مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

شرک کی صحیح تعریف کیا ہے؟ بریلوی دلائل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حذیفہ محمد جاوید سلفی کی کتاب آئینہ توحید و سنت بجواب شرک کیا ہے مع بدعت کی حقیقت سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

شرک کی تعریف سے متعلق بریلوی دلائل کا جائزہ

➊ حفیظ الرحمن بریلوی قادری لکھتے:

ہیں اس سلسلے میں مندرجہ ذیل باتیں پیش نظر رکھنی ہوں گی۔
اللہ عزوجل کا ذاتی نام اللہ ہے باقی سب اس کے صفاتی نام ہیں مخلوق میں سے کسی کو اللہ عزوجل نہیں کہنا اگر مخلوق میں سے کسی کو اللہ عزوجل کہہ دیا تو شرک ہو جائے گا۔ (شرک کیا ہے صفحہ : 95)

الجواب :

اگر بندے کو یا کسی مخلوق کو اللہ کہنا شرک ہے تو یہ شرک تو مکہ والوں نے بھی نہیں کیا انہوں نے اپنے بتوں کو بھی اللہ نہیں کہا مگر وہ پھر بھی مشرک قرار پائے وہ کہتے تھے یہ سب ہمارے معبود اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں قرآن مجید سورت یونس دیکھیں۔

➋ قادری صاحب لکھتے:

کہ اللہ عزوجل کی ذات اقدس واجب الوجود ہے یعنی وہ اپنے علم و قدرت سے ہر جگہ موجود ہے ایسا عقیدہ مخلوق میں کسی کے بارے میں رکھا تو شرک ہو جائے گا۔ (کتاب مذکوره صفحه : 95)

الجواب :

اب ہمیں کسی پر شرک کا فتویٰ لگانے کی ضرورت ہی نہیں فیصلہ قادری صاحب نے خود کر دیا کہ مخلوق میں سے کسی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ ہر جگہ موجود ہے تو شرک ہو جائے گا کیا بریلوی حضرات کا یہ عقیدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ موجود ہیں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق ہیں۔
الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

➌ قادری صاحب لکھتے ہیں:

مستقل بالذات صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے یعنی وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہے گا ایسا عقیدہ مخلوق میں سے کسی کے بارے میں رکھا تو شرک ہو جائے گا۔

الجواب :

قادری صاحب نے شرک کی ایسی تعریف کی جس سے ان کا خود ساختہ مذہب بچ جائے شرک کی تعریف حقیقت میں بہت جامع ہے مثلاً سلسلہ اسباب پر حکمرانی حاجت روائی مشکل کشائی فریاد رسی ہر جگہ دعائیں سننا اور غیب و شہادت ہر چیز سے واقف ہونا یہ سب اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفات ہیں یہ صرف اللہ کا حق ہے کہ بندے اُس کو مقتدر اعلیٰ مانیں۔ اُسی کے آگے اعتراف بندگی میں سرجھکائیں اُسی کی طرف اپنی حاجتوں میں رجوع کریں مدد کے لیے اُسی کو پکاریں اُسی پر بھروسہ کریں۔ اپنی امیدیں اُسی سے وابستہ رکھیں ظاہر اور باطن میں اُسی سے ڈریں مالک الملک ہونے کی حیثیت سے یہ منصب بھی اللہ ہی کا ہے کہ اپنی رعیت کے لیے حلال وحرام کے حدود مقرر کرے ان کے فرائض و حقوق متعین کرے ان کو امر و نہی کے احکام دے اور انہیں یہ بتائے کہ اُس کی دی ہوئی قوتوں اور اس کے بخشے ہوئے وسائل کو وہ کس طرح کن کاموں کن مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ یہ صرف اللہ ہی کا حق ہے بندے صرف اس کی حاکمیت تسلیم کریں اُس کے حکم کو منبع قانون مانیں اپنی زندگی کے معاملات میں اُسی کے فرمان کو فیصلہ کن قرار دیں اور ہدایت ورہنمائی کے لیے اُسی کی طرف رجوع کریں جو کچھ اللہ کی ان صفات میں سے کسی ایک صفت کو بھی دوسرے کی طرف منسوب کرتا ہے اور اس کے ان حقوق میں سے کوئی ایک حق بھی کسی دوسرے کو دیتا ہے وہ دراصل اسے اللہ کا مد مقابل اور ہمسر بناتا ہے اور اسی طرح جو شخص یا ادارہ ان صفات میں سے کسی صفت کا مدعی ہو اور ان حقوق میں سے کسی حق کا انسان سے مطالبہ کرتا ہو وہ دراصل اللہ کا
مقابل اور ہمسر بنتا ہے یہی شرک ہے خواہ وہ زبان سے خدائی کا دعوی کرے نہ کرے۔ (تفہیم القرآن جلد 1 ص 37۔ بحوالہ تصوف ایک تحقیقی مطالع صفحه : 234)

④ قادری صاحب لکھتے ہیں:

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد پر آٹھ سال بعد اس طرح نماز جنازہ پڑھی گویا زندوں اور مردوں کو الوداع کہہ رہے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور ارشاد فرمایا میں تمہارا پیش رو ہوں تمہارے اوپر گواہ ہوں ہماری ملاقات کی جگہ حوض کوثر ہے اور میں اس جگہ سے حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے تمہارے متعلق اس بات کا ڈر نہیں کہ تم شرک میں مبتلا ہو جاؤ گے بلکہ تمہارے متعلق مجھے دنیا داری کی محبت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ میرا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار تھا یعنی اس کے بعد جلد ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ۔ (بخاری و مسلم) ( شرک کیا ہے صفحہ : 96)

پہلا الجواب :

اس حدیث میں مخاطب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں ساری اُمت نہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میرے بعد شرک نہیں کرو گے اسی لیے کسی صحابی نے شرک نہیں کیا کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیدہ توحید پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زبر دست تربیت فرمائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین کامل تھا کہ اب شرک نہیں کریں گے پوری اُمت کے الفاظ حدیث سے ثابت نہیں بلکہ بریلوی علم کلام کا خود ساختہ فلسفہ ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
وان أصحابه لا يشركون بعده فكان كذلك(فتح البارى : 614/6)
یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد شرک نہیں کریں گے۔ پس اسی طرح ہوا۔
یعنی اس حدیث کا تعلق عام لوگوں سے نہیں بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ہے کیوں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تو یہ خطاب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ہی تھا عام امت سے نہیں قادری صاحب نے امت کے الفاظ کو اپنی طرف سے اضافہ کیا ہے جو کہ ایک مجرمانہ فعل اور بدیانتی ہے جب کہ صحیح احادیث سے صراحت کے ساتھ امت کے بہت سے لوگوں کا شرک میں مبتلا ہونا مذکور ہے۔

دوسرا جواب :

سیدنا عمرو بن عوف انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
فوالله لا الفقرا خشى عليكم ولكن أخشى عليكم أن تبسط عليكم الدنيا(صحیح بخارى كتاب الجهاد باب الجزيه حديث : 3158)
پس اللہ کی قسم مجھے تم پر مفلسی غربت کا خوف نہیں لیکن اس بات کا ڈر ہے کہ تم پر دنیا کے مال میں وسعت دی جائے۔
اس حدیث مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تم پر فقر اور مفلسی کا کوئی خوف نہیں لیکن آج تک کسی مسلمان محقق نے اس حدیث کا یہ مفہوم بیان نہیں کیا کہ اس امت کا کوئی فرد غریب اور مفلس نہیں ہو سکتا فقر کا شکار نہیں ہو سکتا کیوں کہ اس بات کا علم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث میں پوری کی پوری بحیثیت مجموعی امت کے فقر ومفلسی میں مبتلا ہونے کی نفی ہے۔ نہ کے ہر فرد کے مفلسی میں مبتلا ہونے کی۔
اب غور فرمائیں کہ اس امت کے کتنے ہی لوگ غریب اور مفلس ہیں اگر یقین نہیں آتا تو جمعرات کے دن ہر گلی محلے کا چکر لگا کر دیکھنا یا مزاروں پر مانگنے والوں کی تعداد کا اندازہ لگانا شاید آپ کو یقین آجائے۔ اس طرح حدیث کو اگر عام امت کے لیے بھی تسلیم کر لیا جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ ساری کی ساری امت محمدیہ شرک کا شکار نہیں ہوگی اور حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے۔

تیسرا جواب :

دراصل بریلوی حضرات کا عمل مذکورہ حدیث کے مطابق بھی نہیں ہے کیوں کہ اس حدیث میں شہداء احد پر آٹھ سال بعد غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی جبکہ بریلوی مذہب شہید کی غائبانہ نماز جنازہ کے خلاف ہے اور پڑھنے والوں کی مخالفت کرتا ہے، اور اس کا دوسرا جزء بھی بریلویت کے خلاف ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری وفات کے بعد تم شرک نہیں کروگے..!!
جبکہ بریلوی حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ مانتے ہیں وفات تسلیم ہی نہیں کرتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اندر زندہ موجود حاضر ناظر ہیں تو میرے بعد کے کیا معنی ہیں؟

چوتھا جواب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسلام کے متعلق سوال کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اسلام یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائے۔(صحیح مسلم شریف کتاب الایمان باب بیان الایمان حدیث : 9)
اس حدیث مبارکہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اسلام کی تعریف بیان فرمائی کہ اسلام یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے جب کوئی شخص شرک سے بچے گا تب ہی اسلام میں داخل ہوگا اس کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔
دوسرے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جس شخص نے نماز فجر کے بعد دو زانو بیٹھے ہوئے بات چیت کرنے سے پہلے 10 مرتبه لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحي ويميت وهو على كل شيء قدير پڑھا تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے دس گناہ مٹادیے جائیں گے اور اس کے دس درجات بلند کیے جائیں گے اور اس دن وہ ہر برائی سے محفوظ رہے گا اور وہ شیطان کی پہنچ سے دور کر دیا جائے گا اور شرک کے علاوہ کوئی گناہ اُسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔(سنن ترمذی کتاب الدعوت حديث : 3574)
اس حدیث مبارکہ کا مطلب صاف واضح ہے کہ وہ دن کے آغاز میں نماز فجر کے بعد دس بار یہ کلمات ادا کرے تو شرک کے علاوہ اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ حالانکہ اپنی زبان سے یہ کلمات کہے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اس بات کا اقرار کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شرک کے علاوہ اسے کوئی گناہ اپنی لپیٹ میں نہیں لے سکتا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلمان جو نماز فجر ادا کرے پھر توحید کا وظیفہ دس بار اپنی زبان سے ادا کرے یہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی شرک کر سکتا ہے کیوں کہ فجر کی نماز تو مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہی ادا کرے گا کیونکہ یہودی، عیسائی، ہندو، سکھ یا دیگر کافر یہ کام کرتے نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی سے شرک کا ارتکاب ممکن ہے اور حقیقت بھی یہی ہے۔
ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہی تک لے جایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا کی گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ نمازیں عطا کی گئیں اور سورہ البقرہ کی آخری آیات اور امت میں سے ہر اس شخص کو بخشش عطا کی گئی جو اللہ کے ساتھ شرک اور کبیرہ گناہ سے بچا رہے۔(صحیح مسلم کتاب الایمان باب في ذكر سدرة المنتهى حديث : 173)
اس حدیث مبارکہ میں جو تیسری چیز بیان کی گئی ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر امتی کے لیے عظیم خوش خبری کہ اگر وہ شرک سے اور کبیرہ گناہوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھے تو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے گا انہیں بخش دے گا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں سے شرک کا صدور ہونا ممکن نہ تھا تو پھر یہ فرمانے کی کیا ضرورت تھی اس حدیث مبارکہ میں مخاطب امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے۔
ایک اور حدیث میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بیشک، میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جو کوئی مسلمان شخص فوت ہو جائے اور اس کی نماز جنازہ میں چالیس ایسے لوگ شامل ہوں جو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتے ہوں تو اللہ تعالی اس فوت ہونے والے کے حق میں ان لوگوں کی سفارش قبول فرماتا ہے۔(صحيح مسلم كتاب الجنائز باب من صلى عليه اربعون حديث : 948)

یہ بات تو روز روشن کی طرح واضح ہے کہ نماز جنازہ تو صرف مسلمان ہی پڑھتے ہیں یہودی عیسائی کافر تو پڑھتے نہیں یہ فرمانا کہ جنازہ پڑھنے والے شرک نہ کرتے ہوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جنازہ پڑھنے والے بھی شرک کا ارتکاب کر سکتے ہیں یہ بات ممکن ہے ناممکن نہیں۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی علیہ السلام کی ایک دعا قبول ہوتی ہے پس تمام انبیاء علیہم السلام نے مخصوص دعا مانگنے میں عجلت فرمائی لیکن میں نے اپنی وہ دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ کر رکھی ہے پس میری امت میں سے ہر اس شخص کو پہنچے گی جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔(مسلم كتاب الايمان باب اثبات الشفاعة واخراج الموحدين من النار حديث : 199)
اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ شفاعت کرنے کا مجاز وہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی توحید کی گواہی بھی دیتا ہو اور اس کی گواہی علم و یقین پر مبنی ہو اس طرح شفاعت اس کی کی جائے گی جس کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہو۔ یہ خوب ذہن نشین رہے کہ شفاعت صرف ان گناہ گاروں کے لیے ہوگی جو ایمان کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے اور جن کا خاتمہ کفر یا شرک پر ہوگا ان کی شفاعت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔
(تفسير ضياء القرآن ج 4 ص 429 پیر کرم شاه الازہری، بریلوی، بحواله امت اور شرك كا خطره صفحه : 132)
ثوبان رضی اللہ عنہ سے طویل حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ میری امت کے قبائل مشرکین کے ساتھ مل نہ جائیں اور جب تک میری امت اوثان کی عبادت نہ کرنے لگ جائے۔(سنن ابو داود كتاب الفتن والملاحم باب ذكر الفتن حديث 4262)
اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بہت سارے قبیلے مشرکین کے ساتھ مل جائیں گے اور اوثان کی عبادت کرنے لگ جائیں گے اوثان وثن کی جمع ہے اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے جب یہ چیز امت میں واقع ہوگی تو شرک میں گرفتار ہونا بھی یقینی ٹھہرا اب جو لوگ یعنی قادری صاحب جیسے یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ امت محمدیہ شرک میں مبتلا نہیں ہوگی یہ بات یا تو وہ انجانے میں کرتے ہیں یا جان بوجھ کر لوگوں کو سبز باغ دکھاتے ہیں۔
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان درست نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ایک حدیث میں ہے کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس اس پتھریلی زمین پر آئے تھے انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو یہ خوشخبری دے دیجئے کہ جو شخص مر گیا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔(صحیح بخاری شریف کتاب الرقاق حديث : 6443)
اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ امت کے وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے جن کی موت اس حال میں واقع ہوئی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے تھے۔ اکثر لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ایمان لانے والے مشرک نہیں ہو سکتے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ(سورۃ یوسف 12 :106)
ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہیں۔
اسی طرح قرآن مجید میں اللہ کا فرمان :
مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ(سورۃ الروم 30 :31)
اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس سے ڈرتے رہو اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ۔
اس آیت مبارکہ میں بھی اہل ایمان سے خطاب کیا گیا ہے انہیں اللہ کی طرف رجوع کرنے اور تقویٰ اختیار کرنے اور نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور مشرک بننے سے منع کیا گیا ہے اگر بقول قادری صاحب کے شرک کا ارتکاب امت محمدیہ سے نہیں ہو سکتا تو اللہ تعالیٰ کا جملہ کہ مشرک نہ بنو کیا معنی رکھتا ہے؟ اگر شرک کر ہی نہیں سکتا تو پھر منع کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
پوری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ قادری صاحب کی ذکر کردہ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے کہ تم میرے بعد شرک نہیں کرو گے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عقیدہ توحید اتنا پختہ کر دیا تھا کہ اب ان سے شرک کا گمان بھی نہیں کیا جاسکتا تھا دوسری احادیث مبارکہ میں اس کی وضاحت کر دی گئی کہ عام امتی سے شرک کا صدور ممکن ہے اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو شرک سے محفوظ فرمائے۔ آمين
بس اگلے افسانے فراموش کر دو
تعصب کے شعلے کو خاموش کردو

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔