے۔

مزید تفصیل کے لیے:

    • لجنۃ العلماء للإفتاء کا فتوی نمبر (31)

یہ فتوی العلماء ویب سائٹ کے فتاوی سیکشن میں موجود ہے اور اس موضوع کی مزید وضاحت کرتا ہے۔

نتیجہ:

انویسٹمنٹ سے پہلے مکمل تحقیق اور اعتماد ضروری ہے۔ ہر شریعہ کمپلائنس دعوے کو دلائل کی روشنی میں پرکھا جائے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔